anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” خ ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

خاکِ شفا: خاک شفا کی خصو صیات (ج۴ص۴۱)

٭      مٹی کا کھانا حرام ہے لیکن خاک شفا کو بطور
علاج کے ایک نخود کے دانہ کے برابر تک کھایا جا سکتا ہے (ج۵ص۰۵)

٭      نماز میں خاک شفا پر سجدہ کرنا مقبولیت
نماز کا باعث ہے اور اعمال کی رکاوٹ کے حجابات خاک شفا پر سجدہ کرنے سے دور ہو
جاتے ہیں (ج ۹ص۰۶)

خالد بن سنان عبسی: خالد بن سنان عبسی نبی
سے مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑاور خاتم الانبیاکے درمیان چار نبی مبعوث ہوئے ان میں
ایک کا نام خالد بن سنان تھا (ج۹ص۴۸)

٭      منقول ہے کہ حضرت پیغمبر سے پہلے عربوں میں
دو نبی مبعوث ہوئے ایک خالد بن سنان عبسی اور دوسرے قس بن ساعدہ (ج۲۱ص۸)

خالد بن ولید : جنگ احد میں خالد بن ولید کا
اسلامی فوج پر حملہ(ج۴ص۷۵،۸۵)

 ٭     علی
ؑ کے قتل کے لیے خالد بن ولید کو تیا رکیا گیا (ج۱۱ص۶۱۱)

اقول : خالد بن ولید کو سیف اللہ کا لقب کسی
نے نہیں دیا بلکہ اس نے اپنے لیے خود تجویز کیا، چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں سورہ
فتح کی آیت: ہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَھُمْ کے ذیل میں ہے کہ خالد نے خود کہا
میں اللہ اور اس کے رسول کی تلوار ہوں پس اس کو سیف اللہ کہا گیا (ج۴ص۲۹۱)

خاموشی : جب تک مومن خاموش رہے اسکے نامہ
اعمال میں نیکیا ں لکھی جاتی ہیں(فرمان امام جعفر صادقؑ) (ج۶ ص ۰۷۱)

٭      جناب ابوذر کا قول ہے کہ زبان نیکی و بدی
کی کنجی ہے پس سونے اور چاندی کی طرح اس پر مہر لگاﺅ(ص۰۷۱)

خبر واحد: خبر و احد کی حجیت (ج۷ص۸۸،۸۳۱-
ج۹ص۹۲-ج۳۱ص۷۹)

خبائث: خبیث چیزوں کو اللہ نے حرام کیا اور
طیبات کو حلال کیا (ج۵ص۹۴)

٭      بعض خبائث کا ذکر (ج۵ص۴۶۲)

٭      قوم لوط کی خبیث عادتیں (ج۹ ص ۸۳۲)

٭      اَلْخَبِیْثَات کی تشریح (ج۰۱ص۷۲۱)

ختم قرآن: ختم القرآن کی حد (ج۱ص۷۴)

٭      ماہ رمضان میں تیسرے دن ختم قرآن کرے تو
خوب ہے (ج۲ص۳۳۲)

٭      حضرت علی ؑ ایک رکاب میںپاﺅں رکھتے تو دوسری
رکاب تک قرآن ختم کر لیتے تھے(ج۱ ص۹۴)

٭      نماز تہجد میں ختم قرآن(ج۱ص۱۵،۴۵)

ختم (مہر): خَتَمَ اللّٰہُ کی تفسیر (ج۲ص۴۵)

٭      ختم کی وضاحت (ج۲ص۱۶،۴۶-ج۶ص۴۶-ج۹ص۵۰۱)

٭      بروز محشر زبانوں پر مہر لگ جائے گی اور
باقی اعضا ء اپنے اعمال کاخود اعتراف کریں گے اور اعضا ء کی گواہی کا یہی مطلب ہے
(ج۲۱ص۷۲،۸۲)

٭      حضرت علی ؑ کی ولایت کے منکرین کے
دلوں،کانوں اور زبانوں پر مہر لگی ہوئی ہے (ج۲۱ ص۱۷۱)

٭      منافقوں کے دلوں پر مہر ہوتی ہے کہ پیغمبر
کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے تھے (ج۳۱ص۵۴)

ختم نبوت: خاتم الانبیا ء کا معجزہ قرآن تا
قیا مت رہے گا (ج۱ ص۳۶)

٭      قرآن اور ختم نبوت (ج۱ص۵۹)

٭      ختم نبوت کی عقلی دلیل (ج۶ص۸۸)

٭      حضور نے فرمایا کہ میں خاتم النّبیین ہوں
(ج۶ص۷۰۱)

٭      ختم نبوت (ج۱۱ص۱۰۲)

ختنہ: ختنہ کرنا ملت ابرہیمی ہے
(ج۲ص،۱۷۱-ج۵ص۱۷۲)

خدیجہ ؑ: امّ المومنین ان چار خواتین سے
ہیںجنہیں اللہ نے چن لیا (ج۳ص۰۲۲،۹۲۲-ج۴۱ص۰۷)

٭      حضرت ابو طالب ؑ اور جنات خدیجہ ؑ اہل ایمان
کے محسن ہیں (ج۷ص۷۱۱)

٭      سب سے پہلے حضرت پیغمبر کے پیچھے حضرت علی
ؑ اور حضرت خدیجہ ؑ نے نماز پڑھی (ج۷ص۹۱۱)

٭      شب معراج حضور نے شجرہ طوبیٰ کا پھل کھایا
جو مادئہ تخلیق فاطمہؑ بنا پس زمین پر واپس آئے توجناب خدیجہ ؑکے رحم میں وہ منتقل
ہوا (ج۸ص۳۳۱)

٭      اللہ نے فرمایا زمین پر واپس پہنچنا تو
خدیجہ ؑ کو میر ا سلام کہنا (ج۸ص،۹۵۲)

٭      جناب خدیجہ ؑ چونکہ خاتون جنت کی ماںہے
اسلئے مسلمانوں کو انکی فضیلت گوارا نہیں (ج۱۱ص ۷۰۲)

خرچ: راہ خدا میں خرچ کرنا متقین کی نشانی
ہے (ج۲ص۲۵،۳۵،۴۳۱،۶۳۱)

٭      خرچ کا طریقہ (ج۳ص۰۱۱،۴۵۱)

٭      مساکین و مستحقین کو دے کر جتلانا نہیں
چاہیے (ج۳ص۸۵۱)

٭      شیطان راہ خدا میںخرچ کرنے سے روکتا ہے
(ج۳ص۹۵۱)

٭      راہ خدا میں عمدہ چیز دینی چاہیے(ج۳ص۰۶۱)

٭      راہ خدا میں خرچ کرنے کے آداب (ج۳ص۲۶۱)

٭      راہ خدا میں خرچ نہ کرنے والے کا عذاب
(ج۷ص۴۴)

٭      حدیث قدسی میں ہے کہ مال میر اہے اورفقرا ء
میری عیال ہیں پس جو شخص میر ے مال کو میری عیال پر خرچ کرنے سے بخل کرے گااس کو
جہنم میں داخل کروں گا (ج۷ص۵۷)

٭      جو بھی راہ خدا میں خرچ کرے خدا اس کو بدلہ
دیتا ہے(ج۱۱ص۰۵۲)

٭      مومن کی علامت راہ خدا میں خرچ (ج۶ص۴۶۱)

٭      قیامت کے دن سوال ہوگا کہ مال کہاں سے کمایا
تھا اور کہاں خرچ کیا؟(ج۲۱ص۷۳)

٭      مومن وہ ہے جو خود پر خرچ کرنے سے مومن
دوستوں پر خرچ کرنے کو زیادہ پسند کرے(ج۲۱ ص۶۴)

٭      اللہ کی راہ میں خرچ کر نا جنتی کی نشانی ہے
(ج۲۱ص۴۱۲-ج۴۱ص۳۰۱)

خزانہ: خزانہ ڈھونڈنے کا طریقہ (ج۰۱ص۹۸۱)

خضاب : خضاب لگانا (ج۶ص۷۴۲)

خوشبو: خوشبو کا استعمال کرنا مستحب ہے
بالخصوص بروز جمعہ اورنماز جمعہ کے وقت خوشبو لگانا بہت ثواب ہے (ج ۴۱ص ۰۲،۲۲)

 خضر ؑ: مسجد سہلہ میں حضرت خضر ؑ کا مقام
(ج۷ص۵۲)

٭      حضرت امام محمد باقرؑنے فرمایا کہ اگر میں
موسیٰؑ اور خضر ؑ کے درمیان ہوتا تو ان دونوں کو سمجھا تا اور پوچھتا (ج۸ص۵۳۲-ج۹ص،۱۱۱)

٭      حضرت موسیٰؑ و خضر ؑ کا قصّہ(ج ۹ص۶۰۱)

٭      حضرت خضر ؑکی طولانی زندگی (ج۹ص۸۱۱)

٭      یہ ممکن ہے کہ حضرت خضر ؑ کو بعض علوم ایسے
دئیے گئے ہوں جن سے حضرت موسیٰؑ کا دامن خالی ہوحالانکہ وہ او العزم پیغمبر تھے
(ج۰۱ص۶۳۲)

٭      حضرت خضر ؑ دریاﺅں میںرہتے ہیں (ج ۲ص۰۷)

٭      حضرت امیر ؑ کا اعجاز اور خضر ؑ کی
زیارت(ج۳۱ص۱۱۱)

٭      حضرت خضر ؑ اور حضرت علی ؑ کے در میا ن
مکالمہ (ج۳ص۵۵۱)

خلع : اوراس کے احکام(ج۳ص۹۶،۱۷)

خلق : اللہ نے زمین کو مناسب طریقہ پر خلق
فرمایا، نہ گرم نہ سرد نہ نرم نہ سخت، تاکہ اس پر انسان آسانی سے بودوباش رکھ سکے
(ج۲ص۱۷-ج۸ص۳۰۱)

٭      ذکر خلقت آدم ؑ (ج۲ص۸۷)

٭      حضرت حوا ؑ کی پیدائش (ج۲ص۸۷)

٭      آسمانو ں کو بغیر ستون کے قائم کیا (ج۲
ص۲۷،۵۰۲)

٭      اس کے امر کن سے مخلوق پیدا ہو جاتی ہے
(ج۲ص۹۵۱)

٭      حضرت عیسیٰؑ کا پرندہ
کوپیداکرنا(ج۳ص۹۳۲-ج۵ص۱۸۱)

٭      مٹی سے خلق فرمایا (ج۵ص۹۸۱)

٭      بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ (ج۵ص۴۴۲)

٭      چھ دنوں میںتکمیل خلقت (ج۶ص۹۳-
ج۷ص۲۹۱-ج۳۱ص۱۲۱)

٭      مسئلہ خلق و رزق (ج۷ص۱۵۲)

٭      اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن (ج۸ص۷۰۱-ج۰۱ ص ۰۶)

٭      اللہ ہر شئے کا خالق ہے (ج۸ص۱۲۱،۷۵۱)

٭      اوّل مخلوق (ج۸ص۶۶۱- ج۱۱ ص ۵۸)

٭      خلقت انسان و پیدائش جن (ج۸ص۷۷۱)

٭      خلقت آدم (ج۰۱ص۸۷۱)

٭      خلقت پر قدرت (ج۹ص۵۷-ج۲۱ص۱۳)

٭      موجودات عالم کا تخلیقی کارنامہ (ج۰۱ص۱۷)

٭      خلق و اختیار (ج ۱۱ص ۹۴)

٭      رزق خلق کی تقسیم (ج۱۱ ص ۷۹)

٭      اللہ حقیقی خالق ہے (ج۱۱ص ۲۵۲)

٭      کیا اللہ کے علاوہ اور کوئی خالق
ہے؟(ج۱۱ص۷۵۲)

٭      کیا موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونگے؟
(ج۲۱ص۶۳۱)

٭      اللہ کے سوا کسی کو خالق یا رازق کہنا درست
نہیں (ج۲۱ص۱۶۱)

٭      ترتیب خلقت (ج۲۱ص۲۷۱،۳۷۱-ج۳۱ص ۳۱۲-ج ۴۱ص
۲۷۱)

٭      تخلیق اتفاقی نہیںبلکہ اس نے اپنے ارادہ و
اختیار سے خلق فرمایا ہے (ج۲۱ص۶۹۱)

٭      آسمان و زمین کی تخلیق لہو و لعب نہیں
ہے(ج۲۱ص۸۶۲)

٭      خلق انسان و زمین (ج۳۱ص۹۱-ج۴۱ص۹۰۱)

٭      تخلیق انسان (ج۴۱ص۶۸۱)

٭      اللہ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں خلق
فرمایا (ج۴۱ص۷۳)

٭      نطفہ امشاج سے انسان کو پیدا کیا (ج۴۱ص۶۴۱)

٭      خلق عظیم (ج۴۱ص۴۸)

خنزیر: خنزیرحرام ہے (ج۹ص۹۱،۵۲،۴۶۲)

٭      خنزیر چونکہ طبعا ًبے حیا ہے اس لیے حرام
ہے (ج۹ص۹۴)

٭      بعض امتیں خنزیر کی شکل میں مسخ ہوئی
(ج۵ص۲۵۱،۷۷،۴۸۱)

٭      خنزیر نجس العین ہے (ج۷ص۸۳۱)

خلیفہ و خلافت : خلیفہ رسول کا انتخاب (ج۱
۴۹)

٭      حضرت محمد مصطفےٰ کا جانشین وہ ہو سکتا ہے
جو گذ شتہ تمام انبیا ءپر حکومت کر سکتا ہو (کیونکہ حضور خود بھی سید الانبیا ء
تھے) لہذا اس کا معصوم ہونا بھی ضروری ہے (ج۱ص۹۹)

٭      اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَہ
(ج۲ص۴۲)

٭      حضرت علی ؑپر دلیل (ج۲ص۲۰۲) حضرت علی
ؑخَلِیْفَةُ اللّٰہ ہیں (ج۲ص۷۰۲-ج۳ص۶۲۱)

٭      حَبْلُ اللّٰہْ سے مراد حضرت علی ؑ خلیفہ
رسول ہیں (ج۴ص۴۲)

٭      خلافت حضرت علی ؑ(ج۵ص۶) خلافت حضرت علی ؑ
اور حدیث غدیر (ج۵ص۸۲)

٭      خاتم الانبیا ء کا خلیفہ اور جانشین وہ ہو
سکتا ہے کہ جو ان کی صفات کا جامع ہو جس طرح وہ عالمی نبی تھے یہ عالمی امام ہوگا
اور اس معیار پر پورا اُترنے والا سوائے حضرت علی ؑکے کوئی دوسرا نہیں ہے    (ج۶ص،۸۸)

٭      جس طرح حضرت موسیٰؑ نے حضرت ہارون کو نامزد
کیا تھا اسی طرح حضرت پیغمبر نے بھی حضرت علی ؑکو نامزد فرمایا (ج۶ص۹۸)

٭      حدیث برائت دلیل خلافت (ج۷ص ۰۱)

٭      علامہ حلی کا استدلال اَجَعَلْتُمْ
سِقَایَةَ الْحَاجِّ دلیل خلافت حضرت علی ؑ(ج۷ص۱۳)

 ٭     کُوْنُوْا
مَعَ الصَّادِقِیْن دلیل خلافت (ج۷ص۳۴۱)

٭      یُوْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْل دلیل خلافت حضرت
علی ؑہے (ج۷ص۹۸۱)

٭      اَنَا وَمَنِ التَّبَعَنِیْ دلیل خلا فت
(ج۸ص۶۹)

٭      مقصد معراج دو باتیں تھیں خلافت علی ؑاور
شادی بتول ؑ(ج۸ص۴۶۲) 

٭      مقصد معراج خلافت حضرت علی (ج۹ص۸)

٭      حضرت پیغمبر نے اپنے خلیفہ کی نامزدگی
تصریح کی بجائے کنایہ کے رنگ میں کی (ج۹ص۹۵۲)

٭      نص خلافت (ج۰۱ص۳۱۱) دعوت عشیرہ کے موقعہ پر
خلافت حضرت علی ؑ کا اعلان (ج۰۱ص۶۱۲)

٭      خلیفہ رسول کا مقام (ج۲۱ص۷۵۲)

٭      ستارہ جس کے گھر اُترے گا وہ خلیفہ ہو گا
(ج۲۱ص۵۴۱،۷۴۱)

٭      امام علی رضا ؑ سے کلمہ اس طرح مروی ہے:

 لااِلٰ©ہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ
اللّٰہِ وَخلیفة حقًا (ج۱۱ص۹۵۲)

٭      شیعوںکے نزدیک خلیفہ رسول وہ ہے جس کو اللہ
منتخب فرمائے (ج۲۱ص۷۸)

٭      حضرت لقمان ؑ نے خلافت کو قبول نہ کیا اور
حضرت داﺅد ؑ نے قبول کر لیا (ج۱۱ص۱۳۱)

٭      آیت ولایت حضرت علی ؑ کی خلافت پر دلیل واضح
ہے(ج۵ص۴۳۱)

خمس کا بیان : (ج۶۸۰۲،۶۳۲)

٭      خمس حضرت عیسیٰؑ کی شریعت میںبھی تھا
(ج۹ص۱۹)

خواہش : خواہش نفس ہی انسان کو خدا سے دور
رکھتی ہے (ج۶ص۴۴)

٭      خواہش نفس انسان کی دشمن ہے (ج۶ص۶۴ – ج۶
ص۵۳۱)

٭      یہودیوں کی خواہش تھی کہ وہ بیت المقدس ہی
قبلہ رہے پس یہودیت سے نکل کر اسلام قبول کرنیوالوں کو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز
پڑھنا دشوار تھا پس تحویل قبلہ کا حکم ان کی خواہش نفس کے خلاف جہاد کر نےکا حکم
تھا۔

٭      خواہشات کو کچلنا جہاد عظیم ہے (ج۴ص۷۵)

٭      حضرت امیر المومنین ؑ نے فرمایا مجھے تم پر
دو چیزوں کا خطرہ ہے ایک نفس کی اتباع اور دوسرے طویل امل (ج۸ص۹۶۱) وہ شخص جاحر ہے
جو نفس کی اتباع کرے اور لمبی امیدیںرکھے (ج۱۱ ص۲۴۱)

٭      حدیث قدسی میں ہے میں نے پانچ چیزوں کو
پانچ میں رکھا ہے، چنانچہ پانچویں یہ ہے کہ میں نے اپنی رضا کو خواہش نفس کی مخالفت
میں رکھا ہے اور لوگ اس کی خواہش کی اطاعت میں طلب کرتے ہیں پس وہ کیسے پا سکتے
ہیں؟ (ج۱۱ص۹۵۲)

٭      ہلاک کرنےوالی تین چیزیں ۱ بخل، ۲ خواہش
نفس کی اتباع ۳ خود پسندی (ج۲۱ص۱۰۲)

٭      خواہش ختم ہی نہیں ہوتی ایک کے بعد دوسری
خواہش بڑھتی چلی جاتی ہے اسی حدیث قدسی میں ہے انسان کو نہیں سیر کرتی مگر قبر کی
مٹی (ج۲۱ص۲۱۲)

٭      بعض لوگ اپنی خواہش کو معبود سمجھتے ہیں
(ج۳۱ص۱۱)

خواب :       خواب
میں وہی چیز نظر آسکتی ہے جو عالم بیداری میں دیکھنے کے قابل کو پس خدا چونکہ عالم
بیداری میں نظر نہیں آسکتا لہذا جو شخص کہے کہ میں نے خواب میں خدا کو دیکھا ہے تو
وہ جھوٹا ہے۔(ج۱ ص۵۷۱)

٭      عالم خواب میں روح کی کچھ آزادی (ج۲ص۷۳،۹۳)

٭      خواب میں زندگی(ج۲ص۸۹۱)

٭      خواب کی چار قسمیں ہیں : (۱)خواب من جانب
اللہ (۲)وسوسہ شیطانی (۳)مزاج کی خرابی سے (۴)افکار کی زیادتی سے، پہلی قسم کا
خواب الہام ہے باقی تینوں قسمیں اضغاث احلام ہیں (ج۶ص۸۳۲)

٭      خواب کی حقیقت (ج۸ص۹،۱۱)

٭      حضرت یعقوب ؑ کا خواب (ج۸ص۴۱)        

٭      مومن کا خواب نبوت کا ایک جزو ہے (ج۲ص۹۳)

٭      حضرت یوسف ؑنے زندان میں قیدیوں سے فرمایا
میں خواب کی تعبیر جانتا ہو ں (ج۸ص۴۳ص۵۳)

٭      بادشاہ مصر کا خواب (ج۸ص۰۴،۲۴) حضرت یوسف ؑ
کی تعبیر (ج۸ ص۷۴)

٭      حضرت یوسف ؑ کی ماں مر چکی تھی لیکن تعبیر
خوب کو آنکھوں سے دیکھنے کےلئے زندہ کی گئی (ج۸ص۵۷)

٭      تعبیر خواب (ج۸ص۷۸،۹۸)

٭      حضور سرور کونین نے خواب میں دیکھا کہ بندر
آپ کے منبر پر ناچ رہے تھے(ج۹ص۹۳)

٭      جادو گروںنے خوا ہش کی تھی کہ ہم حضرت
موسیٰؑ کی نیند دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ ان کے لیے موقع فراہم کیا گیا پس انہوںنے
دیکھ کہ حضرت موسیٰؑ محو خواب ہیںاور عصا بصورت اژدھا پہر ہ دے رہا ہے کہنے لگے یہ
معجزہ ہے جادو نہیں کیونکہ جادو نیند کی حالت میں باقی نہیں رہتا (ج۵ص۱۹۱)

٭      جو شخص سورہ انبیا ء لکھ کر کمر سے باندھ وہ
خواب میں عجائبات دیکھے گا (ج۹ص۴۱۲)

٭      جو شخص سوتے وقت چھیاسٹھ(۶۶)آیت نور پڑھ کر
سوئے تو عالم خواب میں عجائبات دیکھے گا۔

٭      فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقد س کی جانب
سے آگ اٹھی جس نے مصر کا رخ کیا اور چھا گئی اس کو تعبیر یہ بتائی کہ بنی اسرائیل
سے ایک آدمی اٹھے گا جو تیری حکومت کی تباہی کا باعث ہو گاچنانچہ اس نے بنی
اسرائیل پر مظالم شروع کر دئیے (ج۱۱ص۷)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کو فرزند کے ذبح کر نے کا
حکم خواب میں ملا(ج۲۱ص۷۵)

٭      خواب میں قبص نفس ہوتا ہے اور موت میں قبض
روح ہوتا ہے (ج۲۱ص۵۲۱)

٭      حضرت پیغمبر نے خواب میں مسجد الحرام کا
داخلہ دیکھا تھا (ج۳۱ص۸۸)

٭      عاتکہ بنت عبدالمطلب کا جنگ بدر سے پہلے
خواب کہ ایک شتر سوار کہتا ہے موت کی تیاری کرلو (ج۶ص۵۷۱)

٭      بخت نصر نے خواب میں دیکھا اور مقامی نجومی
اس کی تعبیر نہ بتا سکے تو سب کو قتل کرا دیا گیا، دانیال نے تعبیر بتائی کہ تو
تین تک قتل ہو جائے گا چنانچہ وہ تعبیر حرف بحرف صحیح نکلی (ج۳ص۸۴۱)

٭      انبیا ء کے خواب دو طرح کے ہوتے ہیں ایک یہ
کہ آنے والے واقعہ کو بعینہ دیکھیں جس طرح حضور نے فتح مکہ خواب میںدیکھی، دوسرے
یہ کہ ایسی چیز جس کی تاویل آنے والا واقعہ ہو جس طرح حضرت یوسف ؑ کا خواب گیارہ
ستاروں اور چاند و سورج کا سجدہ (ج۲۱ص۷۵)

خونریزی : بنی آدم کی خونریزی کا فرشتوں کو
پہلے سے خطرہ تھا (ج۲ص۹۷)

٭      یہودی قبائل کی اوس خزرج کے ساتھ مل کر
خونریزی (ج۲ص۷۳۱)

٭      اللہ کی راہ میں قتل ہوے والے زندہ ہوتے ہیں
(ج۲ص۷۹۱)

٭      ایسا فعل جس سے منہ میںخون آجائے روزہ دار
کے لئے مکروہ ہے (ج۲ص۸۲۲)

٭      حضرت علی ؑ کو جنگ احد میں صرف سامنے کی طرف
سے ستر زخم لگے تھے (ج۴ص۰۴)

٭      امام جعفر صادقؑ نے فرمایا جو لوگ ہمارے
قاتلوں کو مومن سمجھتے ہیں ان کے لباس قیامت تک ہمارے خون سے آلودہ رہیں گے (ج۴ص۲۹)

خون: ہر جانور کا خو ن حرام ہوتا ہے
(ج۵ص۷۱،۹۱،۴۶۲)

٭      حلال جانور کی ذبح کے وقت چار رگیں کاٹی
جائےں تاکہ زیاہ سے زیادہ خون نکل جائے (ج۲ص۲۲)

٭      خون کی قیمت سُحت میں شمار ہے (ج۲ص۱۱۱)

٭      فرعونیوںپرآنیوالے عذابوں میں سے ایک عذاب
خون تھا کہ ان کے لیے پانی خون بن جاتا تھا (ج۶ ص۰۸ -ج۹ص۵۷ – ج۲۱ص۸۴۱)

٭      حضرت پیغمبر کی بددعا سے چالیس منافقین پر
خون کا عذاب آیا جن کے ناک اور منہ سے خون جاری رہتا تھا اور آخر کا ر وہ واصل
جہنم ہو گئے (ج۶ص۳۸)

٭      خون جہندہ رکھنے والے جانوروں کا خون نجس
ہوتا ہے البتہ حلال ذبح شدہ جانور کا خون جو اند ررہ جاتا ہے وہ نجس نہیں ہو تا
لیکن حرام ہوتا ہے (ج۷ص۸۳)

٭      حضرت یوسف ؑ کے بھائی یوسف ؑ کی قمیص پر
جھوٹا خون لگا کر واپس آئے اور کہا کہ یوسف کو بھیڑئیے نے کھا یا ہے (ج۸ ص۹۱)

٭      غصہ کے وقت اولادِ حضرت یعقوب ؑ کے جسم سے
زرد رنگ کا خون ٹپکتا تھا (ج۸ص۹۶)

٭      حضرت یحییٰؑ اور امام حسین ؑ دونوں کی شہادت
پر آسمان خون رویا (ج۹ص۹۳۱)

خون بہا: قتل خطا کا بدلہ قتل نہیں بلکہ خون
بہا ہوتا ہے اگر آزاد غلام کوقتل کرے تو قصاص نہیں بلکہ خون بہا لیا جائیگا اور
اگر مرد عورت کو قتل کرے تو دوصورتیں ہیں یا تو مرد سے خون بہا لیا جائےگا یا قصاس
کی صورت میںنصف دیت عورت کے ولی کو ادا کر نا پڑے گی(ج۲ص۳۱۲)اگر عمدی قتل میں وارث
مقتول قصاص معاف کر کے خون بہا پر راضی ہو جائے تو قاتل سے قصاص معاف ہو جائے گا
(ج۲ص۲۱۲)

٭      حمل کے خون بہا کی تفصیل (ج۰۱ص۹۵)

خوف : مومن کا ایمان خوف و رجا کے درمیان
ہوتا ہے (ج۴ص۷۴ -ج۶ص۱۶۱ -ج۸ص۶۷ -ج۹ص۸۴۲ -ج۱۱ ص۲۳۱)

٭      خوف و حزن میں فرق (ج۴ص۲۸)

٭      بچہ خوفزدہ ہو یعنی ڈرتا ہو تو سورہ غاشیہ
اس پر پڑھی جائے اس کو سکون ہو گا (ج۴۱ص۰۱۲)

٭      جہنم کے پہلے دروازہ پر مرقوم ہے :

         (۱) اللہ سے امید وابستہ کرنے والا نیک بخت ہے

        (۲)
اللہ کا خوف رکھنے والا بے خوف ہے

        (۳)
اللہ کے غیر سے امید وابستہ کرنے والا اللہ کے غیر سے خوفزدہ رہے گا (ج۲ص۶۴)

٭      وہ لوگ بد بخت ہیں جو اللہ کی نافرمانی کرتے
ہوئے اس سے ڈرتے ہیں (ج۶ص۳۶۱)

٭      خوف خدا میں رونا شیعہ کی علامت ہے (ج۶ص۳۷۱)

٭      خوف خدا میں آنسو کا ایک قطرہ محشر کی ذلت
سے بچاتا ہے (ج۷ص۹۵۱)

٭      مخبتین کی چار علامتیں ہیں :

 ۱۔ اللہ کے ذکر سے اس کا دل خوفزدہ ہوں، ۲۔مصیبت
پر صبر کریں، ۳۔نماز ادا کریں، ۴۔ خدا داد رزق سے حقوق ادا کریں (ج۱۱ص۳۳)

٭      تین چیزیں نجات دینے والی ہیں:

        ۱۔
رضا و غضب کی دونوں حالتوں میں عدل کو قائم رکھنا

         ۲۔ غنا و فقر کی دونوں حالتوں میں میانہ روی کو
قائم رکھنا

         ۳۔ پوشیدہ و ظاہر دونوں حالتوں میں خوف خدا
رکھنا (ج۲۱ص۱۰۲)

٭      اللہ کی گرفت سے نڈر ہو نا مومن کی شان
نہیںہے (ج۴۱ص۳۰۱)

٭      ایک عورت کی کہانی جس کے دل میں خوف خدا تھا
پس اس کی وجہ سے اس مرد کے دل میں بھی خوف خدا پیدا ہو گیا جو اس سے زنا کا ارادہ
رکھتا تھا پس تائب ہو گیا (ج۴۱ص۴۷۱-ج۶ص۰۶۱)

٭      خوف خد امیں ایک آنسو جہنم کے سمندروں کو
خشک کرنے کے لئے کافی ہے۔

٭      حضرت اما م جعفر صادقؑ نے فرمایا بروز محشر
ہر آنکھ روئے گی مگر تین آنکھیں نہ روئیں گی:

         ۱۔ جو دنیا میں حرام سے بچی رہی

        ۲۔
جو رات کو اطاعت خدا میں بیدار رہی ہو ں

        ۳۔
جو اثنائے شب میں خوف خدا سے روئی ہوں(ج۶ص۱۶۱)

٭      جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہو خدا ہر شئے
کے دل میں اس کا خوف پیداکردیتا ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتا وہ ہر شئے سے ڈرتا ہے (ج۶ص۰۶۱)

خیرات : خیرات کرنے کے آداب میں سے ہے کہ:
جتلائے نہیں،اگر کوئی شخص سائل سے ترش روئی کرے یا پہلے اسے جھڑکے پھر کچھ دے یا
کچھ دینے کے بعد اس سے کوئی کام کروائے اس صورت میں احسان کی جزا باطل ہو جاتی ہے
اور اگر سائل خود ترش کلامی یا ترشروئی کرے یا بے جا سوال کرے تو درگذر کرنا بہتر
ہے۔

٭      حضرت علی ؑ نے حضرت خضر ؑسے پوچھا کہ کوئی
اچھی بات سناﺅ تو حضرت خضر ؑ نے کہا مالدار لوگوں کی فقرا ء پر شفقت اگر ثواب کے
لئے ہو تو خوب ہے آپ ؑ نے فرمایا اس سے بہتر سناﺅ تو حضرت خضر ؑ خاموش ہوئے آپ ؑ
نے فر مایا اس سے بہتر یہ ہے کہ فقراء لوگ از راہ خودداری اللہ پر توکل کر کے
مالدار لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا چھوڑ دیں (ج۳ص۵۵۱)

٭      بِیَدِکَ الْخَیْر میں خیر کی شرح اور یہ کہ
اللہ فاعل خیر ہے(ج۳ص۱۱۲)

خیانت : خیانت سے حاصل کردہ مال حرام
ہے(ج۲ص۰۴۲)

٭      خیانت کرنا گناہ کبیرہ ہے (ج۵ص۶۶۲)

٭      جس شخص میں تین عادتیں پائی جائیں وہ منافق
ہیں خواہ اپنے آ پ کو مومن کہلانے والا نمازی اور روزہ دار ہی ہو ۱۔جھوٹا ۲۔وعدہ
شکنی کرنے والا ۳۔خیانت کر نے والا(ج۳ص۳۶۲)

٭      جو شخص جس چیز کی خیانت کرے گا بروز محشر
اسے گردن پر اٹھا کر محشور ہو گا (ج۴ص۶۷)

٭      آل محمد کے حقوق پر پردہ ڈالنا امت اسلامیہ
کی خیانت ہے (ج۵ص۹۷)

٭      امانت میں خیانت کرنا مومن کی شان نہیںہے
(ج۶ص۶۶۱۔ج۰۱ص۷۵)

٭      کفر شرک بھی خیانت ہے (ج۶ص۴۵۲)

٭      حضرت نوحؑ کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ اپنے
شوہر کو دیوانہ اور پاگل کہتی تھی اور حضرت لوط ؑ کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ اپنے
شوہر نبی کی رازداری میں خیانت کرتی تھی، ازواج نبی کی پاکدامنی میں شک کرنا گنا ہ
ہے (ج۷ص۳۱۲ -ج۱۱ص۲ -ج۴۱ ص۸۶)

٭      خیانت کرنے والے پر خدا کی لعنت (ج۸ص۴۶)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *