تاخیر قبولیت دعا کی وجہ ::::::::؟
ایک شخص احم نامی نے حضرت امام موسی کاظم ؑ کی خدمت میں عرض کی کہ مولا میں نے ایک عرصہ سے ایک حاجت کا اللہ سے سوال کیا ہوا ہے اور اب مقبولیت کی تاخیر کی وجہ سے میرے دل میں کچھ شک جیسا آتا ہے حٖرت نے فرمایا اے احمد ! شیطان کے پھندے سے بچ کر رہ کہ تجھے کہیں رحمت خدا سے مایوس نہ کرے دے تحقیق میرے جد امام محمد باقرؑ فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقت مومن دعا مانگتا ہے تو خدا وند کریم اس کی قبولیت کو موخر کر دیتا ہے کیونکہ اس کی غمناک آواز اور درد ناک لہجہ خدا کو محبوب ہوتا ہے اور علاوہ اس کے بات یہ ہے کہ منافع دنیاعیہ میں سے جو کچھ مومن خدا سے طلب کرتے ہیں جن کو اب خدا نے معرض التوامیں ڈال دیا ہے وہ ان نعامات دنیا ویہ سے بہتر ہیں جو خدا نے ان کو عطا کر دی ہیں اور دنیا چیز کیا ہے ؟ حضرت امام محمد باقر ؑ فرمایا کرتے تھے کہ مومن کو خوش حالی کی حالت میں بھی خدا سے ایسی ہی دعا مانگنی چاہیے جیسے کہ سختی کے زمانہ میں مانگتا ہے ایسا ننہ ہو کہ جب مطلوب حاصل ہو جائے تو دعا سے سست ہو جائے اور دعا سے تھک نہ جانا چاہیے کونکہ ہو اللہ کے پاس محفوظ ہے اور تمکو صبر اور طلب حلال اور صلہ رحمی لازمی طور پر اختیار کرنی چاہیے اور لوگوں کے ساتھ دشمنی سے بچتے رہنا چاہیے ہم اہل بیت کا دستور ہے کہ قطع رحمی کرنے والے سے بھی صلہ رحمی کرتے ہیں اور برا برتائو کرنے والے سے بھی ہم اچھائی کا برتائو کرتے ہیں پس خدا کی قسم اس عمل میں ہمیں بڑا سکھ نصیب ہوتا تحقیق دنیا میں صاحب نعمت اگر کسی چیز کا سوال کرے اور اس کو اس کی سوال کردہ چیز کے علاوہ کوئی دوسری شے مل جائے اور وہ اس کو حقیر معمولی سمجھے تو ایسا شخص کسی بھی شے سے سیر نہیں ہوتا اور جب انسان پر نعمتیں زیادہ ہوتی ہیںتو ان کے حقوق واجبہ سے مسلمان کے لیے عہدہ برا ہونا اور اسس کے فتنہ سے بچنا مشکل ہوا کرتا ہے اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ مجھے بتائو کہ اگر میں تمہیں کوئی بات کہوں تو آیا میری بات پر تمہیں وثوق آئے گا ؟ راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی مولا آپ پر فدا ہو جائو ں اگر مجھے آپ کے فرمان پر اعتماد نہ ہو تو پھر کس کے قول پر اعتماد ہو گا ؟حلانکہ آپ خلق خدا پر حجت خدا ہیں پس حضور نے فرمایا تو پھر تجھے خدا کی بات پر زیادہ مطمئن رہنا چاہیے کیونکہ وہ وعدہ فرما چکا ہے وازا سائلک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوت الدا ع ادا دعان اور نیز فرمایا ولا تقنطو ا من رحمۃ اللہ اور نیز فرمایا واللہ یعدکم مغفرۃ منہ و فضلا پس غیر کی بات پر وثوق کرنے سے خدا کی فرمائش پر زیادہ وثوق کرنا چاہیے اور دلوں میں نکی بات لانی چاہیے پس خدا تمہیں بخش دے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ اید شخص نے حضرت امام جعفر صادق ؑ کی خدمت مین عرض کی کہ مولا ! قرآن مجید کی دو آیتوں میں مجھے دعویکی تصدوق نہیں ملتی آ پ نے فرمایا وہ کیا ہیں سائل نے کہا ایک تو آیت ہے کہ خدا فرماتا ہے ادعونی استجب لکم جمھ سے دعا کرو ترتومیں تمہاری دعائیں ماقبول کروں گا ہم دعائیں مانگتے ہیں لیکن ان کی قبولیت نہیں پاتے آپ نے فرمایا کیا تیرے خیال میں خدا نے خلاف ویدہ کی ہے ؟ سائل نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ سائل نے کہا نہ معلوم آپ نے فرمایا کہ میں تجھے اس کی حقیقت بتائوں کہ جو شخ ص اللہ ک یاطاعت کرے اور پر دعا مانگے جس طرح دعا مانگنے کا طریقہ ہے اس کی دعا قبول ہے سائل نے عرض کی دعا مانگنے کا طریقی کیا ہے ؟آپ نے فرمایا کہ پہلے اللہ کی حمد کرے پھر اس کی نعمات کو یا د کرے کشکریہ ادا کرے پھر درود پڑھے اور اپنے گناہوں کو یاد کرکے ان کا اقرار کرے اور ان سے توبہ کرے پس یہ دعا کا طریقہ ہے پھر آپ نے فرمایا کہ دوسری آیت کونسی ہے ؟ سائل نے عرض کیا کہ وہ یہ ہے وما انفقتم من شی فھم یخلفہ وھو خیر الرازقین تم کچھ بھی کرو پس خدا اس کا بدل عطا فرماتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے پس میں تو خرچ کرتا ہوں اور اس کا بدل نہیںپاتا آپ نے فرمایا کہ تیرے خیال میں خدانے خلاف وعدہ کیا ہے ؟ سائل نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا پھر یہ کہوں ہے ؟ سائل نے کہا ! نہ معلوم آپ نے فرمایا کہ تم حلال سے کسب کرو اور حلال کے راستہ میں خرچ کور اس صورت میں کوئی دعہم خرچ نہ کرو گے مگر یہ کہ خدا اس کا بدل عطا فرمائے گا۔
احل لکم لیلت اصیام الرفث ابتدائے اسلام میں جب روزہ کا حکم ہو تو رات کو بھی عورت کے ساتھ مجامعت کرن احرام کیا گیا تھا لیکن بعض نوجوان اس کو برداشت نہ کر سکتے تھے اور رات کو خفیہ طور پر اپنی عورتوں سے مجامعت کر لیا کرتے تھے چنانچہ بعض تفاسیر اہل سنت مثلا بیضاوی سے منقول ہے کہ حضرت عمر نے بھی شب ماہ رمضان میں اپنی عورت سے مجامعت کرلی اور پھر صبح کو جناب رسالتمآب سے اپنی عدم برداشت کا شکوہ بیان کیا اور دیگر صحابہ نے بھی اپنی اپنی معذرت بیان کی تب وہ حکم منسوخ ہوا اور یہ آیت اتری کہ اب تمہارے لیے ماہ رمضان کی رات میں اپنی وعورتوں سے ہمبستر ہونا جائز ہے اور حلال ہے ۔
بروایت ابو بصیر حضرت جعفر صادق سے مروی ہے کہ جناب امیر المومنین ؑ نے فرمایا کہ ماہ رمضان کی پہلی رات اپنی عورت کے ساتھ ہم بستری کرنا متحب ہے علامہ طبری نے فرمایا ہے کہ ماہ رمضان کی باقی راتوں کا بھی یہی حکم زیادہ موزوں ہے۔
