عبداللہ بن حسن اکبر ؑ
جلد ۱۰‘‘ سے منقول ہے کہ حضرت قاسم کے بعد حضرت
عبداللہ بن حسن اکبر میدان میں گئے اور رجز پڑھتے ہوئے جہاد کیا۔۔۔ پس چودہ ملاعین
کو تہِ تیغ کر کے ہانی بن ثبیت حضرمی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
ان کے نام میں قدرے اختلاف ہے ۔۔۔ بعض کتب میں حبیب بن عبداللہ نہشلی مذکور ہے اور بعض نے زیاد بن عریب لکھا ہے۔۔۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں الگ الگ شخص ہوں جن کی کنیت ابوعمرو ہو۔۔ اور زیاد بن عریب کا ہمدانی ہونا بھی اس کا شاہدہے۔ بہر کیف ابوعمرو…
ان دونوںبھائیوں نے مل کرجنگ کی اوراکٹھے شہید ہوئے، دوسرے بھائی کا نام نہیں مل سکا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اُمّ البنین کا لخت جگر حضرت ابوالفضل عباس کا یک مادری بھائی تھا، واقعہ کربلا میں اس کی عمر ۳۱ برس تھی، عثمان بن مظعون صحابی رسول کی وفات کے بعد امیر ؑ نے اپنے فرزند کا نام عثمان انہی کی یاد میں رکھا تھا؟ مروی ہے…
اسیرانِ اہل بیت کا قافلہ جب کوفہ سے شام جاتے ہوئے حلب کے قریب سے گذرا تو یہ بچہ ساقط ہوا اور وہاں ہی اس کی قبر ہے۔۔۔ ’’معجم البلدان‘‘ میں ہے کہ حلب کے مغرب میں ایک پہاڑ ہے جس کو جوشن کہتے ہیں وہاں مس سرخ کی کان تھی اور لوگ وہاں سے…
’’نفس المہموم‘‘ سے مروی ہے کہ یہ شخص روز عاشور میدان جنگ میںجہاد کے لئے گیا اور چودہ یا اٹھارہ ملاعین کو باختلافِ روایات فی النار کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
امام مظلوم ؑ کے آخری استغاثہ پر جب شہزادہ عبد اللہ بن حسن امام پاک کی خدمت میں پہنچاتھا تواس ملعون نے اس شہزادہ کواپنے ظلم کا نشانہ بنایا تھا۔