anwarulnajaf.com

انسان کی پیدائش

وہ نچوڑیا جوہر جو کسی دوسرے جسم سے حاصل کیا جائے اس کو
سلالہ کہا جاتا ہے اور اسی بناء پر بیٹے کو سلالہ یا سلیلہ بھی کہتے ہیں اور انسان
کی پیدائش ایک جوہر سے ہے جو مٹی سے حاصل کیا گیا ہے یہ جو ہر یعنی مادہ منویہ
بصورت نطفہ ایک وقت مقرر تک مناسب قرار گاہ یعنی عورت کے رحم میں رہتا ہے پھر اس
کے بعد ایک وقت تک وہ نطفہ خوب بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر ایک مقررہ میعاد تک
وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے پس قدرت کی صنعت کاری سے اس میں ہڈیاں
بنتی ہیں اور ان کو گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے اور اوپر چمڑے کا پردہ دے کر بحکم
پروردگار اس میں روح انسان کو داخل کیا جاتا ہے اور وہ ایک نئی مخلوق کا روپ دھار
لیتا ہے ۔

تفسیر برہان میں کافی سے متعدد روایات منقول ہیں کہ امام
محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا کہ رحم میں چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر چالیس
دن علقہ یعنی بستہ پھر چالیس دن مضغہ یعنی گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پس اس کے بعد نر
یا مادہ بنتا ہے اسی لئے آپ نے فرمایا کہ لڑکے کے لئے دعا چار ماہ تک مانگی جائے
کیونکہ چار ماہ یعنی ایک سو بیس دن پورے ہو جانے کے بعد وہ لڑکا یا لڑکی بن جاتا
ہے اور اس میں نفح روح ہو جاتا ہے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *