عبداللہ بن یزید بن ثبیط بصری
اورحملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پرفائزہوا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے، طبری سے منقو ل کہ مالک بن عبد اللہ اور سریع (غالباً یہ سیف بن حارث ہے جس کا بیان گزر چکاہے ) یہ دونوں ماں کی طرف سے بھائی اور باپ کی طرف سے ایک دوسرے کے چچا زاد تھے، ایام صلح میں کربلا پہنچے…
بروایت ’’رجال کشی‘‘ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: (۱) لا تَسُبُّو الْمُخْتَارَفَاِنَّہُ قَتَلَ قَتْلَتَنَاَ وَطَلَبَ بِثَارِنَا وَزَوَّجَ اَرَامِلَنَا وَقَسَمَ فِیْنَا الْمَالَ عَلٰی الْعُسْرَۃِ مختار کوگالی نہ دوکیونکہ اس نے اورہمارے قاتلوں کوقتل کیا ہے اورہمارا بدلہ لیا ہے اورہماری بیوائوںکی شادی کرآئی ہے اورہم میں تنگدستی کی حالت میں مال تقسیم کیا…
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے روز عاشور سے پہلے کربلا میں امام حسین ؑ کی خدمت میں پہنچا اور عاشور کے دن فوج اشقیا ٔ پر حملہ آور ہوا اس کے سر پر ایک ضرب لگی جس سے بے ہوش ہو کر زمین پر گرا۔۔ پس اس کے قبیلہ والے اس کو…
بعض کہتے ہیں کہ یہ ملعون روپوش ہوگیا تھا اوربعض مورخین نے کہا ہے کہ بصرہ کی طرف بھاگا تھا لیکن اسے فوراً خیال آیا کہ شاید وہاں میری جان نہ بچ سکے گی کیونکہ یہ ملعون سردارانِ لشکرابن زیادمیں سے تھا اورمشہورومعروف آدمی تھا بس شِراف کی طرف گیا تو وہاں کے لوگوں نے…
یہ حضرت ابوالفضل عباس ؑ کا یک مادری بھائی امّ البنین کا لخت جگر تھا، اس کی عمرواقعہ کربلامیں ۲۹برس تھی حضرت امیر ؑ نے اپنے بھا ئی حضرت جعفر طیارکی یاد میں اس فرزند کا نام جعفر رکھا تھا۔۔۔۔ ’’اعیان الشیعہ‘‘ سے مروی ہے کہ امّ البنین کی اولاد میں سے پہلے عبداللہ شہید…
ان کے شہدائے کربلا میں درج ہونے میں اختلاف ہے لیکن بہت سے علمائے تاریخ مثلاً ابن شہرآشوب، ابومخنف، علامہ مجلسی، مامقانی، شیخ عباس قمی اورصاحب ناسخ نے ان کو شہدائے کربلا میں سے شمارکیا ہے، جیساکہ مناقب، بحارالانوار اورنفس المہموم میں ہے ان کی والدہ ماجدہ صہبا تغلبیہ تھیں جن کی کنیت اُمّ حبیبہ…