جنادہ بن کعب
وارد ہوا اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اس کی والدہ کا نام خوصا بنت عمروکلابی منقول ہے، رجز پڑھتے ہوئے میدان کارزار میں آئے اورپندرہ ملاعین کو دارالبوار پہنچایا، آخر عبداللہ بن عروہ خثعمی نے ایک تیر مارا جس سے یہ زمین پرگرپڑے اوربشربن خوط ملعون نے اس مظلوم کا سرتن سے جداکردیا۔
بروایت ’’رجال کشی‘‘ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: (۱) لا تَسُبُّو الْمُخْتَارَفَاِنَّہُ قَتَلَ قَتْلَتَنَاَ وَطَلَبَ بِثَارِنَا وَزَوَّجَ اَرَامِلَنَا وَقَسَمَ فِیْنَا الْمَالَ عَلٰی الْعُسْرَۃِ مختار کوگالی نہ دوکیونکہ اس نے اورہمارے قاتلوں کوقتل کیا ہے اورہمارا بدلہ لیا ہے اورہماری بیوائوںکی شادی کرآئی ہے اورہم میں تنگدستی کی حالت میں مال تقسیم کیا…
چونکہ اس کی رہائش قبیلہ بنی شاکر میں تھی اس لئے اس کو مولیٰ شاکر کہا جاتا ہے ورنہ درحقیقت یہ ان کا غلام نہیں تھا یہ شخص سربرآوردہ شیعان علی ؑ میں سے تھا، مشہور حفّاظ حدیث اور نامی گرامی شہسوارانِ کوفہ میں سے اس کا شمار تھا، جناب امیر ؑ سے بہت کچھ…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وار دہے اور قائم آل محمد نے اس کی خدمت کو نہایت دقیع الفاظ میں سراہا ہے الفاظ زیارت کا ترجمہ یہ ہے: میرا سلام ہو سعید بن عبداللہ حنفی پر جس کو امام حسین ؑ نے چلے جانے کی اجازت دی تھی لیکن اس نے جواب میں…
قاسم بن حارث کاہلی زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
امام حسین ؑ کے اصحاب میں سے اس کا شمار ہے اورزیارت رجبیہ میں اس پر سلام بھی وارد ہے، یقطر جناب رسالتمآبؐ کا خادم تھا اوراس کی زوجہ میمونہ حضرت امیرالمومنین ؑ کے گھر میں رہتی تھی، جب حضرت امام حسین ؑ پیداہوئے تو ان سے تین دن بعد عبداللہ بن یقطر پیداہوا اسی…