anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” ب ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

 بائے بسملہ: (ج۲ص۱۱،۲۱)

بیّنہ: سورہ بینہ (ج۴۱ص۷۴۲)

باب النجف جاڑا: مدرسہ کی ابتداء و تعمیر
(ج۱ص۶ تا ۹)

٭      مدرسہ کا ابتدائی نقشہ (ج۲ص۲)

٭      مومنین سے اپیل کی گئی ہے کہ جامعہ علمیہ
باب النجف کی ہر ممکن مدد کریں تاکہ یہ مدرسہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے منازل طے
کرے (ج ۲ص۹۱۲- ج۵ص ۰۶۲-ج۶ص۵۹۱-ج ۷ص ۶۵۲)

باپ: بچہ اگر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِ زبان پر جاری کرے تو اس کے ماں باپ اور استاد کے گناہ معاف ہوتے ہیں
اور اگر باپ مر چکا ہو تو اس کی قبر پر ملائکہ رحمت کا نزول ہوتا ہے (ج۲ص۸۱)

٭      بچے کو باپ کی اطاعت اور اس کی خوشنودی کا
صلہ (ج ۲ص ۴۲۱)

٭      ماں باپ کی اطاعت و خدمت (ج ۲ص ۰۳۱ تا ۳۳۱
– ج ۱۱ص ۸۶)

٭      باپ و بیٹے کےلئے حضرت علی ؑ کی دعا (ج ۲ص
۶۴۱)

٭      مجازاً چچا اور دادا پر باپ کا اطلاق صحیح
ہے (ج ۲ص ۲۸۱ – ج ۹ ص ۲۵۱)

٭      بچے کے گوشت چربی اور خون پر ماں کا اثر
ہوتا ہے اور ہڈیوں رگوں اور پٹھوں پر باپ کا اثر ہوتا ہے (ج ۹ص ۹۰۱)

٭      مشرک و کافر ماں باپ کےلئے بخشش کی دعا نہ
کرے (ج۷ص۰۰۱) البتہ مستضعف کےلئے دعائے بخشش ہو سکتی ہے (ج۷ ص۲۳۱)

٭      اولاد پر ماں باپ کے حقوق (ج۹ ص۰۲،۱۲)

٭      باپ کو اولاد کے مال میں تصرف کرنے کا حق
حاصل ہے (ج ۰۱ص ۸۵۱ – ج ۲۱ص ۷۱۲، ۸۱۲)

٭      حضرت پیغمبر نے فرمایا میں اور علی ؑاس امت
کے باپ ہیں (ج ۱۱ص ۸ ۶ – ج ۳۱ص ۰۰۱)

٭      ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتاہے اور اس
کے ماں باپ اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔

٭      حضرت پیغمبر نے زید بن حارثہ کلبی کو
متبنّیٰ بنایا تھا (ج ۱۱ص ۷۵۱)

٭      عبد اللہ بن ابی منافق کا بیٹا عبید پکا
اور سچا مومن تھا (ج ۳۱ص ۵۴۲)

٭      ایک شخص نے پیغمبر سے اپنے باپ کے متعلق
پوچھا تو پیغمبر نے فرمایا تیرا باپ فلاں ہے اور جو اس کا مشہور باپ تھا اس کا نام
نہ لیا تو حضرت عمر نے کہا ہم خدا و رسول کی پناہ چاہتے ہیں گویا ہم ایسی بات نہیں
پوچھتے (ج ۵ص ۴۷۱)

بقرہ: سورہ بقرہ (ج۲ص۷۴)

بلد: سورہ بلد (ج۴۱ص۱۲۲)

بارہ : بارہ نقیب بنی اسرائیل(ج ۵ص ۴۷)

٭      بارہ امام (ج ۱ص ۱۷، ۴۲۲)

٭      شب معراج بارہ دیکھے (ج ۳ص ۵۸۱ – ج ۵ص ۶۷،
۰۸ -ج ۲ص ۹۶۱ – ج ۰۱ص ۱۲۲)

٭      بارہ منافق (ج ۵ص ۵۴ ۱)

باطل معبود اور جھوٹے امام و پیر : پیروکار
اپنے پیروں سے بیزار ہونگے (ج ۲ص ۷۰۲- ج ۲۱ص ۸۳)

٭      جھوٹے پیرا پنے مریدوں کے ہمراہ داخل جہنم
ہو ں گے (ج ۲۱ص ۹۲ – ج ۷ ص ۰۶۱)

٭      باطل خداﺅں سے متنفر کرنے اور حق کی طرف
بلانے کےلئے حضرت ابراہیم ؑ کا استدلالی رویہ (ج ۲۱ص ۲۵)

٭      قیامت کے دن پیرو کاروں کو کہا جائے گا کہ
اب مدد کےلئے ان کو بلاﺅ جن کو پوجا کرتے تھے تو وہ جواب دیں گے کہ وہ اب بات نہیں
سنتے (ج ۲۱ص ۴۶ ۱)

٭      قیامت کے دن باطل پرست پچھتائیں گے (ج ۲۱ص
۹۸۱)

بارش: آسمان سے بارش برسا کر اللہ زمین کو
زندہ کرتا ہے (ج۲ص۵۰۲،۶۰۲- ج۲۱ص۸۱۱- ج۰۱ص۱۸۱)

٭      بارش کے پانی کے فقہی احکام (ج ۰۱ص ۰۸۱ تا
۲۸۱)

٭      بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوا بطور خوشخبری کے ہے
(ج ۱۱ص ۲۲۱)

٭      ایک سفر میں حضرت پیغمبر کی دعا سے اللہ نے
بارش نازل کی تو بعض منافقین نے کہا کہ یہ فلاں ستارے کی برکت ہے، ایسے لوگوں کی
اللہ سر زنش کر رہا ہے (ج ۳۱ص ۷۰۲) بارش کےلئے دعا (ج ۶ص ۶۴)

باقیا ت صالحات : انسان زندگی میں کوئی ایسا
نیک کام کرے جسکے آثار باقی رہیں تو وہ اس کےلئے باقیات و صالحات ہونگے اور نیک
اولاد بھی باقیات و صالحات میں شمار ہوتی ہے (ج ۹ص۰۰۱، ۱۰۱، ۴ ۶ – ج ۲۱، ۰۱)

بُت: و اجبُ التعظیم چیزوں کی تعظیم کرنا بت
پرستی نہیں ہے (ج ۲، ۰۳، ۱ ۳)

٭      بت پرستی شرک ہے اور شرک ظلم ہے پس عہدہ
امامت ظالم کو نہیں مل سکتا (ج ۲ص ۲۷۱)

٭      عمرو بن لحی خزاعی پہلا شخص ہے جس نے کعبہ
میں بت لا کر رکھے اور پہلا بت جو کعبہ میں رکھا اس کا نام ہبل تھا اور اس بت کو
وہ شام سے بنوا کر لایا تھا (ج ۴ص ۵۱ – ج ۴۱ص ۱۱۱)

٭      کفار کا دستور تھا کہ بتوں کےلئے اپنی
آمدنی میں سے ایک حصہ مقرر کر لیتے تھے (ج ۵ص ۵۵ ۲)

٭      قوم حضرت صالحؑ کے پاس ستر بت تھے جن کی وہ
پوجا کرتے تھے (ج ۶ص ۸۴) ناقہ اس پتھر سے پیدا ہوئی جس کی وہ عزت کرتے تھے (ج ۶ص
۹۴)

٭      قوم حضرت موسیٰؑ کی بت پرستی (ج ۶ص ۹۹)

٭      آذر کی بت فروشی (ج ۵ص ۰۲۱)

٭      جس نے لمحہ بھر کےلئے بھی بت پرستی نہیں کی
وہ ذات علی ؑ ہے (ج ۷ص ۰۲۱)

٭      ایسی چیزوں کی پرستش سے ممانعت جو نہ نفع
دیں اور نہ نقصان اور وہ بت ہیں (ج ۷ص ۵۵۱)

٭      بروز محشر بے جان بت بھی بول کر اپنے پرستاروں
سے بیزاری کریں گے (ج ۷ص ۰۶۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑ نے دعا مانگی اے اللہ مجھے
اور میری اولاد کو بت پرستی سے محفوظ رکھ (ج ۸ص ۸۵۱)

٭      کعبہ سے علی ؑ کی بت شکنی (ج ۹ص ۲۶ – ج ۴۱ص
۲۱۱)

٭      بت پرستی کی مذمت (ج ۲۱ص ۵۲۲)

٭      حضرت ابراہیم ؑ نے قوم کو بت پرستی سے منع
کیا تو وہ نہ رُکے پس عید کے دن باہر گئے تو آپ ؑنے تمام بتوں کو توڑ دیا اور تیسہ
بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا جب انہوں نے واپس آکر پوچھا تو آپ ؑنے فرمایا یہ کام
اس بڑے بت کا ہے اگر وہ بول سکتا ہے تو اس سے پوچھ لو (ج ۹ ص ۰۳۲ تا ۲۳۲)

٭      عرب کعبہ میں نصب شدہ بتوں پر عنبر و کستوی
مل دیا کرتے تھے پہلے یغوث کا پھر یعوق کا اور سب سے آخر میں نسر کا سجدہ کرتے تھے
(ج ۰۱ص ۷۴)

٭      بت پرستوں کا انجام (ج ۰۱ص ۸۷۱)

٭      کفار نے کہا آپ ؑہمارے لات و عزی کا ذکر
چھوڑ دیں تو ہم آپ سے مزاحمت نہ کرینگے (ج۰۱ص۵۵۱)

٭       بروایت ابن مسعود مکہ میں ۰۶۳بت تھے (ج ۱۱ص ۴۵۲)

٭      کفار نے کہا تھا کہ ہم بتوں کو اِلٰہ سمجھ
کر ان کی عبادت نہیں کرتے بلکہ یہ بر گز یدگان خدا کی تصویریں اور مورتیاں ہیں پس
ان کو تقرب بارگاہ خداوندی کا باعث سمجھ کر ان کی عبادت کرتے ہیں (ج ۲۱ص ۷۲۱)

بچھو : موت کافر کےلئے سانپ و بچھو کے ڈسنے
سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے (ج ۰۱ص ۹)

٭      حالت احرام میں ناگ اور بچھو کو مارنا جائز
ہے اور اس پر ایک نبی نے لعنت کی تھی (ج ۵ص ۷۶ ۱)

بحیرہ کی تشریح : (ج ۵ص ۴۷۱،۴۶۲- ج ۸ص ۷۰۲)

بخشش : اللہ جسے چاہے بخش دے (ج ۴ص ۷ ۴)

٭      بخشش کی طر ف قدم بڑھاﺅ (ج۴ ص ۸۴)

٭      بہلول کی بخشش (ج ۴ص ۳۵)

مقامات مغفرت : والدین کی خدمت، مقام عرفات
پر دعائے مغفر ت، لیلة القدر (ج ۰۱ص ۰۳، ۱۳)

٭      بخشش کی امید (ج۲ ۱ص ۰۳۱)

بخت نصر : (ج ۳ص ۶۴۱)

٭      بنی اسرائیل کی سر کشی کے نتیجہ میں اُن پر
بخت نصر کو مسلط کر دیا گیا (ج۵ص۸۳۱-ج۶ص۱۱۱- ج۹ص۹، ۱۱)

بخل : جنت کے تیسرے دروازے پر لکھا ہوا ہے
جھوٹوں، بخیلوں اور ظالموں پر لعنت۔

٭      حرص اور بخل شہوت کی دو فرعیں ہیں (ج ۲ص
۴۴)

٭      بخل کرنے والے کا اللہ پر بھروسہ نہیں ہوتا
(ج ۳ص ۹۵۱)

٭      بخیل برا انسان ہے (ج ۳ص ۳۶۱)

٭      بخیل اللہ سے دور، بخیل جنت سے دوراور
لوگوں سے دور ہوتا ہے (ج ۴ص ۹ ۴)

٭      مانع الزکوة کو بخیل کہا گیا ہے (ج ۴ص ۰۹)

٭      یہودیوں کو بخل اور لعنت کے عذاب میں
گرفتار کیا گیا (ج ۵ص ۷۳۱)

٭      حضرت لوط کی قوم بخیل تھی مہمانوں کو روکنے
کےلئے انہوں نے غیرفطری فعل شروع کر دیا (ج ۶ص ۵۵)

٭      خرچ نہ کرنے کی رغبت شیطان دلاتا ہے (ج ۶ص
۶۱)

٭      بخیلوں اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو
عذاب کی دھمکی ہے (ج ۷ص ۴۴)

٭      بخل منافقوں کی علامت ہے (ج ۶ص ۳۹)

٭      ایک فرشتہ ہے جس کی ڈیوتی یہ ہے کہ بخیل پر
بد دعا کرتا ہے (ج ۸ص ۴۶۲ – ج ۱۱ص ۰۵۲)

٭      بخل اور اسراف سے ممانعت (ج ۹ص ۴۲)

٭      معاشی عدم توازن بخل ہی کی بدولت ہے (ج ۹ص
۶ ۲)

٭      بخل کی مذمت (پ ۵ ۱، ع ۱۱) (ج ۹، ۵۷)

٭      بخل ایک عذاب ہے (ج ۹ص ۷۰۲ – ج ۲۱ص ۴۲ – ج
۳۱ص ۴۵ ۲)

٭      رزق وسیع ہوتے ہوئے نمک او روٹی پر قناعت
کرنا بھی بخل اور کنجوسی ہے (ج ۰۱ص ۶۸ ۱)

٭      قارون اپنی ذات کےلئے بھی بخیل تھا (ج۱۱ص
۳۵)

٭      اہل و عیال اور قریبیوں پر بخل کرنا ایسا
گناہ ہے جو وقار کو ختم کردیتا ہے (ج۱۱ ص ۱۲ ۱)

٭      بخل مہلکات میں سے ہے (ج ۲۱ص ۱۰۲)

٭      فتح مکہ کے بعد ہند مادر معاویہ نے بوقت
بیعت ابو سفیان کے بخل کا شکوہ کیا (ج ۳۱ص ۱۷۲)

٭      بخل اور شحُ کا بیان (ج ۴۱ص ۳۴)

٭      بخل کا انجام بد (ج ۴۱ص ۶۷، ۷۷)

٭      سخی نوجوان سن رسیدہ عابد بخیل سے بہتر ہے
(ج ۳ص ۳۶۱)

بداء : یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَائُ وَ
یُثَبِّتْ (ج۲ص۲۶- ج۵ص۸۳۱، ۰۹۱- ج۸ص۰۴۱ – ج۱۱ص۳۰۱، ۰۶۱)

بدعت : ابن تیمیہ نے حضرت علی کی یومیہ ایک
ہزار رکعت کو بدعت کہا اس کے جوابات (ج۱ ص۱۵)

٭      کفر و بدعت خواہش نفس کی فروعات میں سے ہیں
(ج ۲ص ۴۴)

٭      اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ (پ۴،آل عمران)
بدعت کے موجد اور خواہش پرست مراد ہیں (ج ۴ص ۹۲)

٭      تاریخ الخلفاء میں بد عات کو اوّلیات کا
نام دیکر بدعتی لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے (ج ۵ص ۵۴ ۱)

بد عادات : (ج ۵ص ۵۵۲، ۶۶۲- ج ۶ص ۲۳۱)

٭      بد کار کو سزا س کے گناہ کے برابر ملے گی
(ج ۷ص ۹۵۱)

٭      ہر بد کاری و برائی کا انجام بھگتیں گے وہ
جنہوں نے حضرت علی ؑ کا حق غصب کیا (ج ۸ص ۵۰ ۲)

٭      برائی (ج ۸ص ۹۳۲)

٭      برائی پر ناراض ہونا مومن کی شان ہے (ج ۸ص
۴۱۲)

٭      گناہوں کی تفصیل (ج۱۱ ص ۰۲۱)

٭      برائی کے ارادہ سے کچھ نہیں لکھا جاتا بلکہ
جب برائی کرے تو صرف ایک لکھی جاتی ہے اور توبہ کر لے تو وہ بھی ختم ہو جاتی ہے
(ج۳۱ ص ۶۱۱)

٭      بد گمانی گنا ہ کبیرہ (ج ۳۱ص ۳۰ ۱)

بر گزیدہ خواتین : حضرت مریم ؑ کا ذکر (ج ۳ص
۹۱۲)

٭      انتخاب مریم ؑ و دیگر برگزیدہ عورتیں (ج ۳ص
۸۲۲)

٭      چار عورتیں محدثہ تھیں یعنی جن سے ملائکہ
کلام کرتے تھے :

۱)حضرت
سارہ      ۲) مادر موسیٰؑ      ۳)حضرت مریم      ۴)حضرت فاطمہ ؑ (ج ۰۱ص ۲۴)

بروج:  وَالسَّمَائِ ذَاتِ الْبُرُوْج (پ ۰۳، سورہ
بروج) (ج ۴۱ ص ۷۹۱)

٭      سورج اور چاند کا دورہ (ج ۵ص ۲۴۲)

٭      جَعَلْنَا فِی السَّمَائِ بُرُوْجًا (پ۴۱
سورہ حجر) (ج ۸ ص ۲۷۱)

٭      زمانہ طالب علمی میں علم ہیئت کا شوق (ج ۹ص
۱۲۱)

٭      جَعَلَ فِی السَّمَائِ بُرُوْجًا (پ۹۱،
سورہ فرقان) (ج ۰۱ص ۴۸ ۱)

٭      قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ (پ ۳۲، سورہ یٰسین)
(ج ۲۱ص ۲۲)

٭      رَبُّ الْمَشَارِقِ (پ۳۲، سورہ صافات)

٭      مشارق کی تشریح (ج ۲۱ص ۳۳)

٭      بروج میں اثرات (ج ۲۱ص ۷۷۱)

٭      رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ (پ ۷ ۲، سورہ رحمٰن)
(ج۳۱ ص ۱۸۱)

سورہ براءت کے فضائل : (ج ۷ص ۵)

برکت: برکت کا معنی (ج۵ص۷۶۲)

٭      بَارَکْنَا حَوْلَ©ہ¾ (ج۹ص۸)

برزخ: عالم برزخ کا حال (ج ۸ص۵۵۱ – ج۹ص۷۰۲ –
ج۰۱ص۸،۹،۸۸)

٭      قیامت کےلئے اٹھنے کے وقت عالم برزخ ایک
گھنٹہ معلوم ہوگا (ج۱۱ص۵۲۱ – ج۲۱ص۴۴)

برابری کی نفی: جب اللہ کی مخلوق ایک دوسرے
کی برابری نہیں کر سکتی تو اللہ کے برابر کون ہو سکتا ہے؟ (ج۸ص۹۹۲)

٭      عورت و مرد کی برابری کا دعویٰ صرف شہوانی
خواہشات کی پیداوار ہے (ج۹ص۷۲)

٭      اللہ کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو پکارنا
درست نہیں (ج۱۱ص۱۶۲)

برہنہ : جنت کے دوسرے دروازے پر تحریر ہے جو
بروز محشر برہنگی سے بچنا چاہے وہ دنیا میں برہنہ جسم لوگوں کو خوشنودی خدا کےلئے
لباس پہنائے (ج۲ص۶۴)

٭      فتح مکہ کے بعد کعبہ کا برہنہ طواف ختم ہوا
ورنہ اس سے پہلے لوگ برہنہ طواف کر تے تھے (ج۷ص۴۱ – ج۲ص۷۵۱)

٭      تیئسویں روزہ کا ثواب تمام امت محمدیہ کے
برہنہ لوگوں کو لباس پہنانے کے برابر ہے (ج ۳ص ۴۲۲)

٭      بروز محشر لوگ قبروں سے برہنہ محشور ہوں گے
(ج ۹ص۱۰۱)

برّاق : براق کا حلیہ (ج ۸ص ۷۵۲)

بسم اللہ : بائے بِسْمِ اللّٰہ کا نقطہ حضرت
علی ؑ ہےں (ج۲ ص)

٭      بِسْمِ اللّٰہ کے فضائل(ج ۲ص ۸۱)

٭      بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سوائے سورہ براءت کے ہر سورہ کا جزو ہے (ج ۷ص ۶)

٭      بِسْمِ اللّٰہِکو جہر سے پڑھنا ہر مومن کی
نشانی ہے (ج ۹ص ۳۳۲)

٭      حلال عورت سے مجامعت کے وقت بِسْمِ اللّٰہِ
پڑھنی چاہیے ورنہ اولاد میں شیطان شریک ہوتا ہے (ج ۸ص ۱۸۱- ۹ص ۱۴)

٭      جب حضور نماز پڑھتے تھے تو قریشی جمع ہو
جاتے تھے پس جب آپ بِسْمِ اللّٰہِ کو آواز سے پڑھتے تھے تو وہ بھاگ جاتے تھے (ج ۹ص
۵۳)

٭      شب معراج حضرت پیغمبر نے جنت کی چاروں
نہروں کے منبع کو دیکھا ایک ستون پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ تحریر
تھا بِسْمِ اللّٰہِ کے میم کے حلقہ سے پانی کی نہر لفظ اللہ کے ھا کے حلقہ سے دودھ
کی نہر رحمن کی میم کے حلقہ سے شہد کی نہر اور رحیم کی میم کے حلقہ سے شراب کی نہر
جاری تھی اوربِسْمِ اللّٰہِ کے باءپر لکھا تھا جو دنیا میں (ہر جائز کام کےلئے)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھے گا یہ چاروں نہریں اس کو عطا ہوں گی
(ج ۳۱ص ۴۴- ج ۲ص ۹۱)

بشر : وَلَوْ جَعَلْنَاہُ مَلَکاً لَجَعَلْنَاہُ
رَجُلاً (پ۷، ع ۷) یعنی اگر ہم کسی فرشتے کو بھی نبی بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی
بشکل انسانی بھیجتے اور یہ لوگ پھر یہی بہانا بناتے کہ ہم کسی بشر کو نبی نہیں
مانتے گویا کفار کے اذہان میں بشریت اور رسالت کے درمیان منافات ان کو راہ حق
اختیار کرنے سے ہمیشہ روکتی رہی ہے (ج ۵ص ۴۹۱)

٭      دعوت نبوت کو ٹھکرانے کا بہانہ یہی تھا کہ
یہ تو بشر ہیں (ج ۷، ۳۰۲ – ج ۸، ۹۴۱، ۰۱۲- ج ۰۱ص ۷۶ – ج ۰۱، ۶۶۱ – ج ۲۱ص ۵۱ – ج
۴۱ص ۸۳ – ج ۰۱ص ۸۰۲)

٭      حضرت پیغمبر کی وضاحت (ج ۹ص ۲۷)      بشریت و رسالت (ج ۹ص ۳۷، ۴۳۱)

٭      رسول اور بشر (ج ۹ص۶۱۲)

٭      مسئلہ نور و بشر (ج ۰۱ص۲۰۱)

٭      ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَائِ
بَشَرًا الخ (پ ۹۱، ع ۱۱) (ج ۹ص ۳۸۱)

بشیر: وہ جو یوسف کی خبر لایا، بشیر کا یوسف
ؑ کو خریدنا (ج ۸ص ۱۸)

بغض علی ؑ: (ج ۱ص ۵۴۱-ج۳ ص ۵۶)

٭      حضرت پیغمبر کا خطبہ ختم ہوا تو ایک
خوبصورت شخص نمودار ہوا اور اس نے کہا آج پیغمبر نے ایک ایسی گرہ باندھی ہے جس کو
سوائے کافر کے کوئی نہ کھولے گا، حضرت عمر نے پیغمبر سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے
فرمایا وہ کہنے والا جبرائیل ؑ تھا (ج ۵ص ۵۳)

٭      جنگ خندق میں عمرو بن عبدو د نے مبارز طلبی
کی تو عمر بولا ایک سفر میں ڈاکوﺅں نے ہم پر حملہ کیا تو یہ شخص تلوار نکال کر اور
ایک پنجسالہ شتر کو ڈھال بنا کر ان پر حملہ آور ہو گیا چنانچہ وہ بھاگ گئے تھے (ج
۵، ۹۸)

٭      تاویل قرآن کے مطابق جہاد کرنے والے علی ؑ
تھے (ج ۵ص ۶۲۱)

٭      حالت رکوع میں انگوٹھی دینے پر اعتراض اور
اس کا جوا ب (ج ۵ص ۲۳۱)

٭      علی ؑ صدِّیق اکبر اور فاروقِ اعظم ہےں (ج
۷ص ۹۱۱)

٭      علی ؑ سے محبت کرنا مومن کی نشانی ہے اور
علی سے بغض منافق اور ولد الحرام کی نشانی ہے (ج ۳۱ص ۲۵)

ملکہ بلقیس کا ذکر: (ج ۰۱، ۷۳۲)

بلال موذّن رسول: (ج ۳۱، ۵۰۱)

بلعم بن باعورا : (ج ۶ص ۱۳۱)

بندر : مچھلی کا شکار کرنے والے بنی اسرائیل
بندروں کی شکلوں میں مسخ ہوگئے تھے (ج ۲ص ۰۲۱ -ج ۵ص ۲۵۱ – ج ۶ص ۹۰۱،۰۱۱)

٭      بعض لامذہب لوگوں کا خیال ہے کہ انسان کی
ابتداء بندر سے ہے اور اس کی تردید (ج ۶ص ۴، ۸۰۱)

بنو اُمیہ : حضور نے خواب میں بنو امیہ کو
اپنے منبروں پر سوار دیکھا تو پریشان ہوئے (ج ۰۱ص ۴۱۲)

٭      شجرہ ملعونہ کی تفسیر (ج ۹ص۸۳)

بنی اسرائیل : سورہ بنی اسرائیل (ج۸ص۳۵۲)

٭      بنی اسرائیل کو خطاب (ج ۲ص ۹۹)

٭      بنی سرائیل پر نعمات خداوندی (ج ۲ص ۴۰۱)

٭      روءیت خدا کا سوال (ج ۲ص ۱۱۱)

٭      واقعہ قتل اور اس کا انجام (ج ۲ص ۳۲۱)

٭      بنی اسرائیل کی بد عنوانیاں (ج ۲، ۰۶۱)

٭      مسلمانوں کےلئے درس عبرت (ج ۲ص ۴۶۱)

٭      بنی اسرائیل نے ایک گھنٹہ میں صبح کے وقت
تینتالیس (۳۴) نبی قتل کئے اور جب نیکوں کی ایک سو بارہ (۲۱۱)افراد پر مشتمل جماعت
نے ان کو اس فعل سے روکا تو بعد از دوپہر اسی دن اُن سب کو بھی قتل کر دیا گیا (ج
۳ص ۸۰۲)

٭      نقبا ئے بنی اسرائیل اور عوج بن عنق (ج ۵ص
۴۷)

٭      عُلَمَائُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَائِ بَنِیْ
اِسْرَائِیْل (ج۵ص۶۸)

٭      بنی اسرائیل کو ہدایت (ج۵ ص۲۹)

٭      کتاب اللہ میں اپنی طرف سے اضافہ کرتے تھے
(ج۲ ص ۸۲۱)

٭      بنی اسرائیل کےلئے آسمان سے مائدہ نازل ہوا
(ج ۵ص ۲۸۱)

٭      بنی اسرائیل سے امت اسلامیہ کو تشبیہ (ج ۴ص
۴۶۲-ج ۵ص ۸۸)

٭      گوسالہ پرستی اور حضرت موسیٰؑ کا غصہ (ج ۶ص
۹۹)

٭      بنی اسرائیل پر پہاڑ کو بلند کیا گیا طاﺅس
یمانی نے یہ سوال کیا تھا کہ وہ کون سا پرندہ ہے جو صرف ایک دفعہ اُڑا ہے اور حضرت
محمد باقر علیہ السلام کا جواب (ج ۶ص ۲۱۱)

٭      بنی اسرائیل کے فسادات (ج ۹ص ۹ تا ۲۱)

٭      حضرت امام زین العابدین نے فرمایا بنی امیہ
میں میری زندگی ایسی ہے جیسے بنی اسرائیل کی زندگی تھی فرعونی دور میں (ج ۹ص ۹۳،
۰۴)

٭      حضرت موسیٰؑ کی دعا کہ ہارون ؑ کو میرا
ساتھی قرار دے (ج۹ ص ۸۷۱)

٭      بنی اسرائیل کو سر زنش (ج ۹ص ۳۹۱)

٭      فرعون سے حضرت موسیٰؑ کا مکالمہ (ج ۰۱ص۳۹
۱، ۴۹۱)

بڑھاپا: عمر کا رزیل ترین حصہ ہے (ج ۸ ص ۱۱)

بوڑھا : والدین کا نافرمان،قاطع الرحم،متکبر
اور بوڑھا زنا کار جنت کی بو نہ سونگھیں گے (ج ۳۱ص ۲۰۲)

بہلول تائب کا واقعہ: (ج ۴ص ۲۵)

بھیڑیا : امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے
کہ حیوانوں میں سے تین حیوان جنت میں جائیں گے، بلعم باعور کی گدھی، اصحاب کہف کا
کتا اور ایک ظالم سپاہی کے بچے کو چیر کھانے والا بھیڑیا (ج ۶ص ۲۳۱)

بیعت: حضرت قائم آل محمد ظہور فرمائیں گے تو
جبرائیل ؑ اُن کی بیعت کریں گے اور انسانوں میں سب سے پہلے تین سو تیرہ (۳۱۳) آدمی
آپ کی بیعت کریں گے جو بادل کے ٹکڑوں کی طرح فوراً ان کے پاس جمع ہو جائیں گے (ج
۲ص۳۹۱)

٭      بروز غدیر خطبہ پیغمبر کے بعد لوگوں نے
حضرت علی ؑ کی بیعت کی اور تین روز تک بیعت کا سلسلہ جاری رہا (ج ۵ص ۴۳)

٭      ظہور امام کے وقت مخلص شیعہ دوبارہ زندہ ہو
کر اُن کی بیعت کریں گے (ج ۸ص ۹۰۲)

٭      حضرت علی ؑ کو ابو بکر کی بیعت کےلئے کہا
گیا تو آپ نے قبر رسول کو مخاطب کر کے کہا یَابْنَ الْعَمِّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتضْعَفُوْنِیْ
(ج ۶ص ۸۹-ج ۹ص ۸۹، ۹۹۱)

٭      بیعت حدیبیہ (ج ۳۱ص ۸۶)

٭      بیعت رضوان (ج ۳ ۱ص ۲۷)

٭      فتح مکہ کے بعد طلقاء کی بیعت (ج ۳۱ص ۰۷۲)

بیرمعونہ : (ج ۴ص ۶۴)

٭      شہدائے بیر معونہ کا واقعہ (ج ۴ص ۱۸، ۲۸)

بیت المعمور : بعض روایا ت میں ہے کہ قرآن
ماہ رمضان میں بیت المعمور پر اُترا اور پھر تھوڑا تھوڑا اُترتا رہا (ج ۲ص ۰۳۲-ج
۲۱ص ۶۵۲)

٭      فرشتے ہر سال بیت المعمور کا حج کرتے ہیں
(ج ۸ص ۱۶۲)

٭      بیت المعمور میں ایک نور کی تختی ہے جس پر
حضرت محمد، حضرت علی ؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور باقی آئمہ اور قیامت تک ہونے
والے تمام شیوں کے نام درج ہیں اور فرشتے اوقات نماز میں ان کےلئے دعائے خیرو برکت
کرتے ہیں (ج ۸ص ۱۶۲)

٭      مسجد اقصیٰ سے مرادبیت المعمور ہے (ج ۹ص ۷)

٭      وَ اسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا الخ (پ
۵۲،سورہ زخرف) بیت المعمور پر حضور کا نماز پڑھانا اور پوچھنا کہ تم کس طرح مبعوث
برسالت ہوئے ہو تو انبیا ء نے جواب دیا کہ توحید و نبوت کے بعد ولایت علی ؑ بن ابی
طالب کے اقرار کے بعد ہم مبعوث بنبوت ہوئے (ج۲۱ ص ۹۳۲)

٭      بیت المعمور چوتھے آسمان پر کعبہ کی سیدھ
میں ہے ملائکہ کی عباد ت گاہ ہے (ج۳۱ ص ۵۳۱)

بیت المقدس: اس کی بنیاد حضرت داﺅد علیہ
السلام نے رکھی تھی (ج ۲ص ۴۱۱)

٭      بیت المقدس قبلہ اوّل تھا (ج ۲ص ۷۸۱، ۹۷۱
-ج ۳ص ۲۶۲)

٭      ہجرت کے بعد بھی کچھ عرصہ تک مسلمانوں کا
قبلہ رہا (ج ۲ص ۰۹۱)

٭      کیا بیت المقدس زمین پر پہلی عبادت گاہ ہے؟
(ج ۴ص ۳۱)

٭      جس کنوئیں میں یوسف کو بھائیوں نے گرایا
بعض کہتے ہیں وہ بیت المقدس کا کنواں تھا (ج ۸ص ۳۱)

٭      وصیت کے مطابق حضرت یوسف ؑ نے حضرت یعقوبؑ
کو بیت المقدس میں دفن کیا (ج۸ص۵۸)

٭      شب معراج حضور نے بیت المقدس کی سیر کی۔

٭      بعض مفسرین نے مسجد اقصیٰ سے مراد بیت
المقدس لیا ہے۔

٭      بیت المقدس کو خراب کیا گیا (ج ۹ص ۰۱، ۱۱)

٭      سکندر نے بھی بیت المقدس پر حملہ کیا تھا
(ج ۹ص ۳۲۱)

٭      حضرت ذکریا و یحییٰ کی عبادت گاہ بیت
المقدس تھی (ج ۹ص ۰۵۲)

٭      فرعون نے خواب میں دیکھا تھا کہ بیت المقدس
کی جانب سے ایک آگ اٹھی جس نے مصر کا رخ کیا اور چھا گئی اور اس نے تمام قبطیوں کے
گھروں کو جلا کر خاکستر کا ڈھیر کر دیا اور بنی اسرائیل کو کچھ گزند نہ پہنچا،
اسکے درباریوں نے یہ تعبیر دی کہ اس شہر سے ایک آدمی خروج کرے گا جو اہل مصر کی
ہلاکت کا موجب ہو گا(ج ۱۱، ص۷،۸)

٭      ایک دفعہ ایرانیوں نے رومیوں کو شکست دیکر
بیت المقدس پر قبضہ کر لیا پھر آئندہ جنگ میں رومیوں نے ایرانیوں پر فتح پائی اور
بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور یہ بعینہ اسی دن ہوا جب جنگ بدر میں مسلمانوں نے
قریش مکہ پر فتح پائی (ج ۱۱ص ۳۰۱)

٭      بیت المقدس کی تعمیر (ج ۱۱ص ۹۲۲)

بیت العتیق: بیت اللہ کو بیت العتیق کہنے کی
وجوہ (ج۰۱ص۷۲)

 


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *