بھیڑ بکری کی زکواۃ کا نصاب: بھیڑ بکری کی زکواۃ کے پانچ
نصاب مشہور ہیں جس طرح کہ ایک روایت صحیحہ میں امام ؐحمد باقر اور امام جعفر صادق
علیہا السلام سے منقول ہے کہ چالیس سے کم
پر کوئی زکواۃ نہٰں ہے جب چالیس ہوجائیں تو ایک زکواۃ میں دے دے اس کے بعد 120 تک یہی صورت رہے گی جب
121 ہائیں ۔ تو دو زکواۃ میں دے گا پر
دوسو تک یہی فریضہ رہے گا اور جب 201 ہونگی تو تین زکواۃ میں دے گا اور تین سو
تک یہی صورت رہے گی اور جب 201 ہو جائیں
تو چار دینی پڑیں گی اور چار سو تک اسی نصاب کے ماتحت زکواۃ
ہوگی پس جب 400 ہوجائیں تو وہ سابق
حساب ختم ہوگا اور اب ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی۔
توضیحات : (1) پانچ نصاب اس طرح ہوئے (1) 40 (2) 121 (3) 201 )(4) 301 (5) 400 پس پہلے
نصاب سے پہلے اور ہر دونصابوں کے
درمیاں کوئی چیز واجب نہیں ہے۔
(2) بھیڑ یا
بکری جو اونٹوں کی زکواۃ میں دی جائے یا
اپنی جنس سےادا کی جائے ا س بات کا خیال رکھنا ضرروی ہوگا کہ اگر بھیڑ دے تو سات مہینہ کی یا س سے
زیادہ کی ہو۔ اور اگر بکری دے تو کم از کم ایک برس سے زیادہ ہو۔
(3) تندرست
میں سے بیمار یا جوانوں میں سے بوڑھی یا
موٹی تازیوں میں سے کمزور یا بے عیبوں میں
سے عیب دا ر کو زکواۃ میں نہ لیا جائے گا۔
ہاں اگر سب مال ایک جیسا بیمار کمزو ر یا عیب دار ہوں تو ان میں سے ان جیسی زکواۃ
میں قبول کی جائے گی اگر مال میں بیمار و
تندرست اور عیب دار و بے عیب وغیرہ ملے جلے
ہوں تو نسبت سے زکواۃ نکالی جائے۔
(4) حیوانوں
کی زکواۃ میں فحل / (جو مادہ کو حاملہ
کرتا ہے) کھانے کے لئے پالتو اور شیر دار زکواۃ سے مستثنیٰ ہوں گے۔
(5) اونٹ کی
ہر نسل ایک ہی جنس شمار ہوتی ہے۔ لہٰذا
وجوب زکواۃ کی صورت میں جس نسل سے
ادا کیا جائے گا ٹھیک ہےلیکن بہتر یہ ہے کہ اعلیٰ اور ادنیٰ نسل میں سے اپنی اپنی
نسبت کا لحاظ رکھنا بہتر چاہئیے ۔ اور بھیڑ اور بکری میں بھی قیمت کے اختلاف کی
صورت میں ہر ایک جنس کی الگ نسبت سے زکواۃ
کا ادا کرنا بہتر ہے۔
(6)
غّلہ کی زکواۃ میں تو عین کی بجائے قیمت وقت کا ادا کرنا بھی جائز ہےلیکن حیوانوں کی زکواۃ
میں بھی آیا قیمت کا دینا جائز ہےجبکہ عین
زکواۃ کا ادا کرنا ممکن ہو تو اس بارے میں
علماء امامیہ کے دو قول ہیں ۔ شیخ طوسی
اعلی اللہ مقامہ نے جواز کا قول اختیار فرمایا ہے اور یہی قول قوی معلوم ہوتا ہے۔
Leave a Reply