اُونٹ
کی زکوا ۃ کا نصاب : اونٹ کی زکواۃ کے بارہ نصاب ہیں اور ان کی تفصیل کے لئے ایک روایت بیان کی
جاتی ہے بروایت من لا یحضر ہ الفقیہ:۔ صحیحہ زارہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ
السّلام سے منقول ہے کہ پانچ سے کم اونٹوں
پر کوئی زکواۃ نہیں لیکن جب پانچ ہوجائیں تو اس کی زکواۃ ایک بکری ہوگی ۔ پھر جب
دس ہاجائیں تو بکریاں اور اسی طرح 14 تک پھر پندرہ سے 19 تک ایک بکری ہوگی ۔ پھرجب
دس ہوجائیں تو بکریاں اور اسی طرح 14 تک ۔ پھر پندرہ سے 19 تک 3 بکریاں ۔ پھر بیس
تک چار بکریاں اور پچیس پر پانچ بکریاں
پھر 26 سے 35 تک ایک بنت مخاض ۔ اگر بخت مخاض نہ ہو تو ابن لبون دے دےپھر 36 سے 45 تک ایک بنت
لبون اس کے بعد 46 سے 60 تک ایک حصہ پھر
61 سے 75 تک ایک جذعہ پھر 76 سے 90 تک دو بنت لبون پھر 91 سے 120 تک دو حصےِ اور
اس سے آگے اگر بڑھ جاتے تو ہر پچاس پر ایک حِقہ اور ہر چالیس پر ایک بنِت لبون
زکواۃ ہوگی۔ مثلاً 121 پر چالیس کے حساب
سے 3 بنت لبون ہوں گی اور 129 تک یہی صورت رہے گی ۔ جب 130 ہونگے تو دو بنت
لبون چالیس چالیس کے حساب سے اور ایک حصہ
پچاس کے حساب سے زکواۃ بنےگی اور 139 تک
یہی صورت رہے گی پھر 140 پر دو حقے پچاس پچاس کے حسابسے اور ایک بنت لبون چالیس
کے حساب سے ہوگی اور 146 تک یہی صورت ہوگی
پھر 150 پر تین حقے اور 160 پر چار بنت لبون وعلیٰ ہذا لقیا س اور دو عدد جو پچاس
اور چالیس دونوں پر صحیح تقسیم ہوتا ہو مثلاً دو سو تو ایسی صورت میں مالک کو
اختیار ہے کہ پچاس کی تقسیم کا لحاظ کر کے چار حقے دیدے یا چالیس کی تقسیم کے حساب
سے پانچ بنت لبون دیدے۔
توضیحات: (1) اونٹ کا بچہ جب دوسرے سال میں داخل
ہوتو نوکو ابن مخاض اور مادہ کو بنت مخاض کہا جاتا ہے۔ اور جب وہ دو سال پُورے کر
کے تیسرے سال میں داخل ہوتو نرکو ابن لبون اور مادہ کو بنتِ لبون کہتے ہیں اس کے
بعدجب چوتھے سال میں داخل ہوتو اس کو حقہ کہتے
ہیں اور پانچویں سال میں داخل ہونے والے کو جذعہ کہتے ہیں۔
(2) ماہ نصاب
یعنی 5۔10۔15۔20۔25۔26۔36۔46۔61۔76۔91 ۔121 ہیں پس پہلے نصاب سے پہلے اور ہر دو
نصابوں کے درمیاں معافی ہے۔
(3) بروایت کافی حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے زکواۃ وصول کرنے والے اپنے کارندے کو ایک
حکم نام میں لکّھا کہ جس مالدار پر
زکواۃ میں جذعہ (چھ سالہ) واجب ہو لیکن
مال میں جذعہ کوئی موجود نہ ہو بلکہ حصّہ (پنجسالہ ) موجود ہوتوجذعہ لے کر اس کو
دوبکریاں یا بیس درہم واپس کرو۔ اسی طرح
حقے کی بجائے بنت لبون لوتو دوبکریاں یا بیس درہم بھی زائد لو اور بنت مخاض کی جگہ
اگر بنت لبون لوتو دو بکریاں یا بیس درہم واپس کرو یعنی ایک سال کا تفاوت
شرعی نقظہ نظر سے دو بکریاں یا بیس درہم کے برابر ہے۔
(4) نر اور مادہ
میں عمر کا فرق اسی سابق حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ بنت مخاض کی جگہ ابن
لبون لیا جا سکتا ہے یعنی ایک سال
کی مادہ ا یک سال سے زیادہ کے نرکےساتھ قیمت میں برابر قرار دی گئی ہے۔
(5) تفاوت کی صورت میں بیس درہم یا دوبکریوں میں سے
مالک جو چاہےچُن لے۔یہ چناؤ زکواۃ لینے والا نہیں کر سکتا خواہ بازاری قیمت اس کےبرابر ہو یا کم و بیش ہو۔
(6) زکواۃمیں
ادا ہونے والے جانوار کے اگر متعدد
افراد ہوں مثلاً اس پر بنتِ لبون واجب ہے اور اس کے پاس بنت لبون متعدد ہوں
تو مالک کو اختیار ہےجو چاہے دیدے امام کے نمائندے یا فقیر کو جھگڑا کنے کا کوئی
حق نہیں اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے اس کا طریقہ یہ وارد ہےکہ اگر
زیادہ ہیں تو دو حصے کر کے مالک کہے اپنا حق چن لو۔ پھر باقی کے دو حصے کر کے چناؤ
مالک پر چھوڑ دے اور اس طرح کرتا رہے۔حتیٰ
کہ آخر میں حق زکواۃ بسچ جائے پس وہ لے لے۔
Leave a Reply