راعناً: رَاعِنًاکہنے سے مسلمانوں کو روک
دیا گیا کیونکہ یہودی اسکا معنی تو ہین رسول لیتے تھے (ج۲ ص۳۵۱)
روءیت خدا: بنی اسرائیل نے روءیت خدا کا
سوال کیا (ج۲ص ۱۱۱)
٭ حضرت موسیٰؑ نے کہا: رَبِّ اَرِنِیْ (اے اللہ
مجھے دیدار کرا) جواب ملا لَنْ تَرَانِیْ یعنی تو ہر گز نہ دیکھ سکے گا، پس تجلی
ہوئی حضرت موسیٰؑ بے ہوش ہوئے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوا (ج۶ ص ۱۹ تا ۲۹)
٭ روءیت خدا کا قول باطل ہے (ج۴۱ص ۱۴۱ تا ۳۴۱)
راسخون فی العلم : (ج ۳ ص۵۹۱)
٭ سورہ فاتحہ کے راز و رموز رَاسِخُوْنَ فِی
الْعِلْم ہی جان سکتے ہیں (ج۲ص ۱۱)
٭ مقطعات قرآنیہ کو بھی رَاسِخُوْنَ فِی
الْعِلْم ہی جان سکتے ہیں (ج۲ص ۹۴-ج۲۱ص ۷۹۱)
٭ رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم کی وضاحت (ج۲۱ص
۷۵۲)
راز: انبیا ء وآئمہ کا راز افشا ء کرنے والے
(ج ۴ص ۱۳)
٭ حضرت موسیٰؑ کی دایہ نے راز فاش نہ کیا
(ج۱۱ص ۹، ۸۱)
٭ منافق مسلمانوں کا راز فاش کرتے ہیں (ج۳۱ص
۵۵۲، ۴۶۲)
رافضی : شیعوں سے نفرت دلانے کےلئے ملاﺅں نے
ان کو رافضی کہنا شروع کر دیا پس جو بھی ایک دفعہ رافضی کا نام سنتا ہے اس کے جسم
پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں پس شیعہ کا نام بھی سننا پسند نہیں کرتا چنانچہ امیر
طر مطار بادشاہ نے شیعہ کا نام سنا تو گھبرا گیا اور کہا تم مجھے رافضی بنانا
چاہتے ہو (ج۲۱ص ۶۴،۹۸،۵۰۱)
٭ امام جعفر صادقؑ نے لفظ رافضی کی تشریح
فرمائی (ج۲۱ص ۶۴۹۸،۵۰۱)
رات: دن میں کمی و بیشی اور موسموں کا
تبادلہ یہ سب و جود خالق مدبر کے وجود پر دلائل ہیں (ج۲ص۵۰۲ -ج۴۱
ص۷۹۱-ج۳ص۳۱۲-ج۴ص۶۹-ج۷ص۱۵۱-ج۸ص۲۰۱،۵۰۱-ج۹ص۷۱-ج۱۱ص۰۴۱)
٭ یُوْلِجُ اللَّیْلَ فِیْ النَّھَارِ
(ج۱۱ص۰۶۲)
٭ اللہ دن کو رات میں اور رات کو دن میں داخل
کرنے کی طاقت رکھتا ہے(ج۰۱ص ۴۴-ج۲۱ص۲۱۱ -ج۳۱ص ۶،۴۱۲)
٭ دن اور رات کا متبادل انتظام اللہ کے بندوں
پر رحمت ہے ورنہ اگر دن ہمیشہ ہوتا یا رات ہمیشہ رہتی تو یقینا ً نظام کائنات درہم
برہم ہو جاتا اور انسان کی زندگی خوشگوار نہ رہتی (ج۱۱ص ۰۵)
٭ رات دن سے مقدم نہیں کیونکہ پہلے دن ہوتا ہے
اور اس کے غروب سے رات بنتی ہے۔
٭ اللہ نے رات کے جانے کی اور دن کے نمودار
ہونے کی قسم کھائی ہے (ج۴۱ص۵۳۱)
ربّ: اُعْبُدُوْ ا رَبَّکُمْ کی تفسیر
ربوبیت اور خلق دونوں صفتوں کی وضاحت (ج۲ص ۰۷،۱۷)
٭ فرعون نے پوچھا کہ عالمین کا ربّ کون ہے؟ تو
حضرت موسیٰؑ نے وضاحت کی کہ وہ ہے جو تیرا اور تیرے آباء کا ربّ ہے۔
٭ حضرت موسیٰؑ کا ربّ سے مکالمہ (ج۱۱ص۷۸،۸۸)
٭ اِلٰ©ہ او ر رَبّ (ج۲۱ص۱۶۱،۲۶۱)
٭ ربانی کی جمع رَبَّانِیُوْن (ج۳ص ۶۶۲)
٭ رِبِّیُوْنکی تشریح (ج۴ص ۲۶، ۳۶)
رَبَّانِیُوْن کی شرح (ج۵ص ۲۱۱)
٭ رَبَّانِیُوْن کو تنبیہ کی گئی ہے کہ لوگوں
کو برائیوں سے کیوں نہیں روکتے (ج ۵ص ۶۳۱)
رجس: شطرنج، چو پڑا اور ہر شرطیہ کھیل مثلاً
تاش وغیرہ سب رجس ہیں (ج۰۱ص ۸۲)
٭ اہل بیت ؑ سے رجس کی دوری (ج۱۱ص ۹۸۱)
رجعت: رجعت کا بیان (ج۲ص ۲۱۱- ج۳ص ۱۳،۸۰۱)
٭ رجعت کے موقعہ پر مومن زندہ ہو کر امام کا
ساتھ دیں گے (ج۸ص ۹۰۲)
٭ ثبوت رجعت (ج۹ص۲۵۲-ج۰۱ص۴۶۲-ج۲۱ص ۹۵۱)
٭ زمان رجعت (ج۴۱ص ۱۰۱)
رحم: رحم کا حکم (ج۳ص ۹۰۲، ۰۱۲ -ج۰۱ص ۱۱۱)
رحمہ ؑ : زوجہ حضرت ایوب ؑ حضرت یوسف ؑ کی
پوتی یا بیٹی تھیں (ج۲۱ص۶۹،۸۹)
رزق: حلال سے خرچ کرنا متقین کی نشانی ہے
(ج۲ص ۲۵)
٭ اللہ کے نزدیک رزق مقدر ہے لہذا ظالموں کو
بھی اپنا حصہ پورا ملتا ہے (ج۶ص ۰۳)
٭ وسعت رزق کا عمل (ج۴۱ص ۱۵)
٭ اللہ ہر ایک کو رزق دیتا ہے (ج۷ص ۱۹۱-ج۸ص
۵۷۱-ج۳۱ص ۶)
٭ محمد و آل محمد وسیلہء خلق و رزق ہیں
(ج۷ص۲۵۲-ج۵ص ۲۳،۱۸۱)
٭ حضرت یوسف ؑ نے قید سے رہائی کی درخواست
بادشاہ سے کی تو جبرائیل ؑ نازل ہوئے پاﺅں پر ٹھوکر ماری تو ساتویں زمین تک پردے
کھل گئے یوسفؑ نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا پتھر تھا پس جبرائیل ؑ نے اس کو دو ٹکڑے
کیا یوسف ؑنے دیکھا تو اس میں ایک کیڑا تھا جبرائیل ؑ نے پوچھا بتاﺅ اس کیڑے کا
رازق کون ہے؟ جواب دیا کہ اللہ ہے جبرائیل ؑ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ میں ساتوں
زمینوں کی گہرائی میں پتھر کے اندر چھوٹے سے کیڑے کو فراموش نہیں کرتا تو تجھے
کیسے بھول سکتا ہوں کہ تو نے رہائی کی درخواست ایک بندے سے کی ہے لہذا ابھی چند
