دربارِا بنِ زیا د
داخلۂ کوفہ کی اطلاع ملی تواس نے دربارِ عام لگایا اورمنادی پھرا کر مجلس عام طلب
کی، چنانچہ فوراًہی شہری ودیہاتی ہر قسم کے لوگوں سے دربار پُر ہو گیا، اس کے بعد
سروں کے حاضر کرنے کا حکم دیا چنانچہ سب سے پہلے ایک طشت طلا میں مظلوم کربلاکا
سرپیش ہوا۔
الاحباب‘‘ سے منقول ہے خولی نے بشیربن مالک کے ہمراہ امام ؑ کا سر پیش کیا
توبشیربن مالک نے یہ اشعارپڑھے:
وَذَھَباً
بہترہے۔
اسکو منہ کے بل لٹادیا۔
تمام لوگوں سے نسب کے لحاظ سے افضل ہے توتونے اس کو قتل کیوں کیاہے؟ پس میرے نزدیک
تیراانعام یہ ہے کہ تجھے قتل کرکے اس کے ساتھ ملایا جائے؟ چنانچہ وہ فوراًقتل
کردیا گیا ۔
نے) ابن سعد کے سامنے پیش کرتے وقت بھی یہ اشعارپڑھے تھے اورابن سعد نے اس کوجھڑک
کرکہاتھا کہ اگر یہ اشعارابن زیاد کو معلوم ہوئے تو تمہیں قتل کردیاجائے گا۔
