عبداللہ بن عقبہ غنوی لعنہٗ اللہ
یہ ابوبکربن حسن ؑبن علی ؑکا قاتل تھا، خود بھاگ گیا تھا اورمختارکے حکم سے
اس کا گھر ویران کردیا۔
اس کا گھر ویران کردیا۔
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے دیگر تفصیلی حالات معلوم نہیں ہو سکے۔
چونکہ اس کی رہائش قبیلہ بنی شاکر میں تھی اس لئے اس کو مولیٰ شاکر کہا جاتا ہے ورنہ درحقیقت یہ ان کا غلام نہیں تھا یہ شخص سربرآوردہ شیعان علی ؑ میں سے تھا، مشہور حفّاظ حدیث اور نامی گرامی شہسوارانِ کوفہ میں سے اس کا شمار تھا، جناب امیر ؑ سے بہت کچھ…
جب امام مظلوم ؑ کا سرابن زیادکے سامنے رکھا گیا تووہ حرامزادہ بہت خوش ہوا اور اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی وہ امام مظلوم ؑ کے دندانِ مبارک پرمارنے لگا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتاتھاکہ تیرے دانت کس قدر خوبصورت ہیں؟ اوربعض روایات میں ہے اے حسین ؑ تیری داڑھی بہت جلدی…
’’ریاض الشہادۃ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
زیارتِ رجبیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
زیارت رجیہ میں اس پر بھی سلام وار دہے۔