بنی اسرائیل کا روٴیت خدا کا سوال
يَا مُوْسٰى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرٰى اللّٰهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمْ
الصَّاعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ (55) ثُمَّ
بَعَثْنَاكُمْ مِنْ مبَعْدِ
مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (56) وَظَلَّلْنَا
عَلَيْكُمْ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى كُلُوْا
مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْا
أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ (57) وَإِذْ قُلْنَا
ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَداً
وَّادْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّداً وَّقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ
خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ (58) فَبَدَّلَ
الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلاً غَيْرَ الَّذِیْ قِيْلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلٰى
الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزاً مِّنْ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ (59)
ہرگز ایمان نہ لائیں گے تیری بات پر یہاں تک کہ دیکھیں اللہ کو ظاہر پس پکڑا تم کو
بجلی نے حالانکہ تم دیکھتے تھے(55) پھر ہم نے زندہ کیا تم کو تمہاری موت کے
بعد تاکہ تم شکروکرو(56) اور سایہ کیا ہم نے تمہارے اوپر بادل
کا اور نازل کیا ہم نے تمہارے اوپر من اور سلویٰ
کھاوٴ پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تم کو اور انہوں نے ہمیں نقصان نہیں دیا
بلکہ وہ اپنے نفسوں کو نقصان دیتے تھے(57) اور جب ہم نے کہا کہ داخل ہو
جاوٴ اس بستی میں پس کھاوٴ اس سے جہاں چاہو کھلم کھلا اور داخل ہو تم دروازہ
سےسجدہ کرتے ہوئے اور کہو حطہ )معافی(بخش دیں گے ہم قصور تمہارے اور زیادہ دیں گے نیکی کرنے
والوں کو(58)پس بدل ڈالا ان لوگوں نے جو ظالم تھے قول غیر اس کا جو ان کو
کہا گیا تھا پس نازل کیا ہم نے ان لوگوں پر جو ظالم تھے عذاب آسمان سے بوجہ اِس کے کہ فسق کرتے تھے(59)
بنی اسرائیل کا روٴیت خدا کا سوال
متعلق مامون الرشید نے جو سوالات امام رضا سے کئے منجملہ ان کے ایک سوال یہ بھی تھا کہ جب حضرت موسیٰ کو یقین تھا
کہ خدانظر نہیں آسکتا تو خداسے رویت کا سوال کرنا ان کے لئے کیسے جائز تھا؟ تو
حضرت امام رضا نے فرمایاکہ حضرت موسیٰ کو علم تھاکہ خدانظر نہیں آسکتا لیکن خدانے جب ان کو اپنا کلیم بنایا اوراپنی
ہمکلامی سے قرب کا شرف بخشا تو انہوں نے اپنی قوم سے آکر ذکر فرمایاکہ خدانے مجھے
کلام کا شرف بخشا ہے، انہوں نے کہا یہ بات ہم ہر گز نہ مانیں گے جب تک کہ ہم اس کا
کلام خود نہ سنیں گے جس طرح آپ نے سنا ہے اورقوم کی کل تعداد سات لاکھ کے لگ بھگ
تھی-
حضرت موسیٰ نے
ان میں سے ستر ہزار کا انتخاب کیا، پھر اُن میں سے سات ہزار چنے، پھر اُن میں سے
سات سولئے اورپھر اُن سے ستر کو منتخب فرمایا، پھر اُن ستر کو میقات کے لئے طورِ
سینا پر لے گئے، پس اُن کو پہاڑ کے دامن میں کھڑا کرکے خود کوہِ طور کے اوپر تشریف
لے گئے اوراللہ سے کلام کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ انتخاب کردہ آدمی سن لیں، پس
خدانے کلام کیا ا ورانہوں نے سنا اوروہ آواز اوپر نیچے دائیں بائیں آگے وپیچھے
یعنی ہر طرف سے سنائی دے رہی تھی، بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم نہیں مانتے کہ یہ اللہ کاکلام ہے جب تک اپنی آنکھوں سے اس کو بولتا ہوا نہ دیکھیں،
جب انہوں نے یہ بات کہی اورتکبّر اورسرکشی کی تو خدانے ان کے ظلم کے بدلہ میں ان
پر بجلی نازل کی اوروہ سب مرگئے، پس حضرت موسیٰ نے
عرض کیا میرے اللہ میں واپس جاکر قوم کو کیا جواب دوں گا؟ وہ توکہیں گے تو اپنے
کلیم اللہ ہونے کے دعویٰ کی تصدیق پیش نہیں کر سکا لہذا اُن کو اکیلا لے جاکر قتل
کر ایا ہے، پس خدانے ان کو دوبارہ زندہ کر دیا، چنانچہ وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ واپس آئے پھر کہنے لگے اگر
تو اللہ سے رویت کا سوال کرتا تو وہ ضرور منظور کر لیتا ہم بھی اس کو دیکھ کر صحیح
معرفت حاصل کرلیتے، تو حضرت موسیٰ نے
ان کو جواب دیا کہ خدا آنکھوں سے ہر گز نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ اس کی نشانیاں دیکھ
کر اس کو پہچانا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک تو
اللہ سے رویت کا سوال نہ کرے گا، پس حضرت موسیٰنے اپنی مناجات میں عرض کیا میرے اللہ تو بنی اسرائیل
کی باتوں کو جانتا ہے اوران کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے، پس وحی ہوئی اے موسیٰ! وہ جو کچھ کہتے ہیں تو سوال کر ان کی جہالت
کا مواخذہ میں تجھ سے نہ کروں گا، پس اسی وقت حضرت موسیٰ نے عرض کیا رَبِّ
اَرِنِیْ اَنْظُرُ اِلَیْکَ قَالَ لَنْ تَرَآنِیْ اے میرے ربّ مجھے
اپنا آپ دکھا تا کہ میں تجھے دیکھوں ارشاد ہوا تو ہر گز مجھے نہیں دیکھے گا وَلٰکِنْ
اُنْظُرْ اِلٰی الْجَبَلِ لیکن پہاڑ کی طرف نظر کرفَاِنْ
اِسْتَقَرَّ مَکَانَہُ اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا فَسَوْفَ
تَرَانِیْ تو پس تو مجھے دیکھ لے گا فَلَمَّا
تَجَلّٰی رَبَّہُ لِلْجَبَلِ پس جب اُس کے ربّ نے پہا ڑ پر اپنی
نشانیوں میں سے ایک نشانی کو ظاہر کیا جَعَلَہُ
دَکًّا اس کو ریزہ ریزہ کر
دیا وَخَرَّ
مُوْسٰی صَعِقًا اورحضر ت موسیٰ مد
ہوش ہو کر گر گئے، پس جب ہو ش میں آئے تو عر ض کیا میرے اللہ میں اپنی قوم کی
جاہلا نہ روش سے تائب ہوں اورمیں اس بات پر پہلا ایمان لانے والاہوں کہ تو دیکھا
نہیں جاسکتا-
Leave a Reply