anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” الف ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

الف

آل کی تحقیق : آلُ الرَّجُلِ خَاصَّتُہُ الَّذِی´نَ یَو¿ُ وْلُ اَمْرُہ¾ اِلَیْھِمْ وَ اَمْرُھُمْ اِلَیْہِآل انسان کے اُن خاص متعلقین کو کہا جاتاہے جن پر اس کو اعتماد کلی ہو کہ ان کے ہر پیچیدہ امر کا حل اس کے ذریعے سے ہو اور وہ بھی اس پر اعتماد کلی رکھتے ہوں کہ اپنے ہر پیچیدہ مسئلہ کو اس کے بغیر حل نہ کر سکتے ہوں، پس فرعون کی آل میں وہ لوگ داخل ہوں گے جن پر حکومتی معاملات میں فرعون کو اعتماد کلی تھا اور حضرت محمد مصطفی کی آل میں وہ افراد شامل ہوں گے جن پر نبوتی امور میں حضور کو اعتمادِ کلی حاصل ہو۔

 آل اور اہل میں فرق: آل اور اہل دونوں کا معنی ایک ہے لہذا آل محمد میں جو افراد داخل ہیں اہل بیت محمد میں بھی وہی داخل ہیں، اگرچہ استعمال میں لفظِ اہل اشراف و اَرزال سب کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن لفظِ آل صرف اشراف کےلئے مخصوص ہے خواہ شرف دینی ہو یا دنیاوی، پس آل محمد کے دائرہ میں اصحاب وا ز وا ج کوشامل کرنے کےلئے آل فرعون کی مثال کو پیش کرنا قرآنی اسلوب بیان سے چشم پوشی کا نتیجہ ہے (ج ۶ص ۴۷)

علما¿ نے آل محمد کا مصداق رسول اللہ کی عترت معصومین کو قرار دیا ہے، لہذا حضور کی اکلوتی شہزادی جناب فاطمہؑ اور حضرت علی ؑ سے لے کر حضرت حجة العصر صاحب الزمان علیہ السلام تک بارہ امام آپ کی آل ہیں، بنا بریں جو لوگ حضرت علی ؑ کو آل محمدسے خارج کرنے یا سمجھنے پر مصرّ ہیں اُنہوں نے آل کے معنی کو نہیں سمجھا، اہل بیت ؑکی تعین اور تخصیص کے متعلق مفصل بحث (ج ۱۱ ص ۸۸)

آل فرعون : اس دائرہ میں وہ تمام افراد داخل ہیں جو حکومتی نظم و نسق اور جملہ مذہبی ملکی، خانگی اور اسرار و رموز میں اس کے معتمد تھے، پس اراکینِ سلطنت، ممبران مجلس ومشاورت، حکّام مملکت اور آفیسران و اہلکارانِ دولت کے علاوہ عوام و خواص میں سے اس کے جملہ بہی خواہان اس کی اہل میں داخل تھے جن پر متعدد عذاب آئے اور آخر کار غرقاب ہو کر واصل جہنم ہوئے، آل فرعون پر متعدد عذاب آئے قحط سالی، نقص ِثمرات یعنی پیداوار کی کمی، طوفان، مکڑی، قمل(جوئیں)، مینڈک، خون، غرقابی وغیرہ۔

جب ایک عذاب آتا تھا تو حضرت موسیٰؑ سے معافی مانگ لیتے تھے اور جب حضرت موسیٰؑ کی دعا سے عذاب ٹل جاتا تھا تو پھر سر کشی پر ڈٹ جاتے تھے، آخر کار وہ عذاب آیا جو ٹلنے والا نہ تھا پس سب کے سب غر ق ہو گئے (ج ۶ ص ۷۸)

شبہ : اس مقام پر یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر آل سے مراد معتمدین کی جماعت ہو تو مومنِ آلِ فرعون پر آل کا اطلاق کیسے صحیح ہو گا؟ اور آسیہ اس زمرہ میں کیسے شامل ہو گی؟

جواب: فرعون کے نظریہ میں یہ دونوںاس کے معتمدین میں سے تھے اور وہ ان کو اپنی آل سمجھتا تھا اور قرآن مجید کے اطلاق سے مومنِ آلِ فرعون کا آلِ فرعون سے ہونا ثابت ہوتا ہے :

 قَالَ رَجُلٌ مُوْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہ¾۔ (سورہ المومن ع۸)

یعنی چونکہ فرعون سے وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا اور اس نے جوبات کہی وہ ظاہر کے اعتبار سے بھی اور واقع کے لحاظ سے بھی فرعون کی خیر خواہی تھی اور خود فرعون اور اس کے عملہ نے اس کی رائے کو معاندانہ اختلاف پر محمول نہیں کیا بلکہ اس کی آزادانہ اختلافی رائے کو ایک مصلحانہ فیصلہ سمجھتے رہے، چنانچہ اس نے اپنے اختلافی فیصلہ کو اس طرح مدلّل اور قابلِ قبول انداز میں بیان کیا کہ فرعون اور اس کی پوری کابینہ کو اس کی نیت پر شک کرنے کی جرا¿ت نہ ہو سکی، چنانچہ قرآن مجید میں اس کی تقریر کا متن یہ ہے:

اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدْ جَائَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِن رِّبِّکُمْج وَ اِنْ یَّکُنْ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کِذْبُہ¾ وَ اِنْ یَّکُنْ صَادِقًا یُصِبْکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ۔(سورہ المومن ع۸)

ترجمہ: کیا تم ایسے شخص کے (حضرت موسیٰؑ کے) قتل کے در پے ہو جس کا جرم تمہاری نگاہوں میں صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کو اپنا رب مانتا ہے اور اس بارے میں وہ تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس واضح دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور بالفرض اگر وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا بھی ہو تو اپنے جھوٹ کاوبال وہ خود ہی بھگتے گا لیکن اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو یقینا تمہیں اس انجامِ بد کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اُس نے وعدہ کیا ہے، اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے اس نے کہا: اے میری قوم اس وقت تمہارے پاس حکومت ہے اور زمین پر تمہارا اقتدار قائم ہے لیکن اگر (موسیٰؑ کے کہنے کے مطابق) ہم پر بصورت ِانکار اللہ کا عذاب نازل ہو تو بتاﺅ کہ ہمارا کون مدد گار ہو سکے گا؟

فرعون نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا: مَا اُرِیْکُمْ اِلَّا مَا اَرٰی وَ مَا اَھْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ۔

ترجمہ: میں تو تم کو وہی راستہ دکھا رہا ہوں جس کو میں نے خود صحیح سمجھ رکھا ہے اور اپنی دانست کے مطابق میں تو تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کر رہا ہوں آگے تمہاری مرضی اس پر عمل کرو یا نہ کرو، مومنِ آلِ فرعون نے کہا: اے میری قوم! سابقہ اقوام کے منفی رویہ کی بدولت جو اُن کا حشر ہوا میں تو تمہارے اندازِ فکر کو دیکھ کر اسی قسم کے انجام بد سے خوفزدہ ہو رہا ہوں، دیکھو قومِ نوحؑ اور قوم عاد و ثمود کا کیا حشر ہوا؟ اور اُن کے بعد آنے والی گذشتہ بعض اُمتوں پر کیا گزری؟ حالانکہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا اور اس دنیا وی عذاب کے علاوہ مجھے تو قیامت کا بھی ڈر ہے کہ اللہ کے سوا اُس دن تمہیں کون پناہ دے گا؟ اس کے بعد اس نے اپنی پوری تقریر میں جہاں اللہ کی توحید بیان کرنے کے بعد اس کی اطاعت پر زور دیا وہاں اس کی نافرمانی کے انجام بد سے بھی نہایت پُر زور لہجہ میں ڈرایا اور اپنے بیان کے آخر میں وا شگاف الفاظ میں اعلان کیا:

فَسَتَذْکُرُوْنَ مَا اَقُوْلُ لَکُمْ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلٰی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ

 ترجمہ : اب تو تم میری باتوں پر یقین نہیں کرتے لیکن وقت آنے پر میری باتوں کو یاد کرو گے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں تحقیق اللہ بندوں کے احوال سے آگاہ ہے، پس ظاہری طور پر یہ شخص فر عون کی آل میں شمار ہوتا تھا اور اس کی تقریر بھی در حقیقت فر عون کی خیر خواہی پر مبنی تھی لیکن چونکہ سچا مومن تھا پس اللہ کے علم میں وہ آل فر عون کا فرد نہیں تھا، گو یا وہ شخص مومن تھا جس کا شمار ظاہری طور پر آلِ فرعون میں سے تھا، چنا نچہ اگلی آیت میں اس کا وا ضح اعلان موجود ہے:

فَوَقٰ©ہُ اللّٰہُ سَیِّئٰاتِ مَا مَکَرُوْا وَ حَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوْئُ الْعَذَابِ (۵۴)

ترجمہ : پس اللہ نے اسے اُن کے مکر کے برے انجام سے بچا لیا اور آلِ فر عون کو برے عذاب میں گھیر لیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنِ آلِ فرعون اللہ کے نزدیک آلِ فرعون میں شامل نہیں تھا کیونکہ آلِ فرعون غرق ہو گئی اور وہ بچ گیا۔

نیز اس کا دوسرا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رَجُلِ مُوْمِنْ آلِ فرعون سے تھا یعنی جو لوگ آلِ فرعون میں شمار ہوتے تھے یہ اُن میں پیدا ہوا اور اُن میں ہی اس نے پرورش پائی، لیکن اُن کی صحبت اورا ُن کے درمیان بود و باش اس کے نظریات پر اثر انداز نہ ہو سکے اور وہ مومنِ کا مل رہا، جس طرح حضرت پیغمبر کے متعلق ہے رَسُوْلٌ مِنْھُمْ کہ حضور اہل مکہ میں پیدا ہوئے اور اُن ہی کے معاشرہ میں پلے بڑھے تاہم اُن کی عاداتِ بد کا اُن کی ذاتِ ستودہ صفات پر کچھ اثر نہ ہوا۔ 

آ ل مو سیٰؑ و ہارون ؑ : (پ۲، ع ۶۱)

٭ عرب میں آلِ فلاں بول کر وہ شخص بعض اوقات مراد لیا جاتا ہے جس کی طرف آل مضاف ہو، اسی بنا پر یہاں آلِ موسیٰؑ سے حضرت موسیٰؑ اور آلِ ہارون سے مراد خود حضرت ہارون ہیں (ج ۳ص ۱۲۱)

آلِ ابراہیم ؑ و آلِ عمران ؑ : (پ ۳، رکوع ۲۱)

 ٭ سورہ¿ آلِ عمران کے فضائل (ج ۳ص ۷۸۱)

٭ تفسیر عمدةُ البیان میں ہے کہ تفسیر اہل بیت ؑ میں آلِ عمران سے مراد حضرت علی ؑ بن ابی طالب ؑ ہیں اور بروایت ِ ابن عباس حضرت نبی اکرم نے فرمایا: میں آلِ ابراہیم ؑ ہوں اور علی ؑ آلِ عمران ہیں، ظاہر ہے کہ آل کا مصداق معصوم لوگ ہیں کیونکہ اصطفا¿ غیر معصوم کا نہیں ہو سکتا (ج ۳ ص ۸۱۲) 

آلِ محمد: تفسیر برہان میں تفسیر ثعلبی سے منقول ہے: ابو وائل کہتا ہے کہ مصحف ِابن مسعود میں آلِ عمران کی بجائے آلِ محمد درج تھا اور بعض روایات میں یہ ہے کہ آلِ ابراہیم ؑ سے مراد آلِ محمد ہیں اور جنابِ نبی اکرم نے فر ما یا:

لوگوں پر تعجب ہے کہ آلِ ابراہیم ؑ و آلِ عمران ؑ کے ذکر سے تو خوش ہوتے ہیں مگر آلِ محمد کے ذکر سے اُن کے دل گھٹتے ہیں اور پھر آپ نے حلفیہ فر مایا: کہ اگر کوئی شخص ستر (۰۷) نبیوں کے اعمال کے برابر بھی اپنی نیکیاں پیش کرے گا تب بھی سوائے وِلائے علی ؑ کے اُس کی کوئی نیکی مقبول نہ ہو گی۔ (ج ۳ص ۸۱۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا میں امت ِمسلمہ سے مراد آلِ محمد ہیں اور خیر امت اور امت وسط سے مراد بھی آلِ محمد ہیں (ج۲ ص ۹۸۱، ۰۹۱)

آل محمد ابواب اللہ : وَ اٰ تُوْا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا (پ ۲، ع۸) (ج ۳ص ۸) (ج ۶ص ۵۳)

٭ اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌ بَابُھَا (ج ۳ ص ۸ – ج ۶ص ۶۷- ج ۱ ص ۶۶ – ج ۱۱ ص ۳۶- ج ۳۱ ص ۱۳۱)

آلِ محمد عُروَةُ الوُثقٰی ہیں: (ج ۳ص ۹۳۱)

٭ تفسیر حبل اللہ (ج ۴ص ۴ ۲، ۵۲)

٭ تفسیر وسیلہ میں (ج۵ ص ۷۹) (ج ۱۱ص ۹۳۱)

٭ آل رسول پر ظلم (ج ۷ص ۱۲۱)

٭ درود میں آل کا ذکر ضروری ہے (ج ۱۱ص ۱۱۲) 

 آلِ محمد قرآن کے حقیقی مفسّر ہیں: مقدمہ تفسیر میں متعدد عنا وین کے ماتحت اس مقصد پر بحث کی گئی ہے، اور جلدنمبر۲ میں مقطعاتِ قرآنیہ کی بحث میں صفحہ۹۴پر یہ بحث موجود ہے، نیز جلد۳ میں رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ کی تفسیر میں صفحہ۵۹۱ سے لے کر متعدد صفحات کی بحث موجو د ہے، بئرِ معطلہ کی تاویل آلِ محمد ہے (ج۰۱ ص۸۳)

٭ شیعہ چونکہ آلِ محمد کی تفسیر کے علاوہ دوسری کسی تفسیر کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے اسلئے حَسْبُنَا کے دعویداروں نے شیعوں کو منکرِ قرآن کہا اور اس قسم کے اَوچھے اور بے بنیاد ہتھکنڈوں سے شیعوں کو بد نام کر نے کی کوششیں جاری رکھیں، اس کی تفصیل (ج۸ص۰۷۱ص۱۷۱) پر ملاحظہ فرمائیں۔

٭ اہل ذکر کی تفسیر میں آل محمد کا مفسر قرآن ہونا (ج۸ ص۰۱۲-ج۱۱ص۲۶۲ص۳۶۲) 

 ابراہیم ؑ: سورہ ابراہیم ؑ (ج۸ص۴۴۱)

حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل ؑکے لیے اپنی امت سے فرمائش کی تھی کہ اُن سے وفا کرنا لیکن امت نے عمل نہ کیا!! (ج۲ ص۰۰۱)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی طرح باقی انبیا ¿ نے بھی اپنی امتوں سے اپنے اپنے اوصیا¿ کے متعلق عہد لیا تھا، چنانچہ حضرت آدم ؑنے شیث کے لئے، حضرت نوحؑ نے سام کےلئے، حضرت موسیٰؑ نے یوشع کے لئے، حضرت عیسیٰؑ نے چرخِ چہارم پر جانے سے پہلے شمعون کے لئے، اپنی اپنی امتوں سے وفا کا عہد لیا تھا لیکن اُمتوں نے عہد کو پورانہ کیا اور حضرت پیغمبر نے مولا علی ؑ کی ولی عہدی کا امت سے عہد لیا۔

٭ ذکرِ امتحانِ حضرت ابرہیم ؑ وعہدہ¿ امامت (ج۲ ص۰۷۱، ۵۷۱، ۸۷۱)

٭ توحید کے موضوع پر نمرود سے مناظرہ (ج۳ص۲۴۱)

٭ یہاں بعض مقررین کے غلط استد لال اور غلوّ آمیز بیان پر بھی تنبیہ کی گئی ہے، اور نمازِ عصر کےلئے سورج کا غروب کے بعد واپس پلٹنا حضرت علی ؑ کی عظمت و شان کا واضح ترین معجزہ ہے۔

٭ حضرت ابراہیم ؑحضرت موسیٰؑ سے ایک ہزار سال پہلے گزرے (ج۳ ص۸۵۲) پس وہ نہ بقول یہود یہودی تھے اور نہ بقول نصاریٰ نصرانی تھے بلکہ حنیف ِمسلم تھے، کَانَ حَنِیْفًا مُسْلِمًا (پ۳،ع۵۱)

٭ حضرت ابوطالب ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے آخری وصی تھے (ج ۵ ص ۱۱۲)

٭ جس دن حضرت ابراہیم ؑ پر آتشِ نمرودی گلزار ہوئی وہ غدیر کا دن تھا، پس انہوں نے خوشی میں روزہ رکھا (ج۵ص۷۳)

٭ وسیلہ کی تفسیر میں ہے کہ آپؑ نے اپنی دعا میں محمد و آلِ محمد کو وسیلہ قراردیا تھا (ص۸۹)(ج۹ ص۵۳۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کے والد ماجد کا نام نامی تارخ تھا، جو کہ پکّے مسلمان تھے اورچونکہ آپ کی تربیت آذر نے کی تھی جو بقول رجاج حضرت ابراہیم ؑ کا نانا یا چچا تھا، پس مجازاً اس پر اَبْ کا اطلاق کیا گیا(ج۵ ص۱۳۲- ج۲ص۲۸۱)

٭ حضرت ابراہیم ؑکی ولادت کا قصہ(ج۵ص۲۳۲) 

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی ماں سے نمرود کی جواب طلبی (ج۹ص۳۳۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑنے ملکوت سما کی سیر کی تو جانب ِ عرش حضرت علی ؑ، حضرت فاطمہؑ، امام حسنؑ و امام حسینؑ کے انوار دیکھے اور اُن کے اِرد گرد اماموںکے انوار دیکھے، ایک روایت میں ہے پہلے حضرت محمد کا نور دیکھا پھر انوارِآئمہ دیکھے اورا ن کے اِرد گرد تا حد نگاہ انوار دیکھے، پوچھا یہ کون ہیں؟ تو جواب ملا کہ یہ حضرت علی ؑ کے شیعوں کے انوار ہیں، پس حضرت ابراہیم ؑ نے شیعوں کی علامتیں دریافت کیں تو جواب ملا کہ ان کی پانچ علامتیں ہیں:

۱ اکاون رکعت نماز، سترہ رکعت فرض اورچونتیس رکعت نوافل جو کتب فقہیہ میں تفصیل سے مذکور ہیں 

۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم کوبلند آواز سے پڑھنا، خواہ نماز میں پڑھے یا کسی دوسرے کام کی ابتدا¿ میں پڑھے

۳ نماز میں رکوع سے پہلے(دوسری رکعت میں) دعائے قنوت کا پڑھنا 

۴ زمین پر سجدہ کرنا 

۵ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا (نگینہ کی کوئی تعیین نہیں ہے)

پس حضرت ابراہیم ؑ نے دعا مانگی اے اللہ: مجھے حضرت علی ؑ کے شیعوں سے قرار دے، پس جواب ملا کہ تیری دعا مقبول ہے اور بعض روایات میں زیارت ِاربعین کو بھی علائم شیعہ میں سے قرار دیا گیا ہے (ج ۵ص ۳۳۲)

٭ چاند،سورج اور ستارہ پرستوں کو اپنے انداز ِخاص سے دعوت ِتوحید دینا (ج ۵ص ۴۳۲)

٭ سبیل تراشی، ناخن کاٹنا، بغلوں کو صاف کرنا، زیرِ ناف بال مونڈنا اور ختنہ کرنا ملتِ ابراہیمی کے مختصات ہیں (ج ۵ص ۱۷۲) 

٭ حنیفیّت دس چیزیں ہیں (ج ۲ص ۱۷۱) 

٭ ملت ِابراہیم ؑ (ج ۵ص ۱۷ ۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑ نے جب نمرود کے ملک سے ہجرت فرمائی تو حضرت لوطؑ اُن کے ہمرا ہ تھے جو آپ کے چچا زاد یا خالہ زاد اور نسبتی بھائی تھے، یعنی حضرت سارہ ؑ کے بھائی تھے (ج ۶ص ۵۵)

٭ مسجد سہلہ میں حضرت ابراہیم ؑ کا گھر تھا (ج ۷ص ۵۳)

٭ جب آگ میں جاتے ہوئے حضرت جبرائیل ؑ نے مدد کی پیش کش کی تو آپ ؑ نے فرمایا: مجھے اللہ کی مدد کافی ہے (ج ۷ ص ۱۴)

٭ چچا کےلئے دعا کرنا(ص ۲۳۱)

٭ حضرت ابراہیم ؑکے پاس فرشتے آئے توچونکہ بشکلِ انسان تھے آپ ؑ نے اُن کی ضیافت کےلئے گوسالہ ذبح کر کے اس کا گوشت بھون کر پیش کیا، جب انہوں نے کھانے سے انکار کیا تو آپ ؑ خوفزدہ ہوئے پس انہوں نے حضرت سارہ ؑ کے بطن سے حضرت اسحٰقؑ کی پیدائش کی خوشخبری سنائی (ج ۷ ص ۵۲۲ -ج ۳۱ ص ۸۲۱ – ج ۸ ص ۵۸۱)

٭ (پ۲۱، ع ۷) میں ہے کہ جب حضرت سارہ ؑ بنت ہاران زوجہ ابراہیم ؑ نے بچے کی خوشخبری سنی تو ازراہِ تعجب کہنے لگی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں تو بوڑھی ہو چکی ہوں! کیونکہ اس وقت اُن کی عمر ۹۹ برس تھی (ج۷ ص ۶۲۲)

٭ (پ۲۶، رکوع ۹۱) میں ہے کہ بچے کی خبر سن کر جناب سارہ ؑ چیخیں اور اپنا منہ پیٹ لیا (ج ۳۱ ص ۸۲۱)

٭ جب حضرت ابراہیم ؑ کو آتش نمرودی میں جھونک دیا گیا تو اللہ کا حکم ہوا:

اے جبرائیل فوراً پہنچو ورنہ اگر تیرے پہنچنے سے پہلے ابراہیم ؑ آگ میں چلا گیا تو مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم تیرا نام فرشتوں کے دفتر سے کاٹ دوں گا، چنانچہ وہ آگ میں نہ پہنچنے پائے تھے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے حاضر ہو کر اپنی مدد کی پیشکش کی، تو انہوں نے جواب دیا مجھے اللہ کی مدد کی ضرورت ہے تیری نہیں اور جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے جواں سال فرزند حضرت اسمٰعیل ؑکی گردن پر چھری رکھی توپھر اسی حلفیہ انداز سے جبرائیل ؑ کو اللہ نے حکم دیا کہ اگر تیرے پہنچنے سے پہلے حضرت اسماعیل ؑکی گردن پر چھری چل گئی تو تیرا نام فرشتوں کی صف سے کاٹ دوں گا، چنانچہ اس نے فورا ً پہنچ کر چھری کو الٹا دیا اور فدیہ پیش کر کے ذبح کرا دیا (ج ۸ ص ۶۱ – ج ۹ص ۷۳۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف تین جھوٹوں کی نسبت غلط ہے تقیہ کا ثبوت(ج ۸ ص ۵۶)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کو جب آتش نمرودی میں ڈالا گیا تھا تو جبرائیل نے جنت سے ایک قمیص لا کر حضرت ابراہیم ؑ کو پہنا دی تھی اور وہی قمیص آپ نے بطورِ تعویذ حضرت اسحٰقؑ کے گلے میں باندھ دی تھی اور انہوں نے حضرت یعقوبؑ کے گلے میں بطور ِتعویذ ڈالی تھی اور انہوں نے چاندی کی تختی میں بند کر کے حضرت یوسف ؑکے بازو میں تعویذکے طور پر باندھ دی تھی چنانچہ زندانِ مصر میں وہی قمیص حضرت یوسف ؑ نے باہر نکالی اور بشیر کے حوالے کی تواُس کی خوشبو حضرت یعقوب ؑ نے ملک ِشام میں محسوس فرمائی، کیونکہ جنتی لباس کی خوشبو مومن کو ایک ہزار سال کی مسافت سے بھی محسوس ہو سکتی ہے اور وہی قمیص تبرکات ِانبیا ¿ میں حضرت پیغمبر تک پہنچی، اور مروی ہے کہ قائم آل محمد خروج کریں گے تو وہ قمیص اُن کے پاس ہو گی(ج ۸ ص ۹۷) اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ کسی کتاب میں میں نے دیکھا ہے کہ جناب فاطمہ زہرؑا¿ نے وہ قمیص جناب زینب ؑ کے حوالہ کی تھی اور یہ وصیت فرمائی تھی کہ جب تجھ سے حسین ؑیہ قمیص طلب کر ے تو سمجھ لینا کہ وہ اُس گھڑی لحظہ کا مہمان ہے۔

٭ حضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر کعبہ سے فارغ ہو ئے تو فرمایا: رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا (پ۳۱) اے ربّ اس شہر کو بلد ِامن قرار دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے محفوظ رکھ 

٭ میں نے تیرے گھر کے قریب اپنی ذرّیت کی رہائش رکھی ہے تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے (ج۸ص ۸۵۱) 

٭ ملت ابراہیمی پر چلنے کا حکم (ج ۸ ص ۰۵۲) 

٭ سفر معراج میں حضور نے پہلے آسمان پر حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات کی اور دیکھا کہ مومنین کے بچوں کی وہ تربیت کر رہے تھے (ج ۸ص ۰۶۲)

٭ مقام محمود پر حضور کے دائیں جانب حضرت ابراہیم ؑ کا مقام ہو گا (ج ۹ص ۱۶)

٭ مروی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے لوگوں کے بال سیاہ رہتے تھے اورپہلے پہل حضرت ابراہیم ؑ نے بال سفید دیکھے تو عرض کیا اے پروردگار ! یہ کیا ہے؟ تو جواب ملا یہ وقار ہے، پس آپ ؑ نے دعا مانگی اے اللہ میرے وقار کو زیادہ کر (ج۹ ص ۷۳۱)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کا اپنے چچا آذر کو دعوت توحید دینا (ج ۹ ص ۱۵۱، ۹۲۲)

٭ آپ ؑ کی بت شکنی (پ ۷۱ سورہ انبیا ¿ ع ۵) تفسیر (ج ۹ ص ۰۳۲، ۱۳۲)

٭ جب آپ ؑ پر مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت (آگ میں ڈالنے) کا فیصلہ سنایا گیا (ص ۲۳۲) اس وقت آپ کی عمر سولہ (۶۱) برس تھی (ج ۹ ص ۵۳۲) 

٭ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے پوچھا کہ حضرت موسیٰؑ جادوگروں کے مقابلہ میں گھبرا گئے تھے لیکن حضرت ابراہیم ؑ تو آگ سے بھی نہ گھبرائے؟ آپ ؑ نے جواب دیا کہ ابراہیم ؑ کی صلب میں محمد و آل محمد کے انوار تھے (ج ۲ ص ۶۳۲)

٭ نمرودی حکومت کی جانب سے حضرت ابراہیم ؑ کی جلا وطنی کا حکم (ج ۹ ص ۷۳۲)

٭ نمرود کی لڑکی کا اسلام قبول کرنا (ج ۹ ص ۹۳۲) 

٭ تعمیر کعبہ اور تطہیر کعبہ کا حکم (ج ۰۱ ص ۱۲) 

٭ صحف ابراہیم ؑ یکم رمضان یا ۳ ماہ رمضان کو نازل ہوئے (ج ۲ ص ۰۳۲)

٭ کوہِ ابو قیس پر بلند ہو کر باذنِ پروردگارحضرت ابراہیم ؑ نے لوگوں کو حج کی دعوت دی، پس پشتوں میں ہونے والوں نے بھی اس آواز پر لبیک کہی اور مروی ہے کہ اہل یمن نے پہل کی تھی (ج ۰۱ ص ۲۲)

٭ مروی ہے جن لوگوں نے حضرت ابراہیم ؑ کی آواز پر لبیک کہی تھی وہی حج سے مشرف ہوں گے (ج۰۱ ص ۳۲) 

٭ حضرت ابراہیم ؑ کو جس مقام پر خلیل اللہ کا لقب ملا وہ مقام طور ہے (ج ۰۱ ص۳۶) 

٭ حضر ت ابراہیم ؑ کا ذکر سورہ¿ شعرا ¿ (آیت ۹۲، پ ۹۱) (ج ۰۱ ص ۰۰۲)

٭ اسم اعظم کے تہتر(۳۷) حروف میں سے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آٹھ حروف تھے (ج ۰۱ص ۸۴۲)

نصیحت: غریب و امیر دونوں طبقوں کےلئے اللہ نے انبیا ¿ میں مثالیں قائم کر دی ہیں، پس غریب لوگ حضرت ابراہیم ؑ و حضرت موسیٰؑ کی درد بھری زندگیوں کو مشعلِ راہ قرار دیں کہ انہوں نے اپنے دور کے ظالم ترین انسانوں کے مظالم کا مقابلہ کر کے پر چم توحید اور ناموس شرافت کی لاج رکھی اور ظالم حکمران اُن کو جادہ¿ حق سے پھسلا نہ سکے پس آخر کار متکبر حکمرانوں کا تکبر خاک و پانی میں مل گیا اور حق و حقیقت کو دنیا نے پہچان لیا (ج ۱۱ ص ۹۵)

٭ جب عزرائیل روح قبض کرنے کیلئے آیا تو خلیل نے کہا: کیا کوئی دوست دوست کی موت چاہتا ہے؟ اور عزرائیل کو حکم پرور دگار ہوا جا کر خلیل سے کہو: کیا کوئی دوست دوست کی ملاقات سے گھبراتا ہے؟ (ج ۱۱ ص ۰۶)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت توحید اور موثر انداز تبلیغ (ج ۱۱ ص ۲۷)

٭ حضرت ابراہیم ؑ پر مقدمہ چلایا گیا اور آخر کار زندہ جلائے جانے کا فیصلہ صادر ہوا، آپ ؑ نے آگ میں جانامنظور کر لیا لیکن پر چم توحید کو سر نگوں نہ ہونے دیا (ج ۱۱ ص ۴۷، ۵۷ – ج ۹ ص ۵۳۲) 

٭ چھپکلی آگ کو پھونک مار کر تیز کرتی تھی اور مینڈک پانی ڈال کر بجھا دیتا تھا (ج ۹ ص ۶۳۲) 

٭ حضرت ابراہیم ؑ کوفہ کے نواح میں آباد تھے اور دشمنانِ اسلام کی ایذا¿ رسانیوں سے تنگ آکر شام کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے (ج۱۱ص۶۷) جب آپ اپنے مویشیوں کو ساتھ لے جانے لگے تو نمرودی ایجنٹوں نے کہا کہ یہ مال ہمارے ملک کی پیداوار ہے لہذا اِس کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے تو آپ نے جواب میں فرمایا: پھر اس کے بدلہ میں مجھے زندگی کا وہ حصہ واپس کر دیا جائے جو میں نے اس ملک میں گزارا ہے، چنانچہ مقامی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا تو حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا مال ساتھ لے جانے کی اجازت مل گئی (ج ۹ ص ۷۳۲)

٭ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِہ لَاِبْرَاہِیْم (پ ۳۲،سورہ صافات،ع ۷) (ج ۲۱ ص ۲۴)

٭ ملکو ت سما کی سیر، انوارِ آئمہ اور ارواحِ شیعہ کا دیدار پھر دعا مانگنا (ج۲۱ ص ۳۴)

٭ ایک شخص نے حضرت سجاد ؑ سے عرض کیا کہ میں آپ ؑ کا شیعہ ہوں تو آپ ؑ نے فرمایاکیا تو حضرت ابراہیم ؑ کے درجہ پر فائز ہے؟ (ج۲۱ ص ۵۴)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر، آذر کا ذکر اورنمرودیوں کے عرس و میلہ میں بوجہ بیماری شراکت سے گریز۔

٭ علم نجوم کے جائز یا ناجائز ہونے کا ذکر (ج ۲۱ ص ۰۵، ۳ ۵)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی بت شکنی اور سزائے موت (ج ۲۱ ص ۰۵، ۳ ۵)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی ہجر ت اور قبطی حکمران کے سامنے تقیہ، حضرت سارہ ؑ کی طرف بادشاہ نے دست درازی کا ارادہ کیا اور اس کا ہاتھ شل ہو گیا، آخر کار بادشاہ دعائے ابراہیم ؑسے تندرست ہو گیا اور کسٹم کی معافی کے علاوہ دیگر انعامات و اکرامات سے نوازا حتیٰ کہ جناب ہاجرہ بھی بطور کنیزی کے آپ کے حوالہ کی اور جناب سارہ ؑ کی خواہش کے مطابق آپ نے جناب ہاجرہ سے نکاح کر کے اس کو حرم سرا میں داخل فرمایا (ج۲۱ ص ۴۵، ۵۵)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کو فر زند کی بشار ت اور پھر فرزند کے ذبح کرنے کا حکم (ج ۲۱ص ۶۵، ۹۵) 

٭ ذبیح اللہ کون تھے؟ حضرت اسحٰقؑ یا حضرت اسمٰعیل ؑ (ج ۲۱ص ۰۶ تا ۲۶)

٭ حضرت پیغمبر اکرم نے فرمایا: میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں ایک اسمٰعیل ؑ دوسرے عبدا للہ، چونکہ حضرت عبدالمطلب نے منت مانی تھی اگر اللہ مجھے دس فر زند عطا فرمائے تو میں ایک کو خوشنودی خدا کےلئے قر بان کروں گا چنانچہ قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا اور سو(۰۰۱) ا ونٹ بطور فدیہ نحر کیے گئے (ج ۲۱ص ۳۲، ۴۶)

٭ دنبہ کا فدیہ ذبح عظیم کےلئے (ج ۲۱ص ۴۶، ۵۶) 

٭ حضرت ابراہیم ؑکی آذر کے معبودوں سے بیزاری اور یہ کہ خدا نے نبوت اس کی نسل میں رکھ دی، وَجَعَلَھَا کَلِمَةً بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِہ(پارہ ۶۲، سورہ¿ زخرف ع ۹) آل محمد اسکے مصداق ہیں (ج ۲۱ص ۸۲۲ تا ۰۳۲) 

٭ حضرت ابراہیم ؑ اولو العزم پیغمبروں میں سے تھے (ج ۳۱ص ۶۶۲، ۷۶۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کے نقش قدم پر چلنے کا حکم (ج ۳۱ص ۶۶۲، ۷۶۲) 

٭ امام جعفر صادقؑ نے فر مایا: حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ کا فرعون اور اس کے مشیر حرام زادے تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے لئے سزائے موت کا فیصلہ کیا لیکن اس کے بر خلاف موسیٰؑ کے زمانہ کا فرعون اور اس کے مشیر حلال زادے تھے جنہوں نے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کےلئے میدانِ مقابلہ تجویز کیا جس میں جادوگروں اور حضرت موسیٰؑ کو مقابلہ کی دعوت دی گئی (ج ۹ص ۳۳۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کا ایک عابد سے دعا منگوانا (ج ۹ص ۴۵۱) 

انفال: سورہ انفال (ج۵ص۵۵۱)

٭ انفال منسوخ نہیں ہیں(ج۶ص۶۵۱) 

الم نشرح: سورہ الم نشرح (ج۴۱ص۳۳۲)

آبِ حیات : شفاعت کے بعد جب جہنمی لوگ جہنم سے نکلیں گے تو اُن کو آب ِحیات کی نہر میں داخل کیا جائے گا جس سے اُن کا گوشت پوست نیا اُگ آئے گا (ج ۴ص ۸۹)

٭ حضرت خضر ؑ جناب ذو القرنین کی فوج میں بھرتی ہوئے رفتہ رفتہ فوجی جرنیل بن گئے اور سفر ظلمات طے کر کے آبِ حیات کے چشمہ تک جا پہنچے اور پانی پی لینے کے بعد حیات ِجاوداں حاصل کر لی (ج ۹ص ۰۲۱، ۲۲۱)

٭ بہشتی لوگ آبِ حیات کے چشمہ سے غسل کریں گے (ج ۹ص ۵۶۱)

٭ ہر چیز کی فنا کے بعد خدا آب ِحیات جاری کرے گا جس سے تمام ذی روح زندہ ہو نگے (ج۱ص۶۳۱)

٭ مروی ہے کہ چرخِ چہارم پر ایک چشمہ ہے جس میں آب حیات ہے (ج ۳۱ص ۵۳۱) 

انشقاق: سورہ انشقاق (ج۴۱ص۳۹۱)

اعلیٰ: سورہ اعلیٰ (ج۴۱ص۶۰۲)

آبائے نبی : شیعہ عقیدہ کی رو سے آبائے نبی تا آدمؑ مسلمان تھے (ج ۸ ص ۵۹۱- ج ۹ ص ۱۵۱- ج ۲ ص ۲۸۱) 

٭ وَ تَقَلُّبُکَ فِی السَّاجِدِیْن (پ ۹۱، سورہ شعرا ¿)

٭ آبائے نبی کا اسلام (ج ۰۱ص ۸۱۲)

٭ اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کے ثبات قدم کے صلہ میں کلمہ توحید اُن کی نسل میں رکھ دیا (ج ۳۱ص ۹۲۲)

انعام: سورہ انعام (ج۵ص۷۸۱)

انفطار: سورہ انفطار (ج۴۱ص۴۸۱)

اُمّی: (ج۶ص۴۰۱)

٭ اُمّی کا معنی (ج۴۱ص۴۱)(ج۶ص۴۰۱)

٭ رسول اکرم کا لقب اُمّی کیوں ہے؟ (ج۵ص۹۳۲)

اعتکاف: (ج۲ص۹۳۲)

٭ روزہ و اعتکاف (ج۲ص ۹۳۲) 

ابلیس : مدتوں ملائکہ کے ہمرا ہ شریک ِعبادت ِپرور دگار رہا لیکن سجدہ¿ خلیفہ کے امتحان میں پتہ چلا کہ نوریوں کی طویل صحبت کے بعد بھی ناری ناری ہوا کرتا ہے!! (ج ۲ص ۳۸)

٭ ابلیس جن تھا یا فرشتہ؟ قوی قول یہی ہے کہ وہ جن تھا (ج ۲ص ۳۸)

٭ حق پر پردہ ڈالنے والے علما¿ ابلیس و فرعون کی طرح بد ہیں (ج ۲ص ۴۰۲) 

٭ ابلیس نے قسم کھا کر کہا کہ جب تک بنی آدم کے جسموں میں روح رہے گی ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، تو اللہ نے فرمایا: مجھے اپنی عز ت کی قسم جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے میں معاف کرتا رہوں گا (ج ۴ص ۱۵، ۲۵)

٭ ابلیس کا قیاس (ج ۶ص ۹) تکبر (ص۲۱)

٭ قیاس کی مذمت (ص ۳۱)

٭ جو شخص دین میں قیاس کرے گا اس کا حشر ابلیس کے ساتھ ہو گا اور زمانہ¿ قائم تک ابلیس کو مہلت دی گئی (ج ۶ ص ۴۱)

٭ ابلیس ہر طور طریقہ سے اور ہر حیلہ و بہانہ سے گمراہ کر تا ہے (ج ۶ص ۵۱)

٭ ابلیس کا وسوسہ (ج ۶ ص ۹۱، ۰۲)

٭ حضر ت پیغمبر کی ولادت کے وقت شیاطین پر شہاب ثاقب ٹوٹے تو انہوں نے ابلیس کو ماجرا سنایا، پس ابلیس سٹپٹایا اور زمین حرم پر ملائکہ کا ہجوم دیکھا تو وجہ پوچھی؟ جواب ملا کہ آج سید الانبیا ¿ کی ولادت ہوئی ہے اور مروی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت سے پہلے ساتوں آسمانوں پر جایا کرتا تھا، پس حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے بعد تین آسمانوں سے روک دیا گیا اور حضور کی ولادت کے بعد تمام آسمانوں سے روک دیا گیا (ج ۸ص ۴۷۱)

٭ انکار سجدہ¿ آدم ؑ اور حسد (ج ۸ص ۰۸۱)

٭ ابلیس پر لعنت کی ابتدا¿ حضرت جبرائیل ؑ نے کی۔ 

٭ ابلیس نے چوتھے آسمان پر دو رکعت نماز پڑھی تھی جو چھ ہزار سال میں تمام ہوئی (ج ۸ص ۱۸۱)

٭ جب ابلیس کو جنت سے نکالا گیا تو اُس نے پوچھا:

میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟ جواب ملا غلیظ مقامات 

میرا مو¿ذّن کون ہو گا؟ جواب ملا طبلہ و سارنگی

میری غذا کیا ہو گی؟ جواب ملا ہر وہ چیز جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے 

میرا مشروب کیا ہو گا؟ جواب ملا ہر قسم کی شراب 

میرا گھر کہاں ہو گا؟ جواب ملا حمام 

میری مجلس کہاں ہو گی؟ جواب ملا بازار اور عورتوں کے اجتماعات 

میرا لباس کیا ہو گا؟ جواب ملا راگ و رنگ 

میری شکار گاہ کیا ہو گی؟ جواب ملا عورتیں 

٭ حضرت آدم ؑ عرض کیا اے پروردگا ر ! میرے لئے کیا ہو گا جواب ملا تین چیزیں ہیں: ایک مخصوص میرے لئے، دوسری مخصوص تیرے لئے اور تیسری تیرے اور میرے درمیان مشترک: 

٭ جو میرے لئے مخصوص ہے وہ ہے عبادت اس میں کوئی میرا شریک نہیں 

٭ جو تیرے لئے مخصوص ہے وہ ہے ہر نیکی کا بدلہ دس گنا

٭ جو مشترک ہے وہ یہ کہ تمہارا کام ہے دعا مانگنا اور میرا کام ہے قبول کرنا 

 پس ابلیس سٹپٹایا اور چلّا یا کہ ہائے اب میں کیا کروں گا؟ (ج ۸ص ۲۸۱)

٭ انکارِ سجدہ (ج ۹ص ۰۴، ۰۲۱)

٭ اللہ نے فرمایا کہ میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہ ہو گا (ج ۸ص ۱۴)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کو منجنیق پر بٹھا کر آگ میں ڈالنے کی تجویز ابلیس نے دی تھی (ج۹ ص ۴۳۲)

٭ حضرت ذکریا ؑ کا سراغ قوم یہود کو ابلیس نے بتایا تھا (ج ۹ص ۰۵۲)

٭ وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْھِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہ¾ (پ ۲۲، سورہ سبا،ع۹) 

٭ ابلیس نے انکارِ سجدہ کے بعد راندہ درگاہ ہوتے ہی اعلان کیا تھا کہ میں اولادِ آدمؑ کو گمراہ کروں گا، پس جو بھی شیطانی چالوں میں پھنس گیا اس نے ابلیس کے ظن کی تصدیق کر دی، چنانچہ بروایت امام محمد باقر ؑ جب حضرت پیغمبر نے بروز غدیر علی ؑ کو اپنا قائم مقام نامزد فرمایا تو ابلیس نے اپنی اسمبلی اور مشاورتی کمیٹی میں اپنی چالوں کی ناکامی کے خطرہ کا ذکر کیا لیکن جب منافق پارٹی نے اپنی خفیہ میٹنگوں میں حضور کے اعلان غدیری کی مخالفت کا اظہار کیا تو ابلیس کو تسکین ہوئی اور جب وفات پیغمبر کے بعد لوگوں نے علی ؑ سے منہ موڑ لیا تو ابلیس نے ایک خوشی کی تقریب منائی اور اپنے مریدو ں کے اجتماع عظیم میں اعلان کیا کہ اب ہمارا مشن کامیاب ہے (ج ۱۱ص ۴۴۲)

٭ ابلیس نے حضرت ایوبؑ کے صبر و شکر پر حسد کیا اور عرض کیااے پرور دگار ! اگر تو ایوب ؑ سے نعمات کو سلب کر لے تو میں دیکھوں وہ کیسے شکر کرتا ہے؟ حضرت ایوب ؑ کی نعمتیں سلب ہو گئیں چنانچہ اولاد مر گئی، باغات تباہ ہو گئے اور جسمانی تکلیف میں مبتلا ہو گئے تاہم شکر میں کمی واقع نہ ہوئی (ج ۲۱ص ۵۹)

٭ قوم جنات میں پہلا گمراہ کرنے والا ابلیس ہے (ج ۲۱ص ۶۸۱) 

ابولہب : دعوت ذوالعشیرہ میں ابو لہب کی شرارت (ج ۵ص ۱۰۲- ج ۰۱ص ۵۱۲- ج ۲۱ص ۰۷۱) 

٭ ابولہب و دیگر اکا بر ِقریش کی خواہش پرمعجزہ¿ شق القمر (ج ۳۱ص ۵۶۱) 

٭ ابولہب اور اس کی عورت ام جمیل بنت حرب بن امیہ (ج ۴۱ص ۰۸۲)

ابو طالب ؑ : زمانہ ¿ جاہلیت میں آپ ؑ نے ایک عابد سے ملاقات کی جس نے دو سو ستر(۰۷۲) برس اللہ کی عبادت کی تھی اور اس نے آپ ؑ کو ولی اللہ کے باپ ہونے کی بشارت سنائی (ج ۴ص ۲۱) بچے کا نام پوچھنے کےلئے اشعار اور ان کا جواب (ج ۴ص ۶۱) 

٭ حضرت پیغمبر جناب ابوطالب ؑ کی وجہ سے کفار مکہ کی اذیتوں سے محفوظ رہے (ج ۵ص ۵۴۱) 

٭ حضرت ابو طالب ؑ کے مومن ہونے پر دلائل (ج ۵ص ۰۰۲ تا ۰۱۲- ج ۱۱ص ۴۴ تا ۶۴)

٭ آپ ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے آخری وصی تھے (ج ۵ص ۱۱۲) 

٭ حضرت ابوطالب ؑ کا اصلی نام عمران تھا (ج ۳ص ۸۱۲) 

٭ حضور کی نصرت اور اسلام کی سر بلندی میں حضرت ابو طالب ؑ کی خدمات نمایاں ہیں (ج ۷ص ۷۱۱)

٭ حضرت ابو طالب ؑ نے اپنے فر زند علی ؑ کو تاکید کی کہ ان کا طریقہ نہ چھوڑنا (ج ۷ص ۹۱۱)

٭ کفار مکہ نے حضور کو زَر و دولت اور شادی وغیرہ کا بوساطت ِ ابوطالب ؑ لالچ دیا تاکہ دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کو روک دیں، لیکن آپ نے اپنے عہد کو دہرایا پس ابو طالب ؑ نے اعلان کر دیا کہ تم نے میرے بیٹے کو کوئی تکلیف پہنچائی تو میںتم کو (اے قریش مکہ) قتل کر دونگا، اس کے بعد جناب ابوطالب ؑنے چار سال شعب ابی طالب ؑمیں حضور کی نگرانی کی اور نگہبانی کا فریضہ انجام دیا (ج ۸ص ۴۹۱) 

٭ آپ ؑ نے ظاہری طورپر بھی کلمہ اسلام زبان پر جاری کیا (ج ۸ص ۵۹۱) 

٭ جناب فاطمہ بنت اسد حضرت علی ؑ کو کعبہ سے لارہی تھیں کہ حضرت ابو طالب ؑنے بڑھ کر ولی اللہ کا استقبال کیا تو حضرت علی ؑ نے لبہائے نازنین کو جنبش دے کر کہا اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا اَبَتَاہُ وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ (ج۰۱ص۳۵) 

٭ دعوت ذوالعشیرہ میں حضرت ابوطالب ؑ کا کردار (ج ۰۱ص ۵۱۲، ۶۱۲) 

٭ قریش مکہ کے سامنے حضرت پیغمبر کا اعلانِ حق بوساطت ابو طالب ؑ (ج ۲۱ص ۸۷) 

٭ حضرت ابو طالب ؑ کی وفات کے بعد کفار مکہ کی ایذا¿ رسانی بڑھ گئی، آپ طائف تشریف لے گئے اور سلسلہ تبلیغ شروع کیا لیکن انہوں نے تکذیب کی، پس آپ نے واپس آنے کا ارادہ کیا تو راستہ کے دونوں طرف لوگ کھڑے ہو گئے اور آپ پر پتھر برسائے گئے چنانچہ آپ شدید زخمی ہو گئے (ج ۳۱ص ۴۳) 

ابوذر : حضور نے فرمایا: آسمان کے نیچے اور زمین کی پشت پر ابو ذر جیسا سچا انسان نہیں (ج ۲ص ۶۶)

٭ یہودیوں کی قرآن نے مذمت کی کہ وہ ایک دوسرے کو جلا وطن کرتے ہیں (پ ۱، سورہ بقرہ، آیت ۵۸) 

٭ تفسیر قمی سے منقول ہے کہ اس کے تاویلی مصداق حضرت ابو ذر غفاری ہیں جن کو مسلمانوں کے خلیفہ نے ربذہ کی طرف جلا وطن کیا تھا (ج ۲ص ۸۳۱)

٭ آپ کے ہاں ایک مہمان آیا توآپ نے عمدہ اونٹ نحر کر دیا اور فرمایا مال میں تین شریک ہیں:

۱ تقدیر جو موت و ہلاکت سے مال کو ختم کر تی ہے

۲ وارث جو موت کے منتظر ہیں جب مالک مرے گا تو وہ لے جائیں گے

۳ خود مالک پس اسے با قیوں سے سست نہیں ہونا چاہیے (ج ۳ ص ۸۵۱) 

٭ حضرت ابوذر پر کمیونسٹ ہونے کا الزام بے بنیاد ہے (ج ۳ص۸۶۱) 

٭ حضور نے ابو ذر سے فرمایا تھا کہ جس کا خاتمہ نماز شب پر ہوا اِس پر جنت واجب ہے (ج ۴ص ۳۳) 

٭ مقداد، ابو ذر اور سلمان کے علاوہ لوگ وفات پیغمبر کے بعد مرتد ہو گئے تھے (ج ۴ص ۹ ۵) 

٭ ایک روایت میں آل عمران کی آیت ۵۹۱ کا مصداق ابو ذر، سلمان اور عمار کو کہا گیا ہے (ج ۴ص ۰۰۱)

٭ چاہ زمزم کے کنارے ابن عباس حدیثیں سنا رہا تھا تو ایک شخص عمامہ پوش وارد ہوا اور ابن عباس کی حدیث کے مقابلہ میں اس نے بھی حدیث سنانا شروع کیا، ابن عباس نے پوچھا تم کون ہو؟ جواب دیا میں جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری ہوں، اس کے بعد حالت رکوع میں انگوٹھی دینے والی علی ؑ کی چشم دید فضیلت بیان کی اور دیگر فضائل بھی سنائے (ج ۵ص ۹۲۱) 

٭ جب بارہ (۲۱) منافقوں نے بیعت غدیری کے بعد حجفہ اور ایوا کے درمیان حضور کے خلاف منصوبہ بنایا تھا تو حذیفہ نے حضور کی ناقہ کی مہار پکڑ رکھی تھی اور سلمان و ابو ذر آپ کے دائیں بائیں تھے (ج ۵ص ۵۴۱) 

٭ جنگ تبوک میں جاتے ہوئے حضرت ابو ذر تاخیر سے کاروانِ رسالت سے جا ملے اور عذر ظاہر کیا کہ میرا اُونٹ بیمار تھا اور طے مسافت سے قاصر تھا لہذا پیدال چل کر آیا ہوں پانی کا مشکیزہ پُر تھا لیکن لب پیاسے تھے، آپ نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے تو عرض کی حضور ! میں ایک صاف و شفاف سرد و شیریں چشمہ سے گزرا اور مشکیزہ پُر کر لیا لیکن دل میں عہد کر لیا جب تک پہلے اس پانی سے حضور نہ پیئں گے میں خود نہ پیوں گا، پس یہ پانی آپ کی خدمت میں لایا ہوں آپ نے ابو ذر کے حق میں دعائے خیر کی اور فرمایا اے ابو ذ ر تیری زندگی تنہائی کی اور موت بھی تنہائی کی ہو گی اور تو داخل بہشت ہو گا، حالت غربت میں تیری موت واقع ہو گی پس عراق سے کچھ لو گ آئیں گے اور تیری تجہیز و تکفین و تدفین کا انتظام کریں گے (ج ۷ص ۹۰۱) 

٭ موسم حج میں ابو نخلہ نے ابو ذر سے سوال کیا کہ اختلاف کی صورت میں ہمیں کس کی پیروی کرنی چاہیے تو ابو ذر نے جواب دیا کہ قرآ ن و علی ؑ کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے نبی کریم سے سنا ہے علی ؑ پہلا شخص ہے جس نے میری تصدیق کی اورعلی ؑ بروز محشر سب سے پہلے میرا مصافحہ کرے گا، یہی صدیق اکبر اور فاروقِ اعظم ہے (ج ۷ص ۹۱۱)

٭ حدیث بساط میں ہے کہ حضور نے چادر بچھائی اور ابو بکر،عمر، ابو ذر، سلمان کو اس کے چاروں گوشوں پر بٹھایا اور علی ؑ کو درمیان میںبیٹھنے کا حکم دیا پھر سب کو علی ؑ کابحثییت امام سلام کرنے کا حکم دیا اور علی ؑ سے فرمایا کہ سورج سے بات کرو چنانچہ علی ؑ نے سورج کو خطاب کر کے فرمایا اے اللہ کی روشن نشانی اَلسَّلامُ عَلَیْک پس سورج میں کپکپی پیدا ہوئی اوور جواب دیا وَ عَلَیْکَ السَّلامُ یَا وَلِیَّ اللّٰہِ اس کے بعد حضور نے دعا مانگی اور بساط (چادر) نے پرواز کی ااور اصحاب کہف کے دروازہ پر جا اُتری پس ہر ایک نے اصحاب کہف کو سلام کیا لیکن کسی کو جواب نہ ملا سب سے آخر میں حضرت علی ؑ نے ان کو سلام کیا پس سب نے جواب میں کہا وَ عَلَیْکَ السَّلامُ یَا وَصِیّ مُحَمَّد اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نبی یاوصی نبی کو ہی سلام کرنا جانتے ہیں، واپسی پر ایک مقام پر اُترے تو علی ؑ نے پاﺅں کی ٹھوکر ماری پس ایک پانی کا شیریں چشمہ ظاہر ہوا آپ ؑ نے وضو کیا اور ہم سب نے وضو کیا آپ ؑنے فرمایا کہ اب صبح کی نماز کا کچھ حصہ با جماعت ادا کر سکو گے، چنانچہ ہمیں ہوا نے اٹھایا اور مسجد نبوی میں پہنچے تو حضور ایک رکعت ختم کر چکے تھے (ج ۹ص ۳۸، ۴۸)

٭ ابو ذر غفاری اور سلمان فارسی زمانہ جاہلیت میں بھی لا اِلٰ©ہَ اِلَّا اللّٰہ پڑھتے تھے (ج ۲۱ص ۷۱۱)

٭ وَ اصْبِرْ نَفْسَک(سورہ کہف آیت ۸۲) اسکے مصادیق سلمان، ابوذرصہیب، عمار اور خباب ہیں (ج۹ص۴۹) 

٭ حدیث ثقلین حضرت ابو ذر نے نقل کی (ج ۱ص ۷۸)

ابوبکر: علامہ جلال الدین سیوطی نے الاتقان میں حضرت ابو بکر کو سب سے بڑ امفسر قرآن قرار دیا، لیکن عذر پیش کر دیا کہ ان کی فوری وفات کی وجہ سے اُن سے آثار تفسیر منقول نہ ہو سکے حتیٰ کہ پورے قرآن مجید میں سے آپ سے صرف دس سوالات کئے گئے اور ان میں سے بعض کا جواب دے سکے (ج ۱ص ۲۵ ۱ تا ۷۵۱)

٭ حضرت علی ؑ کے علم سے موازنہ (ج۱ ص ۰۶۱) 

٭ حضرت ابو بکر کی شجاعت پر تبصرہ (ج ۵ص ۶۲۱)

٭ حضرت ابو بکر کی مر تے دم تک پشیمانی (ج۱ ص ۲۶ ۱)

٭ حضرت علی ؑ نے ابو بکر کی بیعت نہیں کی (ج۱ ص ۷۶۱) 

٭ جناب فاطمہ ؑ کی ابو بکر پر زندگی بھر ناراضگی (ج۱ ص ۰۷۱) 

٭ احراق باب فاطمہ ؑ (ج۱ ص ۱۷۱) 

٭ حضرت ابو بکر نے فرمایا جب جنگ احدمیںصحابہ نے فرار اختیار کیا تو سب سے پہلے واپس آنے والوں میں میں تھا (ج ۴ص ۰۷) 

٭ حضرت ابو بکر کی طرف سے امام فخر الدین کی وکالت (ج ۵ص ۴۲۱، ۸ ۲۱) 

٭ بحیثیت خلیفہ رسول کے ایک یہودی کے حضرت ابو بکر سے سوالات (ج ۵ص ۱۹۱، ۲۹۱)

٭ سورہ برا¿ت کی تبلیغ سے ابو بکر کی معزولی اورحضرت علی ؑ کی تعیناتی (ج ۷ص ۸ تا ۰۱)

٭ حضرت پیغمبر حضرت ابو بکر کو غار حرا میں لے گئے (ج ۷ص ۰۵ تا ۳۶)

٭ حضرت ابو بکر کی ہجرت میں امام رازی کا وکیلانہ موقف (ج ۷ص ۶۱۱، ۸۱۱)

٭ حدیث بساط میں حضرت ابو بکر و عمر کا حضرت علی ؑ کے ہمراہ اصحاب کہف کے پاس جانا (ج۹ ص ۳۸)

٭ خلافت کے بارے میں حضرت علی ؑ کی ابو بکر سے مفصل گفتگو اور مدلل احتجاج زیر تفسیر آیت نجوی (پ۷۲، سورہ مجادلہ، ج۳۱ ص ۸۳۲ تا ۲۴۲)

٭ وضعی حدیث ابو بکر و عمر کی خلافت کی دلیل نہیں ہو سکتی (ج ۴۱ص ۰۶، ۱۶)

٭ فَاکِھَةً وَّ اَبّاً (پ ۰۳) حضرت ابو بکر سے اس کی تفسیر پوچھی گئی تو اس کو جواب نہ آیا (ج ۴۱ص ۸۷۱) 

ابوجہل : ایک دن حضور کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل نے کہا کوئی ہے جو اس کی نماز کو توڑ دے؟ چنانچہ ابن زبعری نے ایک جانور کی اوجھڑی آپ پر گرا دی جس سے حضور کا چہرہ اور جسم اقدس ملوث ہو گیا پس آپ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب ؑ سے شکایت کی تو فورا ًتلوار میان سے کھینچ کر آگئے اور عبداللہ زبعری پر وہی اوجھڑی ڈال دی اور کفار قریش کو سخت تنبیہ کی (ج ۵ص ۲۰۲)

٭ ایک دفعہ ابوجہل نے حضرت پیغمبر سے مصافحہ کیا اور لوگوں کے اعتراض کے جواب میں کہنے لگا بخدا مجھے یقین ہے کہ یہ سچا ہے لیکن ہم اولاد عبد المناف کے تابع نہیں بننا چاہتے اور آپ سے خطاب کر کے کہا کہ ہم تیری تکذیب نہیں کرتے بلکہ تیرے دین کی تکذیب کرتے ہیں (ج ۵ص۴۱۲)

٭ جنگ بدر میں ابوجہل نے مسلمانوں کی قلیل فوج کو دیکھ کر کہا تھا یہ تو ہمارا ایک لقمہ ہے اگر ہم اپنے غلاموں کو حکم دیں تو وہ بھی ان کو زندہ گرفتار کر کے لائیں گے (ج ۶ص ۱۸۱) 

٭ ابوجہل نے کفار سے کہا تھا کہ حوصلہ سے لڑو، اہل یثرب کو مارو اور قریش کو گرفتار کرو (ج ۶ص ۳۸۱) 

٭ عمرو بن جموح انصاری اور ابوجہل کا مقابلہ ہوا، عمرو نے ابوجہل کی ران پر تلوار ماری کہ وہ کٹ گئی اور ابوجہل نے عمرو کا بازو کاٹ دیا لیکن تھوڑا چمڑا بچ گیا تھا جس سے اس کا بازو لٹک رہا تھا تو اس نے لٹکتے ہوئے ہاتھ کی انگلیوں پر پاﺅں رکھ کر اوپر کو انگڑائی لی تو وہ چمڑا ٹوٹ گیا اور بازو نیچے گر گیا۔

٭ عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ میں ابوجہل کو قتل کرنے کےلئے بڑھا اور اس کی گردن پر پاﺅں رکھا تو وہ کہنے لگا اے بکریوں کے چرواہے تو نے بلند جگہ پر قدم رکھا ہے کاش اولاد عبد المطلب میں سے میرا کوئی قاتل ہوتا، پس اس کا سر کاٹ کر بار گاہ ِنبوی میں پیش کیا تو حضور نے سجدہ شکر ادا کیا، بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل نے اپنے قاتل سے کہا تھا کہ میرا سر ذرا بلند کر کے کاٹنا تاکہ میرا سر دوسرے سروں سے بلند رہے کیونکہ میں قوم کا سردار ہوں (ج ۶ص ۳۸۱، ۴ ۸۱) 

٭ ابوجہل نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ! ہمارا دین پراناہے اور محمد کا دین نیا ہے ان دونوں میں سے جو اچھا ہے تو اس کو فتح عطا فرما (ج ۷ص ۶۸۱)

٭ ایک شخص نے عرض کیا حضور ! میں نے ابوجہل کی پشت پر ایک نشان دیکھا ہے تو آپ نے فرمایا یہ فرشتے کی مار کا نشان ہے (ج ۶ص ۳۴۲)

٭ جب آپ نے معراج کی خبر سنائی تو ابوجہل کے کہنے سے قریشیوں نے پوچھا اگر آپ اس دعویٰ میں سچے ہیں تو بتائیے بیت المقدس کے محراب کتنے ہیں؟ قندیلیں کتنی ہیں؟ ستون کتنے ہیں؟ فوراً جبرائیل ؑ نے نقشہ پیش کر دیا تو آپ نے سب کچھ بتا دیا جو انہوں نے پوچھا تھا (ج ۸ص ۸۵ ۲)

٭ ابوجہل کا عنادی رویہ (ج ۹ص ۲۷)

٭ ابوجہل کی ماں کا نام اسما¿ بنت مخزمہ تمیمی اور باپ کا نام ہشام مخزومی تھا، اس کا ایک مادری بھائی عیاش بن ربیعہ مخزومی اسلام لا کر مدینہ کی طرف بھاگ گیا تھا تو ان کی ماں اسما¿ نے بھوک ہڑتا ل شروع کر دی تھی، پس ابوجہل اور حارث اپنی ماں کی خوشنودی کےلئے مدینہ میں آئے اور منت سماجت کر کے عیاش کو واپس لائے اور راستہ میں اس پر تشدد کیا تاکہ و ہ اسلام سے منحرف ہو جائے، پس اس نے تقیہ کر لیا اور دل میں قسم کھا لی کہ جب کہیں حارث اکیلا ملے گا تو اس کو قتل کروں گا کیونکہ یہ سنگدل زیادہ تشدد کرنے والا تھا، پس جب حضور کو یہ ہجرت کا حکم ہوا تو حارث بھی مسلمان ہو گیا اور حضور کی اس نے بیعت بھی کر لی لیکن عیاش کو اس کا علم نہ ہو سکا پس تنہائی میں موقعہ پا کر عیاش نے حارث کو قتل کر یا اور پھر نادم ہو ا کہ ہائے میں نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا ہے (ج ۱۱ص ۸۶، ۹ ۶)

٭ ابوجہل کا دستور تھا کہ قریشیوں کو جمع کر کے کہتا تھا کہ آج میں تم کو زقوم کھلاﺅں گا پس خرما اور مکھن کو ملا کر ان کی ضیافت کرتا تھا اور کہتا تھا کہ یہی تو زقوم ہے جس سے محمد ہمیں ڈراتا ہے (ج ۱۱ص ۴۳۱، ۵۳۱) (ج ۲۱ص۱۴) (ج ۳۱ص ۷)

٭ ابوجہل نے قسم کھا لی تھی کہ جب آپ نماز میں ہوں گے تو میں ان پر ایک پتھر گراﺅں گا چنانچہ جب وہ پتھر اٹھا کر لے گیا اور مارنے کا ارادہ کیا تو وہ پتھر اس کے ہاتھ سے چمٹ گیا (ج ۲۱ص ۸)

٭ مَالَنَا لا نَرٰی رِجَالًا (پ۳۲، سورہ ص) ابوجہل اور ولید وغیرہ کے حق میں اتری ہے (ج۲۱ص۵۰۱) 

٭ دعوت عشیرہ کے دن ابوجہل نے کہا تھا اگر ہم میں کوئی ایسا آدمی ہوتا جو فن کہا نت اور جادو جانتا ہوتا تو ہمیں ان کے (محمد کے) فن سے مرعوب نہ ہونا پڑتا (ج ۲۱ص ۰۷۱) 

٭ ولید بن مغیرہ پر ابوجہل کی مکارانہ روش کا اثر (ج ۴۱ص ۳۳۱)

ابو سفیان : جنگ احد میں ابو سفیان اپنی بیگم ہند بنت عتبہ کو بھی ساتھ لایا تھا (ج ۴ص ۷ ۲)

٭ ابو سفیان نے خالد بن و لید کو ایک درّہ پر دو سو (۰۰۲)فو جیوں کے ساتھ تعینات کیاتھا تاکہ جب دونوں فوجیں آپس میں مصروف پیکار ہوں تو پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کر دے تاکہ وہ گھیرے میں آ جائیں (ج ۴ص ۷ ۲)

٭ ابو سفیان کی جنگ احد میں پوزیشن (ج ۴ص ۶۵)

٭ فتح مکہ کے روز ابو سفیان کی امان (ج ۴۱ص ۶۷۲، ۷۷۲)

٭ جنگ بدر میں شکست کھانے کے بعد ابو سفیان کا شام سے لایا ہوا مال اگلی انتقامی جنگ کےلئے ریزرو کر دیا گیا (ج ۶ص ۴۹۱) 

٭ شب معراج حضرت پیغمبر ابو سفیان کے قافلے کے پاس سے گزرے تھے (ج ۸ص ۸۵۲)

٭ حضور کی بد دعا سے جب مکہ میں قحط پھیلا تو ابو سفیان نے درخواست کی تھی کہ حضور ! آپ کیسے رحمةً للعالمین ہیں کہ ہمارے بڑوں کو تلوار سے مار دیا ہے اور اب بچوں کو بھوک سے مارتے ہو؟ (ج ۰۱ص ۰ ۸) 

٭ حمنہ بنت ابی سفیان سعد بن وقاص کی ماں تھی جس کا بیٹا عمر بن سعد کر بلا میں یزیدی افواج کا کمانڈر تھا (ج ۱۱ص ۰ ۷) 

ابو ہریرہ : کھانا امیرشام کے دستر خوان پر اور نماز علی ؑ کے پیچھے خوب ہے (ج ۵ص ۹)

ابولہب : ابو لہب کانا (یک چشم گل) تھا دعوت عشیرہ کے دن حضرت ابو طالب نے اس کو ڈانٹ کر کہا کہ او یک چشم خاموش ہو جا (ج ۰۱ص ۸۱۲)

٭ ابو لہب کا نام عبد العزی تھا اور ا سکی عورت امّ جمیل ابو سفیان کی بہن تھی یہ دونوں دشمنی ¿ پیغمبر میں پیش پیش رہتے تھے سور ہ تبت کی تفسیر (ج ۴۱ص ۹۷۲، ۰۸ ۲)

ابو حنیفہ : کتاب اقامةُ الحجہ سے منقول ہے کہ ابو حنیفہ ہر رات ایک ہزار نماز پڑھتے تھے اور رابعہ بصریہ کا ایک ہزار رکعت پڑھنا بھی مذکور ہے اور بعض کتابوں سے ابو حنیفہ کا چالیس برس تک صبح کی نماز عشا¿ کے وضو سے پڑھنا منقول ہے (ج۱ ص ۲۵) باوجود اس کے حضرت علی ؑ کی ایک ہزار رکعت شبانہ روز پر اعتراض ہے؟ (ج۱ ص ۱۵) 

٭ امام موسیٰ کاظم ؑ اور ابو حنیفہ (ج ۲ص ۷۵) 

٭ امام ششم ؑ سے ابو حنیفہ کی مسائل پر گفتگو (ج۱ ص ۵۷تا ۷۷ – ج ۴ص ۷۱ – ج ۹ص ۵۸۱) 

٭ مسئلہ خیر و شر پر امام موسیٰ کاظم ؑ کی ابو حنیفہ سے گفتگو (ج ۲ص ۷۵) 

٭ امام جعفر صادقؑ نے ابو حنیفہ سے فرمایا کہ قیاس نہ کیا کرو کیونکہ پہلا قیاس کرنے والا ابلیس ہے کیونکہ اس نے قیاس کر کے آگ کو مٹی سے افضل سمجھا اور سجدہ¿ آدم ؑ سے انکاری ہو گیا (ج ۶ص ۳۱) 

٭ ابو حنیفہ و دیگر فقہائے اہل سنت کے نزدیک مشرکین طاہر ہیں (ج ۷ص ۷ ۳)

٭ امام محمد باقر ؑنے فرمایا (جبکہ ابو حنیفہ اور سفیان ثوری مسجد الحرام میں ایک جگہ موجود تھے) ان کی طرف اشارہ کر کے فر مایا یہ لوگ اللہ کے دین سے رو گردانی کرنے والے ہیں (ج ۹ص ۴۹۱) 

٭ ابو حنیفہ سے ایک شخص نے لا شَی¿ کا معنی دریافت کیا تو اس نے اس کو ایک خچر دے کر امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ ان سے اس کی قیمت لا شَی¿ وصول کرنا آپ نے خچر رکھ لیا اور فر مایا ابو حنیفہ سے کہنا کہ صبح اس کی قیمت وصول کر لینا، چنانچہ صبح جب سورج بلند ہوا تو آپ ابو حنیفہ کو صحرا کی طرف لے چلے اور چمکتے ہوئے سراب پر نظر پڑی تو آپ ؑنے فرمایا لو اے ابو حنیفہ یہ تمہارے خچر کی قیمت ہے اور آپ نے سورہ نور کی آیت۹۳ پڑھی اور فرمایا کہ اس کو اللہ نے لا شَی¿ قرار دیا ہے پس ابو حنیفہ نادم واپس آیا (ج ۰۱ص ۷۴۱)

٭ ابو حنیفہ نے امام جعفر صادقؑ سے دریافت کہ حضرت سلیمان ؑ پیغمبر نے ہدہد کو کیوں طلب کیا تھا آپ نے فرمایا ہد ہد زمین میں پانی کو دیکھ سکتا ہے جس طرح تم شیشی میں تیل کو دیکھتے ہو (ج ۰۱ص ۴۳۲)

اجماع : خداوند کریم نے عہدہ ¿ نبوت و خلافت کےلئے اپنا انتخاب ہی نا فذالعمل قرار دیا ہے اس میں کسی دوسرے کی رائے کاکوئی دخل نہیں، چنانچہ قرآنی تعلیمات کو اگر مشعل راہ قرار دیا جائے تو زمین کے حکمرانو ں کے لئے بھی اللہ نے بنیادی اصول قرآن مجید میں ذکر فر مادئیے ہیں چنانچہ حضرت آدم ؑ کی زمینی خلافت کا جب اللہ نے اعلان فر مایا تھا تو فرشتوں نے خلافت ارضی کے لئے زہد و تقدس کی شرط کو ضروری قرار دیتے ہوئے اولاد آدم ؑ پر خونریزی و فساد کا الزام لگا کر انہیں خلافت کےلئے ناموزوں قرار دیا تھا تو اللہ نے ان کی اس اجماعی آواز کو ٹھکراتے ہوئے انتخاب آدم ؑ کی وجہ اس کی علمی بر تری بیان فر مائی تھی (ج ۲ص۹ ۷، ۴۸) 

٭ اسی طرح جب بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے حکمران مانگا تھا تو با مر خدا وندی طالوت کا نام نبی نے پیش کیا تھا جس کے خلاف بنی اسرائیل نے متفقہ آواز اٹھائی تھی کہ وہ تو مالدار نہیں تھے نبی اللہ نے کہا کہ اللہ نے اس کو علم و جسم میں طاقتور بنایا ہے لہذا وہی سزاوار حکومت ہے (ج ۳ص ۲۱۱ تا ۹۱۱، ۶۲۱)

٭ فرشتوں نے زمینی حکومت کےلئے زاہد و پرہیز گار ہونا لازمی سمجھا تھا۔ 

٭ بنی اسرائیل نے حکومت کےلئے مالدار ہونا لازمی شرط قرار دیا تھا۔ 

٭ اللہ نے قرآن مجید میں ان دونوں نظریات کو ٹھکرا دیا اور فرمایا حکومت کےلئے علم اور جرا¿ت و طاقت ضروری ہے کیونکہ اندرونی معاملات کو سلجھانے کےلئے علم ضروری ہے اور بیرون طاقتوں کے دفاع کے لئے جسمانی طاقت ضروری ہے، پس حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت بیرونی دفاع کی ضرورت ہی نہ تھی وہاں صرف آدم ؑ کی علمی بر تری کو معیار خلافت قرار دے دیا تھا اور حضرت طالوت کے زمانہ میں دفاعی طاقت ضروری تھی اس لئے علم کے ساتھ طاقت و شجاعت کو شرط حکومت قرار دیا گیا۔

پس اگر کسی نبی کی قائم مقامی بحیثیت اصلاحِ خلق اور تبلیغ دین ہو تو وہاں صرف علمی بر تری کافی ہے لیکن اگر تبلیغِ دین کے ساتھ حکمرانی بھی ملحوظ ہو تو وہاں نائب نبی میں علم و شجاعت کی دونوں صفتوں کو بد رجہ اتم موجود ہونا چاہیے تب اس کی خلافت علیٰ منہاجِ النبوة ہو گی اور ہم دعویٰ سے بلا خوف تر دید کہتے ہیں کہ حضرت پیغمبر کے بعد حضرت علی ؑان دونوں صفتوں میں اپنی مثال آپ تھے لہذا وہ خلافت کے لئے سزاوار تھے اور ان کے خلاف اجماع کا ہونا کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا۔ 

٭ حکومت کا اہل وہی ہوتا ہے جو اہل ہو خواہ لوگ اسے چُنیں یا نہ چُنیں (ج ۵ص ۵۰۱ – ج ۷ص ۲۳ ۱)

٭ اجماع کی تردید (ج ۶ص ۲۰۱، ۳۰۱ – ج ۰۱، ۳۱۱، ۴۱۱ – ج ۳ص ۸۱۱ – ج ۵ص ۱۸ – ج ۷ص ۶۳۱) 

اجر رسالت : لا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمُوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی (پ۵۲،ع۴) (ج ۲۱ص ۶۰۲) 

اجل : اجل محتوم نہیں ٹل سکتی (ج ۴ص ۹۶ – ج ۶ص۰۳، ۵۴۲)

٭ اجل غیر محتوم میں کمی بیشی ہوا کرتی ہے (ج ۱۱ص ۰۶۲) 

٭ اجل مبرم اور اجل موقوف (ج ۵ص ۰۹۱، ۶۲۲)

احرام حج و عمرہ : (ج ۳ص ۳۱ تا ۷۱ – ج ۵ص ۶۱، ۶۶۱ تا ۰۷۱) 

احقاف : سورہ احقاف کے فضائل (ج ۳۱ص ۸۱) 

٭ احقاف کا معنی (ج ۳۱ص ۹۲)

٭ قوم عاد کی احقاف کی بستیاں جو گرفتارِ عذاب ہو ئیں ان کا عجیب انکشاف (ج ۳۱ص ۳۳)

٭ سورہ احقاف کے اعداد کا مربع اپنے پاس رکھنا جن و پری کے شر سے حفاظت کےلئے اچھا ہے تر تیب وضعی کے ساتھ ۶۳۴۸۱ سے شروع کر کے پُر کریں۔ 

احزاب: سورہ احزاب(ج۱۱ص۴۵۱)

احسان : حضرت امام زین العابدین ؑ نے فرمایا کہ اللہ نے زمین کو تمہارے مزاج کے مطابق خلق فرمایا نہ گرم، نہ سرد، نہ سخت، نہ نرم تاکہ تم اس سے خاطر خواہ استفادہ کر سکو (ج ۲ص ۱۷، ۳ ۷) 

٭ مومن پر احسان کرنا اللہ کے قرب کا بہترین وسیلہ ہے (ج ۲ص ۳۷، ۲۷۱) 

٭ احسانات پروردگا ر کا تذکر ہ (ج ۲ص ۶۷ – ج ۲۱ص ۶۶۱)

٭ بنی اسرائیل پر احسانا ت و نعمات ِپرور دگار (ج ۲ص ۴۰۱)

٭ حضرت پیغمبر کی بعثت امت مسلمہ پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے (ج ۲ص ۶۹ ۱)

٭ بہادر وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو طاقت کے باوجود معاف کرے (ج ۴ص ۰۵)

٭ احسان کر کے جتلانا احسان کو ضائع کرتاہے (ج ۲۱ص ۸۴)

٭ محسن کی تین نشانیاں:

٭ ساتھی کی جگہ تنگ ہو تو سے کھلا کر دے

٭ محتاج ہو تو اس کی مدد کرے

٭ بیمار ہو تو اس کی تیماداری کرے (ج ۸ص ۵۳)

٭ مومن پر مومن کا حق ہے کہ اسکا گلہ نہ سنے ورنہ اٹھ جائے، حضرت مالک اشتر کا کردار (ج ۰۱ص ۵۲۱)

٭ احسان مومن تفسیر (ج ۲۱ص ۸۴ – ج ۸ص ۷۳۲)

٭ احسان کر کے جتلانے والے بروزِ محشر نظر رحمت سے محروم ہو ں گے (ج ۳ص ۵۶ ۲)

٭ فرعون نے حضرت موسیٰؑ پر اپنے احسانات جتلائے (ج ۲۱ص ۳۹۱) 

٭ گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں امت اسلامیہ پر خدائی احسانات (ج ۳ص ۳۸۱، ۵۸۱)

الحاقّہ: سورہ الحاقّہ(ج۴۱ص۲۹)

اختلاف : اختلاف و انتشار کا علاج (ج ۳ص ۶۳)

٭ انسان کی تخلیق میں امزجہ کا اختلاف (ج ۴ص ۴۰۱)

٭ حضرت پیغمبر نے فرمایا میرے بعد اختلافات ہوں گے اے عمار تجھے باغی جماعت قتل کرے گی اے عمار سب کوچھوڑ دینا لیکن حضرت علی ؑ کا دامن نہ چھوڑنا (ج۵ص۱۸،۲۸)

٭ کفاربا وجود با ہمی اختلا فات کے مومنوں کے مقابلہ میں سب ایک ہیں (ج۰۱ص۷۱)

٭ فَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ (پ۸۱،ع۴)

٭ آپس میں پھوٹ ڈالنے والوں کو تنبیہ (ج۰۱ ص ۵۷)

اخلا ق وآداب : میت کے متعلق مروّجہ آداب و رسوم (ج ۱ص۶۴)

٭ درسِ اخلاق (ج۲ص ۴۳۱،۵۳۲)

٭ گھر یلو احکام وآداب (ج ۰۱ص ۴۵۱،۵۵۱ – ج ۴ص۴۵، ۳۷ – ج ۵ص ۶۹، ۲۲۲)

٭ آداب و اطوار(ج ۶ص ۵۱ – ج۶ ص ۴۲،۹۵۱، ۱۷۱)

٭ حضرت لقمان ؑ کے ارشادات (ج۱۱ ص ۰۳۱تا ۲۳۱)

٭ عزیزوں کے لئے بزرگوں کے آداب (ج۳۱ص ۸۲،۳۹،۱۰۱ تا ۶۰۱، ۷۳۲)

٭ نیک لو گوں کے اوصاف (ج ۴۱ص ۰۵۱)

اخلاص: نَحْنُ لَہُ مُخْلِصُوْنَ (پ۱، آیت ۹۳۱، سورہ بقرہ) (ج ۲ص ۴۸۱)

٭ جس شخص کا ظرف ِایمان دولت ِاخلاص سے پُر ہو وہی شا کر ہو سکتا ہے اسی لئے ابلیس نے بھی کہہ دیا تھا کہ تیرے مخلص بندوں کو گمراہ نہ کر سکوں گا (ج ۴ص ۱۶)

٭ مُخْلِصًا لَہُ الدِّیْن (پ۳۲، ع ۶۱) (ج۲۱ ص ۵۱)

٭ سورہ اخلاص (ج۴۱ص۰۸۲)

اخروٹ : وَطَلْحٍ مَنْضُوْدٍ (پ ۷۲، سورہ واقعہ) اس سے اخروٹ کا درخت مقصود ہے (ج۳۱ ص ۸۹۱)

آدم ؑ: وَاِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلائِکَةِ (پ۱،ع ۵) 

٭ ذکر خلقت آدم ؑ (ج۲ ص ۸۷) 

٭ سجدہ آدمؑ سے ابلیس کا انکار (ج۲ ص ۴۸ تا ۸۸ – ج ۹ص ۵۰۲ – ج ۲۱ص ۷۰۱)

٭ آدم کا جنت سے خروج و شجرہ کا مطلب اور توبہ آدم ؑ (ج ۲ص ۹۸ تا ۸۹)

٭ حجر اسود کو حضرت آدم ؑاپنے سا تھ جنت سے لائے تھے اور آدم ؑکی توبہ مقام حطیم پر تھی (ج ۴ص ۱۱)

٭ سلسلہ اولاد آدم ؑ بھا ئی بہنوں کے با ہمی نکا ح سے نہیں بلکہ حضرت آدم ؑ کے لڑکے شیث کے لئے اللہ نے حور بھیجی جس سے چارلڑکے پیدا ہوئے اور یافث کے لئے جنّ عورت بھیجی گئی اور اس سے چا ر لڑ کیا ں پیدا ہو ئیں پھر ان کے آپس میں رشتے ہو ئے اور با قی اولاد پیدا ہوئی (ج ۴ص ۶۰۱، ۷۰۱) 

٭ حواؑ جناب آدم ؑ کی پسلی سے نہیں بلکہ اُنکی بقیہ مٹی سے پیدا ہوئیں (ج ۴ص ۶۰۱- ج ۶ص۶۴۱)

٭ حضرت آدم ؑکا ہابیل پر گریہ صرف محبت پدری کی بنا¿ پرنہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہ اوصاف ِولایت کا حامل تھا اور آپ ؑ اس کو اپنا وصی مقرر کرنا چاہتے تھے قابیل نے حسد کر کے اسکو قتل کر ڈالا (ج ۵ص ۴۹)

٭ جب شیطان نے حضرت آدم ؑ کی اولاد کو گمراہ کرنے کا اعلان کیا تھا تو حضرت آدم ؑ نے عرض کیا اے پروردگار ! تو نے ابلیس کو میر ی اولاد پر مسلط کر دیاہے پس میری اولاد کیا کرے گی؟ تو جواب ملا تھا کہ تیری اولاد کی برائی ایک لکھی جائے گی اور نیکیاں ایک کی بجائے دس لکھی جائیں گی اور سانس کے حلقوم تک پہنچنے تک میں نے ان کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے (ج ۵ص ۰۷۲ – ج ۳۱ص ۶۱۱)

٭ خلقت ِآدم ؑحکم سجدہ اور قیاس ابلیس کی غلطی (ج ۶ص ۸)

٭ وسوسہ شیطان اور آدم ؑ کے ترک اولیٰ کی حقیقیت (ج ۶ص ۶۱ تا ۸۱)

٭ بنی آدم سے میثاق وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ (پ۹،سورہ اعراف) (ج ۶ص ۳۱۱)

٭ حضرت آدمؑ کا گھر مسجد کوفہ کے مقام پر تھا (ج ۷ص ۵۲۱)

٭ حضرت آدم ؑ کی تخلیق بروز جمعہ ہوئی تھی (ج ۷ص ۲۹۱)

٭ حضرت آدم ؑ فراق جنت میں بہت زیادہ روئے (ج ۷ص۰۴)

٭ معارج النبوة میںہے کہ آپ نے ہابیل کے غم میں گریہ کیا اور سر میں خاک بھی ڈالی (ج۸ص۴۷)

٭ آدم ؑ نے تعمیر بیت اللہ کی اور طواف کیا (ج۰۱ ص۱۳)

٭ حضرت آدم ؑ سے پہلے سات عالم گزرے ہیں جو اولادِ آدم نہ تھے (ج ۸ص ۴۶۱ – ج ۳۱ص ۴۱۱)

 ٭ تخلیق آدم ؑ کے لئے مشرق و مغرب اور ہر پستی و بلندی کی مٹی لائی گئی جب فرشتے مٹی لانے کےلئے جاتے تھے تو زمین فریاد کرتی تھی، چنانچہ جبرائیل ؑ اور میکائیل ؑ یکے بعد دیگرے زمین کی فریاد سے متاثر ہو کر ناکام واپس آئے تو خدا نے عزرائیل کو بھیجا پس اس نے زمین کی فریاد پر کان دھرے بغیر ہر جگہ سے ایک ایک مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور واپس آیا اور اللہ نے پھر اسی کو قبض ارواح پر متعین فرمایا۔

٭ پتلائے خاکی میں روح جانب دماغ سے داخل ہوا آنکھیں کھلیں کلمہ طیبہ پر نگا ہ پڑی کانوں میں تسبیح ملائکہ کی آواز آئی جب روح ناک کے نتھنوں تک پہنچی تو چھینک لی اور حواس خمسہ کے بند سوراخ کھل گئے آدم ؑ نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا کلمہ زبان سے جاری کیا تو جواب ملا یَرْحَمُکَ اللّٰہ

٭ داخلہ روح کے بعد ملائکہ کو آدمؑ کے لئے سجدہ کا حکم ہوا اور یہ جمعہ کا دن زوال کا وقت تھا پس عصر تک ملائکہ سر بسجود رہے اسی لئے جمعہ اولاد آدم ؑ کے لئے عید کا تہوار ہے (ج ۸ص ۸۷۱) 

٭ سفر معراج میں حضور نے آسمان اولیٰ پر حضرت آدم ؑ سے ملاقات کی (ج ۸ص ۰۶۲)

٭ ذکر سجدہ¿ آدم ؑ (ج۹ص۰۴،۲۰۱)

٭ اللہ نے ابلیس سے فرمایا میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا (پ۵۱، سورہ بنی اسرائیل،ع۷)

٭ محشر کی سختی سے گھبرا کر لوگ حضرت آدم ؑ کا رُخ کریں گے تو وہ ترک اولیٰ کا عذر پیش کریں گے (ج۹ص۱۶)

٭ حضرت آدم ؑ کا امتحان کلمات سے ہوا پس صفوت ملی (ج ۹ص ۲۳۱)

٭ حضرت آدمؑ وحوا ؑ کی جدائی کے بعد آدم ؑ کو بیت اللہ کی تعمیر کاحکم دیاگیا تھا (ج ۰۱ص ۱۳)

٭ اسم اعظم کے تہتر (۳۷) ناموں سے حضرت آدم ؑ کو پچیس (۵۲) نام ملے تھے (ج ۰۱ص ۸۴۲)

٭ حضرت آدم ؑ کے جسم کوحضرت نوح ؑ نے ہندو ستان کے کسی پہاڑ پر محفوظ کیا ہوا تھا وہ خود نگرانی کرتے تھے، تاکہ لوگ ان کی قبر کا طواف نہ کرنے لگ جائیں پس شیطان کے بہکانے سے لوگوں نے ان کی مثال کا پتھر گھڑ لیا اور اس کا طواف شروع کر دیا (ج ۴۱ص ۰۱۱)

ادریس ؑ: حضرت ادریس ؑ کو جنت میں اٹھا یا گیا (ج ۲ص ۷۲۱)

٭ حضرت ادریس ؑ کا گھر مسجد سہلہ میں تھا (ج ۷ص ۵۲ – ج ۹ص ۷۵۱) 

٭ شب معراج چرخِ چہارم پر حضور کی حضرت ادریس ؑ سے ملاقات ہوئی تھی (ج ۸ص ۱۶۲)

 ٭ ان کا اصلی نام اخنوع تھا، حضرت نوح ؑ کے دادا تھے اور درس کتب کی وجہ سے ان کا نام ادریس ؑ ہو گیا تھا، اور یہ پہلے انسان ہےں جنہوں نے لکھنے اور کپڑا سینے کی ایجاد کی آپ علم حساب وہیئت کے ماہر تھے (ج ۹ص ۷۵ ۱)

٭ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ادریس ؑ کو زندہ بہشت میں اٹھا لیا گیا اور حضرت الیاس ؑ جنگلوں میں رہائش پذیر ہیں (ج ۹ص ۹۱۱)

٭ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ادریس ؑ کی روح چوتھے اور پانچویں آسمان کے درمیان قبض کی گئی (ج ۹ص ۷۵۱) 

اذان: نماز فریضہ سے پہلے اذان مستحب ہے (ج ۵ص ۵۳ ۱)

٭ اَذَانٌ مِنَ اللّٰہِ (پ ۰۱، سورہ برا¿ت) حضرت امام علی زین العابدین ؑ سے مروی ہے کہ آیت مجیدہ میں اذان کے مصداق علی ؑ ہیں (ج ۷ص ۶۱)

٭ کیفیت اذان و اقامت (ج ۹ص ۴۵)

٭ فتح مکہ کے روز حضرت بلال نے کعبہ کی چھت پر اذان کہی (ج۳۱ ص۵۰۱)

آذر : جہاں جہاں آذر کو حضرت ابراہیم ؑ کا باپ کہا گیا ہے سب مجاز ہے، کیونکہ قرآن میں چچا اور دادا پر ا¿بْ کا اطلاق موجود ہے جو مجاز ہے مثلا ً حضرت یعقوبؑ کو اولاد نے کہا کہ ہم تیرے آبا¿ کے خدا کی پر ستش کریں گے جو حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسحٰق ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ تھے اور واضح ہے حضرت ابراہیم ؑ آپ کے دادا اور حضرت اسماعیل ؑ چچا تھے (ج ۲ص ۶۸۱ – ج ۵ص ۱۳۲ – ج ۷ص ۲۳۱- ج ۹ص ۱۵۱، ۹۲۲- ج ۲۱ص ۰۵)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کی آذر کےلئے دعا ایک کئے ہوئے وعدہ کے ماتحت تھی (ج ۳۱ص ۶۶۲)

ارض مقدس : یَا قَوْمِ ادْخُلُوْ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةِ (پ ۶، ع ۸) (ج ۵ص ۵۸)

ارتداد : (ج ۱ص ۸۴۱، ۹۴۱- ج ۴ص ۹۲- ج ۷ص ۴۲۱)

٭ مرتدین کو دھمکی (ج ۵ص ۵۲۱- ج ۶ ص ۹۹)

٭ جنگ احد میں جب حضرت پیغمبر کی خبر موت مشہور ہوئی تو بعض صحابہ نے پچھلے آبائی مذہب کی طرف پلٹ جانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا (ج ۴ص ۸۵، ۱۷)

٭ مرتد کون کون ہوئے؟ (ج ۵ص ۱۲۱ تا ۴۲۱، ۶۲۱)

٭ مالک بن نو یرہ پکا مومن تھا (ج ۵ص ۶۲۱)

 جناب بتول معظمہ ؑ کی درد ناک کہانی آپ ؑ نے فر مایا اپنے بال پریشان کر کے اپنے بابا کی قمیص کو سر پر رکھ کر بد عا کروں گی اور فر مایا کہ صالحؑ پیغمبر کی ناقہ کی عزت مجھ سے زیادہ نہ تھی حتیٰ کہ مسجد نبوی کی دیواریں بلند ہو گئیں اور حضرت علی ؑ نے سلمان کو فر مایا کہ جا کر خاتون سے کہو کہ بد دعا نہ کریں (ج ۶ص ۳۵، ۴۵)

