انیس بن معقل اصبحی
شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیا ہے۔۔۔ انہوں نے بیس سے زیادہ ملاعین کو فی
النار کر کے جام شہادت نوش فرمایا۔۔۔ اس کے علاوہ ان کے متعلق اور کچھ معلوم نہیں
ہو سکا۔
صبح عاشور جب شہزادہ علی اکبر ؑ نے دیکھا کہ باپ تنہاہے اورقربانی کے بغیر چارہ نہیں حاضر خدمت ہوکرطالب اذنِ جہاد ہوا، پس امام عالیمقام ؑ نے اجازت دی ثَمَّ نَظَرَاِلَیْہِ نَظْرآئِسٍ مِنْہُ وَاَرْخٰی عَیْنَیْہِ وَبَکیٰ (ملہوف) امام مظلوم ؑ نے اپنے نوجوان فرزند کو سرسے پاؤں تک ایک مرتبہ مایوسانہ نگاہوں سے دیکھا…
’’نفس المہموم‘‘ سے مروی ہے کہ یہ شخص روز عاشور میدان جنگ میںجہاد کے لئے گیا اور چودہ یا اٹھارہ ملاعین کو باختلافِ روایات فی النار کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
حضرت امیر ؑ کے مشاہیرشیعہ میں سے تھا، شجاع۔۔ شہسواراورقاری قرآن تھا، حضرت مسلم کے کوفہ میں آنے کے بعد یہ ان کا دست وبازوتھا اورحضرت مسلم کی شہادت کے بعد گرفتارہوکر ابن زیاد کے پیش ہوا اوراس نابکار کے حکم سے قتل ہوکر درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
یہ شخص یزید بن مسعود نہشلی کا بصرہ سے امام حسین ؑ کے نام خط لایا تھا اور پھر امام ؑ کے ہمرکاب رہا یہاں تک کہ بروزِ عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہو گیا۔
زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اس کی والدہ کا نام خوصا بنت عمروکلابی منقول ہے، رجز پڑھتے ہوئے میدان کارزار میں آئے اورپندرہ ملاعین کو دارالبوار پہنچایا، آخر عبداللہ بن عروہ خثعمی نے ایک تیر مارا جس سے یہ زمین پرگرپڑے اوربشربن خوط ملعون نے اس مظلوم کا سرتن سے جداکردیا۔
بے دھڑک دلیر اور غضب کا شجاع تھا۔۔ زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے، یہ قبیلہ بنی جابر سے تھا جو قبیلہ ہمدان کی ایک شاخ ہے۔۔ نیز اہل تاریخ نے اس کو صحابہ رسول میں شمار کیا ہے۔۔ جنگ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب رہا اور…