طبیب: طبیب ہندی سے حضرت امام جعفر صادقؑ کی
گفتگو (مقدمہ تفسیرص ۱۸۱)
٭ دربار ہارون میں انگریز ڈاکٹر نے قرآن کی
جامعیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس میں طب کا کوئی ذکر نہیں تو اسلامی مفکر علی
بن حسین بن واقد نے برجستہ جواب دیا کہ قرآن مجید نے کُلُوْا وَاشْرَبُوْا
وَلاتُسْرِفُوْا کہہ کر ساری طب کو ایک جملہ میں بند کر کے رکھ دیا ہے تو ڈاکٹر نے
سر تسلیم کر دیا (ج ۶ص۶۲)
٭ ارسطا طالیس حکیم سکندر ذوالقرنین کا استاد
تھا اور سکند ر کی فتوحات کے بعد ارسطو کی کوششوں سے دنیا کے گوشے گوشے میں علوم
طبیہ و دیگر علوم کے مدارس جاری کئے گئے (ج۹ص۳۲۱)
٭ معدہ کی تکلیف اور بدہضمی کا علاج امام جعفر
صادقؑ نے بتایا کہ کھانا صرف دو وقت کا کھایا کرو اور درمیان میں کچھ نہ کھاﺅ اور
قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال فرمایا: وَلَھُمْ رِزْقُھُمْ فِیْھَا بُکْرَةً
وَّعَشِیًّا آپ ؑ نے فرمایا اس سے تجاوز کرنے سے بدن کا نظام فاسد ہو جاتا ہے (ج۹
ص۹۵۱)
٭ قرآن مجید میں طبی مشورے موجود ہیں لیکن ان
کا صحیح علم انہی لوگوں کو ہے جو قرآن کے ظاہروباطن کو جان سکتے ہیں چنانچہ ایک
دردشکم میں مبتلا مریض نے حضرت امیر المومنین ؑ سے اپنے درد کی شکایت کی تو آپ نے
فرمایا اس کا علاج قرآن مجید میں موجود ہے وہ یہ کہ اپنی بیوی کے مال سے کوئی شئے
خرید لو شہد لے لو اور بارش کا پانی ان تینوں اجزاء کو ملا کر پی لو اس نے بیوی سے
کچھ لے کر اس کی شہد خرید لی اور بارش کا پانی پی لیا اور درد شکم سے مکمل شفایاب
ہو گیا حضرت امیر الموءمنین ؑ نے فرمایا قرآن مجید میں اللہ نے بیوی کے عطا کردہ
مال کے متعلق فرمایا کُلُوْہُ ھَنِیْئًا مَرِیْئًا اور بارش کے پانی کو مبارک کہا
اور شہد کے متعلق فرمایا کہ اس میں شفا ہے تو تینوں جب ملیں گی تو ھَنِیْئًا
مَرِیْئًا بھی ہونگی (ج۴ص۱۱۱) ا ور میں نے خود اس نسخہ کو آزمایا ایک دفعہ کالا
باغ میں سید منور حسین شاہ مرحوم کے پیٹ میں تکلیف تھی اور کوئی علاج کارگر نہ ہوا
تو مذکورہ بالا نسخہ استعمال کرتے ہی فوراً ٹھیک ہو گئے۔
طٰہٰ : سورہ طہ کے فضائل (ج۹ص۹۶۱)
٭ لفظ طہ کی تحقیق (ص۱۷۱ص۰۷۱)
طلب علم : طلب
علم کی اہمیت اور طلب علم کی ضرورت پر مقدمہ تفسیر کے اوائل میں روشنی ڈالی گئی ہے
نیز (ج۲ ص۳۳۱، ۴۳۱) پر مزید گفتگو کی گئی ہے۔
٭ طالب علم کی مدد کرنا ایک کے بدلے میں ایک
لاکھ کا ثواب ہے (ج۳ص۱۱۱)
٭ جن لوگوں کے لئے جنت کی بشارت دی گئی ہے ان
