anwarulnajaf.com

بیسویں مجلس — عَلِیٌّ مَّعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِیٍّ یَدُوْرُ حَیْثُمَا دَارَ

علی ؑحق کے ساتھ اورحق اس کے ساتھ ہے اورحق اُدھر ہی مڑتا ہے جس طرف
علی ؑ مڑے۔۔۔ حق وباطل کی باہمی جنگ روزِ اوّل سے ہے، نہ کبھی حق نے باطل کے سامنے
گردن خم کی اورنہ کبھی باطل حق پرتشدد کرنے سے بازآیا۔۔ ہابیل وقابیل کی جنگ سے
لے کر آج تک یہی سلسلہ جاری ہے۔  
انسان کی متضاد عناصر سے تخلیق ہی جنگ کا پیش خیمہ ہے کیونکہ مزاجِ
انسانی میں آگ کی گرمی اورپانی کی ٹھندک پھر خاک کی یبوست اورہوا کی رطوبت باہمی
آویزش کا موجب ہیں۔۔ انسان میں حق کی طاقت بھی ہے اورباطل کی قوت بھی ہے یعنی
نیکی بھی کرسکتا ہے اوربرائی کی طرف قدم بھی بڑھا سکتا ہے اس میں طاقت ملکوتی بھی
موجودہے اورطاقت طاغوتی بھی کار فرماہے، پس کسی کام کو کرنے کیلئے طاغوتی
اورملکوتی قوتوں کی جنگ ہوتی ہے اورجوطاقت فتح پالے اس کے تابع ہوکر انسان قدم
اُٹھاتا ہے۔۔۔مثلاًاگرچوری کاارادہ کرتاہے تو ملکوتی طاقت یعنی عقل روکتی ہے
اورطاغوتی طاقت یعنی جہالت اُکساتی ہے۔۔ پس اگر ملکوتی طاقت غالب تو ارادہ ختم
اورطاغوتی طاقت غالب تو غلطی کا ارتکاب، اسی طرح اگر نماز کاارادہ کرے تو ملکوتی
طاقت ِعقل اس کو آگے بڑھاتی ہے اورطاغوتی طاقت یعنی جہالت اس کوسست کرتی ہے۔۔ پس
جو غالب ہوگی اسی کے ماتحت عمل کرے گا اورچونکہ انسان میں دونوں قوتیں موجود ہیں
اسی لئے انسان فرشتہ اورحیوان سے ممتاز ہے، کیونکہ فرشتے میں ملکوتیت ہے حیوانیت
نہیں اورحیوان میں صرف حیوانیت ہے ملکوتیت یعنی عقل نہیں۔۔ پس فرشتے کی نیکی بلا
مقابلہ ہے کیونکہ اس کے راستہ میں طاغوتیت کی رکاوٹ نہیں اورحیوان کی غلطی بھی بلا
مقابلہ ہے کیونکہ نیکی کی طرف لانے والی چیز عقل اس کے پاس نہیں؟
اب اگر انسان نیکی کرے تو فرشتے سے برتر اوربرائی کرے تو حیوان سے
بدتر۔۔۔۔ پس جس طرح انفرادی طور پر ہرانسان کے اندر ملکوتی وطاغوتی جنگ کا سلسلہ
جاری رہتا ہے اسی طرح مجموعی طور پرانسانوں میں یہی جنگ جاری ہے،  کچھ حق کے
علمبردارہیں اورکچھ باطل کے طرفدار ہیں بلکہ ایک انسان کی زندگی بعض اوقات حق
اورباطل میں تقسیم ہوا کرتی ہے کچھ دن باطل پرستی میں گزار کر بعض اوقات حق کے
اصولوں کے سامنے جھک جاتا ہے اور کبھی برعکس یعنی کچھ دن حق پرستی میں گزار کر بعض
اوقات باطل پرست بن جاتا ہے، اسی طرح قومیں بھی حق سے باطل کی طرف اورباطل سے حق
کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں۔
حضرت پیغمبراکرؐم کی زبانِ وحی ترجمان نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ
علی ؑہمیشہ حق کے ساتھ ہے اورحق ہمیشہ علی ؑکے ساتھ ہے ان دونوںمیں کبھی جدائی
اورمفارقت ہوتی ہی نہیں اورچونکہ علی ؑحق کے ساتھ بلکہ خود حق ہے اسلئے ناممکن ہے
کہ حق کبھی باطل کے سامنے جھکے  لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أھْوَائَھُمْ
لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ الخ  یعنی اگر حق
ان لوگوں کی خواہشات کی اتباع کرتا تو زمین وآسمان کا نظام درہم برہم ہوجاتا؟
نظام کائنات کا محفوظ رہنااس امر کی دلیل ہے کہ حق نے کبھی باطل کی
بیعت نہیں کی اور مشہور مقولہ ہے کہ اَلْحَقُّ یَعْلُوْا وَلا یُعْلٰی عَلَیْہ
یعنی حق بلند ہو کر رہتا ہے دبائو میں نہیں رہتا۔۔ اگر چہ بعض اوقات وقتی طور پر
باطل کو غلبہ حاصل ہو بھی جائے تب بھی اثر اور نتیجہ کے لحاظ سے حق کا بول بالا
ہوتا ہے اور باطل کا منہ کالا۔
دیکھئے۔۔۔ ہر آدمی کے دشمن ہوا کرتے ہیں کم یا بیش۔۔ ایسا انسان
کوئی نہ ہو گا جس کا دشمن کوئی نہ ہو اور کوئی انسان ایسا بھی نہ ہو گا جس کادوست
کوئی نہ ہو۔۔ کیونکہ عناصر اربعہ (جو متضاد ہیں)سے مرکب انسان دوستی اور دشمنی سے
خالی رہ ہی نہیں سکتا؟
حضرت علی ؑوہ کامل انسان ہیں جن کے دشمن ہر ایک کے دشمن سے زیادہ ہیں
بلکہ خدا و رسول کے دشمنوں سے بھی دشمن زیادہ ہیں۔۔ کیونکہ جو خدا کے دشمن ہیں وہ
 علی ؑکے دشمن بھی ہیں اسی طرح جو نبی کے دشمن ہیں وہ بھی علی ؑکے دشمن ہیں
اور خدا و نبی کے دشمنوں کے علاوہ مولا علی ؑکے مخصوص دشمن بھی ہیں اور جضرت علی
ؑنے اپنی زندگی میں ان تینوں دشمنوں سے جہاد فرمایا۔
حضرت علی ؑکی زندگی کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی
زندگی کا اکثر حصہ لڑائیوں میں گزرا اور ان کی لڑائی کے محاذ تین ہیں:
ء   محاذِ توحید       ء
  محاذِ نبوت        ء
  محاذِ ولایت
محاذِ توحید:    حضرت  علی ؑکی زندگی کا پہلا حصہ محاذ توحید پر جنگوں
میں صرف ہوا، جنگ ِبد ر۔۔ جنگ ِاُحد۔۔ جنگ ِخندق وغیرہ ان جنگوں میں موضوعِ جنگ
کلمہ توحید لااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ  تھا۔۔ یہ محاذ توحید تھا۔
محاذِ نبوت:    اس کے بعد جنگ ِخیبر ہے جس میں موضوعِ
جنگ حضرت پیغمبر اکرؐم کی نبوت تھی کیونکہ مقابلہ میں یہودی لااِلٰہَ اِلَّا
اللّٰہ  پڑھتے تھے منکر توحید نہ تھے اور 
مُوْسٰی کَلِیْمُ اللّٰہ پڑھتے تھے لیکن مَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کے
منکر تھے یہ محاذِ نبوت تھا۔
محاذِ ولایت:    پھر آ خری زندگی میں مولا علی ؑ نے
تین جنگیں لڑیں، جنگ جمل۔۔ جنگ صفین اورجنگ نہروان، ان جنگوں میں نہ تولااِلٰـہَ
اِلَّا اللّٰہ پر جھگڑا تھا اورنہ  مَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پر نزاع تھا
یہاں امامت ِعلی ؑکے محاذ پر جنگیں لڑی جارہی تھیں۔۔ پس امام علی ؑنے اُحد وبدر
وخندق فتح کرکے محاذِ تو حید پر فتح حاصل کرکے لااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ
  کی لاج رکھی اورجنگ خیبر میں یہودیو ں کا تکبر خاک میں ملا
کرمَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا کلمہ بلند کیا اورآخری جنگوں میں دشمنانِ ولایت
سے  جنگ کرکے  عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰہ کا ڈنکا بجادیا۔۔ پس
پورا کلمہ لااِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ مَحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ عَلِیٌّ وَلِیُّ
اللّٰہ  حضرت علی ؑکی ہی کاوش ومحنت کانتیجہ ہے۔
 جب میں دیکھتا ہوں کہ
اسرائیل کا چھوٹا ساملک کروڑوں مسلمانوں کے ناک میں دم کئے ہوئے ہے اورسوچتا ہوں
تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہودی ہیں مرحب۔۔۔۔ اورمرحب کے ساتھیوں کی اولاد
اوران سے لڑنے والے ہیں ان کی اولاد جن کو مرحب والے منہ دکھاتے تھے تو علَم پھینک
کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے؟ پس جس طرح وہ مرحب کے سامنے قدم نہ جماسکتے تھے اُن کے ماننے
والے اوران کی اولاد مرحب کی اولاد کے سامنے کیسے ٹھہر سکتی ہے؟ یہ تو خیبر شکن کا
گیارہواں فرزند آئے گا تو اولادِ مرحب خود بخود ٹھکانے لگ جائے گی۔
بہر کیف میں عرض کررہاتھا کہ حضرت علی ؑکے دشمن ہر ایک کے دشمن سے
زیادہ ہیں اور مولا علی ؑنے زندگی بھر خدا۔۔رسول اوراپنے مخصو ص دشمنوں سے جنگ کی
ہے اور ظاہر ہے جس شریف کا ایک بھی کمینہ دشمن ہو تو شریف کی زندگی موت سے بدتربن
جاتی ہے اورجس شریف کے ہزارہاکمینے دشمن ہوں وہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ اورکمینے
دشمن کاکام ہے شریف کی نیکی پر پردہ ڈالنا اوراس کی طرف ہر قسم کی برائی منسوب
کرنا۔۔۔۔۔ امام علی ؑکہ جن کے دشمن کی نہ زمین میں کوئی حد ہے نہ زمان میں کوئی حد
ہے، ورنہ عموماً دشمنی کی حدود ہوتی ہیں شہر میں دشمن۔۔ اگر زیادہ ہوں تو ضلع کی
حدود تک۔۔ اگر اوربڑھے تو صوبہ کی حد تک اوراس سے بھی تجاوز کریں تو ملکی حدود تک
دشمن ہوں گے ایک علی ؑہی وہ ذات ہے جس کے دشمن کی زمین میں کوئی حد نہیں مکہ۔۔
مدینہ اور عرب تک محدودنہیں بلکہ اللہ کی پوری زمین مشرق تا مغرب اورشمال تاجنوب
جہاں بھی ٹٹولیں گے علی ؑکے دشمن نکل آئیں گے۔۔۔۔۔ اسی طرح زمان میں بھی کوئی حد
نہیں، ورنہ عموماً دشمنی دنوں تک۔۔ مہینوں تک یاسالوں تک ہوا کرتی ہے اورصلح
وصفائی ہوجایا کرتی ہے۔۔۔۔۔ اوردشمنی کی آخری حد موت ہے جب مرگیاتو دشمنی ختم ایک
علی ؑوہ ذات ہے جس کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً
۱۴سو
سال ہوگئے لیکن آج تک دشمن ختم نہیں ہوئے بلکہ بڑھتے جارہے ہیں؟
کہاں تک دشمن شمار کروں؟ مکہ دشمن۔۔ مدینہ دشمن۔۔ راوی دشمن۔۔ محدث
دشمن۔۔ مفسردشمن۔۔ کاتب دشمن۔۔ قلم دشمن۔۔ پریس دشمن۔۔ ذرائع ابلا غ دشمن۔۔ خطیب
دشمن۔۔ واعظ دشمن۔۔ کلاس فیلو دشمن؟
تاریخ وحدیث اُس دور میں مرتب ومدوّن ہوئی جب حضرت علی ؑکا نام لینا
بھی جرم تھا، اورامیر شام کی طرف سے تو مولا علی ؑکو سبّ کرنے کا سرکاری آرڈر
تھا، چنانچہ امام علی ؑکو گالی دینا اورحضرت علی ؑسے دشمنی رکھنا بارگاہِ حکومت کے
تقرب کا بہت بڑا وسیلہ تھا۔۔ بنی اُمیہ کی
۸۰سالہ
حکومت میں مولا علی ؑکو سبّ کرنا ایک سنت جاریہ بن گئی تھی۔
مروج الذہب میں ہے کہ جب اقتدار تبدیل ہوا تو عباسی فرمانروا نے شام
کی دانشور جماعت سے حضرت علی ؑکے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیاکہ جہاں تک
ہم نے سنا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علی ؑمدینہ کے چوروں میں سے ایک چور تھا (نَعُوْذُ
بِاللّٰہ)
حضرت علی ؑکی تاریخ ایسے پر خطر دور سے گزرنے کے بعد حق کا حیرت ا
نگیز معجزہ ہے کہ ایسے دَورمیں لکھی جانے والی کتب ِحدیث وتفسیر وتاریخ میں جن کے
فضائل کے ا نبار لگائے گئے ان کے فضائل ملتے نہیں اور امام علی ؑ جس کے فضائل پر
بین تھا ان کے فضائل شمار نہیں ہوسکتے؟ اگر چہ قلم۔۔ کا غذ۔۔ راوی وغیرہ سب دشمن تھے
لیکن نہ کسی قلم کو جرأت کہ علی ؑکے خلاف لکھ سکے اور نہ کسی پر یس کوجرأت کہ
علی ؑ کے خلاف کوئی مواد شائع کرسکے۔۔۔۔۔  دوستوں نے فضائل چھپائے اپنی جان
ومال وعزت کے تحفظ کے لئے اوردشمن نے فضائل پر پردہ ڈالا جاگیر ومنصب ودولت کمانے
کے لئے۔۔ لیکن جب بھی زبانوں سے تشددکے قفل کھلے اورآسمانِ حقیقت سے ظلم کے بادل
چھٹے تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ زمین وآسمان کے اندر حضرت علی ؑکے فضائل چھلکتے
نظر آئے اورپھر حقیقت نے ظلم کے بادلوں کی تہ کو چیر کرحق بین نگاہوں کے سامنے
امام علی ؑکے فضائل کو ایسا نکھار کرپیش کیا کہ اس کے مقابلہ میں دوسروں کے فضائل
ریگزارکے مقابلہ میں ذرّہ بے مقدار سے بھی کم ہیں؟ اسی لئے کہاجاتا ہے حق کابول
بالا۔
آج بھی آپ دیکھیں تو حق کو دبانے اورمٹانے کے کس قدر خطرناک
اورحیاسوز حربے استعمال کئے جاتے ہیں؟ اسلئے کہ ہمیشہ باطل اپنی کامیابی کیلئے تشدد
کو ہی آلہ کار بناتا ہے، حقہ بند۔۔ پانی بند۔۔ بول چال بند۔۔ پھر قلم بند۔۔ زبان
بند۔۔ ضلع بند؟
لیکن ہم نے تو نجف سے روانہ ہوتے ہوئے مولا کے روضہ کے سامنے کھڑے
ہوکرعرض کیا تھا کہ اے مولا! جب تک ز ندگی رہے گی تشدد کی بالادستی کے باوجود نہ
تیرے فضائل کو بیان کرنے سے زبان رُکے گی اورنہ لکھنے میں قلم سے کوتاہی ہوگی
اوراللہ کے فضل وکرم سے آج تک زبان نے اپنے مشن میں کوتاہی کی ہے نہ قلم میں سکتہ
واقع ہواہے۔۔۔۔ چودہ جلدوں میں قرآن مجید کی تفسیر لکھنا معمولی کام نہ تھا
۱۹۵۵سے
۱۹۷۷تک ۲۲برس
میں یہ کام مکمل ہوا، اسکے علاوہ اسی دوران میں بیسیوںکتابیں زیورِ طباعت سے
آراستہ ہوچکی ہیں اللہ آپ لوگوں کو استفادہ کی توفیق بخشے۔۔ یہ اللہ کا فضل ہے
جس کے شکر سے زبان قاصرہے۔
امام حسین ؑنے میدانِ کربلا میں تشدد کے خلاف جہاد کیاکہ ٓاخر تشدد
کی تلوار کُند ہوئی اورحسینیت کا پرچم آج تک فضائے عالم میں لہراتا نظر
آرہاہے۔۔۔ امام حسین ؑنے عظمت انسانی کا ایسا تابناک منظر پیش کیا کہ طاغوتیت لرز
