علی بن عقیل
کو تہِ تیغ کر کے عبد اللہ بن قطنہ طائی کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔
ابن زیادکو جب قافلۂ اسیرانِ اہل بیت کے داخلۂ کوفہ کی اطلاع ملی تواس نے دربارِ عام لگایا اورمنادی پھرا کر مجلس عام طلب کی، چنانچہ فوراًہی شہری ودیہاتی ہر قسم کے لوگوں سے دربار پُر ہو گیا، اس کے بعد سروں کے حاضر کرنے کا حکم دیا چنانچہ سب سے پہلے ایک طشت طلا…
بعض کتب معتبرہ میں اس بزرگوار کو شہدائے کربلا میں شمار کیا گیا ہے اور اس کا شہدائے کربلا میں ہونا اس سے بھی ثابت ہے کہ حضرت امام حسین ؑ نے آخری استغاثہ میں جب اپنے اصحاب کو نام لے لے کر پکارا تو ان میں ابراہیم بن حصین کانام بھی آتا ہے۔ ’’نفس…
اس نے کوفہ میں امیر مسلم کی بیعت کی تھی، جب کوفیوں نے بے وفائی کی تو یہ چھپا رہا۔۔ جب سنا کہ امام حسین ؑ اس طرف تشریف لارہے ہیں تو خفیہ طور پر وہاں سے نکلا اور امام حسین ؑ کی خدمت میں پہنچا اور روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے اور جب امام حسین ؑ نے اس کو چھوڑ کر چلے جانے کی اجازت دی تھی تو اس نے جواب میں عرض کیا تھا کہ مجھے جنگلی درندے نوچ کر کھا جائیں اگر میں آپ ؑ کو چھوڑ کر چلا جائوں۔۔۔۔۔ ایسا ہرگز نہ کروں…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
مختارکے کوفہ میں داخلے سے بنی اُمیہّ کو جان کے لالے پڑگئے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شیعان علی ؑ سب مختار کے ہمنواہیں، پس عمر سعد اورشبث بن ربعی اوردیگر ہوا خواہانِ بن اُمیہّ عبداللہ بن یزیدکے پاس جمع ہوئے جو اس وقت ابن زبیر کی جانب سے کوفہ کا گورنر تھا اوراسے اطلاع…