ازدواجی زندگی کاحقیقی مفاد
نِسَآوکُمْ
حَرْث لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ
اَنّٰی شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوْا
لِاَنْفُسِکُمْ وَاتَّقُواللّٰہَ
وَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ مُلقُوْہُ
وَبَشِّرِالْمُوْمِنِیْنَ (223)
وَلا
تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِکُمْ
اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ
تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ وَاللّٰہُ
سَمِیْع عَلِیمْ(
224) لا
یُوَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِا اللَّغْوِ
فِیٓ اَیْمَانِکُمْ وَلکِنْ یُّوَاخِذُکُمْ
بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ وَاللّٰہُ
غَفُوْرحَلِیم (
225)
حَرْث لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ
اَنّٰی شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوْا
لِاَنْفُسِکُمْ وَاتَّقُواللّٰہَ
وَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ مُلقُوْہُ
وَبَشِّرِالْمُوْمِنِیْنَ (223)
وَلا
تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِکُمْ
اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ
تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ وَاللّٰہُ
سَمِیْع عَلِیمْ(
224) لا
یُوَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِا اللَّغْوِ
فِیٓ اَیْمَانِکُمْ وَلکِنْ یُّوَاخِذُکُمْ
بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ وَاللّٰہُ
غَفُوْرحَلِیم (
225)
ترجمہ:
تمہاری
عورتیں تمہاری کھیتی ہیں پس آﺅ
اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اوربھیجو اپنے
نفسوں کےلئے (نیک
اعمال)
اوراللہ
سے ڈرو اورجانوتحقیق تم اس کے پاس حاضر
ہونے والے ہو اورخوشخبری دیجئے ایمان
والوں کوo
اورنہ
بناﺅ
اللہ کو نشانہ اپنی قسموںکاتاکہ نیک بنو
اوربچوگناہوں سے اوراصلاح کرو درمیان
لوگوں کے اورخداسننے جاننے والاہےo
نہیں
گرفت کرتا تم کو خداساتھ لغو کے تمہاری
قسموں میں لیکن وہ مواخذہ کرے گا ساتھ اس
چیز کے جوکسب کیا تمہارے دلوں نے اورخدابخشنے
والاحلیم ہےo
عورتیں تمہاری کھیتی ہیں پس آﺅ
اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اوربھیجو اپنے
نفسوں کےلئے (نیک
اعمال)
اوراللہ
سے ڈرو اورجانوتحقیق تم اس کے پاس حاضر
ہونے والے ہو اورخوشخبری دیجئے ایمان
والوں کوo
اورنہ
بناﺅ
اللہ کو نشانہ اپنی قسموںکاتاکہ نیک بنو
اوربچوگناہوں سے اوراصلاح کرو درمیان
لوگوں کے اورخداسننے جاننے والاہےo
نہیں
گرفت کرتا تم کو خداساتھ لغو کے تمہاری
قسموں میں لیکن وہ مواخذہ کرے گا ساتھ اس
چیز کے جوکسب کیا تمہارے دلوں نے اورخدابخشنے
والاحلیم ہےo
ازدواجی زندگی کاحقیقی مفاد
نِسَآئُ کُمْ حَرْث لَّکُمْ: نسل انسانیت کو چونکہ موجودات پر افضلیت اورفوقیت دی گئی ہے لہذ ان کے احکام کو بھی موجودات سے امتیازی شان کاحامل ہونا ضروری ہے عام حیوانات کی بقائے نسل کا دارومدار بھی نر مادہ کے باہمی جوڑ پر ہے بلکہ ماہرین نباتات کے نزدیک تو نباتات کی افزائش و بقابھی اجناسِ نباتیہ کے نر و مادہ کے ملاپ پر موقوف ہے اور عربی ممالک میں تو آج کل بھی بار آوری کے زمانہ میں نر کھجور کے خوشوں سے اس کا پھل نکال کر مادہ کھجور کے خوشوں میں داخل کر کے اسے ادنیٰ سے اعلیٰ بناتے ہیں اور اسے تابیر کہتے ہیں اور چونکہ تمام نباتات میں نر و مادہ کی ملاوٹ پر انسان کی قدرت نہیں بلکہ پودہ جات کے اقسام مختلفہ میں سے نر و مادہ کی پوری شناخت بھی انسان کے بس کا روگ نہیں لہذا خدا وند حکیم نے ہواﺅں اور آندھیوں کے ذریعہ سے ان کے اثرات کو ایک دوسرے تک منتقل فرمانے کا انتظام کیا ہے اور یہ تجربہ شدہ امر ہے کہ کھجورو ں کے باغات میں اگر نر کھجور کے پودے نہ ہوں یا بہت کم ہوں تو باغات کے پھلوں میں معتدبہ کمی واقع ہو جاتی ہے اس سے اس امر کا بخوبی انکشاف ہو سکتا ہے کہ باقی پودہ جات اور میوہ جات اور میوہ دار اشجار کا بھی یہی حال ہو گا۔
اس مقام پر خدائے قدوس نے نسل انسانی کی بقااورنشوو نما کے طریقہ کی وضاحت کی ہے کہ عورت کو صرف استلذاذ اورتسکین شہوات کا آلہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ قدرت کی حکیمانہ ایجاد وتخلیق نے اسے اشرف المخلوقات کی نشوونما کے لئے کھیتی قرار دیاہے۔
اس مختصر سے لفظ میں خداوندکریم نے عورت ومرد کی ازدواجی زندگی کے متعدد پہلوﺅں کی نشان دہی فرمائی ہے:
(1) کھیتی میں متعدد مالکوں کی شرکت باعث نزاع ہوا کرتی ہے بنابریں عورت کےلئے بیک وقت ایک سے زیادہ مرد حرام ہیں
(2) کھیتی پر مالک کاتصرف حاکمانہ ہوتا ہے اس سے عورت پر مرد کی حکومت کی طرف اشارہ ہے
(3) کھیتی کی تربیت مالک کے ذمہ ہوتی ہے اس سے عورت کے تمام تراخراجات لائقہ کی ذمہ داری کا وجوب مرد پر عائد ہوناسمجھاجاتاہے
(4) کھیتی کے حفاظتی انتظامات مرد پر عورت کےلئے پردہ داری کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں
(5) کھیتی میں غیر کے بے جاداخلے سے نقصان کااندیشہ جہاں زناکی حرمت بتاتاہے وہاں مردکو غیرت کا بھی درس دیتا ہے
(6) بعض وقتی تقاضوں کے ماتحت کھیتی کواپنی ملکیت سے خارج کیا جاسکتا ہے جومسئلہ طلاق کی طرف متنبہ کرتا ہے
(7) اسی طرح ازدواجی زندگی کے جملہ اصول کااسی مثال سے استکشاف کیا جاسکتا ہے اورخاص طور پر قابل توجہ امر یہ ہے اورانسان کاعقلی فریضہ بھی یہی ہے کہ اچھے پھل حاصل کرنے کےلئے اچھی سے اچھی زمین کاانتخاب کرے کیونکہ اچھے سے اچھا بیج ناکارہ زمین میں تلف ہوجاتاہے یابعض اوقات غیر تسلی بخش افادیت کاحامل ہوتا ہے بخلاف اس کے کمزور بیج لائق اور شستہ زمین میں تسلی بخش اور صحت افزا نتیجہ تک منتہی ہوتا ہے۔
اسی نقطہ کے پیش نظر تو خانوادہ عصمت سے کافی روایات منقول ہیں جن میں عورت کے انتخاب پر زور دیا گیا ہے عورت کوصرف حسن وجمال کی خاطر یازرومال کے طمع کےلئے منتخب کیا جائے تو یہ دانش مندی نہیں بلکہ قرآن مجید کی تشبیہ کے لحاظ سے پہلے پہل عورت کے عقل ودماغ کاجائزہ لیا جائے کیونکہ صنفی طور پر تووہ ویسے ناقص العقل ہے، اگر شخصی طور پر بھی کور دماغ ہو تو ایک دانشمند اوربلند خیال انسان کااس کے ساتھ قطعاً گزرا نہیں ہوسکتا خواہ وہ عورت اپنے مقام پرظاہری لحاظ سے تصویر حسن اورپیکر جمال ہی کیوں نہ ہو؟ اسی بنا پر تو معصوم کافرمان ہے کہ اگر عورت کو صرف ظاہری جاہ وجلال یاحسن مال کی خاطر اپنے عقد میں لائے تو بعید نہیں کہ وہ ان دونوںفائدوں سے محروم رہے؟
نیز اگر عورت کندذہن اوربددماغ ہوگی تو اس کالازمی نتیجہ ہے اولاد کا کندذہن ہونا خواہ مرد کتنا ہی عقیل اورفہیم ہو جس طرح کہ عورت کی کھیتی سے تشبیہ اس امر کی شاہد ہے کہ عمدہ بیج نالائق زمین میں نالائق پیداوار لاتا ہے اورناکارہ بیج بھی اعلیٰ زمین میں خوشگوار نتائج پیش کرتا ہے اورحضرت امیر المومنین ؑ کا شجاع اولاد کی خواہش میں شجاع خاندان کی عورت کے انتخاب کےلئے حضرت عقیل سے مشورہ لے کر امّ البنین کا عقد میں لانا اسی نکتہ کے پیش نظر تھا ورنہ اگر یہ اوصاف مرد کے تابع ہوتیں تو شجاعت کے مقام میں آنحضرت ؑ کسی سے کیا کم تھے اوریہی وجہ ہے کہ حسنین شریفین گو مقام شجاعت میں بھی بے پناہ شخصیت کے حامل تھے لیکن ایثار حلم وحوصلہ صبر ورضا سکون واطمینان اوررحم وکرم میں بھی نمایاں حیثیت کے حامل تھے اوریہ شیرِ بتول معظمہ کی تاثیر تھی اورحضرت عباس ؑ باوجود باقی صفات میں قابل ہونے کے جوہر شجاعت میں امتیازی شان پر فائز تھے اوریہ حضرت امیر المومنین ؑ کے اس انتخاب کانتیجہ تھا، اگر تتبع کیا جائے اورتاریخ میں شخصیات کے ان پہلوﺅں پر نظر رکھی جائے تو معلوم ہو گا کہ اولاد کی اچھائی یا برائی میں ماﺅں کا کس قدر دخل ہے؟
بہر حال عورت ومرد کی ازدواجی زندگی کاانحصار صرف شہوت رانی اورتعیش پرستی پر ہی نہیں بلکہ ان کی نگاہ ایک اعلیٰ اوربلند مقصد پر ہونی چاہیے تاکہ ایک طرف ان کی اپنی زندگی خوشگوارہو اوردوسری طرف بہترین اولاد ان کی نسل سے منصہ شہود پرآئے تاکہ عالم وجود انسان نمادرندوں سے بھر پور ہونے کی بجائے صحیح معنوں میں انسانیت کا گہوار ہ بن کرامن واطمینان کاسانس لے۔
اَنّٰی شِئْتُمْ: اس میں خداوندکریم نے اپنی عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی کھلی اجازت دی ہے کہ جب چاہو یاجہاں چاہو اپنی منکوحہ کو اپنی نسل کےلئے کھیتی سمجھ کر اس سے ہمبستری کرو اورایک دوسرے مقام پر عورت کو مرد کےلئے باعث سکون قرار دیا گیاہے، اسی طرح ایک جگہ پر عورت ومرد کو ایک دوسرے کالباس تصور کیا گیا ہے، ان سب تصریحات وارشادات میں مرد کو ہوس جنسی کی تسکین کے ساتھ ساتھ حقو ق وفرائض کی طرف بھی متنبہ کیا گیا ہے تاکہ صرف شہوت رانی اورجنسی لذات کو ہی ازدواجی زندگی کامال نہ سمجھے بلکہ ہمبستری کے وقت بھی تسکین قلب کے ساتھ ان حدود کی پاسداری کاخیال رکھے جو شریعت مقدسہ نے اس کےلئے مقرر فرمائی ہیں اورچونکہ وطی فی الدبر میں عورت کے کھیتی ہونے کونظر اندازکرناپڑتا ہے لہذا شریعت مقد سہ نے اس فعل شنیع کو قابل نفر ت اورمکروہ قرار دیا ہے کیونکہ عورت کے ساتھ ہمبستری کرنے کےلئے اس کے کھیتی ہونے حیثیت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے اورعورت پر بھی واجب ہے کہ مرد کےلئے تسکین قلب کی موجب ہو اورہر ممکن طریقہ سے مرد کے جذبات کااحترام کرنا اپنا نصب العین سمجھے۔
وَلا تَجْعَلُوا اللّٰہَ: تفسیر عمدة البیان میں ہے کہ عبداللہ بن رواحہ نے اپنے بہنوئی سے ناراض ہو کر قسم کھالی تھی کہ نہ اس کے ساتھ نیکی کروں گا اورنہ اس کی زوجہ سے اس کی صلح کراﺅں گا اورنہ اس کے دشمنوںاوراس کے درمیان صلح کراﺅں گا پس یہ آیت اتری کہ اللہ کو اپنی قسموں کانشانہ نہ بناﺅ تاکہ نیک بنویا یہ کہ اللہ کو باعث رکاوٹ نہ بناﺅ اس بات سے کہ نیکی کرو اورتقویٰ اختیار کرو اورصلح کراﺅ۔
Leave a Reply