برس اور بھی گزارو (ج۸ص۹۳)
٭ رزق کی بے قدری سلب رزق کی باعث بنتی ہے
قرآن مجید میں ایک بستی کا ذکر ہے جس کے باشندوں کو اللہ نے وسیع رزق دیا تو انہوں
نے روٹی کے ٹکڑوں سے استنجا ء کرنا شروع کر دیا پس اللہ نے باران رحمت روک لی اور
قحط ڈالدیا پس نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نجس آلود روٹی کے ٹکڑے ان کو کھانے پڑے
٭ حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ میرے
والد اس رومال سے ہاتھ صاف نہ کرتے تھے جس میں کوئی کھانا لگا ہوا ہو جب تک کہ
پہلے چوس نہ لیں اور میں بھی دستر خوان پر گرے ہوئے چھوٹے چھوٹے روٹی کے ٹکڑوں کو
تلاش کرتا ہوں تو میرے غلام ہنستے ہیں پھر آپ نے بستی والوں کی مثال دی اور فرمایا
کھانے کے بعد میں انگلیوں کو چاٹ بھی لیتا ہوں (ج۸ ص ۸۴۲)
٭ رزق خلق اور تقسیم (ج۱۱ص۷۹)
٭ تقسیم رزق (ج۱۱ص ۳۱۱،۸۴۲-ج۲۱ص۰۳۱،۳۳۲)
٭ اللہ کے سوا کسی کو رزاق نہیں کہا جا سکتا
(ج۲۱ص ۱۶۱،۲۶۱،۰۰۲،۲۱۲)
٭ شب قدر میں سال بھر کے رزق کا فیصلہ ہوتا ہے
(ج۲۱ص ۰۶۲)
٭ زیارت امام حسین ؑ رزق و عمر میں زیادتی کا
موجب ہے (ج۱۱ص ۰۶۲)
اصحاب رس: اصحاب رس کا بیان (ج۰۱ ص ۶۷۱ تا
۸۷۱ -ج۳۱ص ۳۱۱)
رسوم: رسم قل خوانی (ج۱ ص۴۴۱ تا ۷۴۱)
٭ عربوں کی بد عادات و رسوم (ج۵ص ۵۵۲،۱۶۲
-ج۸ص ۷۱۲)
٭ غلط رسوم (ج۶ص ۶۱)
٭ مشرکین مکہ میں رسم تھی کہ عورتیں مرد بیت
اللہ کا طواف ننگے ہو کرکرتے تھے (ج۶ص ۳۲)
٭ جاہلی رسوم مدارس ودینیہ کی کثرت سے ہی ختم
ہو سکتی ہیں (ج۶ص ۴۹۱)
٭ لڑکیوں کو زندہ در گور کرنے کی رسم (ج۴۱ص
۰۸۱ تا ۲۸۱)
٭ اچھی رسم قائم کرنے والے کو ثواب پہنچتا رہے
گا جب تک اس پر عمل ہوتا رہے گا سی طرح بری رسم ایجاد کرنے والے پر عتاب کا وزن
بڑھتا رہے گا جب تک اس پر عمل ہوتا رہے گا (ج۷ ص ۳۱۱ – ج۲۱ص ۰۱)
٭ رسم پردہ اور حقیقت پردہ (ج۰۱ص ۲۳۱)
٭ حضرت لوط ؑ کی قوم بری رسوم میں مبتلا تھی
پس ان پر عذاب آیا (ج۱۱ص ۷۷)
رشوت: یہودی عوام کو اپنے علماء کا رشوت خور
ہونا معلوم تھا پھر بھی ان کی تقلید کرتے تھے(ج۲ص ۸۲۱ -ج۴ص ۴۹)
٭ رشوت حرام ہے (ج۲ص ۰۴۲)
٭ رشوت سحت ہے (حرام ہے) (ج۵ص ۰۱۱،۱۱۱،۳۵۱)
٭ کفار مکہ کے وفد نے شاہ حبشہ نجاشی کو جو
رشوت دی وہ اس نے واپس کر دی (ج۵ص ۸۵۱)
٭ رشوت خورپر اللہ کا غضب ہوتا ہے (ج۵ص ۸۳۲)
رضا: حضرت علی ؑ نے بستر پیغمبر پر سو کر شب
ہجرت رضائے پروردگار لے لی (ج۳ص۰۳)
٭ رَاضِیَةً مَرْضِیَّہ کا مصداق ذات حسین ؑ
ہے (ج۴۱ص ۰۲۲)
٭ سورہ بینہ کے آخر میں جن لوگوں کو رضا
پروردگار کی سند دی گئی ہے وہ شیعان علی ؑ ہیں (ج۴۱ص ۷۴۲)
٭ بیعت رضوان میں جو صحابہ شریک تھے ان سے خدا
راضی ہے بشرطیکہ خاتمہ ایمان پر ہو (ج۳۱ص ۲۷)
٭ کسی کے فعل پر راضی ہونے والا اسی فعل کا
فاعل سمجھا جائے گا پس جو لوگ امام حسین ؑ کے قاتلوں پر راضی ہیں وہ بھی قاتلان
حسین ؑ میں شامل ہیں جن سے حضرت مہدیؑ انتقام لیں گے (ج۲ص ۸۳۱،۹۳۱- ج۳ص۰۱،۸۰۲)
٭ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ
کی تشریح (ج۷ ص ۳۱۱،۱۲۱ تا ۳۲۱)
رضاع کے احکام : (ج۳ص ۷۷ تا ۱۸)
٭ حضرت یوسف ؑ کی دودھ پلانے والی کے بچے کا
نام بشیر تھا جو حضرت یعقوب ؑ کی طرف حضرت یوسف ؑ کی قمیص اور خبر لایا بقول مشہور
(ج۸ ص ۸۱، ۲۸)
٭ رضاعی محرمات یعنی رضا ع کی وجہ سے حرام
ہونے والی عورتیں (ج۴ص۵۵۱)
٭ رضاع کے شرائط (ج۴ص ۶۵۱)
٭ موسیٰؑ پر ہر مرضعہ کا دودھ حرام کیا گیا
آخر کار انکی اپنی ماں نے ہی دودھ پلایا (ج۹ص ۲۸۱-ج۱۱ص ۱۲)
٭ حضرت مریمؑ کی رضاعی ماں ذکریا ؑکی بیوی
تھیں (ج۳ص ۱۲۲)
روزہ : ماہ رمضان کے فضائل (ج۲ص ۹۱۲)
٭ روزہ کے احکام (ج۲ص ۹۱۲ تا ۸۳۲)
٭ روزہ و اعتکاف (ج۲ص ۹۳۲)
٭ روزہ عید غدیر تمام زندگی کے روزوں سے افضل
ہے (ج۵ص ۶۲)
٭ عید غدیر کے دن حضرت ابراہیم ؑ نے نار
نمرودی سے نجات کی خوشی میں روزہ رکھا اور حضرت موسیٰؑ نے حضرت ہارون ؑ کے وصی
مقرر کرنے کی خوشی میں روزہ رکھا (ج۵ص ۷۲)
٭ اگر کسی نے عید غدیر کا مستحب روزہ رکھا ہوا
ہو اور کوئی مومن عید غدیر کی خوشی میں اس کو کھانے پر مدعو کر لے تو اس کو روزہ
جتلائے بغیر دعوت قبول کر لے اور کھانا کھالے پس دوہرا ثواب مل جائیگا (ج۵ص۸۳،۰۷۲)
٭ کفارہ کے روزے پے در پے رکھے جاتے ہیں (ج۵
ص۹۶۱)
٭ مومن کے علامات میں سے دن کو روزہ رکھنا ہے
(ج۶ص ۶۶۱)
٭ ایک حدیث میں ہے جس نے ماہ رمضان کا ایک
روزہ قضا کیا وہ ایمان سے خارج ہو ا (ج۶ص ۸۶۱)
رہبانیت: صحابی رسول عثمان بن مظعون نے ترک
دنیا پر عہد کر لیا دن کو روزہ رات کو عبادت اور تمام لذات کا ترک شیوہ بنا لیا
حضرت پیغمبر نے اس کے گھر پہنچ کر تنبیہ فرمائی کہ میرے دین میں رہبانیت نہیں ہے
بےشک روزہ بھی رکھو اور بے روزہ بھی رہو بالکل تارک دنیا نہ بنو بلکہ شرعیت کی
حدود کے اندر ہر جائز کام کرو میری امت کی سیاحت روزہ ہے اور رہبانیت جہاد ہے (ج۵ص
۱۶۱ص ۲۶۱ – ج ۶ص ۸۲)
٭ ایک راہب اور دوسرا تائب ان کی عبر ت آمیز
اور نصیحت آموز کہانی (ج۶ص ۰۶۱)
٭ رہبانیت کی تفسیر (ج۳۱ص ۸۲۲)
روح: انسان کے تمام اعضا میں موجود ہے اگر
چلی جائے تو سب بے کار ہے لیکن تمام اعضا ء میں ہوتے ہوئے تمام اعضا ء کے ادراک سے
باہر ہے اسی طرح اللہ پوری کائنات میں موجود ہے لیکن سب کے ادراک سے باہر ہے جس
طرح عالم اصغر یعنی جسم انسانی کا مدبر روح ہے اسی طرح عالم اکبر کا مدبر اللہ ہے۔
٭ روح ہر حصہ میں ہے لیکن کسی کو نظر نہیں آتا
اسی طرح اللہ ہر جگہ ہے لیکن نظر نہیں آتا۔
٭ جس طرح انسانی عقل تمام اعضا ء سے روح کا
وجود منواتی ہے کہ اگر روح نہ ہوتی تو اعضا ء بے کار ہوتے اسی طرح عقل کل رسول
اللہ تمام عالم سے وجود باری منوانے کےلئے ہیں پوری تفصیل (ج۱ ص ۳۷۱ تا ۸۷۱)
٭ انسان دو اہم جزوں سے مرکب ہے ایک جسم دوسرے
روح پس روح محل معرفت ہے اور جسم محل عمل (ج۲ص ۶۱)
٭ روح جسم عنصری سے آزاد ہو کر متعدد مقامات
پر چشم زدن میں پہنچتا ہے بحث لطیف (ج۲ص ۷۳ تا ۰۴)
٭ روح القدس کی تشریح (ج۲ص ۹۳۱)
٭ حضرت مریمؑ کو حضرت عیسیٰؑ کی بشارت اسی نے
دی تھی (ج۳ص ۴۳۲)
٭ ولایت علی ؑ اسلام کے ڈھانچے میں روح کی
حیثیت رکھتی ہے (ج۵ص ۱۴)
٭ ملک الموت روحیں قبض کرتا ہے (ج۵ ص ۶۲۲)
٭ کافروں کی روح سختی سے قبض کرتے ہیں (ج۵ص
۰۴۲)
٭ عالم ذر میں تمام ارواح کو توحید و نبوت
وامامت کی دعوت دی گئی تھی جنہوں نے وہاں قبول کی تھی وہ یہاں بھی قبول کرتے ہیں
اور جنہوں نے وہاں انکار کیا تھا وہ یہاں بھی انکار کرتے ہیں (ج۶ص ۴۶ص ۵۶)
٭ ارواح سے اقرار اطاعت (ج۶ص ۵۲۱)
٭ روح آدمؑ کے پتلائے خاکی میں داخل ہوئی
چھینک لی مسام کھل گئے الحمد للہ کہا اور یہ جمعہ کا دن تھا پس فرشتوں کو سجدہ کا
حکم ہوا چونکہ اسی دن فرشتے آدمؑ کے سامنے جھکے تھے پاس یہ دن اولاد آدم ؑ کے لئے
عید کا دن قرار دیا گیا (ج۸ ص۹۷۱)
٭ اسرار روحانیہ (ج۸ ص۳۸۱)
٭ انبیا ء میں پانچ روحیں ہوتی ہیں (ج۸
ص۳۸۱-ج۲ص ۳۳-ج۹ص ۸۶-ج۳۱ص ۵۹۱):
روح القدس ، روح ایمان ، روح القوہ ، روح شہوت ،
روح بدن
٭ روح کی تفسیر(ج۸ص ۷۹۱-ج۴۱ص ۶۶۱)
٭ روح کے متعلق سوالات (ج۹ ص ۶۶)
٭ روح کی حقیقت (ج۹ص ۷۶)
٭ حضرت ادریس ؑ کی قبض روح کی کیفیت (ج۹ ص
۷۵۱)
٭ ایک روایت میں ہے کہ روح کو سب سے پہلے
حضرت آدم ؑ کے قدموں میں جاری کیا گیا (ج۹ص ۶۲۲)
٭ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا جو ہمارے حق میں
ایک شعر کہے اس کی روح القدس سے تائید ہوتی ہے (ج۰۱ص ۶۲۲)
٭ روح اور نفس کی تفسیر (ج۲۱ص ۵۲۱)
٭ نفخ صور کے بعد تمام ارواح کی حالت یہ ہو گی
کہ مومنوں کے ارواح نورانی اور کافروں کے ارواح سیاہ ہوح گے اور اپنے اجسام میں
داخل ہوں گے جس طرح دنیا میں تھے (ج۲۱ص ۷۳۱)
٭ ارواح کفاروادی برہوت میں اور ارواح مومنین وادی
سلام میں رہتے ہیں (ج۲۱ص ۵۰۲)
٭ رُوْحاًً مِنْ اَمْرِنَا (ج۲۱ص ۰۲۲-ج۳۱ص
۵۴۲)
٭ ملائکہ اور روح اولو الامر کے پاس اترتے ہیں
(ج۲۱ص ۸۵۲)
روم: سورہ روم (ج۱۱ص۱۰۱)
٭ شاہِ روم کے مفصل سوالات و جوابات (ج ۲۱ص
۴۰۲، ۵۰۲)
رہن : قرضہ کی ضمانت کے طور رکھا جاتا ہے (ج۳۱ص
۱۸۱)
ریاکاری: ریاکاری کے اعمال سب باطل قاری
قرآن مالدار اور مجاہد جنہوں نے ریا کی خاطر عمل کیا تھا دربار توحید میں پیش ہوں
گے تو ان کے اعمال ٹھکرا دیے جائیں گے (کیونکہ ریا کےلئے تھے) (ج۳ص ۶۵۱)
٭ ایک آدمی با آواز بلند تہلیل و تکبیر پڑھ
رہا تھا حضور نے فرمایا کیا تم کسی بہرے کو بلا رہے ہو (ج۶ص ۱۴)
٭ ریا کاری سے انجام شدہ عمل ضائع ہو گا (ج۷ ص
۷۹۱)
٭ ریا کاری کو شرک سے تعبیر کیا گیا ہے (ج۹ ص
۳۳۱)
٭ حدیث میں ہے کہ ریاکاری تنگی رزق کا موجب
بنتی ہے (ج۱۱ص ۱۲۱)
٭ تکلف کرنے والے کا ظاہر ریا اور باطن منافقت
ہوتی ہے (ج۲۱ص ۹۰۱)
٭ جو کام اللہ کے لئے کیا جائے اس کو ریا کاری
سے پاک ہونا چاہیے۔
Leave a Reply