اسلامی نظام کے سمجھنے میں فحش غلطی| islami nizam samjhny mein fahsh ghalti | islam
اِسلام میں دو طبقوں نے اسلامی نظام کو اپنے اندازِ فکر کے مطابق ایک مخصوص طرز ِ عمل میں محدود کر لیا ۔ ایک طبقہ نے نماز و روزہ و حج و زکواۃ وغیرہ عبادات میں نظام اسلامی کو بند کر دیا اور دوسرے طبقہ نے چور کے ہاتھ کاٹنے شرابی کے کوڑے لگوانے اور زانی کے سنگسار کرانے کی سزاؤں تک نظام اسلام کو محدود کردیا ۔ گویا ذہن نے اسلام کو مسجد ومُصلا تک اور سیاسی ذہن نے تعزیرات تک اسے محدود سمجھا ۔ حالانکہ یہ دو نو نظر کئے غلط ہیں کیونکہ عبادات نظام اسلامی کی ہمہ گیری اور مقبولیّت عامہ کے لئے تمہید و مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور تعزیرات نظامِ اسلام کی خلاف ورزی پر ملزموں کی سزاؤں کا نام ہے اور نظام اسلام تمدنِ انسانی کی بقا و ارتقا کےلئے انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات میں ایک متوازن و موزوں دستور العمل کا نام ہے۔ جس پر عمل پیرا ہو کر انسان رسکِ ملکوت بن سکتا ہے اور انسانوں کی یہ دنیا رشکِ جنّت بن سکتی ہے۔

Leave a Reply