تحقیق شجرہ
تفسیر برہان میں منقو ل ہےکہ
عبدالسلام بن صالح ہروی کہتاہے کہ میں نے امام رضاسے دریافت کیا کہ یا ابن رسول اللہ! فرمائیے وہ
درخت کونسا تھا جس سے حضرت آدم وحوا نے تناول کیا کیونکہ لوگوں میں اختلاف ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ
گندم کادرخت تھا؟ بعض انگور کہتے ہیں اوربعض اس کو شجرہ حسد بیان کرتے ہیں؟ آپ نے
فرمایاکہ سب درست ہے میں نے عرض کیا کہ پھر اس کا مطلب کیاہے؟ آپ نے فرمایا اے ابن
صلت جنت کا درخت کئی قسموں کا پھل دے سکتا ہے گندم کا درخت تھا لیکن اس میں انگور
بھی لگ سکتے ہیں وہ مثل دنیا کے اشجار کے نہ تھا اورجب حضرت آدم کو اللہ نے
ملائکہ کے سجدہ کا شرف مرحمت فرمایا اورداخل جنت کیا تو حضرت آدم کے دل میں
یہ خیال پیدا ہوا کہ اب مجھ سے افضل اورکون ہوسکتا ہے؟ پس اللہ کی جانب سے
نداپہنچی کہ سربلند کر کے ساقِ عرش کی طرف نگاہ کرو پس حضرت آدم نے عرش پر دیکھا تو لکھا ہوا پایا:
عبدالسلام بن صالح ہروی کہتاہے کہ میں نے امام رضاسے دریافت کیا کہ یا ابن رسول اللہ! فرمائیے وہ
درخت کونسا تھا جس سے حضرت آدم وحوا نے تناول کیا کیونکہ لوگوں میں اختلاف ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ
گندم کادرخت تھا؟ بعض انگور کہتے ہیں اوربعض اس کو شجرہ حسد بیان کرتے ہیں؟ آپ نے
فرمایاکہ سب درست ہے میں نے عرض کیا کہ پھر اس کا مطلب کیاہے؟ آپ نے فرمایا اے ابن
صلت جنت کا درخت کئی قسموں کا پھل دے سکتا ہے گندم کا درخت تھا لیکن اس میں انگور
بھی لگ سکتے ہیں وہ مثل دنیا کے اشجار کے نہ تھا اورجب حضرت آدم کو اللہ نے
ملائکہ کے سجدہ کا شرف مرحمت فرمایا اورداخل جنت کیا تو حضرت آدم کے دل میں
یہ خیال پیدا ہوا کہ اب مجھ سے افضل اورکون ہوسکتا ہے؟ پس اللہ کی جانب سے
نداپہنچی کہ سربلند کر کے ساقِ عرش کی طرف نگاہ کرو پس حضرت آدم نے عرش پر دیکھا تو لکھا ہوا پایا:
لَاْ اِلٰہَ
اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ
رَّسُوْلُ اللّٰہِ عَلِیُّ
بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اَمِیْرُ الْمُوْمِنِیْنَ وَ زَوْجَتُہ فَاطِمَةَ سَیِّدَةُ نِسَآءِ الْعَالَمِیْنَ وَ الْحَسَنُ وَ
الْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّةِ
اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ
رَّسُوْلُ اللّٰہِ عَلِیُّ
بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اَمِیْرُ الْمُوْمِنِیْنَ وَ زَوْجَتُہ فَاطِمَةَ سَیِّدَةُ نِسَآءِ الْعَالَمِیْنَ وَ الْحَسَنُ وَ
الْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّةِ
پس حضرت آدم نے عرض کیا
اے میرے ربّ یہ کون ہیں؟ پس ارشاد ہوا اے
آدم یہ تیری ذرّیت ہیں اورتجھ سے افضل
ہیں اورمیری تمام مخلوق سے افضل ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو میں نہ تجھ کو پیدا کرتا
اورنہ جنت ونار کواور نہ زمین وآسمان کو پیدا کرتا، خبردار اِن کی طرف حسد کی نگاہ
نہ اٹھانا، یعنی ان کی منزل کی تمنا نہ کرناکیونکہ وہ انہی کے لئے مخصوص ہے ورنہ
میرے جوار سے یعنی اس مقام جنت سے نکالا جائے گا، پس حضرت آدم نے نگاہ
اٹھائی اوران کی منزل کی تمنا کی، تب ابلیس نے اس درخت کے قریب جانے کی دعوت پیش
کی الخ
اے میرے ربّ یہ کون ہیں؟ پس ارشاد ہوا اے
آدم یہ تیری ذرّیت ہیں اورتجھ سے افضل
ہیں اورمیری تمام مخلوق سے افضل ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو میں نہ تجھ کو پیدا کرتا
اورنہ جنت ونار کواور نہ زمین وآسمان کو پیدا کرتا، خبردار اِن کی طرف حسد کی نگاہ
نہ اٹھانا، یعنی ان کی منزل کی تمنا نہ کرناکیونکہ وہ انہی کے لئے مخصوص ہے ورنہ
میرے جوار سے یعنی اس مقام جنت سے نکالا جائے گا، پس حضرت آدم نے نگاہ
اٹھائی اوران کی منزل کی تمنا کی، تب ابلیس نے اس درخت کے قریب جانے کی دعوت پیش
کی الخ
اوراس مضمون کی احادیث بکثرت موجود ہیں یعنی
حضرت آدم نے محمد وآل محمد کی منازل پر رشک کیا اوررشک کرنا فعل حرام نہیں ہوتا-
حضرت آدم نے محمد وآل محمد کی منازل پر رشک کیا اوررشک کرنا فعل حرام نہیں ہوتا-
Leave a Reply