تحریم: سورہ تحریم (ج۲۱ص۸۵)
تغابن: سورہ تغابن(ج۴۱ص۶۳)
تمام و کمال میں فر ق : تمامیت اجزاء کے
لحاظ سے اور کمال اثر کے لحاظ سے ہوتا ہے (ج ۳ص ۳۲، ۷۲ – ج ۶ص ۵۸)
٭ ولایت علی ؑ کے پہنچانے سے پہلے اسلام تمام
ہو چکا تھا اور اب کمال کی سند دی گئی (ج ۵ص ۱۴)
تقصیر: (ج ۳ص ۹۱، ۱ ۲)
تابوت ِبنی اسرائیل : (ج ۳ص ۰۲۱)
تنور: تنور کی تحقیق (ج۷ص۴۱۲)
٭ حضرت موسیٰؑ کی ماں کا حضرت موسیٰؑ کو تنور
میں رکھنا اور آگ کا گلزار ہو نا (ج ۱۱ص ۰۱)
توحید : حضرت علی ؑ کا جبرائیل ؑ کو درس
توحید دینا (ج ۱ص ۷۷۱)
٭ حضرت امام زین العابدین ؑ کا فرمان اور
بیان توحید (ج ۲ص ۱۷)
٭ ادلہ توحید یعنی مقام توحید پر قرآن مجید
کی بیان کردہ چھ دلیلیں (ج ۲ص ۱۷)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے نمرود کے دربار
میں توحید پر پیش کی جانے والی دلیلیں (ج ۳ص ۳۴۱)
٭ اہل نجران کے ساتھ مناظرہ میں مقام توحید
اور نفی ولد پر پیغمبر کی طرف سے چار دلائل (ج۳ ص ۹۸۱)
٭ شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّ©ہ¾ لا اِلٰ©ہَ اِلَّا
ھُوَ (پ ۳، سورہ آل عمران)
٭ مقام توحید (ج ۳ص ۵۰۲) بیان توحید (ج ۴ص ۵۹
– ج ۵ص ۱۹۱)
٭ سائنس کی رُو سے وجودِ خدا پر دلیل (ج ۴ص
۶۹) صنعت ِپروردگا ر (ج ۴ص۴۰۱)
٭ فَلَمَّا جَنَّ (پ ۷، سورہ انعام)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کا طریق استدلال بر توحید
(ج ۵ص ۳۳۲)
٭ غیر خدا کو پکارنے کی مذمت (ج ۶ص ۹۴۱) بیان
توحید (ج ۶ص ۲۰۲)
٭ ثنویہ کی دعوت توحید (ج ۸ص ۶۹، ۱۰۱، ۲۱۱،
۶۱۱، ۷۹۱)
٭ کَاَیِّنْ مِنْ دَابَّةٍ (پ۳۱، ع ۶، سورہ
یوسف) (ج ۶ص ۴۹)
٭ موت و حیات اللہ کے قبضہ میں ہے (ج ۶، س
۶۷۱)
٭ دلیل توحید (ج ۹ص ۳۳) دعوت توحید (ج ۹ص ۱۴،
۱۷۱، ۰۲۲) بیان توحید (ج ۰۱ص ۳۶۱)
٭ دقیانوس بادشاہ کا قصہ اور اس کے درباری
وزراء کی میٹنگ میں توحید پر نتیجہ خیز بحث (ج ۹ص ۴۸)
٭ دعوت توحید (ج ۰۱ص ۷۴) ذکر توحید (ج۰۱ ص
۱۸)
٭ توحید پر دو عقلی دلیلیں (۱) دلیل تمایز
(۲) دلیل تمانع (ج۰۱ ص ۵۸)
٭ بیان توحید اَمَّنْ خَلَقَ (پ ۰۲، سورہ
افعال) جن میں اللہ کا کوئی شریک نہیں (ج ۰۱ص ۷۵۲)
٭ توحید کا بیان حضرت ابراہیم ؑ کی زبانی (ج
۱۱ص ۲۷)
٭ کُنْتُ کَنْزًا مَّخْفِیًّا (ج۱۱ ص ۵۸)
دلیل توحید (ج ۰۱ص ۸۱۱)
٭ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ (پ ۱۲، سورہ عنکبوت)
(ج ۱۱ص ۸۹)
٭ وَ مِنْ آیاتِہ (پ ۱ ۲، سورہ روم، ع ۶)
(ج۱۱ ص ۶۰۱)
٭ قُلْ اِنَّمَا اَعِظُکُمْ (پ ۲۲، سورہ سبا،
ع ۲۱) (ج۱۱ ۳۵۲)
٭ بیان توحید و صفت علماء (ج۱۱ ص ۴۶۲)
٭ منکرین توحید کی تردید (ج ۲۱ص ۸ ۲) اللہ جسم نہیں رکھتا (ج ۲۱ص ۰۱۱)
٭ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمِ لِلّٰہِ
الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ (ج ۲۱ص ۶۲ص ۵۳۱)
٭ اِلٰ©ہ اور رَبّ کا اطلاق (ج ۲۱ص ۱۶۱)
٭ اللہ پر حسن ظن (ج۲۱ ص ۵۸۱) وَمِنْ آیاتِہ
(پ ۴۲، سورہ حم، سجدہ) (ج ۲۱ص ۹۸۱)
٭ اَتَزْعَمُ اِنَّکَ جِرْمٌ صَغِیْرٌ (ج ۱ص
۲۷۱ – ج ۲۱ص ۷۲۲)
٭ اللہ اولاد نہیں رکھتا (ج ۲۱ص ۵۲۲)
٭ بیان توحید (ج ۲۱ص ۷۲۲)
٭ دلائل بر توحید (ج ۳۱ص ۶،۹۱ – ج ۳۱ص ۷۲۱)
٭ ایک دفعہ نجران کے ایک پادری کو عمر نے
اپنے دور حکومت میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو اس نے چند سوالات کئے مثلاً اس
نے پوچھاآسمان کے دروازوں کا قفل کیا ہے؟ تو عمر لاجواب ہو گیا حضرت علی ؑنے
فرمایا: کہ شرک، اُس نے پوچھا پھر اس کی کنجی کیا ہے؟ آپ نے فر مایا کلمہ لا
اِلٰ©ہَ اِلَّا اللّٰہُ پھر اس نے پوچھا اے عمر : بتاﺅ تمہارا خدا کہاں ہے؟ تو عمر
ناراض ہو گیا پس علی ؑ نے دلائل سے اُس کو سمجھایا کہ کہ خدا ہر جگہ موجود ہے اور
ہر وقت ہر شی ء سے خبردار ہے (ج ۳۱ص ۳۲۲، ۴۲۲)
٭ مقام توحید (ج۴۱ ص ۲۲۱، ۳۶۱)
٭ معرفت توحید (ج ۴۱ص ۲۷۱) خو ف خدا (ج ۴۱ص
۳۷۱)
٭ توحید کے پرستاروں کی آزمائشات (ج ۴۱ص ۹۹۱)
تنزیل اور اِنزال میں فر ق : تنزیل تدریجا ً
اُتارنا اور اِنزال بیک وقت اُتارنا (ج ۳ص ۰۹۱)
تبت: سورہ تبت (ج۴۱ص۹۷۲)
تکویر: سورہ تکویر (ج۴۱ص۹۷۱)
تورات: یہودیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرآن
مجید اصلی تورات کا مصداق ہے اس پر ایمان لاﺅ اور قرآ ن میں تحریف کر کے عوام کو
گمراہ نہ کرو (ج ۲ص ۱۰۱)
٭ تم لوگ تورات کے بعض احکامات کو مانتے ہو
اور بعض کا کفر کرتے ہو (ج ۲ص ۷۳۱ ۹)
٭ تورات موسیٰؑ پر دس (۰۱) ماہ رمضان کو
اُتری (ج ۲ص ۰۳۲)
٭ تورات عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی
شریعت ہے (ج ۳ص ۰۹۱)
٭ تورات میں اللہ کے احکام موجود تھے لیکن
یہودی لوگ ان سے انحراف کر کے دوسرا راستہ اختیار کر لیتے تھے (ج۵ص ۱۱۱)
٭ یہودیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ صحیح تورات
کی پیروی کر واور وہ محمد کی نبوت کی تصدیق کرتی ہے (ج ۵ص ۶۴۱ – ج ۳۱ص ۰۱)
٭ الواح موسیٰؑ میں تمام علوم درج تھے وہ زبر
جد کی تختیاں تھیں جو پہاڑ کے دامن میں بحکم پروردگار دفن کر دی گئیں تھیں، چنانچہ
یمن میں ایک قافلہ وہاں سے گزرا اچانک وہ پہاڑ پھٹا اور تختیاں نمودار ہوئیں، پس
انہوں نے اٹھا لیں جب پیغمبر کی خدمت میں آئے تو آپ نے فر مایا کہاں ہے وہ چیز جو
تمہیں ملی ہے؟ انہوں نے پوچھا آپ کو کس نے بتایا؟ فرما یا مجھے جبرائیل ؑ نے خبر
دی ہے وہ لوگ مسلمان ہو گئے وہ تختیاں آپ نے حضرت علی ؑ کے حوالے کیں وہ تمام علوم
حضرت علی ؑ نے خود لکھ لئے اور اس کا نام جفر ہے جو آئمہ کے پاس موجود ہے (ج ۶ص
۴۹)
٭ جب تورات کا یہودیوں نے انکار کیا تو ان پر
کوہ طور بلند کیا گیا پس وہ ایمان لائے (ج ۶ص ۲۱۱)
٭ حضرت موسیٰؑ تورات لائے تھے تو اس کی اُمت
نے بھی اختلاف کیا تھا (ج ۷ص ۸ ۳۲)
٭ حضرت موسیٰؑ کو جب تورات ملی تو دل میں سوچا
کہ مجھ سے بڑ اعالم کوئی نہیں ہے پس حکم ہوا کہ جا کر دو دریاﺅں کے درمیان میرے
ایک بندے (حضرت خضر ؑ) کی پیروی کرو اور اس سے کچھ سیکھو (ج۹ص۶۰۱)
٭ لوگوں نے تورات اور قرآن کو جادو کہا
(ج۱۱ص۲۴)
تجسّس : مومنین کی خفیہ باتوں کے سراغ لگانے
کی کوشش کرنا اور تجسّس کرنا ممنوع ہے (۳۱ص۴۰۱)
تکاثر: سورہ تکاثر (ج۴۱ص۷۵۲)
تفسیر بالرائے : تفسیر بالرائے کرنے والے کی
باز گشت جہنم ہے(مقدمہ تفسیر ص۴۸)
٭ جو لوگ قرآن مجید کا علم آل محمد سے حا صل
نہیں کرتے اور اپنی رائے کو دخل دیتے ہیں اُن کی تفسیر ناقابل اعتماد ہے کیونکہ وہ
قرآن مجید کی تفسیر بالرائے گناہ کبیرہ ہے (ج۳ص۸۹۱،مقدمہ تفسیر ص۸۷،۹۷)
تفسیر و تاویل قرآن :
(ج۱ص۴۷ص۵۰۱ص۷۰۱-ج۳ص۱۰۲-ج۸ص۲۱۱-ج۱۱ص۰۰۱)
٭ ایسا نہیں کہ اگر کوئی آیت کسی خاص آدمی کے
حق میں اتری اور وہ مرگیا تو آیت بھی مر گئی بلکہ آیت تا قیامت زندہ ہے اور اس کی
تاویل تا قیامت زندہ رہے گی جس طرح شمس وقمر(مقدمہ تفسیر ص۷۰۱)
٭ تاویل قرآن اور عبادات ظاہریہ(مقدمہ تفسیر
ص۹۱۱)
٭ تفسیرقرآن کا علم(مقدمہ ص۱۲)
٭ تاویل کا معنی و تشریح (ج۳ص۹۹۱،ص۶۶)
٭ تنزیل و تاویل (ج۲۱ص۰۱۱)
٭ آیت نور کی چھ (۶)تاویلیں اور بیوت کی
تفسیر(ج۰۱ا،ز ص۰۴۱تا۴۴۱)
التِّین: سورہ والتین (ج۴۱ص ۴۳۲)
تقیّہ اور توریہ: جواز تقیہ پر قرآنی فیصلہ
(ج ۳ص۴۱۲)
٭ تقیہ کرنا اللہ کا دین ہے۔
٭ حضرت یوسف ؑنے اپنے بھائیوں سے کہا تھا: اے
قافلہ والو! تم چور ہو حالانکہ وہ چور نہ تھے۔
٭ تقیہ اور توریہ دو الگ الگ لفظ ہیں جن
میںہر ایک کا مطلب جدا جدا ہے (ج۸ص۴۶)
٭ بیان تقیہ اور حضرت عمار کا واقعہ، عمار کے
والد یاسر کو کفار نے تشدد کر کے شہید کر دیا اور عمار نے تشدد سے بچنے کے لیے
زبان پر کلما ت کفر ازراہِ تقیہ جاری کر لیے تھے، حضور نے جب واقعہ سنا تو رو دئیے
اور فرمایا اگر پھر بھی ایسا مقام کبھی پیش آجائے تو تقیہ کر لینا (ج۸ص۵۴۲ تا ۷۴۲)
٭ حضرت موسیٰؑ کی بہن کا تقیہ یَکْفُلُوْنَہ¾
لَکُمْ (پ۰۲،قصص) (ج۱۱ص۲۱)
٭ حضرت عما رکا تقیہ (ج۱۱ص۶۶)
٭ مومن بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی اور
دشمنان دین پر تقیہ دونوں فرض ہیں(ج۲۱ ص۰۵)
٭ مومن آل فرعون کا نام حزقیل تھا جو فرعون
کا چچا زاد تھا، پس اس نے تقیہ کر کے اپنی جان بچائی جس کا ذکر قرآن میں موجود
ہے(ج۲۱ص۷۵۱)
تحویل قبلہ : بحث تحویل قبلہ (ج۲ص۷۸۱)
٭ دو قبلے ہیں: پہلا قبلہ ”بیت المقدس“ دوسر
ا قبلہ ”کعبہ“ ہے (ج۳ص۲۶۲)
توبہ : ابلیس کی گمراہی کے مقابلہ میں اللہ
نے اولاد آدم ؑکے لیے توبہ مقرر کی ہے (ج۲ص۸۸)
٭ قبول توبہ آدم ؑ(ج۲ص۶۹)
٭ بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کے بعد توبہ
(ج۲ص۸۰۱)
٭ بنی اسرائیل کو باب حطّہ سے گذرنے کا حکم
تھا اور شیعیان کےلئے آل محمدباب حطّہ ہیں (ج۲ص۵۱۱)
٭ موت سے پہلے توبہ کرنے والا گرفتار عذاب نہ
ہوگا (ج۳ص۱۷۲)
٭ مقام حطیم پر حضرت آدم ؑکی توبہ مقبول ہوئی
(ج۴ص۱۱)
٭ گناہ سے توبہ کرنا (ج۴ص۱۵)
٭ توبہ بہلول (ج۴ص۲۵) توبہ (ج۰۱ص۶۸۱ و
ج۷ص۸۹۱، ص۱۲)
٭ جو بھی ازراہِ جہالت گنا ہ کربیٹھے اور پھر
توبہ کر لے تو خدا غفور ورحیم ہے (ج۵ص۴۲۲)
٭ جب انسان گناہ کرتاہے تو دل میں ایک سیا ہ
نقطہ پیدا ہو جاتا ہے، پس اگر توبہ کر لے تو وہ مٹ جاتا ہے ورنہ جوں جوں گناہ کرتا
جائے وہ نقطہ بڑھتا چلاجائے گا حتیٰ کہ اس کا پورا دل سیا ہ ہو جائے گا اور پھر
ایسا انسان توبہ کی طرف مائل نہیں ہو کرتا (ج۶ص۴۶ج۴۱ص۰۹۱)
٭ پہلے لوگ گنا ہ کرتے تھے تو ان کو فوراً
سزا مل جاتی تھی لیکن اُمت ِمحمد پر اللہ کا یہ احسان ہے کہ ان کو گناہ کے بعد
توبہ کی مہلت دی گئی ہے(ج۶ص۸۰۱)
٭ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِنَ
السَّمَائِ (پ۹، سورہ اَنفال) حضرت پیغمبر نے حضرت علی ؑ کے فضائل بیان کئے تو ایک
بَدوی سیخ پا ہوا، پس آپ نے اسے توبہ کی فہمائش کی لیکن وہ نہ مانا پس اس پر پتھر
نازل ہوا اور مر گیا (ج۶ص۲۹۱)
٭ جو صحابہ غزوہ تبوک میں ساتھ نہیں گئے تھے
اُن کی توبہ کا ذکر (ج ۷ص ۱۱۱)
٭ ایک شخص نے گانا سننے کےلئے اپنا ٹھہرنا
ذکر کیا تو آپ نے فر مایا فورا ًتو بہ کرو (ج ۹ص ۱۳)
٭ جب آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی تو آسمان سے
بارش برسی اور زمین نے سبزی اگائی (ج ۹ص ۳۲۲)
٭ توبہ مذنبین کی ہوا کرتی ہے نہ کہ مجرمین
کی (ج۰۱ ص ۳۰۲)
٭ جو شخص نماز پڑھتا رہے وہ ضرور ایک دن اپنی
غلطیوں سے توبہ کرنے پر موفق ہو گا(ج۱۱ص۰۹)
٭ توبہ کا وسیلہ آلِ محمد کی وِلا ہے(ج۲۱ص۷۴)
٭ حضرت حمزہ کے قاتل وحشی نے جب مسلمان ہونا
چاہا تو اس کی توبہ کیلئے آیت اُتری: اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ
جَمِیْعًا (پ۴۲، زمر) پس وہ مسلمان ہو گیا (ج۲۱ص۰۳۱)
٭ نیکی ایک تو ثواب دس گنا اور برائی ایک تو
سات گھنٹہ تک نہیں لکھی جاتی، پس اگر توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ سات گھنٹے کے بعد ایک
کی ایک ہی لکھی جائے گی (ج۳۱ص۵۱۱)
٭ بغیر توبہ کے مرنے والے کو برزخ میں گناہوں
کی سزا دی جائے گی اگر مومن ہے (ج۳۱ص۶۸۱)
٭ رسول اللہ کی دو بیویوں کو خدا نے توبہ کی
فہمائش کی کہ اگر توبہ کر لو تو فبہا، ورنہ تمہارے دل راہِ راست سے بھٹک چکے ہیں،
اور ابن عباس سے عمر نے پوچھا کہ وہ دو بیویاں کون تھیں تو اس نے جواب دیا کہ وہ
عائشہ اور حفصہ تھیں (تفسیر ابن کثیر میں یہ روایت درج ہے) (ج ۳۱ص ۳۶)
٭ تَوْبَةً نَصُوْحاً (پ۳۲) (ج ۴۱ص ۶۶)
تفکر ترتیل قرآن : قرآن مجید کو لقلقءہء
لسانی طور پر نہیں بلکہ ایسے انداز سے پڑھےں کہ اسکا دل پر اثر ہو اسلئے حکم ہے کہ
جب آیاتِ جنت سامنے آئیں تو دعا مانگےں اور جب آیات ِجہنم سامنے آئیں تو پناہ
مانگےں(ج۱ص۷۴)
٭ دعوت تدبر فکر (ج۱ ص ۲۲)
٭ حضرت علی ؑ نے فر مایا دلوں کو فکر سے
بیدار کرو اور معصوم ؑ نے فرمایا عبادتوں میں سے بہتر عبادت ہے کہ اللہ اور اس کی
قدرت میں فکر کیا جائے (ج ۴ص ۵۹)
٭ تفکر کی دعوت قرآن مجید میں عام ہے:
تَفَکَّرُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ قِیَامِ لَیْلَةٍ ایک گھنٹہ کا تفکر رات بھر کی
عبادت سے بہتر ہے کیونکہ تفکر ہی معرفت کا ذریعہ ہے (ج ۶ص ۱۴۱ تا ۲۴۱)
٭ جو قرآن کے معانی میں تدبر کرے وہ معرفت و
ایقان کی دولت سے مالا مال ہو تا ہے (ج ۸ص ۴۳۱)
٭ فکر کرنے والوں کےلئے درس معرفت (ج۸ص ۰۰۲)
دعوت فکر (ج ۱۳ص ۹)
٭ مومنوں کی صفت ہے کہ تفکر و تدبر کر کے
منازل معرفت پر فائز المرام ہوتے ہیں (ج ۰۱ص ۷۸۱)
تسخیر : (ج ۱ص ا ۳)
تکبر: خود پسندی اور تکبر غضب کی فرعیں ہیں
(ج ۲ص ۴۴)
٭ تکبر نے ابلیس کو ملعون بنا دیا (ج ۲ص ۳۸ –
ج ۶ص ۱۱ – ج ۹ص ۲۰۱)
٭ جس میں تین عادتیں ہوں وہ جنت میں داخل نہ
ہو گا: تکبر، خیانت، قرضہ (ج ۴ص ۷۷)
٭ مومن کا میدان جنگ میں ناز، ادا سے چلنا
اللہ کو پسند ہے، لیکن گلیوں میں ناز و ادا سے چلنا اللہ کو پسند نہیں (ج ۸ص۵۶)
٭ تکبر کی چال ممنوع ہے (ج۹ ص ۲۳)
٭ دارِ آخرت ان لوگوں کےلئے ہے جو تکبرنہیں
کرتے (پ۰۲، سورہ قصص)
٭ معصوم ؑنے فرمایا: جس شخص کو اپنے جوتے کے
تسمے پر بھی ناز ہو گا وہ بھی اِس آیت کے مفہوم میں آئے گا لا یُرِیْدُوْنَ
عَلُوًّا فِی الْاَرْضِ (ج ۱۱ص ۱۶)
٭ متکبرانہ انداز اختیار کرنے والوں سے خدا
انتقام لیتا ہے (ج ۱۱ص ۰۲۱)
٭ تکبر سے اور اکڑ کر چلنا اللہ کو ناپسند ہے
(ج ۱۱ص ۷۳۱)
٭ بروزِ خند ق دشمن کو قتل کر کے علی ؑ نازو
ادا کی چال چل کر پلٹے تو علی ؑ کی فاتحانہ چال پر کسی نے اعتراض کیا، تو رسول
اکرم نے فر مایا: دشمن دین کے مقابلہ میں مجاہد کا متکبرانہ انداز بھی اللہ کو
پسند ہے (ج ۱۱ص ۵۷۱)
٭ دعا نہ مانگنے والے کو متکبر کہا گیا ہے
اور افضل عبادت دعا کو قرار دیا گیا ہے (ج ۲۱ص ۱۶۱)
٭ حضو ر نے فر مایا قاطع الرحم، بوڑھا زانی
اور تکبر سے چادر گھسیٹ کر چلنے والا جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گے (ج ۳۱ص ۲۰۲)
٭ تکبر کرنے والے بروزِ محشر بہرے اور گونگے
اٹھیں گے (ج ۴۱ص ۴۶۱)
توہین: کلام معصوم کی توہین (ج ۱ص ۵۴)
٭ کسی مومن کی توہین (ج ۳۱ص ۲۰۱، ۲۱۱)
تقویٰ : ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنَ (ج ۲ص ۰۵)
٭ حضرت امام محمد باقرؑ نے فضیل سے فر مایا
کہ ہمارے موالیوں کو میرا سلام کہنا اور پیغام دینا کہ ہم اللہ کی جانب سے تمہاری کسی
بات کے ضامن نہیں مگر پرہیز گاری اور تقویٰ کے ساتھ، پس اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو
قابو میں رکھو (ج ۲ص ۷۹۱) ایک روایت میں ہے خثیمہ سے فر مایا کہ ان کو تقویٰ کی
وصیت کرنا (ج ۶ص۸۳، ۱۷۱)
٭ بیان تقویٰ (ج ۴ص ۲۲)
٭ حقیقت میں صبر و تقویٰ لازم ملزوم ہیں (ج
۴ص ۵۳)
٭ شیعوں کےلئے پرہیز گاری ضروری ہے (ج ۲ص ۵۳۱)
٭ متقین کے اوصاف (ج ۴ص ۷۴) حکم تقویٰ (ج ۴ص
۴۰۱)
٭ حضرت علی ؑ سے متقی لوگ محبت کریں گے (ج ۵ص
۳۳)
٭ درجات ایمان و تقویٰ (ج ۵ص ۵۶۱)
٭ حق کا دامن تھام لینا اور باطل سے اجتناب
کرنا تقویٰ ہے (ج ۵ص ۳۷۱)
٭ متقی لوگ جنت میں جائیں گے (ج ۴۱ص ۸۸ -ج ۸ص
۴۸۱)
٭ کہیں گے خدا نے خیر محض بھیجا تھا جس میں
ہدایت و خیر تھی (ج ۸ص ۶۰ ۲)
٭ فرشتے ان کا سلام کریں گے اور ان کو جنت کی
بشارت دیں گے (ج ۸ص ۷۰۲)
٭ اللہ کی منع کردہ چیزوں سے بچنے کا نام
تقویٰ ہے (ج ۸ص ۷۳۲)
٭ اِنَّ الْمُتَّق´ِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَ
نَھَرٍ (پ ۷ ۲، سورہ قمر) (ج ۳۱ص ۶۷۱)
٭ متقی لوگ قیامت کے دن بھی ایک دوسرے کے
دوست ہوں گے (ج ۲ ۱ص ۸۴۲)
٭ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ
عُیُوْنٍ (پ ۹۲، سورہ مرسلات) (ج ۴۱ص ۹۵۱)
٭ تقویٰ معیار فضیلت ہے (ج ۳۱ص ۶۰۱)
٭ متقین کی نشانیاں (ج ۳۱ص ۶۲۱)
٭ تقویٰ مومن کی نشانی ہے (ج ۶ص ۶۶۱)
تبّع : یہودیوں نے حضرت پیغمبر کی آمد کی
انتظار میں مدینہ بسایا تھا جب بادشاہ ِوقت (تبع) کو اطلاع ہوئی تو اس نے چڑھائی
کر دی یہودی قلعہ بند ہو گئے، بادشاہ نے کافی دنوں تک محاصرہ رکھا لیکن تھک گیا
اور صلح کر لی، آخر کار قبائل اَوس اور خزرج کو اس نے وہاں ٹھہرایا تاکہ آنے والے
نبی کی خود مدد کریں اور ہمیں بھی اطلاع دیںگے (ج ۲ص ۱۴۱)
٭ کعبہ پر غلاف پہلی دفعہ تبع نے روپہلی چادر
سے چڑھایا تھا۔
٭ تبع کا اصلی نام اسعد ابو کرب تھا اور یمن
کے قبیلہ حمیر سے تھا اس نے حمیر پر فوج کشی کی، نیز سمر قند کو تاراج کر کے
دوبارہ آبادکیا اورکہتے ہیں یمن کے حکمرانوں کا لقب تبع ہوا کرتا تھا جس طرح
ترکیوںکا خاقان اور رومیوںکو قیصر کہا جاتا ہے (ج۲۱ ص ۸۶۲)
٭ حضرت امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ بادشاہ
تبع جب عراق سے حجاز کی طر ف آیا تو اس کے ہمراہ علماء اور اولاد ِانبیا ء کی ایک
جماعت تھی، پھر اس نے مکہ پر حملہ کرنے کاارادہ کر لیا تو اسے آنکھوں کی تکلیف
لاحق ہوئی، پس علماء اور اولادِ انبیا ء کو بلا کر ان کے سامنے اپنی تکلیف کا ذکر
کیا تو انہوں نے پوچھا کیا تو نے کوئی نئی بات سوچی ہے؟ تو جواب دیا کہ ہاں میں نے
مکہ پر حملہ کر کے اہل مکہ کے قتل کرنے اور کعبہ کو مسمار کرنے کا ارادہ کیا ہے تو
انہوں نے کہاکہ اس تکلیف کی موجب یہی چیز ہے، کیونکہ یہ شہر حرمت والا شہر ہے اور
وہ مقدس گھر بیت اللہ ہے اور وہ لوگ اولاد ِابراہیم ؑ ہیں، چنانچہ ان کے مشورہ سے
اس نے وہ ارادہ بدل دیا اور تکلیف رفع ہو گئی اور جن لوگوں نے وہ غلط مشورہ دیا
تھا ان سب کو قتل کر دیا پس مکہ میں داخل ہوا اورکعبہ پر غلاف چڑھایااور ایک مہینہ
تک لنگر جاری کیا پھر مدینہ میں آیا اور قبیلہ غسّان کے یمنی نژاد لوگوں کو وہاں
ٹھہرایا جن کی اولاد انصار کہلاتی ہے، اور ابن عباس سے مروی ہے کہ تبع مسلمان
بادشاہ تھا (ج ۳۱ص ۳۱۱، ۴۱۱)
تہجد : نماز تہجد (ج۱۱ص۹۴۱)
٭ نماز تہجد کی فضیلت : (ج ۴ص ۲۳- ج ۹ص ۱۵ – ج
۱۱ص۷۰۱- ج ۳۱ص ۴۵۱)
٭ باقیات و صالحات کی ایک تعبیر نماز تہجد ہے
(ج ۹ص ۱۰۱)
٭ قُمِ اللَّیْلَ (پ ۹۲، سورہ مزمل) (ج ۴۱ص
۶۲۱، ۷۲۱، ۴۵۱)
٭ پُر خلوص نماز تہجد کاثواب (ج ۴ص ۳۳)
٭ نماز تہجد میں استغفار کر نا (ج ۹ص ۲۵)
٭ نماز تہجد وسعت رزق کا باعث ہے (ج۴ص۲۳)
٭ نماز تہجد پڑھنے والا پل صراط سے پُر امن
گزرے گا (ج ۴ص ۳۳)
٭ نماز تہجد پڑھنے والوں کو اپنے اہل خانہ کے
متعلق شفاعت کا حق دیاجائے گا (ج۴ص ۳۳)
تخت سلیمان ؑ : (ج ۰۱ص ۱۳۲، ۷۳۲ -ج ۲۱ص ۳۹)
تشبہّ: خدا نے چار قسم کے آدمیوں پر لعنت کی
ہے:
پہلا
جو مر د اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہ بناتا ہے
دوسرا جو عورت اپنے آپ کو مردوں کے مشابہ بناتی ہے
تیسر
ا وہ جو کنوارا رہنا پسند کرے
چوتھا مسخری کرنے والا (ج ۰۱ص ۴۳۱)
تحقیق: علامہ مفتی جعفر حسین صاحب قبلہ کی
تحقیق دربارہء تقویم (ج ۷ص ۷۴۱)
٭ قبیلہ وحی کے معانی و مفاہیم میں تحقیقی
جائز ہ (ج ۷ص۴۲۲)
٭ جدید تحقیقات سے استفادہ (ج ۸ص ۴۰۱)
٭ قبلہ کے متعلق جدید تحقیق (ج ۹ص ۴۵)
٭ تحقیق کرنے والے قابل مدح ہیں (ج ۲۱ص ۷۱۱)
تبلیغ : طریقہء تبلیغ (ج ۸ص ۵۳، ۱۵۲- ج ۱۱ص
۶۴۲-ج ۲۱ص ۴۲۱)
٭ تبلیغ کا طریقہ (ج۲۱ ص ۵۸۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کا طریقہ تبلیغ (ج ۹ص ۲۵۱)
٭ حضرت لوط ؑ کی تبلیغ (ج۱۱ ص ۸۷)
٭ تبلیغ قابل قبول اور احسن انداز سے ہونی
چاہیے (ج ۰۱ص ۶۸)
٭ حضرت نوح ؑ کا زمانہء تبلیغ نو سو پچاس
(۰۵۹) برس تھا (ج ۱۱ص ۲۷)
٭ شاہ روم نے حضرت علی ؑ اور معاویہ ہر دو سے
نمائندے طلب کئے تو حضرت علی ؑ نے امام حسن ؑ کو اور معاویہ نے یزید کو بھیجا،
وہاں یزید ناکام ہوا اور شاہ ِروم نے حضرت علی ؑ کے حق میں فیصلہ دے دیا (ج ۲۱ص
۴۰۲)
تفویض : مسئلہ تفویض (ج ۱ص ۶۵۲ – ج ۲۱ص ۸۶۲)
تعویز: قمیص ابراہیم ؑ تعویذ یوسف ؑ تھا (ج
۸ص ۹۸)
تصویر : (ج ۱۱ص ۱۳۲)
٭ شاہِ روم کے پاس تصاویر انبیا ء تھیں (ج
۲۱ص ۴۰۲)
تدبیر : انسانی اعضا ء میں تدبیر پروردگار
(ج۱ ۱۸۱-ج ۴۱، ۷۵۱)
٭ تدبیر امر اللہ کرتا ہے (ج ۷ص ۲۶۱،۳۹۱ – ج
۸ص ۲۰۱، ۲۷۱ – ج ۹ص ۵۲، ۲۲۲-ج ۰۱ص ۲۶)
٭ اللہ اپنے علم کے ماتحت بندوں کی تدبیر کرتا
ہے، کسی کو امیر کسی کو غریب کرنا اسی کی تدبیر ہے (ج۲۱ص۲۱۲)
٭ کسی کو بیٹے اور کسی کو بیٹیاں اسی کی
تدبیر ہے (ج ۲۱ص ۸۱۲)
٭ حضرت پیغمبر کی بارگاہ میں قریش کا وفد اور
تدبیر پرور دگار پر گفتگو (ج ۲۱ص ۱۳۲ تا ۴۳۲)
توکل : توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ
پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے (ج ۴ص ۵۷)
٭ اللہ پر توکل کرنا اہل جنت کی نشانی ہے (ج
۲۱ص ۴۱۲)
تیمم : (ج ۴ص ۷۷۱)
٭ وضو میں جن اعضا ء کو دھونے کا حکم ہے تیمم
میں ان کے مسح کا حکم ہے (ج ۵ص ۵۶)
تحریف : شیعہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل
نہیں ہیں (ج ۱ص ۴۱۱)
٭ قرآن کے الفاظ میں تغیر و تبدل نہیں البتہ
قرآن کے معانی میں رد ّو بدل کیا گیا (ج ۹ص ۹۷)
٭ تحریف قرآن کا ذکر (ج ۱۱ص ۵۵۱)
تقلید : تقلید ضروری ہے لیکن تقلید ِاعلم کا
وجوب ثابت نہیں (ج ۱ص ۷۱ – ج ۶ص ۸۵۱- ج ۸ص ۴۱۲)
٭ قرآن اور مسئلہ تقلید (ج۱ ص ۷۰۱-ج۲ ص ۸۲۱)
٭ مسئلہ اجتہاد و تقلید (ج ۷ص ۹۳۱)
تحلیہ، تخلیہ : یعنی انسان کو انسانیت کے
بلند مقام پر فائز ہونے کےلئے پہلے عاداتِ رذیلہ سے بچنا ضروری ہے تاکہ اس کے بعد
حسن کردار اس کے مقام کو نمایاں کر دے جس طرح کسی انسان کےلئے عمدہ لباس پہننا
فائدہ مند نہیں جب تک کہ جسم کو آلائشات بدنیہ سے پاک و صاف نہ کرے، پس عادات
خسیسہ سے بچنا مقام تخلیہ ہے اور صفات حسنہ سے آراستگی مقام تحلیہ ہے۔
٭ برائیوں کو چھوڑنا اور نیکیوں کو اپنانا (ج
۲ص ۹۱۲ -ج ۸ص ۸۳۲)
٭ آل محمد کے حق میں نازل ہونے والی آیت
تطہیر میں پہلے اذہاب رجس (تخلیہ) کا ذکرہے اور اس کے بعد تطہیر (تحلیہ) کی
نشاندہی ہے (ج ۱۱ص ۱۹۱)
٭ کلمہ شہادت میں پہلے لا اِلٰ©ہَ تخلیہ کا
مقام ہے اور پھر اِلَّا اللّٰہُ تحلیہ کی منز ل ہے۔
تبریٰ و تولیٰ: یہ بھی تخلیہ اور تحلیہ کی
دو تعبیریں ہیں، دشمنان آل محمد سے نفرت تبریٰ ہے اور آل محمد سے محبت تولیٰ ہے (ج
۴ص ۹ ۲)
٭ تبریٰ کی وضاحت (ج ۷ص ۶)
٭ پس مقام تحلیہ سے مقام تخلیہ اہم ہے جیساکہ
(ج ۷ص ۷) پر ایک لطیفہ اسی امر کو ظاہر کرتا ہے اور اچھی تبلیغ یہی ہے کہ پہلے
برائیوں سے نفرت دلائی جائے پھر نیکیوں کا امر کیا جائے (ج ۷ص ۶۸۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی دعوت میں جہاں باطل
خداﺅں کے نقائص بیان کئے وہاں اللہ کے اوصاف بیان کئے تاکہ باطل سے نفرت اور حق سے
محبت پیدا ہو اور تخلیہ کے ساتھ تحلیہ کا حسن واضح ہو جائے (ج ۰۱ص ۱۰۲)
٭ برے قرین سے تبریٰ (ج ۰۱ص ۴۷۱)
تطہیر : آیت تطہیر کی تفسیر و تشریح (ج ۱۱ص
۸۸۱)
Leave a Reply