گئی اور یزیدیت کانپ اُٹھی اورقصر تشدد میں ایسا زلزلہ آیا کہ اس کی بنیادیں
اُکھڑ گئیں حتی کہ آج تک ایسے لوگوں کا نام ننگ ِانسانیت شمار ہوتا ہے۔
امام حسین ؑانسانیت کے انقلاب میں ایک رہبرا عظم ہیں جنہوں نے ظلم کے
شکنجوں میں جکڑی ہوئی۔۔ استبداد کی چکی میں پسی ہوئی اورطاغوتیت کے قدموں میں دَبی
ہوئی انسانیت کو آزادی کا سانس لینے کی راہ بتائی اورظلم وتشدد کے کوہِ گراں سے
ٹکرا جانے کی ہمت دلائی اورنتیجہ یہ پیش کیا کہ باہمت انسانوں کی پامردی سے ستم
وجور کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہوسکتا ہے اوربربریت وطاغوتیت کے طوفانوں کا منہ
موڑاجاسکتا ہے بشر طیکہ پائے استقلا ل میں لغزش نہ آئے؟
امام حسین ؑنے فطری تقاضوں پر بھی فتح مبین حاصل کی۔۔۔ دیکھئے!
 ہردشمن کو دشمن کا غم پسند ہوتا ہے اورخوشی پسند نہیں ہوتی، یہ فطری انقلاب
ہے کہ امام حسین ؑ کے دشمن کو حسینیوں کا غم پسند نہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ دشمن
سمجھتا ہے کہ ان کاگریہ و بکا اورماتم ونوحہ اگر چہ ظاہراً غم ہے لیکن یہی غم
درحقیقت یزیدیت کے منہ پر طمانچہ ہے؟
ز   ہر غم سے جی گھبراتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ غم حسین ؑکو جی
چاہتا ہے۔
ز   ہر غم دل کو کمزور کرتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ غم حسین ؑ دل کو
طاقتور بناتا۔
ز   ہر غم سے دل گھٹتا ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ غم حسین ؑ سے دل
بڑھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ:
ز   ہرغم کو دور کرنے کے لئے ہزاروںروپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن
غم حسین ؑکو لانے کے لئے ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔
ز   ہر غم سے انسان تھک جاتا ہے لیکن غم حسین ؑمیں جی بھر
کر رولینے والے انسان کی ہرتھکان وکوفت دور ہوجاتی ہے بس غم حسین ؑایک زندہ معجزہ
ہے۔
ہم جس قدر بھی غم کریں نہ حسین ؑکا حق ادا ہوتا ہے اورنہ حسین ؑکی
بہن زینب ؑ عالیہ کے احسان کا ہم بدلہ دے سکتے ہیں۔
بقولے جب امام سجاد ؑنے پھوپھی کو قبر میں اُتارا تو جناب فضہ نے عرض
کیا آقا اجازت ہو تو آخری زیارت کرلوں؟ چنانچہ اجازت حاصل کرکے قبر میںاُتری
چہرہ سے دامنِ کفن کو الگ کیا تو چیخ نکلی کہ ہائے اس قدر رونے کو ترسی ہوئی تھی
کہ اب بھی دامن کفن تر ہے اورزبانِ حال سے کہہ رہی تھی کہ اب تو روکنے والاکوئی
نہیں ہے؟
وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ
 یَّنْقَلِبُوْن
تسبیح تطہیر دے طاہر دانڑیں جڈاں خاک شفا وچ رَل گئے
صحرا دی وحشت ناک زمیں کوں جنت توں کر افضل گئے
زمین رُنی اَسمان رُنا طبقات سما سب ہل گئے
جڈاں کوفے دے بازاراں وچ سادانیاں دے محمل گئے


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *