anwarulnajaf.com

تاجر اور خیانت

تاجر اور خیانت

اس میں شک نہیں کہ خیانت بذات خود ایک بری صفت ہے خواہ تاجر میں پائی جائے یا
کسی اور میں پائی جائے لیکن حدیث میں تاجر سے اس اس کی نسبت اس لئے ہے کہ تاجر
کاکام ہمیشہ لوگوں کے اموال سے ہی چلتا ہے جس میں خیانت کے مواقع زیادہ ہیں اور
حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان کو دھوکا دے وہ ہمارا نہیں ہے
اوراسی طرح جو شخص کسی مسلمان کی خیانت کرے اور وہ بھی ہمارا نہیں ہے  اور اگر تجارت کا دائرہ عمل وسیع کر دیا جائے
تو خیانت کا دائرہ بھی ساتھ ساتھ سیع ہو جائیگا مثلاً دنیا کا ہر انسان اپنے اپنے
فن میں پیشہ اور تاجر کی حیثیت رکھتا ہے تو پیشہ ورانہ صورت میں وہ بھی صحیح کام
نہ کرنے سے خائن قرار دیا جائے گا۔

·       
دودھ بیچنے والا
اس میں پانی ملا کر خیانت کا مرتکب ہوتا ہے کیونکہ وہ ملے ہوئے پانی کو دودھ کے
نرخ سے بیچتا ہے ۔

·       
کارخانہ دار
اپنی مصنوعات میں ناقص مواد ملا کر خریدار سے کھری جنس کے دام وصول کرتا ہے ۔

·       
ملازم انسان غیر
حاضری کے باوجود رجسٹر حاضری میں اپنی حاضری درج کراکے مالک سے پوری تنخواہ وصول
کرتا ہے ۔

·       
نوکر یا مزدور
اپنی ڈیوٹی صحیح نہ ادا کرنے کے باوجود مزدوری کا حق پورا مانگتا ہے ۔

·       
ڈاکٹر معمولی
ضرب کو ضرب شدید لکھ کر معاوضہ حاصل کرتا ہے ۔

·       
حکیم دوائی یا
نسخہ ناقص تیار کر کے مریض سے صحیح دوائی اور کامل نسخہ کے پیسے لے لیتا ہے

·       
رائے اور مشورہ
دینے والا ناقص رائے یا عمداً غلط مشورہ دے کر مشورہ لینے سے معاوضہ حاصل کر لیتا
ہے ۔

·       
وکیل اپنے مئوکل
سے اجرت لینے کے باوجود وکالت کا صحیح فرض ادا کرنے سے گریز کرتا ہے ۔

·       
میجسٹریٹ اپنی
ذمہ دارانہ ڈیوٹی کو سمجھتے ہوئے مقدمہ کے صحیح فیصلے میں بعض اوقات خیانت کا
مرتکب ہوتا ہے ۔

·       
مولوی صاحب ہر
دلعیزیزی یا کسی دوسرے فائدہ کی خاطر علمی خیانت کا مرتکب ہو کر اپنی عاقبت کو
برباد کرتا ہے ۔

·       
درزی کپڑا سینے
کی مزدوری پوری لینے کے باوجود از راہ خیانت کپڑے میں چوری کا مرتکب ہوتا ہے ۔

·       
پٹواری
زمینداروں کے معاملہ میں اپنے عہدہ کے پیش نظر اپنی ذمہ داری میں خیانت کرنا اپنا
حق سمجھتا ہے ۔

·       
ڈرائیور اور
کنڈکٹر ٹرانسپورٹ کے مالکان کے حق میں دیدہ دانستہ خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں ۔

·       
ریل گاڑی کا
سفری عملہ یا مقامی ملازمی اپنے اپنے عہدوں کی مناسبت سے بہت کچھ کرتے ہیں۔

·       
طالب علم سکول
میں جا کر اپنے فرض میں خیانت کرتا ہے اور اکثر اوقات سکول کے بہانہ سے کہیں اور
پھرتا رہتا ہے اور یہ سب خیانت ہے ۔

·       
معلمین اپنے
اوقات کار میں درس و تدریس میں خیانت کر کے قومی و ملی سطح پر بھیانک جرم کے مرتکب
ہوتے ہیں ۔


 

·       
سرکاری ملازمین
اور اوقات کار میں غیر ضروری مشاغل میں وقت ضاع کر کے خیانت کرتے ہیں بہر کیف
تمدنی زندگی کے ہر شعبہ میں جہاں جہاں کسی انسان کے ذمہ کوئی فریضہ ہے ان سب میں
دیانت داری یا خیانت کو دخل حاصل ہے اور معاشی زندگی میں انسان کی تباہ کاری کی
زیادہ تر ذمہ داری انہی افراد پر عائد ہوتی ہے جو اپنے فرائض میں کوتاہی یا خیانت
کے مرکتب ہوتے ہیں اور ہر دور کی حکومت وقت کے فرائض میں سے اولین فریضہ یہ ہے کہ
اس معاملہ میں ذمہ دار افراد پر کڑی نظر رکھے اور خیانت کے مرتکب افراد کو عبرت
تاک سزائیں دے اور اگر خود بھی دیانت دار نہیں دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ کرسی
اقتدار سے ستبردار ہو کر کسی دیانت دار کے حوالہ کر کے اپنی بلند حوصلگی کا ثبوت
دیتے ہوئے ملک و قوم پر احسان کرے کیونکہ نا اہل کا کرسی اقتدار سے چمٹا رہنا بہت
بڑی خیانت ہے دنیا کے تمام ممالک کی بہ نسبت ہمارا ملک عزیز خیانت کے معاملہ میں
بہت آگے ہے  حالانکہ یہ اسلامی ملک ہے اور
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مذاہب کے نطروں میں اسلام بد نام ہے ۔

·       
سرکاری ملازمین
اوقات کار میں غیر ضروری مشاغل میں وقت ضائع کر کے خیانت کرتے ہیں۔

 بہر کیف تمدنی زندگی کے ہر شعبہ میں جہاں جہاں
کسی انسان کے ذمہ کوئی فریضہ ہے ان سب میں دیانت داری یا خانت کو دخل حاصل ہے اور
معاشی زندگی میں انسان کی تباہ کاری کی زیادہ تر ذمہ داری انہی افراد پر عائد ہوتی
ہے جو اپنے فرائض میں کوتاہی یا خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اور ہر دور کی حکومت وقت
کے فرائض میں سے اولین فریضہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں ذمہ دار افراد پر کڑی نظر
رکھے اور خیانت کے مرتکب افراد کو عبرت ناک سزائیں دے اور اگر خود بھی دیانت دار
نہیں تو دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ کرسی اقتدار سے دستبردار ہو کر کسی دیانت
دار کے حوالہ کر کے اپنی بلند حوصلگی کا ثبوت دییتے ہئوے ملک و قوم پر احسان کرے
کیونکہ نا اہل کا کرسی اقتدار سے چمٹ رہنا بہت بڑی خیانت ہے دنیا کے تمام ممالک کی
بہ نسبت ہمارا ملک عزیز خیانت کے معاملہ میں بہت آگے حا لانکہ یہ اسلامی ملک ہے
اوریہی وجہ ہے کہ دنیا کے مذاہب کی نظروں میں اسلام بد نام ہے اگر مسلمان حضرت پیغمبرؐ
کی تعلیمات کو اپناتے اور معاشرتی زندگی میں اپنی پوری دیانت داری کا مظاہرہ کرتے
تو اسلامی ممالک رشک جنت ہوتے اور غیر مسلم ممالک ان کے اسوہ حسنہ کو اپنا کر اپنے
ممالک میں کردار انسانی کی تعمیر نو کر کے اسلام کے حلقہ بگوش ہو جاتے یا کم از کم
اسلام اور اسلامیان  عالم کو خراج تحسین
ضرور پیش کرتے اور اقتصادیات و معاشیات میں اسلامی تعلیمات کو بنیادی مقام دیا
جاتا اور آج کی دنیا میں مسلمانان عالم غیر مسلم اقوام کے دست نگر صرف اس لئے ہیں
کہ انہوں نے اپنا صحیح راستہ کھو دیا ہے ۔

مجھے یقین ہے کہ اگر پاکستان میں بسنے والے لوگ چپڑاسی سے لے کر صدر مملکت تک
اور ادنٰی سے لے کر اعلٰی تک حکومت اور رعایا کے تمام افراد اسلامی تعلیمات کی
روشنی میں اپنے فرائض میں پوری دیانت داری کو اپنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے
ملک سے بھوک و افلاس کا قلع قمع نہ ہو یا ہمارے معاشرے سے معاشی و اقتصادی زبون
حالی دور نہ ہو۔

ہمارے ہمارے ملک میں گندم کی پیدائش کافی
ہے اور ملکی ضروریات سے زیادہ ہے لیکن فرائض میں خیانت اس کی مصنوعی قلت کا باعث
بنتی ہے اسی طرح ہر قسم  کی مصنوعات کے لئے
ہمارا ملک سازگار ہے اور ہمارے اذہان بھی دوسروں سے کم نہیں لیکن برا ہہو خیانت کا
کہ ہر پہلو سے ہر مصنوع کو ناقص تیار کر کے دنیا کی عالمی منڈی میں پورے ملک کو اس
نے بد نام کر دیا ہے ۔

اسی طرح ہر قسم کی تعلیم کےلئے ہمارے ملک
کا ذہن ذہن رسا ہے اور پڑھانے والوں میں بھی مہارت فنی موجود ہے لیکن اعلٰی تعلیم
کے لئے امریکہ یا برطانیہ یا دوسرے ممالک کی احتیاط صرف اس لئے ہے کہ احساس ذمہ
داری نہیں اور ادائیگی فرائض میں دیانت نہیں ہے اور اس میں شک نہیں کہ مالی خیانت
سے علمی خیانت سنگین تر ہے اور اس کا انجام مالی خیانت سے کہیں زیادہ نقصان دہ اور
خطر ناک ہے ۔

یقین سمجھئے کہ اگر دیانت داری عام ہو
جائے تو ملک پورے کا پورا امن و سکون اور چین و اطمینان کا گہوارہ بن سکتا ہے اور
ہم نے بارہا آزمایا ہے اور آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جس تھانہ میں ایس ایچ او دیانت
دار ہو چند دنوں میں جرائم پیشہ افراد روپوش ہو جاتے ہیں اور شریف لوگ سکون کا
سانس لینے لگ جاتے ہیں اسی طرح جس سکول کا ہیڈ ماسٹر دیانت دار ہو پورے سکول کے
نتائج تسلی بخش ہوتے ہیں جس ہسپتال میں ڈاکٹر دیانت دار ہو وہاں صرف یہ نہیں کہ
مریض ہی تندرست ہوتے ہیں بلکہ پورے ملک میں وہ ڈاکٹر اور اس کا ہسپتال شہرت یافتہ
ہو جاتا ہے اور سینکڑوں میلوں کا فاصلہ طے کر کے مریض دھڑا دھڑ وہاں پہنچنا شروع
ہو جاتے ہیں اسی مناسبت سے اگر زمیندار دکاندار صنعت کار ، اہل کار ، عہدہ دار، فن
کار اور ہر شعبہ زندگی کا ہر ذمہ دار انسان اپنے اپنے متعلقہ فرائض میں دیانت داری
کا مظاہرہ کرے اور خصوصاً ایسے ملک میں جس کی بنیاد ہی لا الہ الاللہ کے نعرہ پر
قائم کی گئی ہو اور ایسی قوم میں جس کو امت وسط کے لقب سے نوازا گیا ہو اور ایسی
ملت میں جس کا رسولؐ پورے عالمیں کےلئے رحمت بن کر آیا ہو تو وہ ملک و قوم و ملت
کیونکہ نہ منازل ارتقاء کی طرف قدم بڑھائیں یقیناً ایسی صورت میں ملک خطہ جنت ہوگا
۔ اور اس ملک میں بسنے والے افراد رشک عالم ہوں گے ۔

ہاں بے شک آنے والے مہدیؑ کا دور ہی
امنگوں اور امیدوں کا مرکز ہے وہ جب تشریف لائیں تو ملک و قوم و ملت بلکہ پوری
انسانیت کی قسمت بدلے گی اور ظلم و جور اور تشدد و استبداد کے خطرناک مہلک اور
طوفانی بھنور میں پھنسی ہوئی انسنایت آرام و چین کے ساحل پر سکون کا سان لینے کے
قابل ہو گی آہ کس  قدر ہے بھیانک یہ دور جس
سے ہم گذر رہے ہیں کہ بھائی بھائی کے حق کا خائن ہے باپ بیٹے کا خائن اور بیٹا باپ
کا خائن ، بہن بہن کے حق کی خائن ، دوست ، دوست کے حق کا خائن ، استاد شاگر د ایک
دوسرے کے خائن اسی طرح شوہر و بیوی ایک دوسرے خائن حکمران و رعایا ایک دوسرے حقوق
کے خائن اور غلام و آقا ایک دوسرے کے حق کے خائن یا یوں کہ دوں کہ ہر بندہ ہر بندے
کے حق میں خائن نظر آتا ہے اور چونکہ ہر عموم میں استثناء ہواکرتا ہے میں تسلیم
کرتا ہوں کہ بعض فرائض شناس افراد ہر شبعہ زندگی میں  موجود ہیں جن کی وجہ سے دنیا قائم ہے تاہم
عمومی زندگی کی تلخی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یقیناً خوش کن سرور آور
روح پرور اوررشک جنت ہو گا وہ دور جس کی آمد کا انتظار ہم لگائے بیٹھے ہیں بس خدا
کرے آنے والا مہدیؑ آئے اور دنیا امن و سکون سے پر ہو جائے جس طرح کہ اب ظلم و جور
سے پر ہو چکی ہے ۔

اللھم عجل فرجہ


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *