حیان بن حارث
نہیں ہو سکے۔
مختار نے پوچھا کہ تونے فضہ کوتازیانہ مارکراس کا بازوتوڑاتھا؟ پس ہزار تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔
ابن شہر اشوب سے مناقب میں منقول ہے کہ امام حسین ؑ کے میدان کربلا میں چھ فرزند شہید ہوئے جن میں سے ایک کا نام ابراہیم تھا۔
زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اہل تاریخ نے اس کو مشہور بہادروں اور نامورشجاعوں میں شمار کیا ہے، یہ شخص اکابرِ شیعہ میں سے تھا، فصیح اللسان قاری قرآن تھا، کوفہ سے امام عالیمقام ؑ کا ورودِ کربلا سن کو حاضر خدمت ہواتھا جب تمام یارو انصار راہِ خدا میں…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ بنی المدینہ جو قبیلہ قلب کی ایک شاخ تھے سالم ان کا غلام تھا اور انہوں نے اس کو آزاد کر دیا تھا، یہ شیعانِ کوفہ میں سے تھا جب حضرت مسلم کوفہ میں تشریف لائے تو یہ ان کی بیعت میں داخل ہوا جب حضرت…
علامہ مجلسیؒ نے بحار الانوار میں یحییٰ بن حسن ؑکو شہدائے کربلا میں لکھا ہے تفصیل معلوم نہیں۔
ان دونوںبھائیوں نے مل کرجنگ کی اوراکٹھے شہید ہوئے، دوسرے بھائی کا نام نہیں مل سکا۔