anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” ذ ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

ذبح : مقتول کو زندہ کرنے کےلئے بنی اسرائیل
کو گائے کے ذبح کرنے کا حکم (ج۲ص ۴۲۱ تا ۶۲۱)

٭      حلال جانور ذبح کے بغیر مر جائے تو حرام
ہوتا ہے لیکن مرنے والے جاور کو اگر مرنے وے پہلے ذبح کر لیا جائے تو حلا ل ہے
(ج۵ص ۸۱)

٭      نسب شدہ پتھروں (بتوں) پر ذبح ہونے والاحرام
ہوتا ہے (ج۵ص ۸۱،۹۱-ج۵ص ۴۶۲)

٭      ذبح کے شرائط (ج۵ص ۰۲ تا ۲۲)

٭      غیر مذبح جانور کا کھانا حرام ہے البتہ
اضطراری حالت میں کھانا معاف ہے (ج۵ص ۵۲)

٭      ذبح کے احکام (ج۵ص ۶۴ تا ۸۴)

٭      احرام عمرہ میں شکار کے کفارہ کا جانور کعبہ
کے سامنے اور احرام حج میں شکار کے کفارہ کا جانور منیٰ میں ذبح کرے (ج۵ص ۸۶۱)

٭      فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا
اور لڑکیوں کا زندہ رکھتا تھا (ج۲ص ۵۰۱)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کو فر زند کے ذبح کرنے کا
حکم (ج۲۱ص ۷۵)

٭      ذبیح اللہ کون ہے (ج۲۱ص ۰۶)

٭      حضرت اسمٰعیل ؑ کے ذبیح اللہ ہونے کے دلائل
(ج۲۱ص ۳۶)

٭      ذبح عظیم (ج۲۱ص ۴۶،۵۶)

٭      امام زین العابدین ؑ اپنے غلاموں کو طلوع
فجر سے پہلے ذبح کرنے سے منع کرتے تھے (ج۵ص ۶۴۲)

ذخیرہ اندوزی : اسلام اور سرمایہ داروں کے
عنوان کے تحت مفصل بحث (ج۳ ص ۵۶۱ تا ۸۶۱)

٭      “نقدی کے وجود” کے عنوان کے تحت
بھی اس مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے (ج۳ص ۶۷۱)

٭      ذخیرہ شدہ رقم کے ساتھ بروز محشر آتش جہنم
سے گرم کرکے ذخیرہ اندوزوں کو داغا جائے گا (ج۶ ص ۵۶۱)

٭      ذخیرہ اندوزی کرنے والے کےلئے عذاب جہنم کی
پیشکش (ج۷ص۴۴، ۵۴)

٭      ذخیرہ اندوزی کو روکنا ہی غربت زدہ لوگوں کی
غربت کا علاج ہے نہ کہ ضبط تولید (ج۹ ص ۶۲)

٭      اللہ کی تمام مخلوق میں ذخیرہ اندوزی کی
عادت تین قوموں میں ہے انسان، چوہا، چیونٹی اور انسان ان میں سے بد ترین ذخیرہ
اندوز ہے۔

عالم ذَر: عالم ذر میں تمام ارواح کو توحید
و نبوت وامامت کی دعوت دی گئی تھی جنہوں نے وہاں قبول کی تھی وہ یہاں بھی قبول
کرتے ہیں اور جنہوں نے وہاں انکار کیا تھا وہ یہاں بھی انکار کرتے ہیں (ج۶ص ۴۶ص
۵۶)

ذکر خدا : تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر
کروں گا تسبیح فاطمہ اللہ کا ذکر کثیر ہے (ج۲ص ۶۹۱ -ج۱۱ص ۲۰۲)

٭      بہترین انسان وہ ہے جس کا بولنا ذکر ہو (ج۴ص
۵۹)

٭      امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا جو
شخص چالیس دن تک اللہ کے ذکر کی مدت مقرر کرے خدا اس کو دنیا سے بے نیا ز کر دے گا
اور اس پر اس کے نفس کی بیماری و علاج واضح فرما دے گا اور اس کے دل میں حکمت کو
جگہ دے گا اور اس کی زبان پر حکمت کو جاری کرے گا (ج۶ص ۰۰۱)

٭      اللہ کے ذکر سے اطمینا ن قلب حاصل ہوتا ہے
(ج۸ ص۲۳۱)

٭      اہل ذکر کون ہیں (ج۸ص۰۱۲) وَلَذِکْرُ
اللّٰہِ اَکْبَرْ (ج۱۱ص ۰۹)

٭      اُذْکُرُوْ اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا
(ج۱۱ص۲۰۲) ذکر کثیر تسبیحات اربعہ میں۔

٭      لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ
مِنْ ذَنْبِکَ ذَنْبْ کی توجیہ۔

ذوالفقار: ذوالفقار جنگ احدمیں حضرت علی ؑ
کی تلوار ٹوٹ گئی تو پیغمبر نے شاخ خرما توڑ کر دی جو تلوار آ بدار بن گئی آخر وہ
بھی ٹوٹ گئی آخر آپ نے ذوالفقار دے دی اور حضرت جبرائیل ؑ نے آسمان و زمین کے
درمیان سنہری کرسی پر بیٹھے کر یہ شعر پڑھا : لافَتٰی اِلَّا عَلِی لا سَیْف اِلَّا
ذُوْالفِقَار (ج۴ص ۰۴،۰۶)

٭      ذوالفقار عطیہ پروردگار (ج۳۱ص ۶۲۲،۷۲۲)

ذوالکفل ؑ : (ج۹ص ۵۴۲)

٭      بعض لوگ کہتے ہیں کہ ذوالکفل حضرت الیاس ؑ
کا دوسرا نام ہے (ج۲۱ص ۰۷)

٭      یہ حضرت ایوب ؑ کے فرزند تھے ان کا نام بشیر
تھااور لقب ذو الکفل تھا (ج۲۱ص۳۰۱)

٭      ملک شام کے بادشاہ تھے (ص۳۰۱)

ذو الحمار عنسی: اس نے پیغمبر اسلام کے بعد
نبوت کا دعویٰ کیا اور فیروز دیلمی کے ہاتھوں مارا گیا (ج ۵ص ۱۲۱)

ذَاالقربیٰ: ذَاالْقُرْبٰی سے مراد رسول
اللہ کے قرابت دار (ج ۸ص ۸۳۲)

٭      وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہ¾ سے مراد فدک
ہے (ج۹ ص ۲۲،۳۲)

ذو القرنین ؑ: حضرت خضر ذو القرنین کی فوج
میں بھرتی ہوئے اور افسر اعلی بن گئے (ج۹ ص ۰۲۱)

٭      ذوالقرنین کا ذکر (ج۹ ص ۳۲۱ تا ۸۲۱)

٭      یورپی اقوام سکندر کے زمانہ میں غیر مہذب
قومیں تھیں اور درندہ صفت انسان تھے پس سکندر ذوالقرنین نے سد سکندری کے ذریعے ان
کا راستہ بند کرکے امن قائم کیا (ج۹ ص ۹۲۱)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *