نبی کے دعوائے نبوت کے بعد اس کا
معیار صداقت یہ ہے کہ وہ تمام فضائل و کمالات انسانیہ کی جامعیت میں اپنی امت سے
افضل و اکمل ہو علمو فضل کمال شرافت
دیانت امانت صداقت اور عزت نفس وٖغیرہ میں ان سے ممتاز ہو زہد و تقوی میں اپنی
مثال آپ ہو اور اپنے دعوائے نبوت کےساتھ طلب کرنے پر معجزہ بھی دکھا سکتا ہوا ور
اپنے مقصدکو واضح طور پر ثابت کرنے کی
جرات بھی کر سکتاہوا س کو نہ دولت مرعوب کر سکے اور نہ کلمہ حق کے کہنے میں حکومت
وقت سے مرعوب ہووہ جذباتیلہجہ کے بجائے
اعتراضات سن کر نہایت سکون و اطمنیان سے مطالب کے چہرہ سےغبار اٹھانے کی پوری پوری
اہلیت رکھتا ہو اس کو اس مطلب کی تبلیغ و ترویج میں کوئی دنیا وی لالچ و حرص یا
خواہش نہ ہو بہر کیف ڈھونڈنے والے حقیقت اور تصنع میں واضح فرق معلوم کر سکتے ہیں
اور معجزہ جو اس زمانہ کی رفتار ترقی سے معیار بلند رکھتا ہو وہ دعوائے نبوت کی
تصدیق میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے
Leave a Reply