میں سائحون بھی ہیں اور بعض علماء نے فرمایا ان سے مراد زمین میں طلب علم کے لئے
سفر کرنے والے ہیں (ج۷ص۱۳۱)
٭ عظمت علم اور طلب علم کے آداب (ج۳ص۱۱۱)
٭ حضرت پیغمبر کو طلب علم کی فہمائش کی گئی:
قُلْ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(ج۹ ص ۴۰۲)
٭ حضرت لقمان ؑ نے اپنی وصیتوں میں علم کی
اہمیت پر زور دیا اور طلب علم کو ضروری قرار دیا(ج۱۱ ص۲۳۱)
طلب اولاد: شوہر اور بیوی کی باہمی ہم بستری
میں طلب اولاد کی نیت مستحب ہے۔
٭ طلب اولاد کے لئے عمل (ج۹ ص ۷۴۲،ج۴۱ص۷۰۱)
طلقا ء : ان کو کہا جاتا ہے جو اسلام کے
دبدبہ سے مرعوب ہو کر فتح مکہ کے بعد حلقہ اسلام میں داخل ہوئے جیسے ابو سفیان
وغیرہ (ج۳۱ص۶۶۱)
٭ فتح مکہ کی قدرے تفصیل (ج۴۱ ص ۵۷۲ تا ۸۷۲)
طلاق: طلاق عدت و طلاق سنت اور اس کے شرائط
اور پھر بائن اور رجعی کی تفصیلات (ج۳ص۵۶ تا ۲۹ -ج۴۱۶۴تا ۰۵)
٭ طلاق اور ظہار میں فرق (ج۱۱ ص ۷۵۱)
٭ اگر دخول سے پہلے طلاق ہو تو عورت نصف حق
مہر کی حقدار ہوتی ہے(ج۱۱ص ۵۰۲)
٭ تین قسم کے لوگوں کی دعا مستجاب نہیں ہوتی
ان میں سے ایک وہ ہے جس کی عورت نا فرمان ہو اس کی بدعا اس لئے قبول نہیں کہ وہ اس
کو طلاق دے کر گلو خلاصی کر سکتا ہے۔(ج۴۱ص۶۲)
٭ سورہ طلاق (ج۴۱ص۵۴)
طلوع فجر: ماہ رمضان میں کھانے پینے کا آخری
وقت طلوع فجر ہے (ج۲ص۸۳۲)
٭ نماز تہجد کا آخر اور نماز صبح کا اوّل وقت
طلوع فجر ہے (ج۹ص۰۵،۱۵)
طلیحہ بن خویلد: نبوت کا جھوٹا دعویدار تھا
جس کی زبان پیغمبر میں سرکوبی کی گئی (ج۵ ص۳۲۱)
طلحہ: عائشہ سے شادی کرنے کا خواہش مند تھا
(ج۱۱ص۹۰۲)
طالوت: طالوت کا انتخاب اور معیا ر انتخاب
(ج۳ص۲۱۱)
٭ طالوت اور جالوت کی لڑائی (ج۳ص۳۲۱)
طولانی زندگی: قائم آل محمد کی طولانی زندگی
پر اعتراض کرنے والے اگر تاریخ انسانیت کا مطالعہ کریں تو ان کو معلوم ہو گا کہ
بہت سے انسان ایسے گزرے ہیں جن کی زندگیاں کافی طولانی تھیں اور اب تک زندہ رہنے
والوں میں حضرت ادریس ؑ، حضرت الیاس ؑ، حضرت خضر ؑ اور حضرت عیسیٰؑ کاتذکرہ کتب
میں موجود ہے (ج۹ ص۹۱۱)
طائف: حجازمیں ایک مشہور شہر ہے، کفار مکہ
نے ایک یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ اگر خدا نے انسانوں کی تبلیغ کے لئے کوئی اپنا
نمائندہ نامزد کرنا ہوتا تو مکہ اور طائف کے شہروں میں کسی نامور بارسوخ شخصیت کو
نامزد فرماتا، چنانچہ مکہ سے ولید بن مغیرہ کا اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی کا
نام انہوں نے لیا تھا اور سورہ زخرف میں ان کے اس سوال کو نہایت سختی سے ٹھکرایا
گیا (ج۲۱ ص ۱۳۲)
٭ حضور اہل مکہ کی زیادتیوں سے گھبرا کر حضرت
ابو طالب کی وفات کے بعد بنفس نفیس طائف میں تشریف لائے تھے اور جب آپ نے تبلیغ
فرمائی تو اہل طائف نے آپ پر پتھر برسائے چنانچہ کبیدہ خاطر وہاں سے واپس آئے مکہ
پہنچنے سے پہلے جب مقام نخلہ میں پہنچے قوم ِجن کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور حضور
کی نبوت پر ایمان لائے(ج۳۱ص۴۳، ۵۳)
طواف: کعبہ کے ارد گرد چکر لگانا طواف
کہلاتا ہے اور اس کے اقسام و طریقہ (ج۳ ص۷۱تا ۳۲)
٭ منقول ہے کفار مکہ مرد و عورتیں ننگا ہو کر
طواف کیا کرتے تھے ان کا خیال تھا کہ جن کپڑوں میں گناہ کر چکے ہیں وہ اس قابل
نہیں کہ بوقت طواف جسم پر موجود ہوں(ج۶ ص۳۲، ۵۲)
٭ منقول ہے کہ باہر سے وارد ہونے والا کوئی
مسافر یا دیہاتی اگر طواف کرتا تو رسم یہ تھی کہ جس لباس میں وہ طواف کرتا تھا بعد
از طواف اس کو صدقہ میں وہ لباس دینا پڑتا تھا کیونکہ طواف کے بعد وہ اس لباس کو
پہننا اچھا نہ سمجھتے تھے جس میں وہ طواف کرتے تھے اس لئے دیہاتی لوگ اکثر عاریتاً
یا کرایہ پر لباس حاصل کر کے اس میں طواف کر لیتے تھے چنانچہ بیر و نجات سے آنے
والوں کے لئے لباس مہیا کرنا اور کرایہ وصول کرنا ایک کاروبار تھا آدمی کو عاریتاً
یا کرایہ پر لباس نہ مل سکتا اور اپنے پاس بھی وافر لباس نہ ہوتا۔ تو وہ ننگا ہو
کر طواف کر لیا کرتے تھے چنانچہ ایک خوبصورت عورت ایک دفعہ طواف کے لئے آئی تو اس
کو عاریتاً یا کرایہ پر لباس مہیا نہ ہو سکا تو اس نے ننگا ہونا گوارہ کر لیا اور
بعد میں لباس کو صدقہ کرنا گوارہ نہ کیا (ج۷ص۴۱)
٭ حضرت علی ؑ جب سورہ برائت کی تبلیغ کے لئے
تشریف لائے تو اعلان کر دیا کہ آج کے بعد کوئی بھی ننگا ہو کربیت اللہ کا طواف
نہیں کرے گا(ج۷ ص۲۱، ۳۱)
٭ ایک روایت میں ہے کہ کعبہ کے آس پاس اللہ کی
ایک سو بیس رحمتیں ہیں: ساٹھ طواف کرنے والوں کے لئے چالیس نمازیوں کے لئے اور
باقی بیس زائرین کعبہ کے لئے ہیں(ج۰۱ ص ۲۲)
طاغوت: حاکم جور کی طرف فیصلہ لے جانا ایسا
ہے جس طرح طاغوت کی طرف لے جانا (ج۲ ص ۰۴۲)
٭ طاغوت کا معنی و مصداق، بعض روایات میں غاصب
حقوق آل محمد کو طاغوت کہا گیا ہے (ج۳ ص۹۳۱)
٭ طاغوت کے پجاری (ج۵ ص ۶۳۱- ج۸ص۸۰۲- ج۲۱ ص
۶۱۱)
طاعون: حضرت موسیٰؑ کی حکم عدولی پر قوم
موسیٰؑ طاعون کے عذاب میں مبتلا ہوئی اور ایک گھنٹہ کے اندر ان کے ہزاروں آدمی
لقمہء اجل ہوگئے (ج۲ص۴۱۱-ج۵ص۸۷-ج۶ص۱۸)
طوبیٰ: جنت میں ایک درخت ہے جس کی اصل حضرت
پیغمبر کے گھر میں ہو گی اور شاخیں جنتیوں کے گھر میں پہنچیں گی (ج۶ ص۷۶۱)
٭ روایت میں طوبی کی اصل حضرت امیر ؑ کے گھر
میں ذکر کی گئی ہے طُوْبٰی لَھُمْ وَ حُسْنُ مَآبْ شب معراج حضرت پیغمبر نے طوبی
کا پھل کھایا تھا (ج۸ص۳۳۱،۴۳۱،۰۷۲،۳۶۲)
٭ طوبی درخت کا ایک ایک پتہ ایک لاکھ آدمیوں
پر سایہ فگن ہو سکتا ہے (ج۹ص۵۶۱)
طوفان: حضرت آدم ؑ کےلئے قبہ نور اُترا تھا
جسے طوفان نوحؑ کے وقت اٹھایا گیا(ج۲ص۰۸۱- ج۰۱ص۷۲)
٭ آل فرعون پر جو متعدد عذاب نازل ہوئے ان میں
سے ایک عذاب طوفان بھی تھا(ج۶ص۸۷- ج۹ص۵۷ -ج۲۱ ص۸۴۱ص۱۴۲)
٭ طوفان نوحؑ کے بعد حضرت آدم ؑ کی نسل حضرت
نوحؑ سے چلی اس لئے یہ آدم ثانی ہیں (ج۶ ص۴۴)
٭ حضرت پیغمبر کے زمانہ میں اسلام پر طوفان کا
عذاب بھی آیا (ج۶ ص۳۸)
٭ طوفان نوحؑ (ج۷ص۳۱۲،۸۱۲-ج۶ص۷۷)
٭ حضرت ذوالقرنین ؑ کا زمانہ حضرت نوحؑ کے بعد
ہے اور انہوں نے مکان بنانے کی ابتدا ء فرمائی (ج۹ص۰۳۱)
٭ قوم سبا پر طوفانی عذاب (سیل العرم) (ج۱۱
ص۱۴۲)
طور: بنی اسرائیل کی طرف سے رویءت خدا کا
سوال اور کوہ طور پر حضرت موسیٰؑ کا جانا (ج۲ ص ۱۱۱)
٭ کوہ طور کا قوم بنی اسرائیل کے سروں پر بلند
ہونا(ج۲ص۹۱۱- ج۶ص۲۱۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کا وعدہ طور اور چالیس راتوں کا
قیام(ج۶ص۴۸)
٭ حضرت موسیٰؑ کے طور پر جانے کے بعد قوم کی
گوسالہ پرستی اور حضرت ہارونؑ سے قوم کا برتاﺅ (ج۶ص۶۹)
٭ حضرت پیغمبر نے معراج پر جاتے ہوئے طور پر
بھی دو رکعت نماز پڑھی تھی (ج۸ص۰۶۲)
٭ طور کی لفظی تشریح(ج۰۱ص۳۶)
٭ طسمٓ کی تاویل میں بعضوں نے طا سے مراد طور
لیا ہے(ج۰۱ص۰۹۱)
٭ حضرت موسیٰؑ کا کوہ طور پر پہلی دفعہ گزر اور
کلام کی ابتدا ء (ج۱۱ ص۴۳)
٭ حضرت موسیٰؑ کی وفات طور پر (ج۱۱ ص۰۶)
٭ سورہ طور کے خواص و فوائد (ج۳۱ص۴۳۱)
طاہر: طاہر و حلال میں فرق(ج۵ص۳۲)
٭ طہارت حیوان مذبوح(ص۴۲)
٭ حنیفیت طاہرہ(ج۲ص۱۷۱)آیت تطہیر (ج۱۱ص۸۸۱)
٭ طاہر و طیب (ج۶ص۵۰۱)طہارت (ج۲ص۵۵۱)
٭ طَھِّرْ (ج۰۱ص۱۲-ج۴۱ص۱۳۱)
طیّب: طیبات کا بیان(ج۵ص۸۴،۹۴)
٭ طیب و خبیث برابر نہیں (ج۵ ص ۳۷۱،۰۵۲)
البلد الطیّب: حضرت امام حسین ؑ سے معاویہ
نے پوچھا تیری اور میری داڑھی کا قرآن میں کہاں ذکر ہے تو آپ نے آیت پڑھی جس کا
مقصد ہے کہ پاکیزہ زمین اچھا فصل اگاتی ہے اور خبیث زمین کم اگاتی ہے(ج۶ص۲۴)
٭ طیبین مومنین کو فرشتے سلام کریں گے(ج۸ص۷۰۲)
٭ طیب مردوں کے لئے طیب عورتیں(ج۰۱ص۷۲۱)
Leave a Reply