ظلم: ظلم کی تین قسمیں ہیں: اپنے نفس پر ظلم
، مخلوق پر ظلم ، خدا پر ظلم
احادیث میں ہے کہ خدا پر ظلم ہے شرکت کرنا
اور یہ ناقابل بخشش ہے اور بندوں کا حق کھانا ایسا ظلم ہے جس کا بدلہ لیا جائے گا
اور اپنے نفس پر ظلم اگر اللہ چاہے تو بخش دے شرک ہوائے نفس کا کرشمہ ہے بندوں پر
ظلم غضب کا نتیجہ ہے اور اپنے نفس پر ظلم شہوت کی پیداوار ہے پس ہوائے نفس سے کفر
و بدعت جنم لیتے ہیں غضب خود پسندی اور تکبر کی جڑ ہے اور شہوت حرص اور بخل کی
محرک ہوتی ہے (ج۹ ص ۷۹)
٭ جہنم کے پہلے در وازہ پر تحریر ہے جھوٹوں
بخیلوں اور ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے (ج۹ ص ۶۴)
٭ ظالم کو عہدہ امات نہیں مل سکتا یہاں ظلم سے
مراد ہر قسم کا گناہ ہے (ج۹ ص ۲۷۱)
٭ آل محمد پرظلم کرے والوں کا برا حشر (ج۴ص
۹۲)
٭ مروی ہے کہ جب لوگ امر بالمعروف اور نہی عن
المنکر کے فریضہ کو ترک کردیں تو خدا ان پر ظالم حاکم کو مسلط کر دیتا ہے (ج۴۸۲)
٭ زنا چوری اور شراب خوری کوظلم کہا گیا ہے
(ج۵ص۵۳۲)
٭ افترا،کذ ب اور آیات کو جھٹلانا ظلم ہے (ج۶
ص۰۳)
٭ حق ولایت کی تکذیب کرنے والا ظالم ہے۔
٭ مومن کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ دوسرے مومن
پر ظلم نہیں کرتا (ج۶ص۶۶۱)
٭ آل رسول پرظلم (ج۷ص۱۲۱-ج۰۱ص۱۲۲)
٭ اللہ پر افترا بڑاظلم ہے (ج۰۱۵۵۱)
٭ ظالموں کی طرف جھکاﺅ کی نہی (ج۰۱ص۹۳۲)
٭ مظلوم کو خدا ظالم سے بدلہ دلواتا ہے،
چنانچہ حدیث میں ہے مَنْ اَذٰی جَارَہُ وَرَّثَہُ اللّٰہ دَارَہ¾ جو اپنے ہمسایہ
پر ظلم کرتا ہے اور تکلیف دیتا ہے خدا اس ہمسایہ کو اس کا وارث بنا دیتا ہے (ج۸
ص۹۴۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا اے اللہ مجھے اور
میری اولاد کو بت پرستی سے محفوظ رکھ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے اور امامت کا عہدہ
ظالم حاصل نہیں کر سکتا (ج۸ ص۸۵۱)
٭ ظالم کی تباہی کےلئے سورہ نمل لکھ کر عمل
کیاجا سکتا ہے (ج۸ص۶۹۱)
٭ ظالم کی توبہ (ج۸ص۲۲۲)
٭ ظلم پستی کردار کاآخری درجہ ہے (ج۸ص ۸۳۲)
٭ بروز محشر ظالم کو اپنے اعمال بد کی سزا
ملے گی اور مظلوم کے بعض گناہوں کا بوجھ بھی اس پر ڈال دیا جائے گا جس طرح کہ
مظلوم کو ظالم کی بعض نیکیاں دی جائیں گی (ج۹ص۰۶۱)
٭ سورہ حج کا عمل ظالم حکمران کا اقتدار ختم
کرنے کےلئے مظلوموں کو اقتدار ملے گا اور ظالموں کو بدلہ دیا جائے گا، زمانہ رجعت
(ج۱۱ص ۴۱،۵۱)
٭ کسی پر ظلم کرنا یا مظلوم کی مدد کر سکنے کے
باوجود اس کی مدد نہ کرنا بد ترین گناہوں میں سے ہے (ج۱۱ص۰۲۱)
٭ حضرت لقمان حکیم نے اپنی وصیتوں میں ظالم کا
ساتھ دینے سے منع فرمایا ہے ظالم اور مقصد کی تشریح (ج۱۱ص۲۳۱)
٭ ظالم اور مقصد کی تشریح (ج۱۱ص ۵۶۲)
٭ ظالم کو ظلم کا بدلہ دینا ظلم نہیں بلکہ عدل
ہے (ج۲۱ص ۶۱۲)
٭ تین شخصوں پر اگر ظلم نہ کیا جائے تو وہ ظلم
کرتے ہیں: کمینہ فطرت، زوجہ، مملوک غلام (ج۲۱ص ۷۱۲)
ظلمات: ظلمات ثلاث کی تشریح (ج۲۱ص ۳۱۱)
ظہور:
ظہورقائم(ج۲ص۳۹۱،۹۹۱-ج۳ص۰۱،۷۴۲،۰۷۲-ج۴س۱۹-ج۵ص۲۷۲-ج۹ ص۲۱۲،۲۵۲)
٭ حضرت قائم آل محمد کی آمد کا معجزہ یہ ہو گا
کہ اس دور کے موجود ہ تمام کمالات سے ان کا قدم اوپر ہو گا (ج۶ص۲۷) اور حضرت
موسیٰؑ کا پتھر ان کے پاس ہو گا(ج۶ص۷۰۱)
٭ جزیرہ خضرا کا قصہ (ج۶ص۶۹۱)
٭ قائم کی آمد کے بعد سدّ سکندری توڑا جائے
گا (ج۹ ص۸۲۱)
٭ آمد حضرت قائم آل محمد
(ج۰۱ص۶۳،۲۵۱،۱۹۱،۴۶۲- ج۱۱ص۲۱،۴۱،۲۵۱،۴۵۲-ج۴۱ص۱۳۱)
٭ ایک بنی اسرائیل کے واعظ کا چاندنی رات میں
آنے والے قائم کی علامات کا بیان کرنا اور ادھر اچانک حضرت موسیٰؑ کی آمد (ج۲۱ص
۳۵۱)
ظاہر و باطن: ظاہر و باطن قرآن (ج۱ص ۲۱۱-ج۲ص
۴۶۱-ج۱ص ۴۰۱)
ظہار: ظہار کا بیان (ج۱۱ص ۷۵۱-ج۳۱ ص ۲۳۲)
ظن ّ: (ج ۸ص ۸۳)
٭ حجیت ظن (خبر واحد) (ج۹ ص ۹۲)
٭ حسن ظن (ج۲۱ص ۵۸۱)
٭ سو ءظن (ج۳۱ص ۳۰۱)
Leave a Reply