anwarulnajaf.com

اوّل مخلوق

جس طرح اس عالمِ اصغر میں ایک عقل موجود ہے جو
مشاعر باطنیہ اور حواسِ ظاہرہ سے روح کا تعارف کراتی ہے، عقل کے بغیر نہ تو حواس
باطنیہ (واہمہ۔۔۔ متفکرہ۔۔۔ متخیلہ) وغیرہ صحیح کام کر سکتے ہیں اور نہ حواسِ
ظاہرہ میں ارتکابِ صحیح و غلط کی تمیز ہوتی ہے، بس اسی عقل ہی کی بدولت ظاہری و
باطنی ہر د وطاقتیں راہِ راست پر گامزن ہوتی ہیں۔

اسی طرح عالمِ اکبر میں عقلِ کل یعنی نورِ حضرت
محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی کام ہے کہ اُدھر قدسیین عالم بالا
میں ان کی رہبری کے (درس توحید میں) محتاج اور اِدھر عالم سفلی میں یہ مخلوق فیوضِ
روحانیہ میں ان کی دستِ نگر ہے۔

جس طرح عالمِ اصغر میں (وجود انسانی میں) اوّلِ
مخلوق عقل ہے یعنی بچے کی ترتیبِ خلقت میں عَلقہ، مُضغہ کی منازل طے کرنے کے بعد
جب انسانی ڈھانچہ پورا تیار ہو جاتا ہے اور روح کی آمد ہوتی ہے تو پہلے پہل
روح۔۔۔ عقل و دماغ میں آتی ہے اور اس کے بعد باقی اعضا ٔ میں پہنچتی ہے، اسی طرح
وجودِ عالمِ اکبر میں مخلوقِ اوّل نورِ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ہے اور ان کے بعد باقی مخلوق کی تخلیق ہوئی، چنانچہ فرمایا: اَوَّلُ مَا خَلَقَ
اللّٰہُ نُوْرِیْ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّد۔

کتابِ جامعُ الاخبار بابِ فضائل نبی میں جابر بن
عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ میں نے جناب رسالتمآب کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ
تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے۔۔۔ علی ؑ ۔۔۔ فاطمہ ؑ۔۔۔ حسن ؑ۔۔۔ حسین ؑ اور باقی
آئمہ کو ایک نور سے خلق فرمایا، اور پھر اسی نور سے ہمارے شیعوں کے نور کو پیدا
کیا، (یہ بات واضح رہے کہ حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰؑ تک تمام انبیا ٔ آلِ محمد
کے شیعیان کے زُمرہ میں داخل ہیں اور اسی طرح ان کے اوصیا ٔ بھی آلِ محمد کے زمرہ
میں داخل ہیں) پس ہم نے تسبیح ادا کی تو ہمارے شیعوں نے ہماری اتّباع میں تسبیح
ادا کی، ہم نے اس کی تقدیس بیان کی تو ہمارے شیعوں نے ہم سے سن کر خداوند کی تقدیس
کو زبان پر جاری فرمایا، ہم نے لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو وردِ زبان بنایا تو
انہوں نے بھی ایسا کیا، ہم نے اس کی عظمت کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی ایسا کیا، ہم
نے اس کی توحید کا اقرار کیا تو انہوں نے بھی اقرار کیا۔

پھر اس کے بعد خداوند کریم نے آسمانوں اور زمینوں
کو خلق فرمایا اور فرشتوں کو پیدا کیا، پس فرشتے خلقت کے بعد ایک سو برس تک خاموش
رہے انہیں تسبیح و تقدیس و تمجید کا علم نہ تھا۔۔۔ پس:

٭      ہم نے تسبیح ادا
کی تو ہماری اقتدأ میں ہمارے شیعوں نے اور فرشتوں نے تسبیح ادا کی۔

٭      ہم نے تقدیس بیان
کی تو ہمارے شیعوں اور ملائکہ نے ہماری تقدیس سن کر زبان پر تقدیس جاری کی۔

٭      ہم نے اسکی عظمت
و بزرگی کا ذکر کیا تو شیعوں اور ملائکہ نے ہم سے سن کر اسکی عظمت کا ذکر زبان پر
جاری کیا۔

٭      ہم نے اس کی
توحید بیان کی تو ہمارے شیعوں نے اور فرشتوں نے ہم سے سن کر توحید بیان کی۔

اس سے پہلے ملائکہ کو تسبیح و تقدیس کا علم نہ
تھا، پس ہم اس وقت سے خداوند کی توحید بیان کرنے والے ہیں، تو جس طرح اس نے ہمیں
اور ہمارے شیعوں کو یہ خصوصی شرف مرحمت فرمایا ہے، سزاوار ہے کہ ہمیں اعلیٰ
علّیّین میں جگہ کرامت فرمائے۔

نیز بابِ فضائل آئمہ میں بطریق آئمہ اہل بیت ؑ
جناب رسالتمآبؐ سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

آئمہ میرے بعد بارہ ہوں گے۔۔۔ پہلا ان میں سے علی
ؑ ابن ابیطالب ہوگا اور آخری ان کا حضرت قائم آلِ محمد ہوگا، یہ میرے جانشین اور
اوصیأ و اولیا ٔ ہوں گے اور میرے بعد خداوند کی طرف سے حجت علیٰ الخلق ہوں گے، ان
کی امامت کا اقرار کرنے والا مومن۔۔۔ انکار کرنے والا کافر ہوگا، نیز آپؐ نے
فرمایا کہ میری اہل بیتؑ مثل ستارگانِ آسمان ہے جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے
امان ہیں اسی طرح اہل بیت اہل زمین کے لئے باعث امان ہیں۔

ان روایات کے نقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حضرات
محمد و آلِ محمد ساری خلقت ارضی و سماوی کے مدرّس و معلّم ہیں، جس طرح عالم اکبر
کی قدسی مخلوق عالمِ انوار میں عقلِ کل اور مخلوقِ اوّل (حضرات محمد و آلِ محمد)
کے انوارِ طاہرہ سے درسِ توحید و تمجید و تسبیح و تقدیس حاصل کر کے حمد وثنائے
ذاتِ خدا میں رطبُ اللسان ہوئی اسی طرح عالمِ ظاہری میں بھی تاقیامت انہی کی ذواتِ
طاہرہ۔۔۔ ہادیٔ کل و حجت خدا ہیں۔

اوّلِ مخلوق کے متعلق جو روایات وارد ہوئی ہیں:

٭      بعض میں اَوَّلُ
مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ سب سے پہلے سرکارِسالت کے نورکو خلق کیاگیا۔

٭      بعض میں ہے
اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ الْعَقْل جس سے معلوم ہوتا ہے اوّلِ مخلوق عقل ہو تا
ہے۔

دونوں قسم کی روایات کو جمع کرنے سے یہی معلوم
ہوتا ہے کہ یہ سب وجودِنوری ٔ سرکارِرسالت کی جداجداتعبیریں ہیں، یہی کائناتِ عالم
کی عقلِ کل بھی ہیں اور نو رِ اوّل بھی۔۔۔۔۔ لہذاکوئی منافات روایتوں میں نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض ۱؎
اوقات حضرت جبرائیل خد مت رسالت میں موجود ہوتے اور حضرت علی ؑ کی آمد پر ان کے
لیے بہرتعظیم کھڑے ہوجاتے۔۔۔ حضوؐر کی استفسار پر جواب دیتے تھے کہ ان کامجھ پر حق
تعلیم ہے، آپؐ نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ تو جبرائیل نے عرض کیا کہ ابتدائے خلقت میں
مجھ سے خالق کاخطاب ہوا کہ مَنْ اَنَاوَمَنْ اَنْت میں کون اور توکون ہے؟ تو میں
نے جواب دیا   اَنَااَنَاوَاَنْتَ اَنْت میں میں ہوں اور توتوہے، پھر
دوبارہ یہی سوال وجواب ہوا۔۔۔ جب سہ بارہ سوال ہوا تومحوِ حیرت تھا کہ کیا جواب
عرض کرو ں پس اچانک عالمِ انوار سے اسی جوان کو دیکھا اوراس نے مجھے صحیح جواب
تعلیم دیا اور فرمایا کہہ کہ توربّ جلیل ہے اور میں تیرا عبدذلیل ہوں، تیرا نام
جلیل ہے اور میرا نام جبرائیل ہے، آپؐ نے دریافت فرمایاکہ تیری خلقت کب سے ہے؟ تو
جواب دیاکہ جانب عرش سے ایک ستارہ تیس ہزارسال کے بعدایک مرتبہ طلوع ہوا کرتاہے
اور اب تک میں اس کو تیس ہزارباردیکھ چکاہوں۔

_____________________________________________________

۱-     لواعج
الاحزان ص 
۲۰۴  جناب رسالتمآبؐ خود جانتے تھے لیکن
اس بات کو منظر عام پر لانے کے لئے اس سے سوالات کئے ممکن ہے کوئی اور وجہ ہو۔۔۔
واللہ اعلم

پس یہ ذواتِ مقدسہ عقلِ کل کی حیثیت سے جس طرح
عالمِ اکبرکی سفلی مخلوق جن ّ وانسان کے لیے ہادی ہیں اسی طرح عالمِ علوی کی مخلوق
ملائکہ وروحانییّن کے لیے بھی رہبر ومعلّم ہیں۔۔۔۔۔ اور ہمارے عقول چونکہ ان عقول
کے مقابلہ ناقص ہیں لہذا جب تک ہم ان سے ربط وتعلق پیدا نہ کریں توفیوضِ قدسیہ اور
انوارِ معرفت الٰہیہ تک رسائی نا ممکن ہے، کیونکہ ہماری عقول تمام اشیا ٔ کے جملہ
مصالح و مقاصدکا نہ ادراک کرسکتی ہے اور نہ صحیح لائحہ عمل ازخودمرتب کرکے صراطِ
مستقیم کی تعیین کرسکتی ہیں۔

مثال کے طورپر جس طرح ایک غیرممیزبچہ عقل ودماغ
رکھتا ہے جوبچے کے حواس کو اچھی و بُری اشیأ کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن اس کی عقل
میں جس قدر قوت ہے اسی مقدار کی موزونیت سے وہ فرائض رہبری انجام دیتی ہے، اسے صرف
اتنا بتلا سکتی ہے کہ یہ کھانے کی چیز ہے اور یہ پینے کی چیز ہے لیکن یہ صلاحیت اس
کی عقل میں ہرگز نہیں کہ بچے کو اپنی و بیگانی کے درمیان تمیز بھی بتلا سکے، لہذا
اس کا نظریہ ہر خوردنی و نوشیدنی شئے کے استعمال تک ہی محدود رہتا ہے، عقل اسے اس
شئے کے نفع و نقصان کا فرق بھی نہیں بتا سکتی کیونکہ اس میں اس کی بھی صلاحیت نہیں
بس وہ شکم پری کی رہبری ہی کر سکتی ہے، اب چونکہ اس بچہ کی رہبر (عقل) رہبری کے
درست فرائض انجام نہیں دے سکتی کیونکہ اس میں قوت ہی نہیں لہذا اس بچے کے افعال کی
خرابی یا انجام کی برائی میں اس کو ملامت نہیں کی جاتی اور حکومت شرعیہ اور حکومت
ظاہریہ دنیاویہ ہر دو کے نزدیک بچہ اپنے افعال کا ذمہ دار نہیں قرار دیا جا سکتا
اور نہ ہی وہ جزأ و سزا کا سزاوار گردانا جاتا ہے بلکہ اس کے افعال کی بازپرس اس
کے مربی (ماں، باپ) وغیرہ سے ہوتی ہے اور وہی اس کے ذمہ دار قرار دئیے جاتے ہیں
کیونکہ ان کی عقول اس کے مقابلہ میں کامل ہیں۔

اسی طریق پر ہمارے عقول گو کمال کی انتہا کو پہنچ
جائیں، عقول انبیا ٔخصوصاًمحمدوآلِ محمدکے عقول کاملہ کے مقابلہ میں بالکل ناقص
اور خورد سال بچے کی عقل کی مانندہیں پس یہ ہماری رہبری اپنی حد رسائی تک تو ضرور
کر سکتی ہے لیکن اس سے آگے قدم بڑھانا ان کے لیے ناممکن ہے کیونکہ تمام اشیا ئے
ضرورت اور امورِ حفاظت کے مصالح ومفاسد کا نہ ان کو علم ہو سکتا ہے اور نہ اس کے
مطابق فرائض ہدایت انجام دے سکتی ہیں بلکہ تمام روزمرہ کی چیزوں میں ہر مصلحت
ومفسدہ کاادراک بھی کلی طور پر ان کے بس سے باہر ہے لہذاوہ انجام کے ذمہ دارکیسے
قراردئیے جاسکتے ہیں؟

خود ذاتِ احدیت کا ارشاد ہے:

٭      وَعَسٰی اَنْ
تَکْرَھُوْا شَیْأً وَھُوَخَیْرٌلَکُمْ وَعَسٰی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْأً
وَھُوَشَرٌّ لَکُمْ

ترجمہ: اور ممکن ہے کہ تم ایک شئے کو نا پسند کر و
اور درحقیقت تمہاری اس میں بھلائی ہو اور ممکن ہے تم ایک شئے کو پسند کر و اور
درحقیقت وہ تمہا رے لئے بری ہو (پ
۲ع۱۰)

ہماری عقول آیاتِ متقدمہ کی روشنی میں (زمین اور
آسمان کی تر تیب میں فکر یا جسما نی اعضا ٔکا نظام مر تب اور اس میں غور) صرف اس
مر حلہ تک پہنچ سکتی ہیں کہ اس کا ئنات کا خا لق و مدبّر ضرورہے جو تمام صفا تِ
کمال(علم، قدرت،حکمت اور قِدم و حیا ت) سے متصف ہے، لیکن یہ کہ اس کی ذات تک رسائی
کیسے ہو، اور اس کی مرضا ت کی تحصیل کیونکر ہو؟ اور مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ
اِلَّا لِیَعْبُدُوْن ( میں نے جنوں اور انسانوں کو معرفت و عبادت کے لئے خلق
کیاہے ) کے فر ما ن کی تعمیل و اِمتثال کس طرح ہو؟

یہ چیز ہماری نا قص عقول سے دُور تر ہے لہذا ہمیں
عقلِ کل ( حضرات محمد و آلِ محمد ) کی فر ما ئشات پر عمل کر نا ہو گا۔

 


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *