anwarulnajaf.com

اُنتیسویں مجلس — وَ الضُّحٰی ء وَ اللَّیْلِ اِذَا سَجٰی ء مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ء وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی ء وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ء اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی ء وَ وَجَدَکَ ضَآ لًّا فَھَدٰی ء وَ وَجَدَکَ عَائِلًا فَأغْنٰی ء

مجھے پھیلی ہوئی روشنی کے وقت چاشت کی قسَم اور چھائی ہوئی تاریکی
والی رات کی قسَم یعنی دن رات کی قسَم۔۔ یا یوں عرض کروں سیاہ و سفید کی قسَم یا
نور وظلمت کی قسَم نہ اے میرے حبیب!  تجھے تیرے ربّ نے چھوڑا ہے اور نہ تجھ
پر ناراض ہے،  اندازِ بیان سے معلوم ہوتا
ہے کہ کافر لوگ مسلمانوں کو ستاتے تھے کہ جب بھی مسلمانوں پر کوئی تکلیف یا مصیبت
آتی تو زبانِ طعن دراز کرتے اور کہتے کہ دیکھو اگر تمہارے نبی کا اللہ تعالیٰ سے
کوئی تعلق ہوتا تو تمہارے اوپر یہ مصیبتں نہ آتیں یا تو وہ تمہیں چھوڑگیا ہے
اوریا پھر تم پر ناراض ہے۔۔ پس کمزور عقیدہ کے لوگوں کے قدموںمیں لغزش آجاتی تھی۔
یہ دستور آج کا نہیں ہمیشہ سے چلا آتا ہے کہ جب بھی مومنوں پر
تکلیف آتی ہے تو کافر کہا کرتے ہیںکہ اگر تمہارے ہادی تمہاری مدد کرسکتے یا
تمہارا دین حق ہوتا تو تم پر یہ مصائب نہ آتے۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ بطورِ تسلی
فرماتا ہے کہ میرے حبیب گھبرائو نہ اور کفار کی طعنہ زنی سے متاثر نہ ہو، تیرے خدا
نے نہ تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ تم پر ناراض ہے۔۔۔۔ میری نعمات کی پہلے بھی تم پر
کمی نہیں تھی اور جو بعد میںدوںگا ان سے بدرجہا بہتر ہوں گی اور بعد والی نعمتیں
پہلی نعمتوں سے زیادہ ہوںگی۔
پیغمبر اکرؐم کوجو نعمات پہلے دی گئیں ان کاتذکرہ خداوند فرماتا ہے
کیا آپ یتیم نہیںتھے اور میں نے تجھے اپنے دامن میں پناہ دی؟ کیا آپ راہِ تبلیغ
میں حیران نہیں تھے کہ میں نے پریشانیاں دور کرکے ایک واضح راستہ کی طرف نشاندہی
کی؟ اور کیا آپ غریب و نادار نہیں تھے کہ میںنے دولت دے کر غنی کر دیا؟
یتیمی میں آپ کی پرورش اور دولت دے کر غنی کرنے کو اللہ تعالیٰ اپنی
طرف منسوب فرما رہا ہے حالانکہ مفسرین کا تقریباََ اس امر پر اتفاق ہے کہ یتیم پروری
کے فرائض ادا کرنے والے حضرت ابو طالب ؑتھے اور دولت دے کر غنی کرنے والی جناب
خدیجہ ؑطاہرہ تھیں۔
قرآن مجید کے اسلوب بیان کا جائز ہ لیتے ہوئے یہ بات اظہر من الشمس
ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی کافر کے فعل کو اپنا فعل نہیں قرار دیتاخواہ
کافر کا فعل اچھا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ فرعون نے حضرت موسیٰؑ کو پالا اور قرآن نے
فرعون کا قول نقل کیا ہے اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا کہ کیا ہم نے تجھے
پالا پوسا نہیں ہے؟ حضرت ابوطالب ؑنے حضرت محمد مصطفی کو پالا۔۔ لیکن فرعون کے
پالنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فعل نہیں قرار دیا اور حضرت ابوطالب ؑکے فعل کو اللہ
تعالیٰ اپنا فعل قرار دے کر فرما رہا ہے  اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی
کیا تجھے یتیم پا کر ہم نے پالا نہیں ہے؟پس فرعون کے فعل کو اپنا نہ کہنا (حالانکہ
وہ بھی نبی پروری تھی )اور حضرت ابو طالب ؑکے فعل کو اپنا کہنا اس امر کی دلیل ہے
کہ فرعون کا فر تھا اسلئے اس کے فعل کو اپنا فعل نہ کہا اور حضرت ابو طالب ؑمومن
تھے اسلئے ان کے فعل کو اپنا فعل قرار دیا۔
بلکہ اللہ تعالیٰ معصومین کے فعل کو اپنا فعل کہا کرتا ہے۔۔ حضرت
عیسیٰؑ نے اپنے نمائندے انطاکیہ والوں کی طرف بھیجے تو  اللہ تعالیٰ نے سورہ
یٰسین میں ارشاد فرمایا اِذْا أرْسَلْنَا اِلِیْھِم یعنی ہم نے دو بھیجے ان کی
طرف پھر تیسرا بھی ہم نے بھیجا اور حضرت محمد مصطفی نے سنگریزے مارے تو اللہ
تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف منسوب کر لیا  مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ
لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی جب تو نے سنگریزے مارے تھے وہ تو نے نہیں مارے بلکہ ہم نے
مارے تھے۔۔۔ جب حضور اکرم ؐ نے بیعت شجرہ لی تو فرمایا یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ
أیْدِیْہِمْ  ان کے ہاتھوں پر تیرا ہاتھ
نہیں تھا میرا ہاتھ تھا۔۔ اسی طرح فرمایا  وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی
اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی یہ اپنی مرضی اور خواہش سے نہیں بولتا بلکہ
ہماری وحی ہوا کرتی ہے، پس قرآن میں یا تو انبیا ٔ کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنا
فعل کہا یا حضرت ابو طالب ؑاور جناب خدیجہ ؑکے فعل کو اپنا فعل قرار دیا۔
حضرت ابو طالب ؑاور جناب خدیجہ ؑکا فعل اس قدر پسند آیا کہ سیا ہ و
سفید اور نوروظلمت کی قسَم کھا کر فرمایا کہ میں نے تیری یتیم پروری کی اور دولت
دے کر غنی کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ کے یہ دونوں احسان عمومی ہیں کیونکہ وہ ہر ایک
کو پالنے والا اور ہر ایک کو دولت دینے والا ہے۔۔ پس حضوؐر کوخصوصی طور پر متوجہ
کرنا صرف اُمت محمدیہ کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ قرآن کے ختم کرنے والو! اور
سرسری طور پر قرآن کے الفاظ سے گزر جانے والو! کبھی معانی پر توجہ کیا کرو کہ نہ
حضرت ابو طالب ؑکا احسان بھلا دینے کے قابل ہے اور نہ جناب خدیجہ ؑکا احسان فراموش
کرنے کے قابل ہے اور میں اللہ اِن دونوں کے اسلام پر احسان کی طرف سیاہ و سفید کی
قسَم کھا کر تمہیںتوجہ دلاتا ہوں کہ ان کو نظر انداز نہ کرنا جس کے فعل کو میں
اپنا فعل قراد دے رہا ہوں، حالانکہ حضرت محمد مصطفی پر میرے مخصوص احسان بہت زیادہ
ہیں ان کی رحمت للعالمین بنایا۔۔ سید الا نبیا بنایا۔۔ یہ صاحب معراج ہیں۔۔شافع
امت ہیں وغیرہ اور میں نے ان احسانات کا تذکرہ نہ کرکے ان دومحسنوں کا ذکر کیا ہے
تا کہ تنبیہ ہوجائے۔
ذات پر احسان اور مشن پر احسان کی وقعت الگ الگ ہے، ذات پر جو احسان
ہے اس کی افادیت محدود ہے اور جو مشن پراحسان ہے جب تک مشن رہے گا اس محسن کا اس
میں حصہ رہے گا، مجھے کھانا کھلا یا میری ذات پر احسان ہے لیکن میرے مدرسہ کو پائی
پیسہ کی امداد دینا مشن پر احسان ہے کہ جب تک مدرسہ رہے گا اس کارِ خیر میں دینے
والے کی نیکی لکھی جائیگی۔
حضرت ابو طالب ؑاور جناب خدیجہ ؑکا احسان حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ذات
تک محدودنہیں کیونکہ قرآن حضوؐر کی ذات کی ترجمان کتاب نہیں بلکہ مشن کی تبلیغی
کتاب  ہے پس ان کا احسان مشنِ اسلام پر تھا کیونکہ اسلامی مشن کی کتا ب اس کو
وقیع انداز میں ذکر کر رہی ہے۔
دیکھئے۔۔ کوئی تحریک چلانے والا جب اپنی تحریک کو ہمہ گیر بنانا چاہے
تو اسے بہت کچھ کر نا پڑتا ہے بلکہ رطب و یابس کا سہارا لینا پڑتا ہے مثلاً اگر
سیاسی تحریک ہو تو مقبولیت ِعامہ کی خاطر ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں کہ اس تحریک کو
اُمرأ طبقہ بھی قبول کرے اور غربأ بھی ساتھ دیں۔۔۔ کیونکہ اُمرأ کا رسوخ اور
غریب کا ووٹ کامیابی کی ضمانت ہوا کرتا ہے، جب یہ دونوں طبقے ساتھ نہ دیں تو
کامیابی مشکل ہے، لیکن ان دونوں کے مزاج مین تضاد ہے کیونکہ امیر کا مزاج یہ چاہتا
ہے کہ غریب موجودہ حالت سے غریب تر رہے تاکہ میری خدمت کرتارہے اور اس کے دماغ میں
کبھی میرے ساتھ برابری کرنے کا تصور تک نہ پیدا ہو۔۔ اور غریب یہ سوچتا ہے کہ امیر
بھی مجھ جیسا ہوجائے تاکہ اس کو غریب کی قدر ہو، پس ان دونوں متضاد مزاج طبقوں کو
اپنا ہمنوا بنانے کے لیے جھوٹ سے کام لیے بغیر چارہ نہیں۔۔۔۔ پس کامیاب سیاستدان
وہی ہوگا جو جھوٹ بولنے میں مہارت رکھتا ہو خواہ برادرانِ ملت کہہ کر خطاب شروع
کرے یا نَحْمَدُہُ وَ نُصَلِّی کہہ کر بیان شروع کرے جھوٹ کے بغیر مقبولیت مشکل
ہے، امیر کو کرسی پیاری ہے پس جھوٹا وعدہ دے کر اُسے کرسی کی ضمانت دے اور غریب کو
روٹی پیاری ہے بس جھوٹ بول کر روٹی کپڑا اور مکان کا ان کے ساتھ وعدہ کرے۔
حضرت محمد مصطفی نے اسلام کی عالمگیر تحریک چلانے کی ابتدأ کی تو
مکہ کے امیر و غریب دشمن ہوگئے۔۔ کیونکہ امیروں کی کرسی خطرہ میں تھی اور غریبوں
کی روٹی کو خطرہ تھا کہ اگر کلمہ پڑھیں گے تو امیر طبقہ ہمیں نوکریوںسے محروم کر
دے گا؟ جس کی وجہ سے ہماری روٹی پر اثر پڑے گا۔۔۔اور امیر طبقہ سمجھتا تھا کہ محمد
رسول اللہ پڑھنے کے بعد ہمیں کرسی سے ہاتھ دھونا پڑے گا، اسی وجہ سے دونوں طبقے
دشمن تھے اور سیاستدانوں کی طرح جھوٹ بول کر اپنے ساتھ ملانا ناممکن تھا کیونکہ
زبانِ رسالت  جھوٹ اور غلط بیانی سے مبرّا و منز ّہ تھی۔
پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو طالب ؑکے احسان سے اُمرأ طبقہ تک کلمہ
حق پہنچانا آسان کر دیا اور دوسری طرف جناب خدیجہ ؑکے ذریعے غریب عوام کے لیے
اسلام کا قبول کر نا سہل کر دیا کہ غربا طبقہ کے لوگ جناب خدیجہ ؑکی دولت سے روٹی
کی فکر سے بے نیاز ہوکر اسلام کے حلقہ میں داخل ہوجائیں۔۔۔۔ پس حضرت ابوطالب ؑکے
ذریعہ اُمرأ کو اور دولت ِجناب خدیجہ ؑکے ذریعے غربا ٔ کو اسلام کی تعلیمات سے
روشناس کرنے کی مشکل آسان ہوگئی۔۔۔ اور۔۔ وَجَدَکَ ضَآ لًّا فَھَدٰی کا معنی بھی
صاف ہوگیا کہ آ پ اس تبلیغی کاروائی میں حیران تھے تو یہ دونوں محسن دے کر میں نے
تبلیغ کے راستہ میں حائل شدہ رکائوٹیں دور کردیں اور تیری یہ پریشانی ختم کردی، پس
یہ دونوں صرف تیر ی ذات کے محسن نہیں بلکہ مشنِ اسلام کے محسن ہیں اگر حضرت ابو
طالب ؑنہ ہوتے تو اُمرأ طبقہ کو کلمہ نصیب نہ ہوتا اور اگر جناب خدیجہ ؑکی دولت
نہ ہوتی تو غریب طبقہ کو اسلام کا کلمہ نصیب نہ ہوتا۔
میں حیران ہوں کہ اسلامی تاریخ نے ان دونوں کو پس پشت کیوں ڈال دیا؟
 تو معلوم ہوتا ہے مسلمان روز ِاوّل سے ان دونوں سے بغض رکھتے ہیں، حضرت
ابوطالب ؑکا قصور صرف یہ ہے کہ وہ حضرت علی ؑ کے والد ہیں اور جناب خدیجہ ؑطاہرہ
کا قصوریہ ہے کہ وہ جناب زہرا ؑکی والدہ ہیں۔۔۔ پس حضرت علی ؑ کے دشمنوں نے حضرت
ابوطالب ؑکو کافر کہہ کر مولا علی ؑ سے دشمنی کی بھڑاس نکال لی اور جناب زہرا ؑ کے
دشمنوںنے جناب ِخدیجہ ؑکو فراموش کرکے انتقام لے لیا۔
دیکھئے۔۔ حضرت ابو طالب ؑاور جناب خدیجہ ؑبارہ بارہ معصومین ؑ کے ماں
باپ ہیں۔۔ کیونکہ امام حسن ؑسے امام مہدی ؑتک گیارہ امام ہیں جو حضرت ابو طالب ؑکے
پوتے اور جناب خدیجہ ؑکے نواسے ہیں اب اگر اِن گیارہ کے ساتھ حضرت علی ؑ کو ملایا
جائے تو بارہ کا باپ حضرت ابو طالب ؑہے اور اِن گیا رہ کے ساتھ جناب زہرا ؑ کو
شامل کرلیا جائے تو بارہ معصومین ؑکی ماں جناب خدیجہ ؑ ہے، پس ان دونوں کی ہی نسل
ہے جو تا قیامت دین اسلام کی پاسبان ہے، پس جب تک اسلام رہے گا نہ حضرت ابوطالب
ؑکا احسان ختم ہو گا اور نہ جناب خدیجہ ؑکا احسان ختم ہوگا، پس پورا اسلامی مشن تا
حیات ان دونوں کا ممنونِ احسان ہے۔
دیکھئے۔۔ جناب خدیجہ نسلِ سادات کی ماں ہیں اور حقیقی ماں ہیں نہ کہ
اعزازی؟ کیونکہ جن کی جناب زہرا ؑ ماں ہے ان سب کی جناب خدیجہ ؑ ماں ہے اور لاکھوں
نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ہونے والی نسل کی ماں ہے، آج چودہ سو سال کے عرصہ
میں کروڑوں سادات مردو عورت دنیا میں آئے اور چل بسے۔۔ آج بھی ہیں اور قیامت تک
کروڑوں اور پیدا ہوں گے پس اِن کروڑ ہا نسل کی حقیقی ماں ہونے کے باوجود کھلے
منبروں پر جناب خدیجہ کو امّ المومنین کہتے ہوئے زبان لرزتی ہے لیکن جس بیچاری کو
ماں ہونا نصیب ہی نہیں ہوااس کے لیے ببانگ ِدہل منبروں پر کھڑے ہو کر امّ المومنین
ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے؟ اور اس میں نہ شرم ہے نہ جھجھک اور یہ تاریخ اسلام کی
ایسی شرمناک حرکت ہے جس کی حد نہیں؟
کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو طالب ؑچونکہ حضوؐر کے چچا تھے لہذا خونی
رشتہ کی بنا ٔ  پر بھائی کی اولاد سمجھ کر انہوں نے تربیت کی تھی۔۔ تو میں
عرض کروں گا کہ کسی پر کسی کو قربان کرنے کا بھی اصول ہوتا ہے مثلاًایک سو ر وپیہ
حاصل کرنے یا بچانے کے لیے ایک روپیہ بھی قربان کرنا آسان ہے۔۔ ہزار روپیہ بچانے
کے لیے ایک سوکو قربان کرنا قرین قیاس ہے و علی ہذا القیاس۔۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ
چھوٹی چیز کو بچانے کے لیے بڑی کو قربان کیا جائے۔
اب سیر تِ حضرت ابو طالب ؑکا مطالعہ کیجئے۔۔۔ حضوؐر کی خاطر مکہ کو
چھوڑ کر شعب ِابی طالب ؑمیں تین سال مسلسل جلا وطنی کی زندگی گزاری۔۔ پس مکہ کو
خیر باد کہا حضرت محمد مصطفی کی خاطر۔۔ تجارت کو ختم کردیا حضوؐر کی خاطر۔۔ گھر
اور خاندان سے بچھڑگئے حضوؐر کی خاطر۔۔ حتی کہ کلید بردار بیت اللہ تھے اور بیت
اللہ کو چھوڑ دیا حضورؐ کی خاطر۔۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت محمدمصطفی کے
مقابلہ میں یہ تمام چیزیں ہیچ ہیں جن کونظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
پھر غور فرمائیے کہ خاندان کا مقابلہ ہو بھتیجے سے تو خاندان کے
مقابلہ میں بھتیجا قیمتی ہے۔۔ پس خاندان کو بھتیجے پر قربان کیا جائے گا لیکن اگر
بھتیجے کے مقابلہ میں بیٹا ہو تو فطری تقاضوں کے ماتحت بیٹا قیمتی ہے بھتیجے سے
کیونکہ وہ اپنا خون ہے اور یہ بھائی کا خون ہے۔۔ پس بیٹے کو بچانے کے لیے بھتیجا
قربان کرنا چاہیے، لیکن وہ کون سی شئے ہے جو بیٹے کے مقابلے میں آجائے تو بیٹے کو
قربان کرکے اس کو بچایا جائے؟ و ہ ہے دین کیونکہ بیٹے سے دین قیمتی ہے۔
جب حضرت ابو طالب ؑقریش سے بایئکاٹ کر کے حفاظت ِپیغمبر کی خاطر شعب
ِابی طالب ؑمیں آئے تو رفتہ رفتہ یہ خبر پورے عرب میں پھیل گئی اور ہر جگہ
قریشیوں کا شکوہ ہونے لگا کہ انہوں نے ہاشمی سردار کو ناراض کرکے جلا وطن ہونے پر
مجبور کر دیا ہے۔۔ پس بصورتِ وفد اکا برین قریش شعب ِابی طالب ؑمیں پہنچے تاکہ
مذاکرات ہو جائیں اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنا ٔپر آپس میں صلح و صفائی ہوجائے،
چنانچہ انہوں نے باہمی مذاکرات میں دو نکات پیش کئے:
ز   اے ابو طالب ؑ! ہم آپس میں سودا کریں کہ قریش مکہ کا
نوابزادہ عمارہ بن ولید جو کہ ایک حسین وجمیل نو عمر لڑکا ہے اس کو آپ لے لیں اور
اپنا بھتیجا(محمد مصطفی) ہمیں دے دیں پس ہمارا او رآپ کا جھگڑ اختم۔۔۔۔ حضرت ابو
طالب ؑنے جواب دیا اس قدر غلط تقسیم تم نے کی ہے احمقو! تمہارا بیٹا پالنے کیلئے
لوں اور اپنا بیٹا تمہیں ذبح کرنے کیلئے دے دوں؟ جائو ہم تمہاری چال میں آنے
کیلئے تیار نہیں ہیں۔
ز   دوسرا یہ کہ حضرت محمد مصطفی سے کہو ہم سے جو چاہے
منوالے ہم بلا عذر مانیں گے اگر شادی کا خواہشمند ہے تو قومِ قریش کے جس گھرانے کی
لڑکی سے شادی کرنا چاہے ہم اسی وقت رشتہ طے کرا دیں گے۔۔ اگر گھر بنانا چاہے تو جس
طرح کی بلڈنگ چاہے ایک عالیشان محل تیار کروادیں گے۔۔ اگر دولت و زر کی خواہش ہو
تو ہم سارے قریشی اس کا مطالبہ ماننے سے دریغ نہیں کریں گے اور اگر حکومت کرنا
چاہے تو ہم باتفاقِ رائے اس کے سر پر تاجِ شاہی رکھنے کو تیار ہیں، ہمار اصرف ایک
مطالبہ ہے کہ ہمارے خدائوں کی توہین نہ کرے اور نیا مذہب ایجاد نہ کرے۔
حضرت ابوطالب ؑنے حضوؐر کی خدمت میں قریش مکہ کا مطالبہ عرض کیا تو
حضرت پیغمبرؐ نے سن کر فرمایا چچاجان! اِن سے برملا کہہ دیجئے کہ اگر فلک چہارم سے
سورج اتار کر میرے ایک ہاتھ پر رکھ دیں اور چاند کو اپنی جگہ سے بلا کرمیرے دوسرے
ہاتھ پر رکھ دیں یعنی پوری کائنات کا سونا و چاندی میرے قدموں میں ڈالدیں میں سب
کو ٹھکرادوں گا لیکن اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ میں ذرّہ بھر کوتاہی نہ کروں
گا۔۔ قریش کے منشور ناقابل قبول ہوئے تو بڑ بڑاتے اٹھے اور واپس چلے گئے۔
حضرت ابو طالب ؑنے سوچا کہ مذاکرات کے فیل ہونے کے بعد بدمعاش لوگوں
کا راستہ تشدد ہوسکتا ہے کہ شب ِ خون مار کر میرے محمد مصطفی کو میری غفلت میں قتل
کر دیں تو میری زندگی کی محنت برباد ہوجائے گی اور قریش دیکھ کر گئے ہیں کہ حضوؐر
کہاں سوتے ہیں اور میرے بچے کہاں سوتے ہیں؟ پس حضرت محمد مصطفی کو اُٹھا کر اپنے
بچے کی جگہ سلایا او راپنے فرزند (امام علی ؑ) کو حضورؐ کے بستر پر لٹایا تاکہ
پیغمبر اکرم ؐ کے بستر پر سونے والا میرا بچہ ذبح ہو تو ہو لیکن حضور ؐ پر آنچ نہ
آنے پائے؟
میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ کم قیمت یا ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کیا
جاتا ہے، حضرت ابوطالب ؑنے گھر۔۔ خاندان۔۔ مکہ اور کعبہ کو قربان کر دیا حضرت
محمدمصطفی پر، کیونکہ حضوؐر قریب ہیں اور خاندان کا تعلق دور کا ہے، اب بیٹے اور
بھتیجے کے مقابلے میں اگر پیغمبر اکرؐم کو بھتیجا سمجھتے تو اپنے بیٹوں کو حضرت
محمدمصطفی پر ہر گز قربان نہ کرتے کیونکہ یہ اپنا خون ہیں اور حضوؐر بھائی کا خون
ہیں لیکن بیٹے کو پیغمبر اکرؐم کی جگہ پر سلا کر قربان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اے
دنیا والو!  اگر میں محمد مصطفی کو بھتیجا سمجھتا تو بیٹے کو بچاتا اور
بھتیجے کو قتل ہونے دیتا لیکن ایسا ہرگز نہیں بلکہ بیٹے کو بیٹا سمجھتا ہوں
اورحضوؐر کو دین جانتا ہوں اور جب دین و اولاد کا مقابلہ ہو تو دین بچایا جاتا ہے
اور اولاد کو قربان کیا جاتا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ کفار کو جرأت نہ ہو سکی اورحضرت ابو طالب ؑمسلسل
ایساکرتے رہے لیکن مشیت ِتوحید نے محفوظ رکھا دین بھی بچ گیا اور بیٹا بھی محفوظ
رہا ورنہ حضرت ابو طالب ؑکی نیت میں فرق نہ تھا۔۔۔ بعینہٖ جس طرح حضرت ابراہیم ؑکو
حکم ہوا کہ پیاری چیز کو راہِ خدا میں قربان کرو اللہ تعالیٰ کا امر دین ہے اور
پیاری چیز بیٹا تھا پس حضرت ابراہیم ؑنے بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی اسلئے کہ دین
کی حفاظت بیٹے کی حفاظت سے اہم ہے۔۔ لیکن مشیت ِتوحید نے دنبہ بھیج کر حضرت اسماعیل
ؑکو بچا لیا ورنہ حضرت ابراہیم ؑکی نیت میں فرق نہ تھا۔۔پس جس طرح وہاں مشیت نے
حضرت اسماعیل ؑکو بچالیا اسی طرح یہاں بھی حضرت ابو طالب ؑکے بیٹے کومشیت نے
بچالیا، وہاں حضرت ابراہیم ؑکی نیت میں فرق نہ تھا یہاں حضرت ابو طالب ؑکی نیت میں
فرق نہ تھا۔۔۔ یہ سنت جاریہ رہی اسلئے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے دعا مانگی تھی وَمِنْ
ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّک کہ ہم دونوں یعنی حضرت ابراہیم ؑ و حضرت
اسماعیل ؑ کی ذرّیت سے ایک گروہ پیدا فرما جو تیرے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا
ہو۔
حضرت پیغمبر اکرؐم کی گود میںایک طرف حضرت ابراہیم ؑاپنا فرزند اور
دوسری طرف  امام حسین ؑ شاید دو نوں ہم سن ہوں گے۔۔ پس کبھی بیٹے کو پیار
کرتے تھے کبھی امام حسین ؑکو چومتے تھے، اسی خو شی خوشی میں جبریل نازل ہوا اور عر
ض کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان دونوں میں سے ایک کو چن لو دوسرا ہمیں دے دو۔۔ پس
پیغمبرؐ نے دونوں شہزادوں کو دیکھ کر فوراََ فیصلہ کر لیا کہ حسین ؑکو میں لیتا
ہوں بیشک اللہ تعالیٰ  میرے ابراہیم ؑکو لے لے۔۔۔ غالباََ یہ مصلحت کارفرما
تھی کہ حضرت ابراہیم ؑفرزند ہے اور امام حسین ؑ دین ہیں۔۔ فرزند جاتاہے تو جائے
دین نہ جائے۔
اب امام حسین ؑ نے میدانِ کربلا میں اپنے بزرگوں کی خاندانی روایت کو
برقرار رکھا بلکہ اُن سے بڑھ چڑ ھ کر آگے قدم رکھا۔۔ وہاں صرف دین کے مقابلے میں
ایک فرزند کی قربانی کا معاملہ پیش آتا رہا لیکن یہاں صرف ایک فرزند نہیں پورا
گھرانہ۔۔ حتی کہ بہنوںکے پردہ تک کو دین کی حفاظت کیلئے قربان کرنے سے دریغ نہ
فرمایا۔
غالباً بقولے دسویں کی رات بہن نے پوچھا کہ تیرا امتحان سخت تھا یا
دادا حضرت ابراہیم ؑکا امتحان سخت تھا؟ تو امام ؑنے فرمایا حضرت ابراہیم ؑکے بیٹے
کی گردن پر چھری آئی لیکن اس کے بدلہ میں دنبہ ذبح ہوا اور حضرت اسماعیل ؑذبح
ہوئے بغیر ذبیح اللہ بن گئے۔۔۔ لیکن جو برچھی میرے علی اکبر ؑ کے سینے میں آئے گی
وہ نہ ٹلے گی۔۔ اسی طرح آگ حضرت ابراہیم ؑکے لیے روشن کی گئی تھی وہ بالآ خر
گلزار بن گئی لیکن جو آگ یہاں جلے گی وہ گلزار نہ ہو گی؟
ہائے۔۔ کس قدر المناک ہے یہ داستان؟ اُجڑ گئی حضرت علی ؑ کی بیٹی
ہمارے پاس کیا بچا؟ جب ہماری مخدومہ کھلے سر بازار وں میں پھرائی گئی؟ بے شک نبی
زادیوں پر امتحانا ت آئے لیکن وہ مصائب کے آگے نہ ٹھہر سکیں۔
چنانچہ جناب رحمہ خاتون حضرت ایوب ؑکی زوجہ حضرت ذوالکفل کی ماں اور
حضرت یوسف کی پوتی یا بیٹی خاندانِ نبوت کی شہزادی بارہ فرزند بیک وقت کوٹھے کی
چھت کے نیچے دب کر مر گئے لیکن اُف تک نہ کی۔۔ پورا گھر تباہ و برباد ہوا لیکن صبر
سے کام لیا اور حضرت ایوب ؑ خود سخت ترین مرض میں ایک دو سال نہیں بلکہ
۱۳یا
۱۷ برس بیمار رہے لیکن دامن صبر ہاتھ سے نہ چھٹنے دیا۔۔۔۔ لیکن ایک وقت
آیا کہ اس صابرہ خاتون کے ہاتھ سے دامن صبر چھوٹ گیا اور وہ یہ کہ حضرت ایوب ؑکی
خدمت کے لیے گھر سے نکلیں کسی راستہ پر تھیں کہ کہیں سے چند نوجوان آرہے تھے
انہوں نے جناب رحمہ خاتون سے اپنا نسب پوچھا تو بتایا میںحضرت یوسف ؑکی پوتی یا
بیٹی ہوں او رحضرت ایوبؑ نبی کی زوجہ ہوںمیرا شوہربیمار ہے اوراس کے لیے مزدور ی
کر نے چلی ہوں ان میں سے ایک بے حیا نے (شاید) کہہ دیا کہ تمہارے باپ حضرت یوسف ؑ
کے بال سنہرے اور خوبصورت تھے پس سر سے چادر کا دامن سرکائو اور ہمیں سر کے بال
دکھائو پھر ہم تیرے شوہر کی ہر ممکنہ خدمت کردیں گے۔۔ یہ سننا تھا کہ شریف زادی کی
چیخ بلند ہوئی اور گھر تک روتی ہوئی واپس چلی آئی جب حضرت ایوبؑ نے اپنی زوجہ کو
گریہ کرتے دیکھا تو گھبرا گئے اور سوال کیا اے میری شریک حیات! اور میری صابرہ۔۔
وفادار اور دمسا زاس رونے کی کیا وجہ ہے ؟ بس جب بی بی نے وجہ بیان کی تو حضرت
ایوب ؑجیسے صابر نبی کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ گیا اور چلّا کر عرض گزا ر ہوئے
اے میرے اللہ! کیا یہ میرا امتحان ہے یا میری غیرت اور ناموس کا؟ میں ہر امتحان
سہہ سکتا ہوں لیکن ناموس کا درد مجھ سے نہیں سہا جاسکتا پس میرا امتحان ختم کردے
چنانچہ ان کا امتحان ختم ہوا۔
میں زوجہ حضرت ایوب ؑکی خدمت میں عرض کروں گا کہ اے نبی زادی! تیرے
سر سے چاد ر چھینی کسی نے نہیں صرف اُنہوں نے بالوںکا نام لیا جس کو برداشت نہ کر
سکی ہائے زینب عالیہ ؑ! کس طرح ظالموں نے تیرے سر سے ردا چھینی اور توکس طرح
نامحرموں کے مجمع میں کھلے سر جاتی رہی؟ یہ تیر اہی حوصلہ تھا۔
میں عرض کروں گا اے حضرت ایوب ؑ! آپ کی زوجہ کے سر سے چادر کسی نے
اتاری نہ تھی ہائے ایوبِ کربلا تو نے کس طرح بچشمِ خود دیکھا ہوگا کہ مائوں۔۔
بہنوں اور پھوپھیوں کے سروں سے چادریں اتارلی گئیں؟
ہماری عام عورتیں بھی خدا گواہ ہے صرف ایک میل تک شتر برہنہ پشت پر
سوار نہیں ہوسکتیں۔۔۔ خداجانے سینکڑوں میل کا سفر بتول زادیوں نے بے کجاوہ اونٹوں
پر کیسے کیا ہوگا؟ اور یہ ان کے عزم و استقلال کا نتیجہ ہے کہ انبیا ٔ کی بیٹیاں
صرف ایک مصیبت سے گھبرا گئیں اور حضرت علی ؑکی بیٹی پر مصائب کے پہاڑ اُٹھے لیکن
پائے استقلال سے سب کو ریزہ ریزہ کر کے آگے قدم بڑھاتی گئیں اور مصائب خود دم توڑ
گئے اورجناب زینب عالیہ ؑ کے استقلال میں فرق نہ آیا۔
 میں آپ سے سوال کرتا ہوں
دنیا میں کوئی ایسا بھائی بھی ہو گا جس کے سامنے سال کے بعد بہن آئے اور بھائی
اسے پہچان نہ سکے؟
جب یہ لٹا ہوا قافلہ واپس مدینہ پہنچا تو حضرت محمد حنفیہ ملنے کیلئے
دو غلاموں کے سہارے تشریف لائے۔۔ حضرت سجاد ؑ اٹھ کر ملے تو چچا محمد حنفیہ نے
بھتیجے کو سینے سے لگا یا اور دبایا تو امام سجاد ؑ کی چیخ نکلی چچا جان! میری
پسلیاں درد کرتی ہیں!
حضرت محمد حنفیہ نے پوچھا بیٹے! میں بیمار ہوں مجھے ملنے بھیا حسین
ؑنہیں آئے؟ امام سجاد ؑ نے جواب دیا چچا جان میں یتیم ہوکر آیا ہوں۔۔ با با مارا
گیا، انہوں نے پوچھا میرے باقی بھائی کہاںہیں؟ تو امام سجادؑ نے رو کر جواب دیا سب
شہید کر دیئے گئے۔۔۔ پھر انہوں نے سوال کیا کہ پورے خاندان میںکتنے بچ کر آئے ہو؟
تو امام سجادؑ نے بتایا کہ ایک میں اور دوسرا آپ کا پوتا محمد باقرؑباقی بچے ہیں
اور امت محمدیہ نے باوجود پیغمبر اکرؐم کی وصیت کے ہمارے اوپر جو مظالم ڈھائے اگر
حضوؐر  ظلم کا حکم دے جاتے تب بھی اس سے بڑھ کر ظلم نہ ہوتا؟ حالانکہ وہ اپنی
آل پر احسان کرنے کی وصیت فرما گئے تھے۔
قافلہ میں تھوڑی سی بیبیاں تشریف فرما تھیں کیونکہ کہا تو یہ جاتا ہے
کہ کل تین اونٹوں کی سواریاں تھیںپس حضرت محمد حنفیہ نے سوال کیا میری بہن زینب
ؑواپس نہیں آئیں حالانکہ وہ سامنے تشریف فرما تھیں لیکن بھائی پہچان نہ سکا؟ تو
حضرت سجاد ؑ نے اشارہ کر کے فرمایا وہ سفید سر والی بی بی جو کر بلا کی طرف منہ کر
کے اپنے بھائی کو رو رہی ہے وہی میری پھوپھی زینب ؑہے۔۔۔ ۔ بقولے ۔۔۔۔۔اِدھر سے
حضر ت محمد حنفیہ چلے اور اُدھر جناب فضہ نے بازو ہلا کر عرض کیا بی بی تو ترستی
تھی کہ کبھی مجھے بھی کوئی بھائی ملنے کے لیے آئے گا؟ وہ دیکھ تیرا بھائی محمد بن
حنفیہ تجھے ملنے آرہا ہے۔۔۔ بھائی کا نام سننا تھا کہ کنیز کے سہارے اٹھیںاو رچند
قدم پہلے ہاتھ دراز کرکے بھائی کے گلے میں ڈال کر کہا اے اللہ ؟ تیرا شکر ہے کہ
ایک علی ؑکی تصویر میںنے آنکھوں سے دیکھ لی۔۔۔ حضرت محمد بن حنفیہ نے پوچھا بھیا
حسین ؑ کے بعد کیسے زندہ رہ گئی؟ جواب دیا بھائی موت اپنے بس میں نہ تھی۔۔ پھر
حضرت محمد حنفیہ نے پوچھا بھائیوں کے بعد کیا گزری اور کیسے گزری؟ جواب دیا بھائی
یہ سوال نہ کریں کیونکہ آپ جانتا ہیں کہ میں جناب زہرا ؑ کی غیرت مند بیٹی ہوں
اورآپ حضرت علی ؑکے غیور فرزند۔۔۔ بھائی ہو کر بہن کے درد نہ سن سکیں گے، جب حضرت
محمد حنفیہ نے اصرا ر کیا تو بی بی نے بتایا جگر پر ہاتھ رکھو۔۔ بھائیوں کی شہادت
کے بعد میرے سر سے چادر اُتر گئی؟ میں قید ہو گئی۔۔ پھر بازار دیکھے۔۔ دربار دیکھے
اور وہ کچھ دیکھا جو میری خاندانی روایات کے موزوں نہیں تھا، پس محمد حنفیہ غش کھا
کر گر گئے۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار نے خواہش کی اے سجادؑ!
اپنی پھوپھی سے کہو بیٹیا ں ملاقات کے لیے ترس رہی ہیں آکر بیٹیوں سے ملے؟
چنانچہ امام سجاد ؑ کے کہنے پر گھر گئیں لیکن عون و محمد کی خالی
مسند کو دیکھنا پسند نہ کیا ایک دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئیں۔۔ جب حضرت
عبداللہ گھر آئے تو دیکھا ایک بوسیدہ اور پرانے لباس میں ملبوس مستور دیوار کی
طرف منہ کر کے بیٹھی ہے؟
(بقول بعض واعظین) حضرت عبداللہ نے اپنی بڑی بیٹی سے فرمایا بیٹی!
میں نے تجھے کئی دفعہ کہا ہے کہ اپنی ماں کے بعد گھر کی مالکہ تم ہو اگر کوئی
سائلہ عورت گھر میں آئے تو اس کو کچھ دے کر فوراََ بھیج دیا کر و تاکہ اس کو
انتظار نہ کرنا پڑے؟ یہ سامنے بوسیدہ لباس والی بی بی کو تم نے کس لیے انتظار میں
بیٹھایا ہے؟ یہ کہنا تھا کہ شہزادیوں کی چیخیں بلند ہوئیں اور عرض کیا با با یہ
سائلہ نہیں ہے آپ نے نہیں پہچانا یہی تو ہماری ماں زینب عالیہ ؑ ہے۔۔۔ بقولے۔۔۔
خود آزمانے کے لیے حضرت عبداللہ آگے بڑھے اور قریب ہو کر پوچھا خود بتائیں آپ
کون ہیں؟ تو بی بی نے درد بھرے لہجے میں جواب دیا اے عبداللہ!  آپ نے نہیں
پہچانا علی مرتضیٰ کی بیٹی زینب ؑمیں ہوں، از راہِ تعجب حضرت عبداللہ نے سوال کیا
یہ سر کے بال یکسر سفید ہوگئے حالانکہ اتنا زیادہ عرصہ نہیں گزرا؟ تو جواب دیا
اپنے بھائیوں۔۔ بیٹوں۔۔ عزیزوں کے لاشے کربلا کی گرم زمین پر بے کفن و بلا دفن
چھوڑ کر شام کی اسارت نبھا کر آئی ہوں۔۔ پھر حضر ت عبداللہ کی نظر جو کلائیو ں پر
پڑی تو پوچھا کیاہوا؟ بی بی نے رو کر فرمایا یہ اُن زنجیروں کے داغ ہیں جو پہنائے
گئے تھے۔
وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ
 یَّنْقَلِبُوْن


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *