anwarulnajaf.com

بحث ِ لطیف

 بحث ِ
لطیف :

جو لوگ دَور حاضر میں خمس کے وجوب
کا انکار کرتے ہیں ان کا سہارا چند احادیث ہیں جو حضرت امام محمد باقر ؑ اور حضرت
امام جعفر صادق ؑ سے مروی ہیں۔ ان احادیث کے نقل کرنے سے پہلے ایک تمہیدی وضاحت
ضروری ہے تاکہ فرمان ِ معصوم کی حقیقت معلوم ہو سکے وہ یہ کہ آیت مجیدہ     
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم ۔۔۔۔۔۔۔
الخ  میں اصطلاح  لغت اور فرمان معصوم سے واضح کیا جا چکا ہے کہ
غنیمت سے مراد یہاں پر فائدہ ہے اور اس کا مفہوم اور حکم تا قیامت زندہ ہے اگر اس
کو غنائم دارالحرب تک ہی محدود کر دیا جائے تو آیت ِ مجیدہ کی زندگی جہاد کے زمانہ
تک ہی محدود ہو جائے گی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

            چونکہ
آیت منسوخ نہیں لہٰذا خمس کا وجوب ہر زمانہ کے لئے یکساں ہے اور آئمہ طاہرین  احکام شرعیہ کے مروج ہیں۔ وہ کسی حکم شرعی کو
منسوخ نہیں کر سکتے یعنی جس چیز کو جناب پیغمبر ﷺ نے واجب فرمایا ہے آئمہ اس کا
وجوب ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس کی ترویج کرتے ہیں اسی طرح جس کو زبان رسالت نے
حرام کہا ہے آئمہ اس کی حرمت کے ناشر ہیں اس کو جائز نہیں بنا سکتے۔ کیونکہ حدیث
مشہور ہے محمد کا حلال قیامت تک حلال ہوگا اور محمد کا حرام قیامت تک حرام ہوگا
البتہ کسی خارجی روکاوٹ کی بناء پر کسی واجب پر عمل نہ کر سکنا۔ اس کے وجوب کی
منافی نہیں ہے جس طرح نماز جمعہ کا وجوب ثابت ہے اور آیت مجیدہ اس پر نص صریح ہے
لیکن آئمہ اس سے معذور تھے اس لئے آئمہ نے کبھی جمعہ کے وجوب کا انکار نہیں کیا
بلکہ معذوری کی بناء پر خود قائم نہ کرسکے اس لئے کہ جمعہ کا قائم کرنا خلافت کا
عہدہ تھا اور آئمہ کا جمعہ قائم کرنا ادعائے خلافت یا حکومت وقت سے بغاوت کے
مترادف تھا اور آئمہ کے پاس چونکہ اعلائے کلمۃ اللہ کے ظاہری اسباب موجود نہ تھے
اس لئے گوشہء تنہائی میں صبر و سکون سے تبلیغ مذہب حقہ کرنا ان کا شعار رہا اور
یہی ان کا فرض منصبی تھا۔

اسی طرح خمس کی وصولی کا حق بھی چونکہ حکومت الہٰیہ کے عہدہ
داروں کو ہی پہنچتا ہے۔ اور دورِ تقیہ میں اپنے شیعوں کو ادائیگی خمس پر مامو
رکرنا اور خمس کے وجوب پر زور دینا حکومت کی آواز کے بالمقابل آواز بلند کرنے کے
مترادف تھا کیونکہ یہ بھی ایک خراج ہے جس کی ادائیگی لازم ہے اور ہر حکومت وقت خراج
کی وصولی کا ٹھییکیدار اپنے آپ کو سمجھا کرتی ہے پس اس وضاحت سے چند امور منکشف
ہوئے۔

o   
آیت
کا فرمان تا قیامت زندہ ہے  اور غنیمت سے
مراد ہر ھاصل شدہ فائدہ ہے۔

o   
آیت
مجیدہ کا حکم منسوخ نہیں ہُوا۔

o   
آئمہ
طاہرین علیہم السلام قرآنی احکام کو بدلا نہیں کرتے بلکہ وہ ان کے مروج و مبلغ
ہوتے ہیں۔

o   
آئمہ
طاہرین علیہم السلام کا کسی حکم سے تسامح وقتی معذوری کے پیش ِ نظر ہوتاہے ، اس کا
مطلب حکم کی نوعیت کو بدلنا نہیں ہوتا۔

o   
اب
ذرا احادیث کا جائزہ لیجئے تو حقیقت صاف آشکار ہو جائے گی۔

o   
صحیحہ
حارث بن مغیرہ کہتا ہے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ
ہمارے پاس از قسم غلات و تجارات کچھ مال ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ اس میں آپ کا حق
ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہم نے اپننے شیعوں کو حلال نہیں کیا مگر اس لئے کہ ان کی
نسلیں پاکیزہ ہوں اور جو شخص بھی میرے آباء طاہرین کی دِلا رکھتا ہے تو اس کے پاس
جو ہمارا حق ہے اسے ملال ہے پس جو حاضر ہیں وہ یہ بات غائب تک پہنچا دیں۔ اس حدیث
میں چند باتوں کی پوری وضاحت موجود ہے۔

o   
اس
زمانہ کے شیعوں کو پوری طرح یقین تھا کہ تمام میں خمس واجب ہوا کرتا ہے اور یہ چیز
اُن کے مسلمات میں سے تھی اسی لئے تو اس نے حکم دریافت نہیں کیا بلکہ اپنے اُوپر
وجوب ِ خمس کا عائد ہونا بیان کیا اور دبی زبان میں اپنی معذرت پیش کی۔

چونکہ امام جعفر
صادق ؑ کا دور تقیہ کا دور تھا۔ حکومتی نمائندے ایسی باتوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔
اور معمولی شکوک و شبہات سے انسانوں کی زندگیاں ختم کر دی جاتی تھیں ایسی صورت میں
ان کا مال خمس خدمت ِ امام میں پیش کرنا جہاں ان کی جان و مال و عزت  کے لئے باعث خطرہ تھا۔ وہاں امام عالی مقام کے
وجود ذی جود کے لئے بھی منافی امن تھا۔ پس سائل دبی زبان میں وجوب کے اقرار کے
ساتھ ساتھ اپنے عملی اقدام کی معذرت کو پیش کر رہا ہے جس کو معصوم سمجھتے ہیں۔

o   
معصوم
نے اپنے جواب میں وجوب خمس کا انکار نہیں فرمایا۔

o   
چونکہ
خمس کی عدم ادائیگی کی صورت میں مال میں حرام کی ملاوٹ ہو جائے گا۔ عورتوں کے حق
مہر بھی مال حرام سے ہوں گے پس معصوم نے ان کو اپنا حق معاف کر دیا اور یہی وجہ
بتلائی کہ تم لوگوں کی نسلیں خراب نہ ہوں۔

o   
امام
جعفر صادق ؑ کا اپنے دور میں مقتضائے تقیہ یا کسی دوسری مصلحت کےما تحت اپنا حق
معاف کر دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اب نا کا حق نہیں رہا بلکہ ایک امام کا اپنے دور
والوں کو معاف کر دینے سے ضروری نہیں کہ ان کے بعد والے آئمہ بھی معاف کر دیں۔

اسی لئے تو
سابقہ روایات میں امام محمد تقی ؑ اور امام علی نقی ؑ نے لوگوں کو خمس کی ادائیگی
کی تعلیم فرمائی۔ اور امام علی رضا ؑ نے خمس کی معافی چاہنے والوں کو سخت الفاظ سے
خطاب فرمایا اور ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اور ان کے زمانے کے شیعوں کو معافی دینے
سے ان لوگوں نے یہ نتیجہ نہیں نکالا تھا کہ بس خمس معاف ہو گیا ہے بلکہ وہ سمجھتے
تھے کہ وہ معافی خاص وقتی مصلحت کے ماتحت تھی اور اب چونکہ وہ مصلحت موجود نہیں۔
اس لئے امام سے معافی کی درخواست کی جو مسترد کر دی گئی۔ اور معصوم کا معاف کر
دینا کوئی بڑی بات نہیں تھی لیکن امام سمجھتے تھے کہ اس معافی سے لوگ ایک اہم
فریضہ شرعیہ سے رفتہ رفتہ گریز کرتے کرتے انکار پر آجائیں گے۔

لہٰذا امام نے
پہلے سے ڈانٹ دیا ۔ تاکہ انکار وجوب تک نوبت ہی نہ آئے اور لوگوں کے دلوں میں
فریضہ شرعیہ کی اہمیت باقی رہے۔  

o   
خبر
یونس بن یعقوب کہتا ہے میری موجودگی میں ایک شخص امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں
حاضر ہوا اور عرض کی ہمارے پاس تجارت کے یا دوسری قسم کے اموال و منافع موجود ہیں
اور ہمیں معلوم ہے کہ آپ کا اس میں حق ہے اور ہم ادا کرنے سے قاصر ہیں تو آپ نے
فرمایا :
ما
انصفناکم ان
 کلفناکم ذلک اليوم
 
   (ہم نے تمہارے ساتھ انصاف
نہیں کیا اگر اس زمانے میں بھی تمہیں تکلیف دیں )

اس روایت میں
بھی سائل کو وجوب کا اعتراف ہے لیکن ادائیگی سے اپنی تقصیر کو ظاہر کرتا ہے اور
امام کے جواب سے صاف ظاہر ہے کہ زمانہ کی روش نہایت خطرناک تھی اور یہ معافی صرف
اسی زمانہ کی موجود پالیسی کے ماتحت تھی۔

o   
صحیحہ
فضلاء : – حضرت امام محمد باقر ؑ نے حضرت امیر المومنین ؑ سے نقل کیا ہے۔

ھلک الناس فی
بطونھم و فردجھم لانھم لم یودوا الینا حقنا ۔
(لوگ
اپنے شکموں اور فروج کے بارے میں ہلاک ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنا حق
نہیں دیا) اس کے بعد روایت کے لفظ ہیں۔

الاوان شیعتنا
من ذٰلک و اٰباءھم فی حل
(لیکن ہمارے
شیعہ اور ان کے آباء کو ہم نے معاف کر دیا ہے) ظاہراً یہ آخری جملہ حضرت امیر ؑ کے
کلام سے نہیں ہے کیونکہ اس دور کے شیعہ لوگوں کے آباء کا زمانہ حضرت رسالتمآب کا
زمانہ تھا۔ جس میں حقوق کے غصب کا سوال ہی نہیں تھا بلکہ یہ جملہ حضرت امام محمد
باقر ؑ کا کلام معلوم ہوتا ہے اور ظاہراً ایسا ہی ہونا چاہیے کہ ہم نے اپنے شیعوں
اور ان کے آباء کو معاف کر دیا ہے اور وجہ یہی ہے جس طرھ کہ مضمون روایت خود شاہد
ہے۔ تاکہ ان کے نطفے حلال ہوں اور یہ معافی بھی پُر آشوب دور کے تقاضوں کے ماتحت
ہی ہے۔

اسی مضمون کی
اور روایات بھی صادقین علیہما السلام سے منقول ہیں اور ان سے صاف ظاہر ہے کہ وجوبِ
خمس شیعان ِ آل محمد ﷺ کے نزدیک مسلم تھا اور آئمہ کی معافی ایک خاص وقت کے تقاضے
کے ماتحت تھی اور نیز یہ بات بھی اظہر من الشمس ہو گئی کہ خمس کا حق دار صرف امام
معصوم ہی ہے اور اس کو اختیار حاصل ہے کہ کسی کو کسی وقت معاف کر دے یا معاف نہ
کرے۔

            البتہ اس مقام پر ایک روایت حضرت حجۃ
العصر عجل اللہ فرجہ علیہ السلام سے بروایت اکمال الدین منقول ہے کہ خمس ہمارے
شیعوں پر مباح ہے اور وہ ان کو معاف کیا گیا ہے تاوقتیکہ ہمارا امر ظاہر نہیں ہوتا
اور یہ اس لئے کہ ان کی ولادتیں پاکیزہ رہیں۔

            اس روایت کا ظاہر بھی صاف بتلاتا ہے
کہ یہ معافی معذوری کے ماتحت واقع ہوئی ہے کیونکہ ابتدائی زمانہ غیبت میں دشمنان ِ
آل محمد خاندان ِ عصمت کے آخری تاجدار امامت کو قتل کرنے کے درپے تھے اور وہ چاہتے
تھے کہ کسی طریقے سے اس فانوس امامت کو گل کر دیا جائے کیونکہ فرمانِ قدرت اور احادیثِ
نبویہ کی روشنی میں انہیں معلوم تھا کہ بارہواں تاجدار امامت غلبہ لے کر آئے گا
اور دنیا والوں کا اقتدار ان کے ہاتھوں بالکل نیست و نابود ہو جائے گا۔ پس اپنے اقتدار
کے بچاؤ اور سلطنت و ملک کی بحالی کی خاطر امام غائب کی تلاش میں ہمہ تن کوشاں
تھے۔

جس طرح ہر زمانے
کے فرعون کا دستور ہے کہ جس کے متعلق اس کو اپنے اقتدار کے زوال کا خطرہ ہواسے
طیامیٹ کرنے پر تلی جایا کرتا ہے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو تو حالات ِ حاضرہ کی بناء
پر غیبت کی اس قدر اہمیت تھی کہ ان کے نام لینے کو بھی غیبت کے حکم میں رکھ دیا
تھا کہ ان کا نام کھُلے لفظوں سے نہ لیا جائے اور ان کی رویت کے متعلق بھی صاف حکم
صادر ہوا کہ جو بھی رویت امام کا دعویٰ کرے اس کو جھوٹا سمجھو۔ مقصد یہ تھا کہ
دشمنان ِ دین امام غائب کا سُراغ نہ پا سکیں لہٰذا بعید نہیں بلکہ قرین ِ عقل ہے
کہ معصوم نے خُمس کی ادائیگی کا حکم بھی اسی وقت کے تقاضے کے ماتحت بر طرف کر دیا
ہو اور اپنا حق معاف کر دیا ہو تاکہ خمس ادا کرنے والوں کی آمد و رفت کہیں حکومت ِ
وقت کے جاسوسوں کے لئے باعثِ شبہ نہ بن جائے اسی بنا پر تو ارشاد فرمایا کہ شیعوں
کو معاف کیا گیا ہے تاوقتیکہ ہمارا امر ظاہر نہیں ہوتا یہ لفظ صاف بتلاتے ہیں کہ
معافی معذوری کے ماتحت تھی اور اس لئے کہ ان کی ولادتیں پاکیزہ رہیں۔

            اور جب کسی حد تک لوگ وجود امام سے
مایوس ہو گئے اور انہیں کسی قدر اطمینان نصیب ہوا تو ادائیگی خمس کا حکم سرکار حجۃ
العصر ؑ نے صادر فرمایا چنانچہ ہبۃ اللہ رواندی سے “خرائج” میں منقول ہے
کہ حسین نامی ایک شخص نے حضور کی زیارت کی کہ جبکہ آپ خچر پر سوار تھے سبز عمامہ
باندھا ہوا تھا اور پاؤں میں سرخ رنگ کے موزے تھے فرمایا! اے حسین۔ تم کیوں میرے
اصحاب کو اپنے مال کا خمس نہیں دیتے ؟ اچھا تم فلاں مقام پر پُر امن پہنچو گے اور وہاں
کچھ کماؤ گے تو خمس اپنے مستحق کو بھیج دینا راوی کہتا ہے۔ میں عرض کی حضور !
سمعاً و طاعتا ً اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ عمری آیا اور وہ خمس وصول کر کے لے
گیا۔۔۔ الخبر

            اب اس روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ
خمس کا وجوب کسی زمانہ میں برطرف نہیں ہوا پس یہ حکم شرعی تا قیامت باقی ہے البتہ
اس مقام پر بعض روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ خمس تمام مال سے نکالنا واجب
ہے حتیٰ کہ وراثت ہبہ ، عطیہ ، اور حق مہر وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔

                   براوایت
“تحف العقول ” امام علی رضا ؑ نے مامون کو ایک خط لکھا کہ خمس تمام مال
سے ایک دفعہ ادا کرنا واجب ہے۔


       بروایت بصائر الدرجات امام موسیٰ
کاظم ؑ نے فرمایا جو حق اللہ کے لئے ہے وہ اس کے رسول کے لئے ہیں اور جو رسول کے
لئے وہ ہمارے لئے ہے اور مومنوں پر خدا کی جانب سے یہ آسانی ہے کہ اپنے رزق کے
پانچ درہموں میں سے ایک خدا کے لئے مقرر کریں اور چارخود استعمال کریں اور پھر
فرمایا کہ یہ ہماری حدیث میں سے صعب مستصعب ہےاس پر نہ عمل کرے گا اور نہہ صبر کرے
گا مگر وہ اچھا مومن جو امتحان سے پاس ہو۔

o   
ابن
طاؤس سے منقول ہےے امام موسیٰ کاظم ؑ نے اپنے باپ سے نقل فرمایا کہ جناب رسالتمآب
ﷺ نے ابوذر، سلمان اور مبقداد سے شہادت توحید و رسالت و وصایت علی کا اقرار کر
لیا۔ اور یہ کہ اللہ و رسول و آئمہ کی اطاعت اور اہل بیت کی مودت فریضہ واجبہ ہے
ہر مومن مرد و عورت پر اور یہ کہ نماز بروقت قائم کریں اپنے مال حلال سے زکوٰۃ دین
اور مستحقین پر خرچ کریں اور اپنی تمام ملکیت سے خمس نکال کر مومنون کے ولی و امیر
کو دیں۔ اور ان کے بعد ان کی اولاد میں سے ان کو دے جن کی حالت کمزور ہو اور اگر
ایسا بھی نہ کر سکے تو کمزور شیعوںں کی امداد کرے اور اس میں تقرب خدا کی نیت کرے۔

o   
امام
علی نقی ؑ سے جب دریافت کیا گیا کہ کیا خمس ہر چیز پر واجب ہے جو انسان کو حاصل ہو
خواہ کم ہو یا زیادہ اور ہر قسم کی آمدنی پر واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا اپنے ضروری
اخراجات کے بعد خمس واجب ہے اور یہ روایت پہلے بھی نقل کی جا چکی ہے۔

o   
بروایت
کافی سماعہ نے امام موسیٰ کاظم ؑ سے خمس کے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا۔ خمس ہر
اس چیز میں واجب ہے جو حاصل ہو خواہ کم ہو یا زیادہ ۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *