anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” س ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

{
“@context”: “https://schema.org/”,
“@type”: “WebSite”,
“name”: “تفسیر میں موجود ” س ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online”,
“url”: “https://www.anwarulnajaf.com/2022/01/tafseer-mn-mojod-seen-sy-shuru-honay-wly-mozoat.html”
}

سات: سات چیزیں جو ما ں کے شکم سے نہیں ہیں (امام حسن ؑ سے شا ہ رو م کا سوال) (ج۲۱ص ۵۰۲)

٭سات آدمیوں پر رحمت (ج۳ص ۳۶۱)

سام: سام بن نو حؑ کو حضرت علی ؑ کا ٹھو کر ما ر کر زندہ کر نا (ج۲۱ص۳۰۲)

سانپ: سا نپ بروز محشر زکوٰة ادا نہ کرنے والے پر بصورت اژدہا مسلط ہو گا (ج۴ص ۰۹)

٭ سا نپ، بچھو اور چو ہے کا حا لت احرام میں ما رنا بھی جا ئز ہے (ج۵ص ۷۶۱)

٭ عصائے مو سیٰؑ کا سا نپ بننا (ج۶ص ۷۶-ج۷ص ۶۷۱-ج۹ص۶۷۱ -ج۰۱ص۷۹۱،۵۲۲- ج۱۱ص۵۳)

٭ حضرت پےغمبر نے حضرت مو سیٰؑ والا معجزہ دکھا یا (ج۶ص ۱۸)

٭ سا نپ ان سا ت میں سے ہے جو ما ں کے شکم سے نہیں (ج۲۱ ص ۵۰۲)

٭ غا ر میں سا نپ نے حضرت ابو بکر کو کا ٹا (ج۷ ص ۳۵)

٭ حضرت یو سف ؑ کو جس کنوئیں میں گرا یا گیا اس میں سانپ تھے لیکن یو سفؑ کو نہ کا ٹا (ج۸ص ۷۱)

٭ جہنم کے زہریلے سا نپ جو کا فر پر قبر میں مسلط ہو ں گے (ج۹ ص ۸۰۲)

٭ سوال کی گیا کہ جادوگروں کے سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰؑ گھبراگئے تھے لیکن آگ سے حضرت ابراہیم ؑ نہ گھبرائے تو حضرت جعفرصادقؑ نے جواب دیا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی صلب میں محمد وآل محمد کے انوار تھے (ج۹ ص ۶۳۲، ۷۳۲)

٭ جو شخص ہرن کی جھلی پر سورہ نمل لکھ کر گھر میں رکھے تو سانپ بچھو بھیڑیا بولا کتا وغیرہ موذی جانور داخل نہ ہوں گے (ج۰۱ص ۲۲۲)

سائبہ : سائبہ، بحیرہ، وصیلہ اور حامی کی تشریح (ج۵ص ۴۷۱، ۵۷۱)

٭ سائبہ وغیرہ کے متعلق مشرکین کا احتجاج (ج۸ص ۷۰۲)

سبا: ملک سبا اور ملکہ سبا بلقیس کا ذکر (ج۰۱ص ۷۳۲)

٭ قوم سبا کا واقعہ (ج۱۱ص ۹۳۲)

سارہ ؑ: ایک قول ہے کہ حضرت لوط کی بہن تھی (ج۶ص ۵۵)

٭ حضرت سارہ کو بچے کی خوشخبری اور لفظ اہل بیت سے خطاب (ج۷ص۶۲۲-ج۸ص۵۸۱- ج۱۱ص۸۷-ج۲۱ص ۶۵)

٭ ابراہیم ؑ نے عراق سے ہجرت کی تو سارہ ہمراہ تھی ملک شام کی سرحد پر کسٹم آفیسر سے بات چیت (ج۲۱ص ۴۵)

٭ بادشاہ نے مسلمان ہو کر حضرت ہاجرہ کو سارہ کی خدمت کےلئے دیدیا (ج۲۱ص ۵۵)

سابق: سَابِقُوْن اَوَّلُوْن کی تشریح (ج۷ ص ۳۱۱)

٭ سابق الایمان علی ؑ ہے (ج۷ص ۸۱۱)

٭ سَابِقُوْن (ج۳۱ص۶۹۱،۷۹۱،۲۰۲)

٭ سابقین چار ہیں: حضرت ہابیل ؑ ، مومن آل فرعون ، حبیب نجار ، حضرت علی ؑ

سامری : بنی اسرائیل کے پاس جو قبطیوں کے زیورات تھے ان کو آگ میں ڈال کر گوسالہ بنایا اور جبرائیل ؑ کی گھوڑی کے قدموں کی مٹی اٹھا کر اس میں ڈال دی تو اس سے آواز پیدا ہوئی پس سامری کے کہنے سے بنی اسرائیل نے اس کی پوجا شروع کر دی (ج۲ص ۸۰۱-ج۹ص۵۹۱)

٭ جس طرح ہارون کی مخالفت کرنے والا سامری تھا اسی طرح اس امت میں علی ؑ کی مخالفت کرنے والا امت کا سامری ہے (ج ۹ص ۹۶۱)

٭ حضرت پیغمبر نے فرمایا بروز محشر تیسرے نمبر پر میری امت کے سامری کا جھنڈا ہو گا (ج ۴ص ۹۲)

٭ حضرت موسیٰؑ کی امت ہارون ؑ کے منع کرنے کے باوجود گوسالہ پرستی سے باز نہ آئی اور امت محمدیہ حضرت علی ؑ کی تمام حجت کے باوجود اپنے دور کے سامری کی اطاعت کرتی رہی (ج ۶ص ۹۸، ۰۹) سامری اور گوسالہ (ج۶ص ۶۹، ۲۰۱)

٭ سامری کے متعلق خیالات (ج۹ ص ۵۹۱)

٭ حضرت موسیٰؑ نے سامری کو قوم سے نکال دیا اور وہ مبتلائے عذاب ہوا (ج۹ ص ۰۰۲)

سبّ کرنا : شیعہ کی طرف سبّ صحابہ کی نسبت دیناافترا ء ہے کیونکہ شیعہ مذہب کی رُو سے سبّ کرنا اور گالی دینا فعل حرام ہے اور سیرت آئمہ اہل بیت کے خلاف ہے (ج۱ص ۸۱۱)

٭ سبّ کرنا گناہ ہے، تم جھوٹے خداﺅں کی پوجا کرنے والوں کو سبّ نہ کرو ورنہ وہ تمہارے حقیقی خدا کو سبّ کریں گے حضرت پیغمبر نے فرمایا یا علی ؑ جو تجھے سبّ کرے گا گویا اس نے مجھے سبّ کیا (ج۵ص ۶۴۲)

سبیل تراشی: مونچھیں کترانا ملت ابراہیمی ہے (ج۲ص ۱۷۱ – ج۵ص۱۷۲ – ج۴۱ص ۰۲)

ستارہ : حضرت ابراہیم ؑ نے ستارہ پرستی نہیں کی تھی بلکہ ان لوگوں کو سمجھانے کا ایک طریقہ اختیار کیا تھا کہ تمہارے عقیدہ کے مطابق چلو ستارہ کو خدا مان لیں لیکن دیکھیں کہ کہ اس میں خدائی صفات بھی ہیں جب وہ ڈوبا تو فرمایا ڈوبنے والے کو خد انہیں کہا جاسکتا (ج ۵ص ۴۳۲)

٭ یوسف ؑ کےلئے گیارہ ستاروں کا سجدہ خواب تھا جسکی تعبیر اس کے گیارہ بھائیوں کی اطاعت تھی (ج ۸ص ۸)

٭ ستارہ قطبی جو جانب شمال میں افق سے ۲۳ درجے بلند ہے بعض مقامات پر اس کو دائیں کندھے کی سیدھ پر رکھا جائے تو منہ قبلہ کعبہ کی طرف ہو جاتا ہے (ج ۹ص ۳۵)

٭ ہر ستار سے کا مدار جدا ہے (ج ۹ص ۲۱،۳۲-ج۳۱ص ۵۲۱)

٭ یہ ستارے آسمان دنیا کی زینت ہیں (ج ۲۱ص ۳۳-ج۴۱ص۲۷)

٭ علم نجوم (ج۴۱ص ۲۵) النجم (ج۳۱ص ۵۴۱، ۸۴۱)

سیارات سبعہ : چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مشتری، زحل، ہر ایک کا آسمان الگ ہے (ج ۴۱ص ۷۵)

سجدہ : قرآن مجید میں چار سورتیں ہیں جن میں سجدہ واجب ہے:

الم سجدہ ، حم سجدہ ، النجم ، العلق (ج ۱ص ۳۴)

٭ حضرت آدم ؑ کے سجدہ کا حکم اور ابلیس کا انکار (ج۲ص ۴۸ تا ۹۸)

٭ آذر علم نجوم کا ماہر تھا (ج۵ ص ۱۳۲)

٭ بنی اسرائیل کو سجدہ کرتے ہوئے دروازہ سے گزرنے کا حکم تھا وہ باب حطہ یعنی باب استغفار تھا اور پیغمبر نے فرمایا میری امت کے لئے حضرت علی ؑ باب حطہ ہے (ج۲ص ۵۱۱)

٭ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والا اسلامی گروہ ۲۷ زن و مرد اور بچوں پر مشتمل تھا نجاشی کا سلام کیا لیکن سجدہ نہ کیا نجاشی نے پوچھا تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم صرف اللہ کا سجد کرتے ہیں اور بس (ج۵ص ۶۵۱)

٭ سجدہ شکر شیعان علی ؑ کی علامت ہے (ج۵ص ۳۳۲)

٭ سجدہ و ذکر سجدہ (ج ۹ص ۵۵)

٭ ابلیس سجدہ آدم کے حکم میں شامل تھا (ج۶ص ۱۱)

٭ قرآنی سجدے ان کا طریقہ اور ذکر سجدہ (ج۶ص ۳۵۱، ۴۵۱)

٭ سجدہ تعظیمی (ج۸ ص ۶۷) سجدہ صرف اللہ کےلئے ہے (ج۸ ص۸۱۱)

٭ سجدہ تکوینی و سجدہ تشریعی(ج۷ص ۹۱۱)

٭ ملائکہ کا سجدہ کس نوعیت کا تھا (ج۸ ص ۹۷۱)

٭ فرشتوں کی ایک جماعت ہے جب سے پیدا ہوئے سجدہ میں ہیں اور ان کے آنسوﺅں کے قطرات سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں وہ بروز قیامت سجدہ سے سر اٹھائیں گے اور کہیں گے اے پرودگار ! جوتیری عبادت کا حق تھا ہم ادا نہیں کر سکے (ج۸ ص ۵۱۲)

٭ دو سجدے ہر رکعت میں ارکا ن نماز میں سے ہیں (ج۹ ص ۶۵) جدہ سہو (ج۹ ص ۹۵)

٭ ہر شی اللہ کا سجدہ کرتی ہے لیکن ذوی العقول کا سجدہ تشریعی اور باقیوں کا تکوینی ہے (ج۰۱ص ۶۱)

٭ ہد ہد نے سلیمان ؑ کی رپورٹ دی کہ ملکہ بلقیس اور اس کی قوم سورج کا سجدہ کرتے ہیں (ج۰۱ص ۶۳۲ تا ۰۴۲)

٭ چاند سورج کا سجدہ نہ کرو بلکہ اللہ کا سجدہ کرو (ج۲۱ص ۹۸۱)

سجین: سجیْن کی تشریح (ج۴۱ص ۹۸۱)

سُحت : بروایت درّ منثور پیغمبر سے مروی ہے سحت یہ چیزیں ہیں کتے کی قیمت، بندر کی قیمت، سورکی قیمت، شراب کی قیمت، مردارکی قیمت، خون کی قیمت، نر حیوان کی مادہ سے ملانے کی اجراءت، رونے والیوں کی اجرت، گانے والیوں کی اجرت، جادوگر و قیافہ شناس کی اجرت، مردرا جانوروں کی کھال کی قیمت، بت بنانے کی اجرت سفارش کا ہدیہ، جہادمیں جانے کی اجرت، ایک روایت میں رشوت زنا کی اجرت، خیانت مال امام، یتیم سود اور ہر مسکر کی قیمت یہ سب سحت میں داخل ہیں (ج۵ص ۱۰۱،۶۳۱)

سخاوت : حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا جو شخص اپنے مال سے حق واجب نکال کر مستحقین تک پہنچا دے وہ سخی ہے اور جو حقوق واجبہ ادانہ کرے وہ بخیل ہے (ج۳ص ۳۶۱)

سدرة المنتہیٰ: سِدْرَةُ الْمُنْتَہٰی کا ایک پتہ ایک بڑی جماعت کو سایہ دے سکتا ہے (ج۸ ص ۳۶۲)

سعادت: سعادت و نحوست ایام (ج۲۱ص ۶۷۱ تا ۳۸۱)

٭ سعد نامی ایک شخص بنی امیہ میں سے تھا اور معصوم اس کو سعد الخیر کے نام سے پکارتے تھے (ج۸ ص ۲۶۱)

سفر: مارہ رمضان کا روزہ سفر مباح میں ناجائز ہے اور بعد میں اس کی قضا لازم ہے (ج۲ص ۸۲۲)

٭ شرائط سفر (ج۸۲۲)

٭ ماہ رمضان میں سفر کے متعلق احکام و ہدایات (ج۲ص ۰۳۲ تا ۲۳۲)

٭ سفر کے اخراجات اور واپسی تک گھر والوں کے خرچہ رقم پاس ہو تو حج واجب ہے بشرطیکہ رکاوٹ کوئی نہ ہو (ج۴ص ۹۱)

٭ اگر عورت کےلئے محرم میسر نہ ہو لیکن سفر پر امن ہو تو حج کو جاسکتی ہے (ج۴ص ۹۱)

٭ سفر کے ایام میں شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوتی ہے نماز قصر اور اس کے مسائل (ج۴ص ۱۳۲ تا ۴۳۲)

٭ اگر سفر میں دشمن کا خطرہ لاحق ہو تو نماز خوف پڑھی جائے گی (ج۴ص ۵۳۲)

٭ زمین میں سفر کرکے انسان عبرت و نصیحت حاصل کر سکتاہے (ج۲۱ص ۴۲۲)

٭ سفر میں سورہ طور کی تلاوت کرنے والا ناپسندیدہ امور سے محفوظ رہتاہے (ج۳۱ص ۴۳۱)

سفینہ : اللہ نے اپنی حکمت و مصلحت سے پانیوں کو کشتیوں کے بوجھ اٹھانے کی طاقت دے کر انسانوں کو سہولت دے دی (ج۲ص ۶۰۲)

٭ حضرت خضر ؑ نے کشتی کو شگاف کرکے ڈبو دیا (ج۹ ص ۲۱۱)

٭ کشتی نوح ؑ کا حلیہ (ج ۷ص ۱۱۲)

٭ پانی کے سفر کئے کشتیاں بھی اللہ نے مسخر کیں (ج۲۱ص ۳۲)

٭ حضرت نوحؑ کی کشتی پانی میں چل کر باعث نجات ہوئی (ج۳۱ص ۹۶۱)

سفیان ثوری: سفیان ثوری نے اما م جعفرصادقؑ پر عمدہ لباس پہننے کا اعتراض کیا آپ نے فرمایا میں نے اوپر لوگوں کےلئے اچھا لباس پہنا اور اندر پنے بد ن کےلئے کھردرا لباس پہنا ہے لیکن تو نے اوپر لوگوں کے دکھاوے کےلئے کھردرا پہن رکھا ہے اور اپنے نفس کےلئے اندر عمدہ لباس پہنا ہے آپ نے اوپر کا کپڑا اٹھا یا تو ایسا ہی تھا (ج۶ص ۴۲)

سقر : جہنم کا ایک طبقہ ہے جس کا نام سقر ہے (ج۳۱ص ۴۷۱)

سقراط : کو جب اپنے زمانہ کے نبی کی بعثت کی خبر سنائی گئی تو اس نے کہا میں خود ہدایت یا فتہ ہوں مجھے کسی دوسرے ہادی کی ضرورت نہیں ہے (ج۲۱ص ۷۶۱)

سکینہ : وہ تابوت جو بنی اسرائیل کےلئے سکینہ تھا اُس میں حضرت موسیٰؑ کی نعلین اور حضرت ہارون ؑ کا عمامہ تھا(ج۳ص ۱۲۱)

٭ اللہ نے اپنا سکینہ اپنے رسول پر نازل کیا (غار ثور میں) (ج۷ص ۱۵)

٭ اللہ نے مومنوں کے قلوب میں سکینہ (سکون) نازل فرمایا سکینہ سے مراد دلائل و براہین جن کی بدولت ان کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہو گیا (ج۳۱ص ۶۶)

سلیمان ؑ: سلیمان ؑ پر جادو کی تہمت لگائی گئی حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کیا (ج۲ص ۸۴۱)

٭ غزالی نے سر العالمین میں لکھا ہے کہ حضرت علی ؑ نے جو انگوٹھی رکوع میں دی تھی وہ سلیمان ؑ کی تھی (ج۵ص ۴۳۱)

٭ حضرت علی ؑ نے فرمایا میرا ملک سلیمان ؑ بن داﺅد ؑ کے ملک سے بڑا ہے (ج۵ص ۲۱۲)

٭ ہد ہد پرند ے کے پاس وہ علم تھا جو سلیمان ؑ کے پاس نہ تھا (ج۸ ص ۶۳۱)

٭ سلیمان ؑ نبی کے گھر میں تین سو بیویوں کے علاوہ سات سو کنیزیں تھیں (ج۸ص۰۴۱)

٭ حضرت سلیمانؑ نے حضرت داﺅد ؑ کے فیصلہ کو تبدیل کرایا (ج۹ ص ۱۴۲)

٭ سلیمان ؑ کی حکومت (ج۹ص ۳۴۲)

٭ حضرت سلیمان ؑ نے باجود انتہائی بلندی اور لشکری شورو غل کے زمین پر دھیمی آواز سے بولنے والی چیونٹی کی آواز سن لی (ج۰۱ص۲۲)

٭ حضرت سلیمانؑ کے لشکر کا یومیہ خرچہ سات کر غلہ تھا (ج۰۱ص ۹۴۱)

٭ حضرت سلیمان ؑ کا قصہ (ج۰۱ص ۷۲۲)

٭ حضرت سلیمانؑ کی فوجی چھاﺅنی تین سو میل کی حدود میں تھی (ج۰۱ص ۱۳۲)

٭ حضرت سلیمان ؑ کےلئے ہوا مسخر تھی تیز رو گھوڑے کی دو ماہ کی مسافت ان کا تخت ہوا میں ایک دن میں پہنچتا تھا (ج۱۱ص ۸۲۲)

٭ بیت المقدس کی تعمیر (ج۱۱ص ۹۲۲) حضرت سلیمان کی وفات (ج۱۱ص ۷۳۲)

٭ حضرت سلیمان ؑ کےلئے سورج پلٹا گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے کہ نمازقضا ہو گئی (ج۲۱ص ۰۹،۱۹)

٭ حضرت سلیمان ؑ کا امتحان (ج۲۱ص ۱۹)

٭ سلیمان ؑ کی ملک سلیمان ؑ ،جنّ، انسان، چرند، پرند، حشرات الارض اور ہوا پر حکومت (ج۲۱ص ۳۹)

٭ شہنشاہ ہونے کے باوجود مزدوری کر کے اپنا اور بچوں کاپیٹ پالتے تھے (ج۲۱ص ۵۳۲)

سلمان ؑ: اگر دین آسمان سے معلق ہوتا تو ایرانی لوگ وہاں سے بھی حاصل کر لیتے (ج۲ص ۶۶،ج۴۱ص ۵۱)

٭ اَلسَّلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ (ج۲ص ۶۶-ج۳ص ۱۱۲)

٭ خندق کی کھدائی میں جناب سلمان کو حضور نے اپنا ساتھی بنایا۔

٭ جناب سلمان نصرانیت کے زمانہ میں بھی اندرونی طورپر حضور پر ایمان رکھتا تھا (ج۲ص ۹۱۱)

٭ جناب سلمان ؑ نے کہا جو جبرائیل ؑ کا دشمن وہ میکائیل ؑ کا بھی دشمن ہے حضور نے فرمایا اے سلمان آیت نے تیری تصدیق کر دی ہے (ج۲ص ۷۴۱)

٭ حضرت سلمان ؑ نے بی بی سے کہا کہ آپ بد دعا نہ کریں بی بی نے فرمایا میرا حق غصب ہوا طمانچہ مارا گیا دروازہ گرا، میں نے صبر کیا اب کیسے صبر کروں؟ تو حضرت سلمان ؑ نے عرض کیا حضرت علی ؑ نے ایسا فرمایا ہے، تو بی بی نے سر جھکا لیا (ج ۶ص ۴۵)

٭ اصحاب کہف حضرت یوشعؑ بن نون مومن آ ل فرعون جناب سلمان ؑ ابو دجانہ انصار ی مالک اشتر حضرت قائم آل محمد کے ہمراہ ہونگے (ج۶ص۷۰۱-ج۹ص۴۹)

٭ سلمان ؑ سے مروی ہے میں حضور کے ہمراہ تھا آپ نے ایک خشک درخت کی ٹہنی کو ہلایا تو اس کے پتے گرے آپ نے فرمایا جب وضو کر کے مومن نمازپڑھتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح گر جاتے ہیں (ج۷ ص ۱۴۲)

٭ حدیث بساط میں سلمان شامل تھا (ج۹ ص ۳۸)

٭ حضرت سلمان ؑ، ابوذرصہیب، عمار اور جناب نادار صحابہ تھے جنکے متعلق امراء کہتے تھے کہ ہمیں ان سے بدبو آتی ہے پس قرآن مجید کی آیت اتری کہ آپ ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں (ج۹ ص ۴۹)

٭ حضرت سلمان ؑ نے بارہ اماموں والی روایت منقول ہے اور حضور نے فرمایا میرے بارہویں جانشین کے ہمراہ تو بھی زندہ ہو کر اٹھے گا تو خوشی کے مارے آنکھوں سے آنسو آگئے اورکہا اب موت کی کوئی پرواہ نہیں ہے (ج۱۱ص۳۱،۴۱)

٭ حضرت سلمان ؑ کے لئے جنگ خندق پہلا جنگ تھا (ج۱۱ص۴۶۱)

٭ بشارت والی آیت کا مصداق ہے حضرت سلمان ؑ (ج۲۱ص۷۱۱)

٭ حضرت سلمان ؑ کو پیغمبر کا آخری زمانہ کے مسلمانوں کی غلط کاریاں بتانا اور حضرت سلمان ؑ کا گریہ (ج۳۱ص۶۴)

٭ جب آیت اتری کہ اگر تم گمراہ ہو جائے تو خدا تم سے بہتر لوگ لائے گا لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ جناب سلمان ؑ اس وقت حضور کے پاس تھے آپ نے اس کے زانو پر ہاتھ رکھ کر فرمایا وہ لو گ ہیں (ج۳۱ص۵۵)

٭ دو صحابیوں نے سلمان واسامہ کا گلہ کیا توآپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا تمہارے منہ سے گوشت کی بد بو آتی ہے انہوں نے جواب دیا حضور نے گوشت کھا یا ہی نہیں آپ نے فر مایا تم نے جناب سلمان و اسامہ کا گلہ کیا ہے (ج۳۱ص۴۰۱)

٭ جناب سلمان ؑ کو ساتھ لے کر حضرت علی ؑ نے معجزہ دکھایا (ج۳۱ص۱۱۱)

٭ حضرت علی ؑ نے سورج سے کلام کیا جبکہ اس موقعہ پر عمار و سلمان ؑ دونوں موجود تھے (ج۲۱ص۲۱۲)

سلام : رسول اللہ کے بعض غریب و مسکین صحابہ سے مالدار لوگ نفرت کرتے تھے اورکہتے تھے کہ آپ ان لوگوں کو اپنے پاس اٹھا دیں اللہ نے حضور کو ایسا کرنے سے منع فر مایااور حکم ہوا کہ جب آپ کے پاس یہ غریب لوگ آئیں تو آپ ان کو سلام علیکم کہیں چنانچہ جب وہ آتے تھے تو حضور سلام علیکم کہیں چنانچہ جب وہ آتے تھے توحضور سلام علیکم کی پہل کرتے تھے اور فرماتے تھے اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کئے جن پرپہلے سلام کرنے کا مجھے حکم ملا ہے (ج۵ص ۳۲۲)

٭ اعراف پر کھڑے ہوئے گنہگار مومن جنت میں جانے والوں کو سلام کہیں گے اور خود بھی جنت کے امید وار ہوں گے (ج۶ ص ۵۳)

٭ امام محمد باقرؑ نے دربار ہشام میں شاہ و رعایا سب کو ایک ہی سلام سے خطاب کیا (ج ۶ص ۸۵)

٭ حضرت پیغمبر نے فرمایا ہر چھوٹے بڑے کو سلام کہنا عقلمند کی نشانی ہے (ج۶ص ۷۶۱)

٭ خدا کی جانب سے بہشتیوں کو ہدیہ و تحیہ کے طور پر سلام پہنچے گا (ج۷ ص ۲۵۲)

٭ سلام کے چار معانی ہیں: (۱) سلام کہنا (۲) ایک پودا ہے (۳) سلامت کی جمع سلام ہے (۴) اللہ کا نام اسی سے ہے دارالسلام (ج۷ص ۷۲۲)

٭ یعقوب ؑ و یوسف ؑ کی ملاقات میں سلام کی پہل یعقوب ؑ نے کی تھی (ج۸ ص ۳۸)

٭ سلام اولادِ آدم ؑ کے لئے تحیہ ہے اور حضرت پیغمبر نے فرمایا جنت میں جانے کا آسان نسخہ ہے

اَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَاَفْشُواالسَّلامَ وَ صَلُّوْا فِی اللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ وَادْخُلُو الْجَنَّةَ بِسَلامٍ

یعنی کھانا کھلاﺅ، سلام ہر ایک کو کرو، نماز شب پڑھو جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، پس سلامتی سے جنت میں چلے جاﺅ (ج۸ ص ۹۷۱-ج۲۱ص ۷۰۱-ج۳۱ص ۴۵۱)

٭ شب معراج آسمانی فرشتوں نے عرض کیا کہ زمین پر پہنچ کر علی ؑ کو ہمارا سلام کہنا (ج۸ ص ۱۶۲)

٭ حضرت خدیجہ کو اللہ کا سلام (ج۸ ص ۹۵۲)

٭ حدیث بساط میں ہے کہ اصحاب کہف نے صرف علی ؑ کوسلام کا جواب دیا اور انہوں نے سوال کے جواب میںکہہ دیا کہ ہم صرف نبی یا وصی نبی کو ہی سلام کرنا جانتے ہیں (ج۹ ص ۴۸)

٭ حضرت موسیٰؑ و حضرت خضر ؑ کی ملاقات حضرت موسیٰؑ نے سلام کیا حضرت خضر ؑ نے جواب میں کہا اے بنی اسرائیل کے پیغمبر تجھ پر میرا بھی سلام ہو حضرت موسیٰؑ نے پوچھا آپ کو میرے پیغمبر ہونے کا علم کیسے ہے؟ توحضرت خضر ؑ نے جواب دیا جس نے تجھے میرا پتہ بتایا مجھے اسی نے بتایا (ج ۹ص ۹۰۱)

٭ اپنے گھروں میں داخل ہوتے وقت بھی سلام کہنا چاہیے اگر گھرمیں کوئی آدمی موجود نہ ہو اس طرح کہے اَلسَّلامُ عَلَیْنَا مِنْ رَبِّنَا اللہ نے اس کو اپنا تحیہ قرار دیا ہے اور امام محمد باقرؑ نے فرمایا کہ اپنے گھروالوں کو سلام کیا کرو تاکہ خیر و برکت ہو (ج۰۱ص ۹۵۱)

٭ شب قدر میں اولیا ء اللہ پر سلام کہتے ہیں (ج۴اص ۶۴۲)

٭ مومن سے ملک الموت کی ملاقات کے وقت ملک الموت مومن کو سلا م کرے گا (ج۱۱ص ۴۰۲)

٭ بہشتیوں کو کہا جائے گا اُدْخُلُوْھَا بِسَلامٍ اٰمِنِیْن (ج۲۱ص ۶۲)

٭ اور فرشتے اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچائیں گے (ج۲۱ص ۸۲)

٭ مومن لوگ بہشت میں کوئی دوسرے بات نہ سنیں گے بلکہ مومن بھائیوں کی جانب سے سلام سلام کی صدا سنیں گے (ج۳۱ص ۸۹۱)

سوال کرنا: سوال کرنا اللہ کو پسند نہیں، حدیث میں ہے کہ جو شخص گزارا ہو سکنے کے باوجود سوال کرے وہ بروز محشر بد نما چہر ہ کے ساتھ اٹھے گا (ج۳ص ۴۶۱)

٭ حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا ہمارے شیعہ وہ ہیں جو کتے کی طرح بھونکیں نہیں، کوے کی طرح لالچی نہ ہوں اور ہمارے دشمن سے سوال نہ کریں خواہ بھوک سے مر ہی جائیں (ج۶ص ۷۶۱)

سود خوری : سود کھانے کا گناہ اورمسائل (ج۳ ص۹۶۱ تا ۱۷۱)

٭ سود کھانے والے کاعذاب (ج۳ص ۱۷۱ تا ۴۷۱)

٭ سود سے منع (ج۴ص ۷۴)

٭ سود سُحت کی قسم ہے (ج۵ص ۰۱۱)

٭ یہودیوں پر لعنت کی وجہ سود خوری تھی (ج ۵ص ۳۵۱)

٭ سود خوری گناہان کبیرہ میں سے ہے (ج۶ص ۴۶۱-ج۶ص ۴۶۱-ج۱۱ص ۰۱۱-ج۳۱ ص۸۵۱)

٭ سود خور آل فرعون کی طرح آگ کی بھٹی میں جھونکے جائیں گے (ج۸ ص ۴۶۲)

٭ سود خوری پر مفصل نوٹ (ج۱۱ص ۷۱۱،۸۱۱)

٭ سود خور جہنم میں الٹے لٹکائے جائیں گے (ج۴۱ص ۴۶۱)

سورج: حضرت ابراہیم ؑ نے نمرود کے سامنے توحید کے اثبات میں احتجاج کیاتھا کہ خدا مشرق سے اُبھارتاہے اگر تو خدا ہے تو اسے مغرب سے ابھاردے پس وہ شرمندہ ہوا (ج۳ص ۳۴۱)

٭ ابو منصور مظفر واعظ کا واقعہ (ج۵ص ۷۸)

٭ حضرت ابراہیم ؑسورج یا چاند و ستارہ پرست نہ تھے بلکہ ان کی پرستش کرنے والوں سے ان کے مسلمات کی روشنی میں بات کر رہے تھے کہ چلو میں تمہارے عقیدہ کے مطابق اپنا رب مان لیتا ہوں لیکن جب ان کا غروب دیکھا تو ان کی پرستش کرنے والوں کو سمجھایا کہ دیکھو جس میں تغیر ہو یا طلوع و غروب ہو وہ رب نہیں ہو سکتے لہذا میں تو ان کو رب نہیں مان سکتا بلکہ اس کو خدا مانتا ہوں جوان سب کا خالق ہے پس توحید کو سمجھانے کا ایک موثر طریقہ کار تھا (ج۵ص ۴۳۲)

٭ شمس و قمر کو اللہ نے حساب کےلئے بنایا ہے کہ شمس کے دور سے سال اور چاند کے دور سے مہینہ بنتا ہے (ج۵ص ۲۴۶ -ج۲۱ص ۲۲) سورج کا مغرب سے طلوع کرنا علائم ظہور سے ہے (ج۵ ص ۹۶۲)

٭ چاند سورج سے روشنی لیتا ہے (ج۷ص ۷۴۱) مفصل بیان تا (ص ۳۵۱)

٭ سورج و چاند اللہ کے حکم کے سامنے مسخر ہیں (ج۸ ص ۲۰۱) یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں (ج۹ ص ۷۱)

٭ سورج کو گہن لگے تو نماز کسوف (نماز آیات) واجب ہوتی ہے (ج ۹ص ۷۴)

٭ حضرت علی ؑ کا سورج سے کلام کرنا (ج۹ ص ۳۸-ج۳۱ص ۲۱۲)

٭ سورج بوقت طلوع اصحاب کہف کی دائیں جانب اور بوقت غروب بائیں جانب ہوتا ہے (ج ۹ص ۷۸)

٭ مشرقی ممالک میں جب ذوالقرنین پہنچے تو اس وقت یہ لوگ متمدن نہیں تھے اور لباس کی قید سے آزاد تھے چنانچہ ارشاد قدرت ہے کہ سورج کے علاوہ ان کا کوئی ستر نہ تھا اور مطلع الشمس سے مراد غالبا مغرب اقصیٰ اور مشرق اقصیٰ ہے یعنی جہاں تک حضرت ذوالقرنین پہنچ سکے تھے (ج۹ ص ۵۲۱)

٭ سورج اور چانداپنے اپنے محوروں پر گردش کرتے ہیں (ج ۹ص ۳۲۲)

٭ اگر یہ لوگ سورج کواتار کر میرے دائیں ہاتھ پر رکھ دیں تب بھی کلمہ حق کی تبلیغ سے نہ رکوں گا (ج۲۱ص ۸۷)

٭ حضرت سلیمان ؑ کےلئے ردّ شمس (ج۲۱ص ۰۹،۱۹)

٭ حضرت یوشع بن نون کےلئے ردّ شمس (ج۵ص ۵۸)

٭ زمان پیغمبر میں ردّ شمس (ج۵ص ۶۸)

٭ حضرت علی ؑ کےلئے ردّ شمس (ج۳۱ص ۲۷)

٭ حضرت علی ؑ کےلئے سورج غروب کے بعد مغرب سے واپس پلٹا اس مسئلہ پر بحث (ج۳ ص۳۴۱)

٭ ردّ شمس جنگ صفین سے واپسی پر بابل کے علاقہ میں (ج۵ص ۸۷، ۸۸)

سید: سید کو بروز محشر پیغمبر اکرم کی قرابت فائدہ دے گی (ج۵ص ۴۷۱)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *