ابن نوفل لعنہٗ اللہ
تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔
اس کا نام معلوم نہیں۔۔۔ یہ شخص ابن سعد کی طرف سے امام پاک کی طرف پیغام لایا تھا اور یہ دریافت کرنے آیا تھا کہ آپ ؑیہاں کیوں تشریف لائے ہیں؟ چونکہ یہ آلاتِ جنگ سے مسلح تھا جب قریب پہنچا تو امام نے صحابہ سے دریافت کیا کہ اس کو تم پہنچاتے ہو؟…
’’محرق القلوب ص۱۵۳‘‘ میں ہے جب امام مظلوم ؑنے متعدد مرتبہ جہاد کرکے فوج اشقیا ٔ میں سے ہزاروں کی تعداد میں ملاعین کوتہ تیغ کر ڈالا تو ہاتف غیبی کی جانب سے ندا ا ٓئی: اے حسین ؑاگر اس زور بازوسے تم نے جہاد کیا تودرجہ شہادت کون لے گا؟ یہ سنتے ہی امام…
ابومخنف سے منقول ہے کہ یہ شخص جرأت وشجاعت میں یگانہ ٔدہرتھا میدان جنگ میں اس نے خوب دادشجاعت دی اور(۶۴) نام برآوردہ اشخاص کوتہِ تیغ کیا جب لشکراعدأ نے اس بیشہ شجاعت کے شیر کے مقابلہ میں بزدلی کا مظاہرہ کیا تو ازراہ مکروفریب ہرطرف سے تیرو تلوار ونیزہ وسنگ بارانی سے اس پرحملہ…
عبدالرحمن بن عروہ اور اس کا بھائی عبداللہ بن عروہ نہایت شجاع بارعب اور ہردلعزیز تھے، ان کا باپ حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھا اور جنگ جمل صفین اور نہروان میں حضرت علی ؑ کے ہمرکاب تھا، یہ دونوں بھائی خدمت امام ؑ میں اس وقت پہنچے جب آپ ؑ کربلا میں…
میدانِ کربلا میں اس کی ماں اور زوجہ ہمراہ تھیں اس کو اپنی ماں نے جہاد پر ترغیب دی۔۔ چنانچہ ایک ہی حملہ سے اس نے بہت سے منافقین کو تہ ِ تیغ کیا اور واپس آکر ماں سے کہنے لگا کیا تو مجھ سے راضی ہوئی ہے؟ تو اس نیک بخت شیردل خاتون نے…
ان کا مفصل ذکر فرزندانِ مسلم کی شہادت کے بیان میں گذر چکا ہے۔