اجمعین و لعنۃ اللہ علی اعدائہم الی یوم
الدین
عصر حاضرمیں جبکہ دینائے انسانیت ایسی ہو لناک آتش فتنہ کی
لپیٹ میں ہے۔ جس کا سیاہ دھواں تاریخی میں اضافہ کرتا چلا جارہا ہے۔ اور عالم
انسانیت کا ہر مفکر اس سوچ میں ڈوبا ہوا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے کو اور اپنی
قوم کو آگ اور خون کے اس بحربے پایاں سے بچا کر فتنہ و فساد کی آگ سے ایک طرف
کرلوں۔
نفسا نفسی کے اس اندوہناک عالم میں جہاں غیر مسلم مفکر ین
تک غیر جانبدار رہنے کی کوشش کررہے ہین۔ وہان اپنی ناگفتہ بہ مجبوریوں کی بدولت
عالم اسلام جنگ میں کودتا چلارہا ہے۔ حالانکہ دنیائے اسلام کا ہر چارہ گر اس حقیقت
سے بھی بکوبی آشنا ہے کہ دشمن انسانیت جنگ کے انجام پر اگر کوئی فائدہ حاصل ہوا
بھی تو ملت مُسلمہ اس کے حصّہ سے محروم ہی رہے گی
۔ حق تو یہ تھا کہ ملت مسلمہ کے تمام ارباب حل و عقد سر جوڑ کر بیٹھے اپنے
سیاہ مستقبل کی فکر کرتے اور اپنے ہاتھوں
اپنی قبریں نہ کھودتے۔ لیکن بیحد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ اجطرب وبے چینی کے ان مشکل
ترین !لمحات میں ہماری نگاہ میں عقل سے عاری چند ایسے افراد ہیں جنکی تمام تر علمی
و عملی قوت کا نصب العین انگیزی ۔فتنہ جائی قومی افتراق اور ملی اتحاد کو پارہ
پارہ کرنا ہے۔
آج جبکہ دورجدید ہر طرف سے ہو کر اپنے تمام و سائل کو بروئے
کار لاکردین اور علم دین کو تختہء مشق کے بطور استعمال کرنے میں معروف عمل ہے۔ اور
حالات کے تیور بتارہے ہیں کہ مستقبل قریب میں یہ جمارت اور زیادہ بڑھے گی۔
ان نازک ترین لمحات میں ہمارے کچھ لکھنے والے بھی مخالف دین
طبقہ کا ہاتھ بٹارہے ہیں۔ ان لوگوں کی زبان پر کلمہ اسلام ہے۔ لیکن ان کی قلم
ارکان اسلال میں کیڑے نکال رہے ہیں۔ علم دین پر کاری خربیں لگارہے ہیں۔ اور علمائے
دین کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں۔ اندازہ تو یہی ہے کہ یہ لوگ عالم اسلام کے مستقبل سے
ناآشنا ئے محص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ننگ اسلال قلم پر ورق سیاہ کرتے ہوئے
انتشار ملی کی خلیج کو وسیع سے وسیع تر چلے جارہے ہیں۔
کاش ان لوگوں میں اتنا شعور ہوتا کہ آجکل اسلام ۔ اسلام پر
ور افراد اور علمائے اسلام کے خلاف عوامی جذبات ابھارنا نگاہ اسلام میں کتنا سنگین
جرم ہے۔ اور اسلامی ممالک کو اس کے کتنے بھیانک نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ ذاتی طور پر ان جیسی تحریروں اور تقریروں کا
میں کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ لیکن چونکہ ان دنوں چند ایسی کتابیں اور پمفلٹ نظر سے
گزرے جن میں عوام فریبی ۔ مغالطے اور حق پوشی کی انتھا کردی گئی ہے۔ اس لئے ناچار
قلم بدست ہوکر
ان بیگانہ ء علم افراد کی لغزشوں اور حق پوشیوں سے عوام کو
روشناس کرنے کا ارادہ کرلیا۔ تا کہ محترمہ اور منصف قارئیں یہ اندازہ لگاسکیں کہ
اس انتشار و افتراق کے شجرہء خبیثہ کی جڑیں کہاں ہیں۔ اور ممکن ہے میری اس تحریر
کو پڑھ کر کچھ فریب ! خوردہ ذہن بھی اس حقیقت سے واقف ہوجائیں کہ ایسے قلمکاروں
اور مقررین کا نصب العین ملت مسلم اور ممالک اسلامیہ اختلاف پیدا کرکے دشمنان
اسلام کے ہاتھ مظبوط کرنا ہے۔
Leave a Reply