٭ حضرت امام جعفر صاد قؑ نے پیغمبر کے با وفا صحابہ سلمان، مقداد اور ابو ذر کا نام لیا تو راوی نے عمار کے متعلق پو چھ لیا آپ ؑ نے فر مایا ہ وہ پہلے پھسل گئے تھے اور پھر سنبھلے تھے (ج ۶ص ۱۰۱)

٭ بعض صحابہ کا ارتداد (ج ۳۱ص ۵۶ ۲) 

٭ ارتداد موجب جواز قتل ہے (ج ۹ص ۷ ۲)

٭ مرتد ملی و مرتد فطری کی تعریف اور احکام (ج ۳ص ۶ ۴-ج ۳۱ص ۰۷ ۲)

ارمیا¿ؑ: حضرت شعیا ؑ کے بعد قوم بخت نصر پر مبعوث ہوئے۔

٭ آپ ؑ حضرت ہارون ؑ کی اولاد سے تھے (ج ۹ص ۱۱)

٭ حضرت ارمیا ¿ کا قصہ (ج ۳ص ۶۴۱، ۸۴۱ – ج ۹ص ۱۱)

از واجی زندگی پر تبصرہ : (ج ۳ص ۶۵)

٭ ازواج پیغمبر (ج ۱۱ص ۴۸۱، ۸۹۱، ۶۰۲- ج ۴۱ص ۹ ۵)

٭ رسول اللہ کے کثرت ازواج پر اعتراض و جواب (ج ۴ص ۵۱۱)

 استخارہ : حضرت امام رضا ؑ نے مصر جانے والے ایک آدمی سے فر مایا کہ مصر کا پانی غیر ت کو ہٹاتا اور ذلت کو لاتاہے، پس مسجد نبوی میں دو رکعت نماز پڑھو اور ستخارہ کر کے سواری پر سوار ہو جاﺅ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ¾ مُقْرِنِیْنَ وَ اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ پڑھو اور چلے جاﺅ اگر یہ آیت پڑھ کر کوئی آدمی سواری سے گر بھی جائے تو نقصان نہ ہوگا (ج ۲۱ص ۵۲۲)

اسماعیل ؑ : حضرت اسماعیل ؑ اپنے باپ کے نامزد خلیفہ تھے، یہودیوں کے انکار نبوت کی وجہ صرف یہ حسد تھا کہ آپ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے تھے (ج ۲ص ۲۴۱) 

٭ حضرت ابراہیم ؑ کااسماعیل ؑ و ہاجرہ کو لے کر ہجرت کرنا (ج ۲ص ۵۷۱، ۸۷۱) 

٭ ایک عابد کا حضرت اسماعیل ؑ سے نسب دریافت کرنا (ج ۹ص ۴ ۵ ۱)

٭ وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ(پ ۶۱، سورہ مریم، ع ۷) حضرت اسمٰعیل قوم جرھم کی طرف مبعوث برسالت تھے، وعدہ کے پابند تھے حتیٰ کہ ایک شخص نے وعدہ کر نے کے بعد ایک جگہ پر اس کی انتظار میں ایک جگہ ایک سال کھڑے رہے اور بعض کہتے ہیں کہ آیت مجیدہ میں اسمٰعیل بن ابراہیم ؑ کا ذکر نہیں بلکہ یہ اسماعیل بن حز قیل ہیں جن کو ان کی قوم نے نہایت بے دردی سے شہید کیا تھا (ج ۹ص ۶۵۱) نہایت صابر اور متحمل مزاج تھے (ج ۹ص ۵ ۴ ۲)

٭ جب فر شتے نے پوچھا کہ تیری قوم کو کو ن سا عذاب دیا جائے تو جواب دیا مجھے حسین ؑ کی طرح صبر و شکر پسندہے (ج ۹ص ۷۵ ۱)

٭ حضرت اسمٰعیل ؑ کی گردن پر چھری چلنے سے پہلے جبرائیل ؑ نے دنبہ پیش کر دیا (ج ۹ص ۷ ۳ ۲) 

٭ ایک مرتبہ حضرت اسمٰعیل ؑ نے دیکھا کہ حضرت اسحٰقؑ باپ کی گود میں ہے تو اسے دھکیل کر فوراً اس کی جگہ بیٹھ گئے اور حضرت سارہ یہ واقعہ دیکھ رہی تھیں تو انہوں نے فوراً عرض کیا کہ جناب عالی میرا اور ہاجرہ کا ایک جگہ رہنا گوارا نہیں لہذا ان کو یہاں سے نکال دیجئے چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ ان دونوں کو مکہ کی سر زمین میں چھوڑ آئے (ج ۲۱ص۶۵ – ج ۲ص ۸۷ ۱)

٭ مروی ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑ حضرت اسحٰق سے تیرہ (۳۱) سال بڑے تھے (ج ۲۱ص ۶۵) 

٭ حضرت اسمٰعیل ؑ نے عرض کیا بابا جان جو حکم ہوا اُسے پورا کیجئے میں ذبح ہونے کےلئے تیار ہوں (ج۲۱ص۸۵) 

٭ ذبیح حضرت اسمٰعیل ؑ تھے نہ کہ حضرت اسحٰقؑ (ج ۲۱ص ۲ ۶) 

اسحاقؑ : یہودیوں نے حضور کی نبوت کا انکار اسلئے کیا کہ آپ اسحٰقؑ کی اولاد سے نہ تھے (ج ۲ص ۲۴۱)

٭ والدہ ¿ اسحٰقؑ کے حسد کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسمٰعیل ؑ و ہاجرہ کو مکہ پہنچا دیا (ج ۲ص ۸۷۱) 

٭ حضرت اسحٰقؑ کی پیدائش کی بشارت (ج ۱۱ص ۸۷ – ج ۲۱ص ۶۵ – ج ۳۱ص ۹۲۱)

٭ ذبیح اسحٰقؑ نہیں تھے (ج ۲۱ص ۱ ۶)

٭ بعض روایات میں ہے کہ حضرت اسحٰقؑ او لو العزم انبیا ¿ میں سے تھے (ج ۲۱ص ۷ ۳) 

استاد : قرآن پڑھنے والے اور پڑھانے والے یعنی استاد شاگرد ہر دو کےلئے ہر چیز حتیٰ کہ دریائی مچھلیاں استغفار کرتی ہیں (ج۱ ص۷ ۲)

٭ استاد کو شاگرد نہیں بنایا کرتے بلکہ ذمہ دار حکومت اس کو نامزد کر تی ہے، اسی طرح قرآن کے استاد بھی اللہ نے ہی نامزد فرمائے (ج ۵ص ۱ ۸)

٭ ۱ستاد کے حقوق (ج ۹ص ۱۱۱)

اسلام : حضرت ابراہیم ؑ کو حکم ہوا اَسْلِمْ یعنی جھک جا تو جواب دیا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ پس حضرت ابراہیم ؑ و یعقوب ؑ نے اپنی اولاد کو وصیت فر مائی کہ تمہاری موت بھی اسلام پر ہو نی چاہیے (سورہ بقرہ، آیت ۱۳۱)

٭ حکم پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے اسلام، خواہ حکم کی مصلحت واضح ہو یا پر دہ¿ اخفا میں ہو، چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ نے پرچم توحید کو بلند کرتے ہوئے نارِ نمرود میں داخل ہو نا قبول کر لیا لیکن حکم پرور دگا رکے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے ذرّہ بھر نہ ہچکچائے، اسی طرح حضرت اسماعیل ؑ کی گردن پر چھری رکھنے میں ذرّہ بھر لغزش پیدا نہ ہوئی، چنانچہ باپ اور بیٹے دونوں نے دعا مانگی رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ کہ ہم دونوں باپ بیٹے کو اپنے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے قرار دے، جب اس مرحلہ سے گزر چکے اور تاجِ امامت مل چکا تو اپنی ذرّیت کےلئے عہدہ امامت کی خواہش کی جیسا کہ آیت ۴۲۱ میں مذکور ہے تو جواب ملا کہ یہ عہدہ¿ جلیلہ ظالموں کو نہیں مل سکتا پس دونوں باپ بیٹے نے دعا مانگی وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ (آیت ۸۱۱) پس اللہ نے ان کی دعا کو مستجاب فر مایا چنانچہ محمد و آل محمد آپ کی وہ ذرّیت ہیں جو مقام تسلیم میں اپنی مثال آپ ہیں۔ 

اسلام و ایمان : اسلامی افواج کو بعض اوقات شکست سے دو چار ہو نا پڑتا ہے تاکہ لوگ اسلام کی صداقت کے ماتحت اسے قبول کر یں نہ کہ فتح و غلبہ کا دین سمجھ کر اس کے سامنے جھکیں (ج ۴ص ۶ ۵) 

٭ تحویل قبلہ سے لوگوں کو شک ہوا کہ شاید پہلی نمازیں ضائع ہو گئیں جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئیں، تو اللہ نے فر مایا میں تمہارا ایمان ضائع نہیں کرتا یہاں ایمان سے مراد نمازیں ہیں (ج ۲ص ۸۸۱) 

٭ مسلمان وہ ہے جو حضرت پیغمبر اور اس کی آل کے اسوہ ¿ حسنہ پر گامزن ہو (ج ۶ص۱۱۱، ۲۱۱) 

٭ علامات مومن (ج ۶ص ۰۶۱ تا ۳۷۱)

٭ ایمان لانے والوں کے تین گروہ: 

۱) مہاجرین سابقین ۲) انصار سابقین ۳) ان کے نقش قدم پر چلنے والے (ج ۷ص ۱۲۱) 

٭ مومن کا ایمان خوف و رجا¿ کے درمیان ہوتا ہے (ج ۹ص ۸ ۴۲ – ج ۴ص ۷ ۴) یعنی اتنا خوف خدا بھی نہ ہو کہ اللہ کی بخشش سے مایوس ہو جائے اور اتنا بخشش کا طمع بھی نہ ہو کہ عذاب خدا سے نڈر ہو جائے بلکہ ایک طرف اس کو جنت کا لالچ ہو اور دوسری طرف اس کو اللہ کی گرفت کا ڈر بھی ہو (ج ۱۱ص ۷۶، ۲۳۱) 

٭ حدیث میں ہے مسلمان وہ ہے کہ باقی مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے کہ دوسرے مومن اس کے شرّ سے محفوظ رہیں (ج ۱۱ص ۷۹۱) مقصد یہ ہے کہ مسلمان یا مومن ہونا صرف زبانی دعویٰ کا نام نہیں بلکہ اگر دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا تو کم از کم دوسرے لوگ اس کے شر سے بچے رہیں۔ 

٭ حضرت ابراہیم ؑ کا مقام تسلیم اور حضرت اسما ٰعیل ؑ کا جواب (ج ۲۱ص ۸۵، ۸ ۶) 

٭ اسلام و ایمان میں فر ق (ج ۳۱ص ۷ ۰۱)

٭ اسلام و اشتراکیت (ج ۳ص ۲۰۱) 

٭ ملت اسلام دین خدا وندی ہے (ج ۲ص ۱۸۱، ۲۸ ۱)

٭ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلام (پ ۳۱، سورہ آ ل عمران، ع ۰۱) (ج ۳ص ۷۰ ۲)

٭ وَ مَنْ یَّبْتَغ غَیْرَ الْاِسْلامِ دِیْنًا فَلَنْ یّقْبَلُ مِنْہُ (پ ۳، سورہ آل عمران، آیت ۵۸) 

٭ جب قائم آل محمد کی حکومت ہو گی تو تمام دنیا میں اسلام ہو گا (ج ۳ص ۰۷ ۲)

٭ لا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ(پ ۳، آیة الکرسی) دین اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے (ج ۳ص ۷ ۳ ۱، ۸ ۳ ۱)

٭ اسلام کے اصول نا قابل تر دید ہیں پس اسلام رعب کا مذہب نہیں بلکہ اس کے حقائق بذریعہ دلائل قابل قبو ل ہیں (ج ۴ص ۶۵ – ج ۵ص ۵۱۲) 

٭ ایک شخص حضرت پیغمبر کو قتل کرنے آیا آپ کے ہاتھ میں تلوار تھی اور اس نے طلب کر لی آپ نے بے دریغ وہ تلوار اُس کو دیدی وہ شخص حیران و ششدر ہو گیا کہ میں نے تو ان کو قتل کرنے لئے ان سے تلوار مانگی ہے اور انہوں نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر مجھے وہ دیدی ہے، پس اس نے پوچھا کہ اب تم کو مجھے سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فر مایا اللہ، پس وہ شخص فورا ً قدموں میں گر گیا اور اسلام کے دامن سے وابستہ ہو گیا (ج ۵ص ۳ ۷)

٭ اسلامی ریاست کا سر براہ معصوم ہو نا چاہیے (ج ۰۱ص ۳۱۱ تا ۵۱۱)

٭ اسلام اپنے مبنی بر صداقت اصولوں کی بدولت مقبول عام ہو اہے (ج ۷ص ۸۱ – ج ۳ص ۵۰ ۱)

٭ دین اسلام جبری دین نہیں بلکہ اختیاری دین ہے (ج ۷ص ۶۵ ۱)

٭ آئین اسلام بنانے والا اللہ ہے (ج ۲۱ص ۹۹۱)

٭ اسلام کا تہذیب و تمدن اقوام عالم کے لئے ایک مثالی راستہ ہے (ج ۹ص ۷ ۲ – ج ۸ص ۰۲۲)

اسلام اور سر مایہ دار: (ج ۳ص ۵۶ ۱ – ج ۹ص ۶ ۲)

٭ زکوٰة و سخاوت کی تاکید اور سود کی حرمت سرمایہ داری کو ختم کرنے کےلئے ہے (ج۴ص۹۴، ۰۵ – ج۷ص۴۷، ۵۷) 

استغفار : وَ بِالْاَ سْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(پ۶۲، سورہ ذاریات) (ج۳۱ ص۶۲)

٭ حضرت ابراہیم ؑ کا آذر کےلئے استغفار (ج ۹ص ۳ ۵ ۱) 

٭ استغفار کا طریقہ اور اس کا ثواب و فوائد (ج ۳۱ص ۸ ۴، ۹ ۴ – ج ۴۱ص ۸۰ ۱ – ج ۴ص ۱ ۵) 

٭ امام جعفر صادقؑ نے فر مایا جس میں چار صفتیں ہوں وہ اللہ کے نور اعظم میں ہوا کر تا ہے:

٭ توحید و رسالت سے تمسک رکھتا ہو

٭ مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہو

٭ نعمت پر اللہ کی حمد کرے

٭ گناہ صادر ہو تو استغفار کرے یعنی اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ کہے (ج۲ص۹۹۱)

٭ سحر کے وقت استغفار کرنے والوں کی بدولت اللہ بعض اوقات زمین والوں سے عذاب ٹال دیتا ہے (ج۳ص۵۰۲)

٭ حضرت پیغمبر کےلئے حکمِ استغفار اُمت کی تعلیم کےلئے ہے (ج ۲ ۱ص ۹ ۵ ۱، ۰ ۶۱) 

٭ استغفار پڑھنا متقین کی نشانی ہے (ج ۳۱ص ۶ ۲ ۱)

آسیہ زوجہ فرعو ن: تمام عا لم کی منتخب عورتوں میںسے ایک ہیں(ج۳ ص۰۲۲، ۹۹۲-ج۴۱ص۰۷) 

٭ حضرت مو سیٰؑ نے فر عون کی گود میںبیٹھ کر اسکی داڑھی کے بال نو چے تو فرعون کو غصہ آیا پس آسیہ نے سفارش کی کہ یہ تو بچہ ہے، چنا نچہ دو طشت پیش کئے ایک میں آگ کے انگا رے اور دو سرے میں لعل و جوا ہر پس حضرت مو سیٰؑ نے انگاروں کی طرف ہا تھ بڑھا یا اور ایک کو اٹھا کر منہ میں رکھ لیا اور پھر رونا شروع کر دیا (ج ۹ص ۹۷۱)

٭ حضرت مو سیٰؑ کا صندوق آیا تو فرعون و آسیہ اپنی سیر گا ہ میں تا لاب کے کنا رے بیٹھے ہو ئے تھے، یہ تالاب ایک نہر کے کنا رے پر تھا جو دریا سے نکل کر فرعون کی سیر گاہ میں دا خل ہو کر تا لاب سے گزر کر باغ کو سیراب کر تی تھی، پس مو سیٰؑ کا صندق دریا سے نکل کر نہر میں اور پھر تا لاب میں داخل ہو ا پس آسیہ نے بڑھ کر کنا رے کے قریب کیا اور کھولا تو حسین و جمیل شہزادے پر نظر پڑی (ج ۹ص ۱۸۱ – ج ۱۱ص ۷۱) 

٭ آ سیہ بنت مز احم چھپ کر اللہ کی عبا دت کیا کر تی تھیں (ج ۰۱ص ۲۵ – ج ۴ص ۷۱)

٭ مصریوںمیںتین آدمی مو سیٰؑ پر ایمان لا ئے تھے ایک آسیہ دوسرے مومن آل فر عون اور تیسری ایک مریم نامی عورت تھی (ج۰۱ ص ۹۹۱)

٭ آ سیہ نے زندگی میں ایک پلک جھپکنے کی مد ت میں بھی شر ک نہ کیا تھا (ج ۲۱ص ۸۱) 

٭ آسیہ حضرت مو سیٰؑ کی پھوپھی تھیں (احباب رسول) (ج ۰۱ص۹۹۱)

آسمان : تخلیق آسمان پہلے ہے یا تخلیق زمین؟ (ج ۲ص ۷۷ – ج ۲۱ص ۳۷۱) 

٭ مدت خلقت آسمان و زمین (ج ۷ص ۲۹۱ – ج ۱۱ص ۴۴۱)

٭ آسمانوں کی تفصیلات (ج ۰۱ص ۶۲ – ج۳۱ ص۳۱۲)

٭ اللہ نے بغیر ستو نو ں کے آسما نوں کو پیدا فر ما یا (ج ۸ص ۱۰۱ – ج ۱۱ص ۵۳۱)

٭ بروزِ محشر آ سما ن و زمین کی تبدیلی کا مطلب (ج ۸ص ۳۶۱)

٭ معرا ج کا سفر نامہ (ج۸ ص ۰۶۲)

٭ حضرت یحییٰ اور حضرت امام حسین ؑکی شہا دت پر آسمان نے گریہ کیا (ج۹ص ۹۳۱ – ج۲۱ ص۳۶۲)

٭ ہیئت دا نوں کے نزدیک افلاک (آسما نوں)کی تعداد اور ان کی تردید؟ (ج۹ ص۳۲۲)

٭ سا ت آسمانوں اور سا ت زمینوں کی تر تیب (ج ۳۱ص ۴۲۱،۵۲۱ – ج۴۱ص۶۵)

اسم اعظم : حضر ت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ مقطعات قرآنیہ اللہ تعا لیٰ کے اسم اعظم پر مشتمل ہیں جن کے ذریعے دعا ئیں مستجاب ہو تی ہیں (ج۲ ص ۸۴)

٭ اَیَّدْنَاہُ بِرُوْح الْقُدُسْ( بقرہ آیت ۷۸) بعض نے روحُ القدس سے مراد اسم اعظم لیا ہے (ج۲ ص ۹۳۱)

٭ اَللّٰہُ لا اِلٰ©ہَ اِلَّا اللّٰہُ یہ اسم اعظم ہے اور قرآن مجید میں پا نچ مقا مات پر ہے (ج۳ص ۸۸۱)

٭ بلعم بن با عورا کے پاس اسم اعظم ہو نے کی تردید (ج ۶ص ۳۳۱)

٭ اسما ءُ اللہ توقیفیہ ہیں (ج۸ص ۷، ۹۳ – ج ۹ص ۸۷)

٭ آصف بن بر خیا کے پس اسم اعظم تھا اس نے پڑھا زمین سر ک گئی تو تخت اٹھا لیا پھر زمین اپنی حالت پر ہو گئی اور آل محمد کے پاس تہتر(۳۷) میں سے بہتر (۲۷)اسم اعظم ہیں (ج۰۱ ص ۷۴۲ – ج۳۱ ص۱۱۱)

٭ حضرت سلیمان ؑکے پاس ایک اسم اعظم تھا (ج۲۱ ص ۴۹) 

٭ اسم اعظم اور اسمائے حسنیٰ (ج۳۱ ص۰۶۲،۱۶۲)

٭ اسمائے حضرت آدم ؑ (ج۲ص۰۸)

آصف بن بر خیا : امام محمد با قرؑ سے منقول ہے کہ حضر ت سیلمان ؑ کے بعد ابلیس نے جادو ایجا د کیا اس کو لکھ کر ایک دفترمیں سر بمہر کر دیا اور اس کی نسبت آصف بن برخیا کی طرف دے دی اور اس کو تخت سلیمان کے نیچے دفن کر دیا اور لوگوں کو بتا دیا، تب کافروں نے کہنا شروع کر دیا کہ ان کی حکومت جادو کے زور پر تھی پس اللہ نے جادو کی حرمت کو بیان فر مایا اور حضرت سلیمان ؑ کی بر ا¿ ت کا اعلان فر مایا (ج ۲ص ۹ ۴۱)

٭ حضرت امام جعفر صادقؑ نے فر مایا آصف بن بر خیا کا علم حضرت علی ؑ کے علم کے مقابلہ میں اس طرح ہے جس طرح مچھرکے پَر پر پانی کا قطرہ مو جزن سمندر کے مقابلہ میں (ج ۸ص ۳ ۴ ۱)

٭ حضرت سلیمان ؑ آصف بن برخیا سے اعلم تھے (ج ۹ص ۲۲۱)

٭ آصف بن برخیا کا تخت بلقیس کو چشم زدن میں لانا (ج ۰۱ص ۶ ۴۲) 

اصحاب: اصحاب الاعراف کا ذکر (ج ۶ص ۶، ۴۳، ۸ ۳)

٭ اصحابُ الیمین (پ ۷ ۲ سورہ واقعہ) (ج ۳۱ص ۸۹ ۱، ۲۰۲)

٭ ہم نے شہدائے کر بلا کے حالات پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام اصحابُ الیمین ہے۔ 

٭ اصحابُ الیمین کے اوصاف (ج ۳۱ص ۸ ۰ ۲ – ج ۱۱ص ۶۶۲) 

٭ امام جعفر صادقؑ نے فر مایا ہمارے شیعہ اصحابُ الیمین ہیں (ج ۴۱ص ۶ ۳ ۱) 

٭ اصحابُ الشِّمال (ج ۳۱ص ۲۰۲) 

٭ اصحابِ کہف و َالرَّ قیم کا مفصل قصہ (ج ۹ص ۴ ۸) 

٭ اصحابُ الایکة (ج ۳۱ص ۳۱۱ – ج ۸ص ۱۹۱) 

٭ اصحابُ الحجر (ج ۸ص ۱۹۱)

٭ اصحابِ فیل (ج ۴ص ۱۱ – ج ۴ ۱ص ۳ ۶ ۲) 

٭ اصحابِ انطاکیہ کا مفصل ذکر (ج ۲۱ص ۲۱) 

٭ اصحابُ الرس (ج ۳۱ص ۳۱۱) (ج ۰۱ص ۶۷ ۱ تا ۸۷ ۱) اور انکے بارہ شہر (ج ۰۱ص ۸ ۷ ۱)

٭ اصحابِ صفہ: مدینہ میں غربا¿و فقرا¿ کا گروہ تھا جن کی خبر گیری،طعام و پانی کا انتظام حضور بنفس نفیس کرتے تھے (ج ۵ص ۲۲۱) 

٭ اصحابُ الجنتہ (ج ۲ص ۶ ۳۱ – ج ۴ص ۷ ۵، ۷۷ – ج ۵ص ۶ ۹ ۱ – ج ۸ص ۴۶۱، ۴ ۸۱، ۹ ۲۱ – ج۷ص ۰ ۳۱ – ج ۹ص ۵ ۶،۱۵۱ – ج ۰۱ص ۷ – ج ۱۱ص ۶۶۲ – ج ۲۱ص ۶ ۲، ۰ ۴، ۵۱۱، ۱۵۱، ۴۱۲، ۰ ۵ ۲ – ج۳۱ ص ۷ ۹ ۱، ۹۹۱ – ج ۴ ۱ص ۶ ۹، ۲۵۱، ۹ ۷ ۱)

٭ جنت صابرین کےلئے ہے (ج ۳ص ۲۴)

٭ اصحابِ نار (ج ۴ص ۷۷ – ج ۶ص ۷ ۳ – ج ۷ص ۷ ۳۱ – ج ۹ص ۵۶، ۱۵۱، ۲۰۲ – ج ۲۱ص ۵۳، ۴۰۱، ۱۵۱، ۷ ۵ ۱، ۴۶۱، ۰ ۵ ۲ – ج ۳۱ص ۹۰۲ – ج ۴۱ص ۶ ۹، ۲۰۱، ۴۶۱)

اصول و فروع پر بحث: (ج ۵ص۲۱ – ج ۸ص ۴۱۲)

اطاعت و معرفت : اطاعت کے تین درجے ہیں:

(۱) اطاعت برائے خوف (۲) اطاعت برائے طمع (۳) اطاعت معرفت

چنانچہ حضرت علی ؑ کی مناجات کے الفاظ ہیں کہ اے اللہ ! میں تیری اطاعت نہ جہنم کے ڈر سے اور نہ جنت کے لالچ سے کرتا ہوں بلکہ اس لئے تیری عبادت کرتا ہوں کہ تو لائقِ عبادت ہے (ج ۲ص ۰۷)

اطاعت ِوالدین: (ج ۲ص ۰۳۱، ۱۳۱) 

٭ اطاعت ِپروردگار اور تقویٰ کی حقیقت (ج ۴ص ۲۲ – ج ۲۱ص ۴۱۲)

 اعضا¿کی گواہی: قیامت کے دن انسان کے اعضا¿ اپنے متعلقہ اعمال کے گواہ ہوں گے (ج ۵ص ۹۹۱، ۲۱۲، ۸۲۲ – ج ۹ص ۰۳ – ج ۲۱ص ۴۸۱ – ج ۴۱ص ۰۴۱)

اعمالنامہ : کُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنَاہُ طَائِرہ¾ فِیْ عُنُقِہ (پ۵۱، ع ۲) ہر انسان کو اعمالنامہ دیا جائے گا یہاں طائر سے مراد اعمالنامہ ہے جو انسان کی گردن میں لٹکا یا جائے گا (ج ۹ص ۸ ۱، ۴۰۱) 

٭ جب لوگ اپنے اعمالنامہ میں در ج شدہ اعمال کا انکار کریں گے تو اُن کے اعضا¿ اُن کے خلاف گواہی دیں گے (ج ۹ص ۰۳)

٭ یَوْمَ نَدْعُ کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِھِمْ بعض لوگوں نے امام کا معنی اعمالنامہ کیا ہے (ج ۹ص ۴۴)

٭ نامہ اعمال کا دیا جانا (ج ۴۱ص ۰۴۱)

٭ جنتیوں کو اعمالنامہ دائیں اور دوزخیوں کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (ج۴۱ص۴۹۱ – ج۳۱ص۲۰۲)

اعراف: سورہ اعراف کے فضائل (ج ۶ص ۴) 

٭ اعراف کا ذکر (ج ۶ص ۳۳) (ج ۲۱ص ۴۰۱)

افک: واقعہ افک میں سنی مفسرین کی رائے اور شیعہ علما¿ کی تحقیق (ج ۰۱ص ۱۲۱)

٭ وَیْلٌ لِکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْم کی تشریح اور بہتان تراشی (ج ۳۱ص ۷ص ۱۲)

افطار : روزہ افطار کرانے کا ثواب (ج ۲ص ۰۲۲)

٭ افطاری کا وقت (ج ۲ص ۸۳۲)

٭ مستحب روزہ کے افطار کرانے کا ثواب (ج ۵ص ۸ ۳)

آگ : آگ کو پوجنے کی ابتدا¿ قابیل سے ہوئی (ج ۵ص ۲۹)

٭ ابلیس کا نظریہ تھا کہ آگ افضل ہے اور مٹی مفضو ل ہے اسلئے اس نے آدم کے سجدہ سے انکار کیا تھا اس نظریہ کی مدلل تردید (ج ۶ص ۱۱ -ج ۲۱ص ۸۰۱)

٭ حضرت لوطؑ کی بیوی قوم کو انکے مہمانوں کی اطلاع دینے کےلئے چھت پر آگ روشن کرتی تھی (ج۲ص۶۵)

٭ دنیاوی آگ آخرت کی آگ کا سترواں (۰۷) حصہ ہے جس کو ستر دفعہ بجھا یا گیا ہے (ج ۸ص ۸۳۱)

٭ حضرت شعیب ؑسے رخصت ہو کر حضرت موسیٰؑ نے مصر کی طرف جاتے ہوئے رات کو جانب ِطور ایک آگ دیکھی اور وہاں پہنچے تو شرف ِکلام پایا (ج ۹ص ۳۷۱ – ج ۱۱ص ۴۳)

٭ حضرت موسیٰؑ کا آگ کے انگاروں والے طشت میں ہاتھ ڈالنا (ج ۹ص ۹۷۱ – ج ۱۱ ص ۲۲، ۶۳)

٭ آگ میں اللہ کا خلیل (ج ۹ص ۶۳۲ – ج ۱۱ص ۵۷ – ج ۲۱ص ۳۵)

٭ اللہ وہ ہے جو سبز درخت سے آگ پیدا کرنے پر قادر ہے (ج ۲۱ص ۱۳ – ج ۳۱ص ۵۰۲)

٭ بشیر بن ایوب ؑ کو اپنے زمانہ کے بادشاہ نے آگ میں ڈالا تھا لیکن ان کو آگ نے نہیں جلایا تھا (ج۲۱ص ۳۰۱)

٭ دوزخ میں ایک آگ کا پہاڑ ہے جس کا نام یحموم ہے (ج ۳۱ص ۲۰۲)

الیاس ؑ: حضرت حزقیل ؑ کے بعد بنی اسرائیل پر مبعوث برسالت ہوئے (ج ۲۱ص ۹ ۶)

٭ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت الیاس ؑخشکی میں اور حضرت خضر ؑ دریاوں میں رہتے ہیں اور دونوں کی ملاقات ہر سال مقام عرفات پر ہوتی ہے (ج ۲۱ص ۰۷ – ج ۹ص ۹۱۱)

الیسعؑ: حضرت الیاس ؑ کے جانشین تھے (ج ۲۱ص ۰۷) 

٭ حضرت ایوب ؑ کے بھتیجے اور ذوالکفل کے چچا زاد بھائی تھے (ج ۲ص ۸۹)

٭ حضرت یسعؑ حضرت الیاس ؑ کے بھی چچا زاد بھائی تھے۔ 

اِل یٰسین : ابن عباس سے منقول ہے کہ یٰسین حضرت پیغمبر کا نام اور اِل یٰسین سے مراد آلِ محمد ہے، بعض راویوں نے اِل یٰسین کے بجائے آل یٰسین بھی پڑھا ہے اور بعض لوگ اِل یٰسین سے مراد حضرت الیاس اور اُن کی امت لیتے ہیں (ج ۲۱ص ۱۷)

اِلٰہ : (ج ۰۱ص ۴۸، ۴۶۱ – ج ۲۱ص ۱۶۱)

٭ بعض لوگ اپنی خواہشِ نفس کو اِلٰہ سمجھتے ہیں (ج ۳۱ص ۱۱)

٭ اللہ نیند نہیں کرتا، حضرت موسیٰؑ کی قوم نے سوال کیا تھا کہ کیا اللہ نیند کرتا ہے؟ (ج ۳ص ۶۳۱)

اُمت : امت ِواحد کی تشریح (ج ۳ص ۳۳)

٭ فلسفہ وحدت (ص ۴۳ – ج ۷ص ۶۵۱، ۴۹۱)

٭ اُمت وسط (ج ۲ص ۷۸۱، ۹۸۱)

٭ اُمت مسلمہ: حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد میں اُمت مسلمہ ہونے کی دعا کی اور وہ اُمت مسلمہ محمد و آلِ محمد علیہ السلام کی ذواتِ مقدسہ ہیں (پ ۲، سورہ بقرہ) (ج ۲ص ۷۷۱، ۰۹۱)

٭ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ (پ۴،سورہ آل عمران، ع ۳) (ج ۳ص ۰۳)

٭ حضرت پیغمبر نے فرمایا: میری امت میں بھی یہودیوں کی طرح ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری نسل کے دشمن ہوں گے اور میری شریعت کو تبدیل کریں گے جس طرح یہودیوں نے حضرت ذکریا ؑ و حضرت یحییٰ کو قتل کیا پس جس طرح اُن پر خدا کی لعنت ہے اِن پر بھی خدا کی لعنت ہو گی (ج ۲ص ۸۳۱)

٭ اُمت اسلامیہ کےلئے بنی اسرائیل کے واقعات درسِ عبر ت ہیں (ج ۲ص ۴۶۱)

٭ اُمت محمدیہ کی بنی اسرائیل سے مشابہت (ج ۲ص ۹۶۱ – ج ۴۱ص ۸۲۱)

٭ جنت میں جانے والوں میں اُمت محمد کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی (ج ۳۱ص ۲۰۲)

امری مخلوق : (ج ۰۱ص ۹ ۶)

امانت : امانت کی ادائیگی جعفری اور مومن کی نشانی ہے (ج ۲ص ۵۳۱ – ج ۸ص ۳۳۱ – ج ۴۱ص ۳۰۱)

٭ امانت کی ادائیگی خوبی کردار کی ضمانت ہے۔ 

٭ حضرت علی ؑ نے رسول اللہ کی امانتیں ادا کیں (ج ۷ص ۳۶)

٭ اِنَّاعَرَ ضْنَا الَْاَمَانَةَ (پ ۲۲،ع ۶) اس جگہ امانت سے مراد ولایت ِامامت ہے (ج ۱۱ص ۹۱۲)

اُمیّون : (ج ۲ص ۷۲۱ – ج ۳ص ۳۶ ۲ – ج ۴۱ص ۴۱)

٭ امّ القریٰ کے بسنے والوں کو اُمیون کہا گیا ہے (ج ۴۱ص ۴۱)

امّ سلمہ : مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والی عورتوں میں امّ سلمہ بھی تھیں (ج ۴ص ۹۹)

٭ امّ سلمہ کا بھائی عبدا للہ بن ابی امیہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا (ج ۹ص ۳ ۷)

٭ امّ سلمہ اپنی کمر کو ایک سفید پارچہ سے باندھ لیا کرتی تھیں (ج ۳۱ص ۲۰۱)

امّ ایمن : جب جناب ِخاتونِ جنت نے فدک کا دعویٰ دائر کیا تو حضرت علی ؑ اور ام ایمن نے حضرت فاطمہ ؑ کے حق میں گواہی دی تھی، چنانچہ ابو بکر نے بی بی کو حق دے دیا اور تحریری دستاویز بی بی کے حوالہ کر دیں، واپسی پر عمر نے وہ دستاویز لے کر پھاڑ ڈالی (ج ۹ص۳۲ – ج ۱۱ص ۴۱۱)

امّ القریٰ : مکہ کا نام ہے اور سب سے پہلے زمین کی یہی جگہ پیدا کی گئی اور اس کے بعد باقی زمین کو پھیلایا گیا اور زمین پر پہلا گھر کعبہ ہے اسی وجہ سے اس کو امّ القریٰ کہا جاتا ہے (ج ۵ص ۰۳۲ – ج ۲۱ص ۸۹۱) 

٭ قائم آل محمد جب مکہ سے کوفہ کی طرف کوچ کر یں گے تو حضرت موسیٰؑ والا پتھر اُن کے ہمراہ ہو گا پس ہر منزل پر اُسے رکھیں گے تو اس سے چشمہ ¿ حیات پھوٹے گا، پس پیاسا سیراب ہو گا اور بھوکا سیر ہو گا (ج۶ص۷۰۱)

امّ موسیٰؑ: حضرت موسیٰؑ کی ماں کا دل خالی ہو گیا (ج ۱۱ص ۹۱)

٭ عاملین میں یہ مشہور ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ ماجدہ کا نام ایک اسم اعظم ہے، یہ اسم اعظم حضرت موسیٰؑ کے ناناکو معلوم ہوا تو انہوں نے اپنی دختر کا نام وہی رکھ دیا، اس نام کے بارے میں شدید اختلاف ہے چنانچہ متعدد نام منقول ہیں عملیات میں بھی الگ الگ عبارات مذکور ہیں، چنانچہ: بر خود، یو خود، نخوات، حنّہ، طیسوم، قیسوم، ہیشوم، یو خاند، یوخانذ، یو خابت، یو خابط، ھُلبابنت رغبا وغیرہ ذکر کئے گئے ہیں۔ 

امامت : اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَاما ً (پ ۱، ج ۲ص ۰۷ ۱)

٭ بروزِ قیامت مقتدی اپنے جھوٹے اماموں سے بیزار ہو ں گے (ج ۲ص ۷۰۲)

٭ امام کا نصب کرنا اللہ کا کام ہے نہ کہ امت کا (ج ۵ص ۱۸، ۱۰۱،۵۰۱، ۶۸۱ – ج ۰۱ص ۴۱۱)

٭ امام کی ضرورت (ج ۶ص ۸۸، ۰۳۱ – ج۱ ص ۳۶ – ج ۶ص ۸۸)

٭ بارہ آئمہ کی پیشین گوئی اور مفصل بیان (ج۱ ص ۱۷،۷۷،۰۹ – ج ۲ص ۹۶۱ – ج ۵ص ۶۷، ۷۹) 

٭ لا رَطْبٍ وَلا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنروایت میں کتاب ِمبین سے مراد امام مبین ہے (ج ۵ص ۵۲۲)

٭ امام مبین کی تشریح (ج۲۱ ص ۱۱)

٭ مقام آئمہ (ج ۷ص ۲۵۲، ۳۵۲ – ج ۸ص ۰۷۱ – ج ۹ص ۹ ۶)

٭ غیبت کے زمانہ میں امام کی معرفت (ج ۲ص ۲۵)

٭ آئمہ کے علم کی وسعت (ج ۸ص ۵۳۲)

٭ امام و قرآن لازم و ملزوم ہیں (ج ۲ص ۱۳ – ج ۹ص ۷ ۳ – ج ۱۱ص ۳۶۲ – ج ۲۱ص ۰۱۱)

٭ خَیْرُاُمَّةٍ سے مراد خیر آئمہ ہے (ج ۴ص ۰۳) 

٭ قیامت کے دن آئمہ کی تشریف آوری (ج ۴ص ۳۹) 

٭ تعدادِآئمہ (ج۶ص۷۰۱-ج۷ص۷۴-ج۸ص۱۱۱،۱۶۲-ج۰۱ص۴۵۱-ج۱۱ص۳۱،۲۵۱-ج۲۱ص ۹۲۱ )

٭ حضرت خضر ؑ نے بارہ اماموں کی امامت کی گواہی دی (ج ۹ص ۱۲۱)

٭ آیت ِنور میں باطنی تفسیر کی رو سے آئمہ اثنا عشر مرا دہیں (ج ۰۱ص ۳۴۱)

٭ اَنَاوَ عَلِیٌّ مِنْ نُوْرٍ وَّاحِدٍ (ج ۰۱ص ۹۱۲) باقی آئمہ اثنا عشر (ج ۰۱ص ۱۲۲)

٭ اَلْعُرْوَةُ الْوُثْقٰی کی تاویل آئمہ ہیں (ج ۱۱ص ۹۳۱) 

٭ ہر شخص کو اپنے امام کے ساتھ اٹھایا جا ئے گا (ج ۹ص ۳۴)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: نیکی کی تبلیغ اور اس کے شرائط (ج۳ص۹۰۲)

٭ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر(ج۴ ص۶۲ – ج۳۱ ص ۳۳۱ – ج۵ص۲۵۱)

٭ حضرت جعفر طیار کا نجا شی کے سا منے پیغمبراکرم کی صفات کا تذکرہ کہ وہ امر با لمعروف کر تے ہیں (ج۵ص۷۵۱) 

٭ مومن کی علامات میں سے ہے نیکی کا حکم کر نا (ج۷ص۵۹)

٭ حجت ِخدا کے لئے ضروری ہے کہ امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے مو قع محل کا خیا ل کریں (ج۸ص۵۳)

٭ وہ گنا ہ جو کسی مصیبت کا پیش خیمہ بنتے ہیں ان میں سے ایک امر با لمعروف اور نہی عن المنکرکے فر یضہ کو ادا کر سکنے کے باو جود ترک کر نا ہے (ج۱۱ص۰۲۱)

امن: کعبہ جا ئے امن ہے (ج۴ ص۷۱ – ج۵ ص۲۷۱)

٭ حضر ت امام جعفر صادقؑ نے ابو حنیفہ سے جائے امن کا مصداق دریافت کیا(ج۱ ص۶۷)

٭ امن کے لئے عمل فوائد سورہ مریم (ج۱۱ ص۳۴۲)

٭ سِیْرُوْا فِیْھَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ (پ ۲۲، سورہ سبا) (ج ۱۱ص ۳۴۲)

٭ سورہ جن کی تلا وت جادو جنات کے شر سے امن کی مو جب ہے (ج۴۱ ص ۴۱۱)

انسان : انسان کی تدریجی ار تقائی منا زل اور عا لمی انسانی یو نیورسٹی کا تدریجی نظام تعلیم(ج ۱ص۶۹)

٭ انسان فا عل خود مختا ر ہے (ج۲ص۷۵)

٭ انسان کی تدریجی خلقت(ج۲ص۰۷ – ج۲ ص۵۹۱)

٭ انسان کیا ہے؟(ج۳ص ۵۳)

٭ انسان کو اللہ نے نفس واحدہ سے خلق فر ما یا (ج۴ص ۴۰۱ – ج۶ ص۹۴۱-ج۲۱ص۲۱۱)

٭ سلسلہ اولاد آدم (ج۴ص۶۰۱ تا ۸۰۱)

٭ انسان کو مٹی سے پیدا کیا (ج ۵ص ۹۸۱-ج۶ ص ۰۱- ج۲۱ص ۴۳) 

٭ صلصال سے انسانی پیدائش (ج ۸ص ۷۷۱)

٭ خلقت ِحضرت آدم ؑ (ج ۸، س ۸۷۱)

٭ نطفہ علقہ و مضغہ کی ترتیب (ج۰۱ ص ۱۱)

٭ سلالہ سے پیدائش (ج ۰۱ص۸۵)

٭ انسان اپنی پیدائش میں فکر کرے تو دعوت ِتو حید ملتی ہے (ج۱۱ص ۴۰۱ – ج۲۱ ص ۵۹۱)

٭ اللہ وہ ہے جس نے انسان کو ایک مادہ منویہ سے پیدا کر کے اشرف المخلوقات بنا دیا (ج۱۱ ص۵۲۱)

٭ وَمَنْ نُعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ (پ۳۲،سورہ یٰسین) (ج۲۱ ص۸۲)

٭ انسان کی پیدائش زمین سے ہے (ج۳۱ ص۰۶۱)

٭ خَلَقَ الْاِنْسَانَ (سورہ رحمٰن، پ۷۲) (ج۳۱ ص۸۷۱) 

٭ جسم انسان عالم اکبر کا خاصہ ہے (ج۳ص۷۲۱ – ج ۱، ۲۷۱ تا ۵۷۱) 

٭ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَم (پ۵۱،ع ۸) (ج۹ ص ۲۴)

٭ انسا نی پیدائش(ج ۴۱ص ۶۴۱،۸۵۱،۷۷۱)

انتخابِ خداوندی : (ج۱ ص۷۹،۹۰۱)

٭ معیا رانتخاب علم ہے (ج۲ص۱۸)

٭ طالوت کے انتخاب کا معیارعلم و جسم میں توانائی (ج۳ص۴۱۱)

٭ اللہ اس کو منتخب کر تا ہے جو معیا ر پر پورااُترتا ہو (ج۵ ص۲۱،۳۱،۱۴، ۵۰۱)

٭ حقِ انتخاب(ج۶ ص۱۰۱ -ج۰۱ ص ۴۱۱- ج۱۱ ص ۰۵- ج۲۱ ص ۰۸،۰۰۲)

٭ اللہ نے زمین پرنظر انتخاب ڈالی اور حضرت علی ؑ کو چن لیا (ج۳ص ۵۸ ۱- ج۹ص ۳۱)

انگوٹھی : حضرت علی ؑ نے حا لت رکوع میں سا ئل کوانگوٹھی دی اور آیت ِولایت اُتری (ج۵ ص ۹۲۱)

٭ دوسرے لوگوں نے بھی انگوٹھی دی لیکن آیت نہ اُتری (ج ۵ص ۳۳۱)

٭ انگو ٹھی کی حقیقت (ج ۵ص ۴۳۱)

٭ دائیں ہا تھ میںانگوٹھی پہننا مومن کی علات ہے (ج۵ ص ۳۳۲- ج۲۱ ص ۳۴) 

٭ حضرت سلیمان ؑ کی انگوٹھی (ج۲۱ ص ۱۹)

انجیل: بعض لو گوں نے روح القدس سے مراد انجیل لی ہے (ج۲ ص ۹۳۱) 

٭ انجیل ۳۱ ما ہ رمضان کو نا زل ہو ئی (ج۲ ص۰۳۲) 

٭ بعض لوگ انجیل کو فارسی اور بعض یونانی لفط کہتے ہیںاور اس کا معنی بشارت ہے (ج۳ص۰۹۱)

٭ انجیل تحریف کی وجہ سے قا بل اعتماد نہیں رہی (ج۳ص۷۳۲)

٭ انجیل میں صرف پند و نصائح تھے اور تورات کے بعض احکا م شاقہ کی منسو خی تھی اس میں میراث و حدود و تعزیرات کے احکام نہیں تھے بلکہ تورات کے احکام نافذ العمل تھے (ج۳ ص۱۴۲)

٭ موجودہ انجیلیں چار ہیں:

 (۱) انجیل متی (۲) انجیل مرقس (۳) انجیل لوقا (۴) انجیل یوحنا (ج ۳ص۸۶۲،۹۶۲)

٭ انجیل اپنے وقت میں نافذالعمل تھی لیکن اب منسوخ ہے (ج۵ص۵۱۱)

٭ یہودی انجیل کے قائل نہیں تھے (ج ۶ص۶۴۱)

٭ انجیل میں حضرت محمد مصطفےٰ کی نبوت اور حضرت علی ؑ کی ولایت کا تذکرہ ہے (ج۲۱ص۴۰۲)

اولاد: اپنی اولاد کو قرآن کی تعلیم دینے کی فضیلت (ج۱ ص۷۲)

٭ حضور نے فرمایا ہر نبی کی اولاد اپنی صلب سے ہے اور میری اولاد علی ؑ کے صلب سے ہے (ج۵ص۳۳)

٭ حضرت پیغمبر نے فرمایا اولاد میوئہ دل اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، نیز با عث ِبزدلی و بخل و موجب ِغم و حزن بھی ہے (ج ۳ص۵۰۲)

٭ عورت کےلئے اولاد کی تربیت کا ثواب اتنا ہے کہ دودھ کا ایک گھونٹ پلانا اولاد ِحضرت اسماعیل ؑمیں سے ایک غلام کے آزاد کرنے کے برابر ہے (ج۴ص۹۱۱)

٭ حضرت امام محمد باقر کا استدلال کہ حسنین شریفین رسول اللہ کی صلبی اولاد ہیں (ج ۵ص۶۳۲، ۷۳۲) 

٭ لا تَقْتُلُوْا اَوْلادَکُمْ (پ ۸، ع ۶) (ج۵ص ۶۶۲)

٭ طلب اولاد (ج ۴۱ص ۸۰۱)

٭ بیوی سے مجامعت کے وقت اگر بِسْمِ اللّٰہ نہ پڑھی جائے تو پیدا ہونے والی اولاد میں شیطان شریک ہو گا (ج ۹ص ۱۴) 

٭ اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا کی تفسیر (پ ۵، سورہ کہف) (ج ۹ص ۰۰۱)

٭ نیک لڑکیاں باقیات و صالحات میں سے ہیں (ج ۹ص ۱۰۱)

٭ اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلادُکُمْ فِتْنَةٌ (پ ۸۲، سورہ تغابن) (ج ۴۱ص ۱۴، ۲۴)

٭ اولادکُشی حرام ہے (ج ۹ص ۶۲)

اوقات نماز : اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرْفَیِ النَّھَارِ (پ ۲۱، سورہ ہود) (ج ۷ص ۰۴۲)

٭ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ (پ ۵۱، بنی اسرائیل) (ج ۹ص ۷۴)

٭ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ (سورہ طہ) (ج ۹ص ۹۱۲)

٭ اوقات ِنماز (ج ۳ ۱ص ۳۴۱ -ج ۴۱ص ۴۵۱)

اوّل مخلوق : اوّل مخلوق پر تفصیلی بحث (ج ۱ص ۵۷۱ – ج ۰۱ص ۸۹ -ج۰۱ ص ۲۰۱)

٭ تفسیر برہان میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ عالم ازل میں اللہ نے مخلوق کو پیدا کر کے ان کے سامنے ایک روشنی پیدا کی اور اس میں داخل ہونے کا حکم دیا پس سب سے پہلے حضرت محمد مصطفی اور ان کے بعد یکے بعد دیگرے آئمہ طاہرین ؑ اور پھر ان کے شیعہ داخل ہوئے پس وہی سابقین ہیں (ج ۳۱ص ۷۹۱)

اَوس و خزرج : یہ دونوں عرب قبائل مدینہ میں آباد تھے اور یہودیوں کا قبیلہ بنی نضیر خزرج کا حلیف تھا اور قبیلہ قریظہ قبیلہ او س کا ہم قسم تھا (ج ۲ص ۷۳۱، ۱۴۱)

٭ اوس و خزرج کی باہمی لڑائی (ج ۴ص ۰۲ – ج ۵ص ۳۱۱)

٭ تبع بادشاہ کا اوس و خزرج کو مدینہ میں چھوڑنا (ج ۳۱ص ۳۱۱، ۴۱۱)

اُولوالامر : اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ الآیہ (پ ۶، سورہ مائد ہ) (ج ۵ص ۹۲۱)

٭ اولوالامر کی بحث (ج ۸ص ۷۸۱، ۸۸۱ – ج ۲۱ص ۹۵۲-ج ۴۱ص ۷۵)

اُونٹ : اُونٹ کا گوشت حضرت یعقوب ؑ نے منت کے طور پر ترک کر دیا تھا (ج ۴ص ۷)

٭ عربوں میں اُونٹ خرید کر اس پر جوئے کے ذریعے جیت ہار کی بازی لگانے کا دستور تھا (ج ۵ص ۸۱)

٭ شب معراج حضور کی برّاق ابوجہل کے قافلہ سے گزری وہ گمشدہ اُونٹ تلاش کر رہا تھا (ج ۹ص ۸۵۲)

٭ شب معراج پیغمبر نے ایک اُونٹوں کی قطار دیکھی جس پر صندوق لدے ہوئے تھے حضرت جبرائیل ؑ نے کہا یہ تیری دختر نیک اختر کا جہیز ہے، جب ایک اُونٹ سے ایک صندوق کو اُتار کر کھولا تو اُس میں کتابیں اور ہر کتاب میں حضرت علی ؑ کے ایک ہزار فضائل درج تھے۔ 

اُولوالعزم پیغمبر: (ج ۳ص ۲۳۱ – ج ۹ص ۷۳،۰۱۱-ج ۱۱ص ۱۶۱- ج ۳۱ص ۷۳)

لفظ اہل کا بیان : (ج ۷ص ۲۱۲) پر لفظ اہل پر روشنی ڈالی گئی اور حضرت نوح ؑ کے بیٹے اور بیوی کے استثنا¿ کی وجہ بیان کی گئی ہے پس آل اور اہل کی تحقیق ہو جانے کے بعد حضرت سارہ ؑ زوجہ ابراہیم ؑ پر اہل بیت کے اطلاق کو انبیا ¿ کی تمام بیویوں پر اہل بیت کے اطلاق کی دلیل نہیں قرار دیا جا سکتا (ج ۷ص ۶۲۲)

٭ جناب رسالتمآب کے اہل بیت حضرت علی ؑ، جناب فاطمہ ؑ، امام حسن ؑ، امام حسین ؑ ہیں بیویاں اور اصحاب اس میں شامل نہیں ہیں، (ج ۱۱ص ۲۹۱) عقلی، نقلی براہین سے ثابت کیا گیا ہے۔ 

اہل کتاب : اہل کتاب کی عورت سے متعہ جائز ہے (ج ۵ص ۲۵)

٭ اہل کتاب کے احکام (ج ۷ص ۸۳، ۹۳)

٭ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے (ج ۱۱ص ۳۴)

ایثار کا بیان : (ج ۳۱ص ۳۵۲)

ایمان اور عمل: ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے (ج ۱ص ۰۲۱)

٭ ایمان والوں کے سید و سردار حضرت علی ؑ ہے (ج ۲ص ۷۹۱ -ج ۵ص ۶، ۰۱)

٭ ایمان والوں کے تین گروہ ہیں (ج ۷ص ۱۲۱)

ایذائے پیغمبر : حضور نے فرمایا جس نے علی ؑ کو ایذا¿ دی اس نے مجھے ایذا¿پہنچائی (ج ۲ص ۸۶۱)

٭ آپ نے فر مایا کسی نبی کو اتنی اذیت نہیں پہنچائی گئی جتنی مجھے پہنچائی گئی (ج ۵ص ۸)

٭ آپ نے فرمایا جس نے علی ؑ کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور وہ قیامت کے دن یہودی یا نصرانی ہو کر اٹھے گا (ج ۵ص ۷۲۱) 

٭ ایذائے رسول گناہ ہے جس نے فاطمہ کو اذیت دی اس نے رسول کو ایذا¿ پہنچائی (ج ۷ص ۸۸، ۹۸)

٭ ایذائے علی ؑ ایذائے رسول ہے (ج ۱۱ص ۳۱۲)

ایلا کا بیان: (ج ۵ص ۹۵)

ایوب ؑ: حضرت ایوب ؑ کا ذکر (ج ۹ص ۴۴۲)

٭ حضرت لقمان حکیم حضرت ایوب ؑ کے بھانجے تھے اور بعض نے خالہ زاد کہا ہے (ج۱۱ ص ۱۳۱)

٭ حضرت ایوب ؑ کا مفصل ذکر (ج ۲۱ص ۴۹ تا ۳۰۱)

٭ حضرت ایوب ؑکے بارہ فر زند تھے جو دوبارہ زندہ کئے گئے (ج ۲۱ص ۲۰۱)

٭ حضرت ذوالکفل آپ ؑکے شہزادے تھے جن کا نام بشیر تھا (ج ۲۱ص ۳۰۱)

٭ بعض لوگوں نے حضرت ایوب ؑ کو اولوالعزم پیغمبروں میں شامل کیا ہے (ج ۳۱ص ۷۳)

آیة الکرسی: آیة الکرسی کی فضیلت اور اس کے خواص (ج ۳ص ۵۳۱)

آیة تطہیر: (ج۱۱ص۸۸۱)



Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *