۷۔ ارباح مکاسب:-
یعنی ذرائع کسب کے منافع جن کی تفصیل
گزر چکی ہے۔ یعنی زمینداری یا تجارت، کاشت ، صنعت و حرفت، اجارہ، ملازمت اور
مزدوری وغیرہ جو بھی ذرائع آمدنی ہو سکتے ہیں۔ حسب ِ تفصیل مذکورہ پر خمس واجب ہے۔
تقسیم خُمس:-
موثقہ ابن بکیر میں امام جعفر صادق
علیہ السلام یا امام محمد باقر علیہ السلام سے آیتہ مجیدہ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم ۔۔۔
الخ کی تفسیر میں منقول ہے کہ خمس میں اللہ کا حق بھی امام کے لئے ہے اور رسول کا
حق بھی امام کے لئے ہے اور ذوالقربیٰ سے مراد قرابت رسول ہے اور وہ بھی امام ہے اس کے بعد یتیم و
مسکین اور مسافر بھی آلِ رسول سے مراد ہیں۔
مرفوعہ احمد بن محمد
میں معصوم نے فرمایا کہ خمس چھ حصوں میں تقسیم ہوگا یعنی
۱۔ ایک سہم اللہ ۲۔ ایک سہم رسول ؐ کا ۳۔ ایک سہم ذوالقربیٰ کا
۴۔ ایک سہم یتیموں کا
۵۔ ایک سہم مسکینوں کا اور ۶۔ ایک سہم مسافروں کا
پس جو سہم اللہ کا ہے اس کا حق
دار رسول ؐ ہے اور جو رسول کے لئے ہے وہ
ذوی القربیٰ اور حجت زمانہ کے لئے ہے اور باقی آدھا آلِ محمد کے یتیمیوں، مسکینوں
اور مسافروں کے لئے ہے۔ جن پر صدقہ زکوٰۃ حلال نہیں۔ ان کو خدا نے ان کے بدلے میں
خمس دیا ہے پس خود امام ہی ان کو بقد کفایت عطا کرے گا اگر ان سے بچ جائے گا تو وہ
امام کا ہوگا اور اگر کم ہوگا تو امام اپنی گرہ سے اس کو پورا کرے گا۔ اس قسم کی
احادیث بکثرت موجود ہیں۔
خمسِ ارباح مکاسب کی
اکثر روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے اور بعضوں میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ خمس صرف
امام کا حق ہے اور بعض مقامات پر امام کا اپنے شیعوں کو مقتضائے حالاتِ زمانہ کے
پیش ِ نظر معاف کر دینا اس امر کی دلیل ہے کہ خمس صرف امام کا ہی حق تھا۔ ورنہ وہ
تنہا معاف کیوں کرتے علمائے اعلام نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ امام
ولی امر ہے اس لئے روایات میں خمس کی نسبت ان کی طرف ہے اور اس اعتبار سے وہ معاف
بھی کر سکتے ہیں کیونکہ باقی مستحقین خمس کی کمی کو پورا کرنے والے بھی آپ ہیں۔
بہر کیف مقتضائے
احتیاط یہی ہے کہ خمس کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ایک حصہ صرف امام کے
لئے اور دوسرا حصہ سادات کے لئے۔ کیونکہ اگر امام زمانہ حاضر ہوتے تب بھی نصف حصہ
بلکہ بعض اوقات نصف سے زیادہ بھی سادات مستحقین پر تقسیم فرماتے اور یہان سادات سے
مراد وہ لوگ ہیں۔ جن کا سللہ نسب حضرت عبدالمطلب تک پہنچے اور اس زمانہ میں چونکہ
سادات علومین کے علاوہ کسی کے متعلق صحیح یقین پیدا نہیں ہوسکتا۔ کہ اس کا نسب
حضرت عبدالمطلب تک پہنچتا ہے اس لئے خمس سادات علومین تک ہی محدود رکھا جاتا ہے اس
لئے کہ ان کے شجرہ نسب کی نقل میں ہر دور میں اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ پس ہر وہ
شخص جو اپنے مقام پر سید کہلاتا ہو اور اس کا کذب معلوم نہ ہو اور علاقہ بھر میں
ان کا خاندان سید ہی مشہور ہو تو اس کو خمس دیا جاسکتا ہے۔ لیکن دور حاضر میں
جھُوٹے مدعی سیادت بھی بکثرت پیدا ہو چکے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی غیر معروف آدمی اپنے
تئیں سید کہلائے اور خمس کی خواہش کرے تو دینے والے کو احتیاط سے کام لینا چاہیئے
ورنہ اگر جھُوٹا ثابت ہو گیا تو خمس دوبارہ دینا ہی لازم ہوگا۔
مسئلہ:- تقسیم خمس
میں تمام دنیا کے سادات کو اکٹھا کرنا ضروری نہیں بلکہ ان میں سے بعض مستحقین تک
پہنچا دینا کافی ہے اور نصف حصہ مال سادات کو تین حصوں پر تقسیم کر کے ایک حصہ
یتیموں کا اور ایک حصہ مسکینوں کا اور ایک حصہ مسافروں کا مقرر کرنا بھی ضروری
نہیں ہے بلکہ مال سادات کو خواہ سادات یتیموں پر تقسیم کرے خواہ مسکینوں پر تقسیم
کرے خواہ مسافروں پر تقسیم کرے اگر ممکن ہو تو ہر صنف تک پہنچا دے لیکن یہ ملحوظ رہے
کہ وہ مستحق ہو یعنی وہ اپنے اخراجات کا خود کفیل نہ ہو سکتا ہو اور اگر مسافر ہے
تو ادائے خمس کے موقع پر وہ صاحب ِ احتیاج ہو۔
مسئلہ : – عام گداگر
لوگ جو چل پھر کر بھیک مانگتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ ہم سید ہیں جب تک ان کے سید
ہونے کی پوری تصدیق نہ ہوجائے ان کو خمس نہین دیا جاسکتا اور سید ہونے کے علاوہ اس
کا مستحق ہونا بھی معلوم کرے۔
مسئلہ: – اچھے خاصے
لوگ جو گداگری کو پیشہ بنالیں ان کو سائل کی حیثیت سے کچھ دے دینا چاہیے لیکن خمس
سے صرف اس سید کی امداد کی جائے جو بغیر مجبوری کے دست سوال دراز نہ کرتا ہو (یعنی
اس کا مستحق خمس ہونا معلوم ہو)
مسئلہ:- مستحق خمس
میں اوصاف ِ حسنہ خصال حمیدہ کا خیال بھی رکھنا چاہیے نمازی و روزہ دار اور خوف ِ
خدا رکھنے والا اور شریعت کا پابند ہو۔ پس جو شخص اعلانیہ شریعت سے باغی سے باغی
اور حدودِ اسلامی کے توڑنے والا ہو ایسے شخص کو خمس دینے سے گریز کیا جائے کیونکہ
ایسے لوگوں کو خمس دینا دشمنی دین میں اس کی ہمت افزائی کے مترادف ہے لہٰذا وہ
سادات طلبہ جو علوم دینیہ میں اپنی عمر عزیز خرچ کرتے ہیں خمس سادات سے ان کی
امداد کرنا زیادہ موزوں و مناسب ہے۔
مسئلہ: – مستحق خمس
میں شرط ایمان کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے لہٰذا غیر شیعہ سید کو خمس نہیں دیا جا
سکتا۔
مسئلہ: – اگر امام
ظاہر موجود ہو تو سارا خمس ان کے حوالے کر دینا ضروری ہے۔ پس وہ جس طرح مناسب
سمجھیں گے تقسیم فرمائیں گے اور زمانِ رسالت سے لے کر آکر زمان آئمہ تک یہی دستور
رہا ہے کہ خمس ادا کرنے والے نبی تک پہنچا دیا کرتے تھے اور وہ حسبِ مصلحت و ضرورت
اولاد عبدالمطلب میں تقسیم فرماتے تھے اور ان کے بعد آئمہ کا دور آیا تو خمس زمانہ
کے امام کو دیا جاتا رہا اور وہ حسبِ مصلحت و ضرورت تقسیم فرماتے رہے۔ کبھی ایسا
نہیں ہوا کہ خمس ادا کرنے والے نے نصف کو نبی یا امام تک پہنچایا ہو اور باقی نصف
کو خود تقسیم کیا ہو اور آئمہ نے بھی کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نصف کو ہم تک
پہنچا دو اور باقی نصف کو قریبی سادات تک پہنچا دو۔
حضرت امام جعفر صادق
ؑ اور حضرت امام محمد باقر ؑ کا دور چونکہ سخت تقیہ کا زمانہ تھا تو انہوں نے
شیعوں کی معذوری کے پیشِ نظر اور اپنی جانی و مالی حفاظت کی خاطر خمس کی ادائیگی
سے شیعوں کو بری کر دیا اور یہ نہیں کہا کہ ہم تک نہیں پہنچا سکتے تو باقی سادات
کو سارا یا کم از کم آدھا دے دیا کرو۔
اسی طرح ان کے بعد جب
امام رضاؑ اور امام محمد تقی اور بعد کے آئمہ ؑ نے خمس کا پر زور مطالبہ فرمایا تو
یہی حکم دیا کہ ہم تک پہنچاؤ۔ حالانکہ اس زمانے میں سادات اطراف عالم میں پھیل چکے
تھے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ نصف ہم تک پہنچایا کرو اور باقی نصف اپنے قریبی سادات
کو دے دیا کرو۔ امام رضاؑ خراسان میں تھے اور اکثر سادات عراق و حجاز میں تھے۔
تاہم امام نے خمس سارے کا سارا پنی طرف سے طلب فرمایا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ
خمس سارے کا سارا امام کی خدمت میں پیش کیا جانا ضروری ہے اور پھر اس کی تقسیم ان
کی اپنی صواب دید پر موقوف ہے۔
Leave a Reply