مسئلہ ۔۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ سوئے ماہ رمضان مبارک کے ہر ماہ کی پہلے رات عورت سے ہم بستری کرنا مکروہ ہے ھن لباس لکم چونکہ بوقت مجامعت عورت ومرد کا جسم ایک دوسرے سے اس طرح متصل ہوتا ہے جس طرح بدن کا لباس بدن سے متصل ہوتا ہے اسی لیے ان کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے ۔ الابتغو ما کتب اللہ لکم یعنی مرد عورت سے مجامعت کرے تو اللہ سے اور لاد طلب کرے صرف لذت نفسانی ملحظ نہ ہو تفسیر عمدۃ البیان میں جناب رسالتمآب سے ایک روایت منقول ہے کس کا ماحصل یہ ہے کہ اگر کوئی عورت گھر میںاپنے شوہر کی صلاح و دورستی کے لیے کوئی کام کرے تو خدا وند کریم اس کے گناہ معاف کرتا ہے اور اس کی نیکیا دو چند فرماتا ہے اور اگر عورت اپنے مرد سے حاملہ ہو جائے تو اس کو تمام عمر کے ایام کے روزوں اور راتوں کی عبادت کا ثواب مرمت فرماتا ہے اور عورت کا اپنے بچے کو ایک دفعہ دودھ پلانا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور جب بچے کو دودھ چھڑانے تو اس کو اللہ کی جانب سے منادی مذاکرتا ہے کہ تیرے تمام گناہ بخش دیے گیے حضرت ام سلمہ نے عرض کی کہ یا رسولاللہ ہے فرمایے کہ مرد کیا کثوابملتا ہے آپن ے فرمایا کہ جومرد اپنی عورت کا محبت سے ہاتھ پکڑے تو خدا اس کی نیکیاں درج کرتا ہے اور اگر عورت کی گردن میں ہاتھ ڈالے تو دس نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج فرماتا ہے اور اگر ا کو بوسہ دے تو بیس نیکیا ں اور مجامعت کرے تو اس قدر نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج کرتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا نیچ ہے اور جب وہ غسل کرتا ہے تو اس کے بولوں کے برابر اس کے درجات بلند فرماتا ہے اور اور فرشتوں سے خطاب فرمایا تا ہے کہ تم گواہ رہو کہ میں نے اس کے گناہ بخش دیے ۔
فا لان باشروھن وابتغو ما کتب اللہ لکم وکلو واشربو حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر ثم اتم الصیام الی اللیل ولا تباشروھن وانتم عا کفون فی المساجد تلک حدودا للہ فلا تقربوھا کزالک یبین اللہ ط ایاتہ لناس لعلھم یتقون o
پس اب ان سے مباشرت کرو ار چاہو وہ و لکھا ہے اللہ نے تمہارے لیے اور کھئی پیو یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے تمہارے سامنے تا گا سفیدی صبح کا سیاہی سب سے جو کہ فجر کا حصہ ہے پھر پورا کرو روزوں کو رات تک اور ان سے نہ مباشرت کرو جب کہ اعتکاف کرنیووالے ہو مسجدوں میں یہ اللہ ھدیں ہیں ان کے پاس مت جائو اسی طرح اللہ اپنی نشانیاں بیان فرمایتا ہے لوگوں کے لیے تاکہوہ بچیں ۔
کلو والشربو ۔۔ اس کے شان نزول ے متعلق وارد کے کہ ابتدامیں ماہ رمضان کی رات میں سوجانے کے بعد کھانا پینا حرام ہو جاتاتھا خندق کے ایام میں مطعم بن جبیردن کا تھکاماندہ جب شام کے وقت گھر پہنچاتو اپنی بیوی سے کھانا طلب کیا بوڑھا آدمی کھانا لانے میں جب کچھ دیر ہوئی تو اس کو کوفت وتکان کی وفہ سے نیند آگئی جب بیداار ہوا تو آپ نی زوفہ سے کہاکہ میں چونکہ سوچکا ہوں لہذااب میرے اوپر کھاناحرام ہو گیاہے دوسرے دن پھر روزہ تھا اورخندق کی کھدائی کا کا م بھی تھا اورجب اپنی ڈیوٹی پر پہنچا تو کام کرتے ہوئے بے ہوش ہوگیا اسی طرح دوسرے بعض صحابہ کو بھی واقعات پیش ائے تو انہوں نے جناب رسالتمآبؐ کے سامنے اپنے حالات بیان کئے اورمعذرت چاہی تب یہ آیت اتری کہ پہلاحکم منسوخ ہے اوراب تمہارے لئے رات بھر کھانا جائز ہے جب تک صبح کی سفیدی کا خط رات کی تاریکی سے ممتاز نہ ہو جائے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ دوتا گے ایک سیاہ اورایک سفید اپنے پاس رکھ لیتے تھے اوران کو دیکھتے رہتے تھے جب دونوں تاگے ایک دوسرے سے پہچانے جاتے تھے تب کھانا پینا بند کرلیتے تھے پھر ان کو سمجھایا گیا کہ سفید تاگے سے مراد صبح کی سفیدی اورسیاہ تاگے سے مراد رات کی سیاہی ہے تب انہوں نے اس آیت کا صحیح معنی سمجھا چنانچہ صحیح بخاری میں بھی اسی مضمون کی ایک روایت موجود ہے
ثم اتمو االصیام الی للیل لیل سے مراد ہے غروب شمس کا یقین علماء نے اس کی علامت مشرق کی سرخی کا دور ہونا بیان فرمایاہے اگر مشر ق کی سرخی پوری طرح زائل نہ ہوئی ہو اورغروب شمس کا یقین ہو تو افطار جائز ہے
مسئلہ کھانا کھاتے ہوئے اگر سفیدی صبح کی ظاہر ہو جائے تو جو نوالہ منہ میں ہے اس کو باہر نکال دے اوراگر یقین ہو جائے کہ صبح اس سے پہلے طلوع ہو چکی تھی تو اس دن کی قضا واجب ہے
مسئلہ اگر کھانا کھانے سے پہلے تحقیق کر کے معلوم کر لیا کہ ابھی رات باقی ہے پھر اس کو طلوع فجر میں شک ہو گیا تو روزہ صحیح ہے
مسئلہ افطار کے وقت اگر بادل ی وجہ سے فضا تاریک تھی اوراس نے غروب کا یقین کر کے جچھ کھا پی لیا اوربعد میں بادل پھٹ جانے کی وجہ سے معلوم ہوا کہ ابھی غروب نہ ہوا تھا تو اس پر صرف اس روزہ کی قضا واجب ہے
مسئلہ اگر غروب میں شک ہو تو جب تک یقین پیدا نہ ہو جائے کھانا پینا حرام ہے
مسئلہ غیر معتبر شخص کی بات پر اعتماد کر کے مشکوک وقت میں کھا نا پینا خلاف واقع ظاہر ہو نے کی صورت میں روزے کو فاسد کرتا ہے
مسئلہ سحری کرنا مستحب ہے اورسورہ اناانزلنا پڑھنا بوقت سحور مستحب ہے مروی ہے کہ جو شخص سحوراورافطار کے وقت سورہ انا انزلنا پڑھے تو اس کی شہادت کو ثواب عطا ہوتا ہے
مسئلہ افطار کے وقت سورہ اناانزلنا کا پڑھنا اوراس دعا کا پڑھنا مستحب ہے
اللھم لک صمت وعلیک توکلت وعلی رزقک افطرت
مسئلہ نماز مغرب کے بعد افطار کرنا بہتر ہے لیکن اگر نفس افطار کی طرف زیادہ متوجہ ہو یا کچھ اورادمی اس کے افطار کے منتظر ہوں تو نماز سے پہلے افطار کرنا بہتر ہے
مسئلہ افطار پاک وٖحلال چیزوں پر کرے کھجور خشک یا تازہ پانی دودھ مٹھائی کھا نڈاورگرم پانی نمک وغیرہ سے افطار کرنا بہتر ہے
مسئلہ بوقت افطار صدقہ دینا مستحب ہے اوروہ اس طرح کہ چند روزہ دار مومنین کو افطار کرادے خواہ کھجور سے ہو یا پانی کے شربت سے یا کسی اورپاکیزہ چیز سے حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ اس ماہ میں مومن کو ایک لقمہ کھلانا تیس غلام ازاد کرانے کے برابر ہے اورخدااس کے بدلہ میں اس کی ایک دعا مستجاب فرماتاہے
Leave a Reply