anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” ع ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

عربی: قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (ج۸ص۶)

٭      حضرت اسمعیل ؑ کی زبان عربی تھی (ج۸ص۶۴)

٭حضرت
یوسف ؑ نے جب شاہ مصر سے عربی زبان میں گفتگو کی بادشاہ کے سوال کے جواب میں
فرمایا یہ میرے چچا حضرت اسماعیل ؑ کی بولی ہے (ج۸ ص ۶۴)

عبدالمطلبؑ: حضرت پیغمبر محمد مصطفی کے دادا
تھے، انہوں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ مجھے دس فرزند عطا فرمائے تو میں اس کی
رضا کے لئے ایک بچہ قربان کروں گا چنانچہ اللہ نے دس فرزند ان کو عطا فرمائے اور
قربانی کا قرعہ عبداللہ کے نام پر آیا پھر دوبارہ حضرت عبداللہ کے نام پر آیا پھر
دوبارہ حضرت عبداللہ کا نام پھر سہ بارہ بھی آخر کا ر اونٹوں کا فدیہ دیا گیا اس
لئے حضور نے فرمایا تھا کہ میں دو ذبیحوں کا فرزند ہوں ایک حضرت اسماعیل ؑ اور
دوسرے حضرت عبداللہ(ج۲۱ ص۳۶)

٭      حضرت عبدالمطلب ؑ کی ابرہہ سے گفتگو اور
واقعہ اصحاب الفیل (ج۴۱ص۴۶۲)

عبادت: عبادت(ج۲ص۶۱،۹۲-ج۴ص۳۲)

٭      عبادت گزار بر صیصا نامی جس کو شیطان نے
بہکا دیا (ج۳۱ ص ۷۵۲)

٭      بلعم بن باعورا کا واقعہ (ج۶ص۱۳۱)

٭      عبادت حضرت علی ؑ پر اعتراض اور اس کا دندان
شکن مدلل و مبرہن جواب (ج۱ص۵۱)

٭      عبادت ابلیس (ج۲ص۸۸)

٭      عبادت کی حقیقت معرفت و فکر ہے۔
(ج۴ص۵۹،ج۷ص۶۲ص۵۹۱،۳۴۲)

٭      ایک عابد کی حضرت ابراہیم ؑ سے بات
چیت(ج۹ص۴۵۱)

٭      حضرت یحییٰؑ کی عبادت (ج۹ص۰۵۲)

٭      مَا عَبَدْتُکَ خَوْفاً مِنْ نَارِکَ وَلا
طَمْعًا فِیْ جَنَّتِکَ بَلْ وَجَدْتُکَ اَھْلاً لِلْعِبَادَةِ فَعَبَدْتُکَ
(مقولہ امیرالمومنین ؑ) (ج۹ص۱۵۲)

٭      دعا مانگنا بہت بڑی عبادت ہے (ج۲۱ص۱۶۱)

٭      عبادت کی دعوت عامہ(ج۲ص۹۶)

٭      عبدیت(ج۲ص۰۷-ج۴ص۳۲-ج۷ص۵۹۱-ج۹ص۷۴۱،۱۵۲)

٭      عباد اور عبید میں فرق(ج۳ص۵۶۲)

عبرت: (ج۲ ص۸۸،۰۱۱، ۵۱۱، ۱۲۱، – ج۴ ص ۵۵، –
ج۵ ص۸۷، ۷۹، ۸۴۱، ۷۵۲، – ج۶ ص۵۱، ۲۰۱، ۴۷۱،- ج۷ ص۰۰۱،- ج۸ ص ۴۲۲،- ج۹ص ۱۳، ۹۹، –
ل۰۱ ص۸۳، ۶۵۱، ۱۷۱، ۷۸۱، ۷۰۲ – ج۱۱ ص ۳۵۱، ۱۶، ۳۴۲،- ج۲۱ ص ۰۲۱، ۷۶۱، – ج۳۱ ص۲۳،
۴۱، ۵۳، ۱۷۱، ۸۹۱)

عدت: طلاق کی عدت (ج۳ص۰۶)

٭      عدت وفات(ج۳ص۳۸)

٭      عدت کی مصلحت (ج۳ص۱۰۱)

عزاداری: عزاداری کی غرض و غایت(ج۱ص۶۱۱)

٭      عزاداری پر خرچ کرنا(ج۳ص۱۱۱)

٭      عزاداری کے مراسم میں اصلاح کی
ضرورت(ج۵ص۸۵۲)

عزیز ؑ و عذیر ؑ: حضرت عزیر ؑ کا
ذکر(ج۳ص۵۴۱،۸۴۱)

٭      موت کے بعد زندگی حضرت عذیر کا واقعہ (ج۳ص
۵۴۱)

عرش: اللہ کے عرش پر ہونے کا مقصد یہ نہیں
کہ وہ مکان کا پابند ہے بلکہ مقصد یہ ہے تمام علوی و سفلی مخلوقات پر اس کو حق
حکومت حاصل ہے چنانچہ (ج ۶ص ۰۴ – ج۹ ص ۶۷۱- ج ۱۱ص ۳۱۲) پر اسی کی طرف اشارہ موجود
ہے تخلیق ارض و سما اور عرش کا پانی پر ہونے کا مقصد (ج ۷ص ۲۹۱)

٭      شب معراج حضرت پیغمبر عرش پر پہنچے تو
دیکھا ساق عرش پر حضرت علی ؑ کا نام تحریر تھا (ج ۸ص ۷۶۲)

٭      عرش کے سامنے مقام محمود ہے جہاں حضرت
پیغمبر بروز محشر تشریف فرما ہونگے (ج ۹ص ۱۶)

٭      حاملین عرش (ج ۲۱ص ۳۴۱- ج ۴۱ص ۴۹)

عزّٰی : عزی نامی ایک بت تھا جس کی زمانہ
جاہیت میں پوجا کی جاتی تھی اور ایک قول کے مطابق عزی نامی ایک بہت بڑا درخت تھا
جس کی قبیلہء عظفان عبادت کرتے تھے (ج ۳۱ص ۶۵۱)

عدل : عورتوں کے معاملہ میں عدل اسلامی کی
تشریح (ج ۳ص ۹۹ -ج ۴ص ۰۱۱)

٭      عدل و انصاف کا حکم (ج ۵ص ۲۷ -ج ۸ص ۶۳۲)

٭      مفسدین کو سز اعین عدل ہے (ج ۵ص ۵۹۱)

٭      بعض مسلمانوں کا حضور کی عدالت پر اعتراض
اور اس کا جواب (ج۷ص۲۷)

٭      حضرت یوسف ؑ کی عادلانہ حکومت (ج۸ص۹۴،۲۵)

٭      حضرت مہدی ؑ زمین کو عدل سے پُر کریںگے
(ج۲۱ص۷۳۲)

عثمان غنی: عثمان کا جمع قرآن (ج۱ص۱۳۱)

٭      عثمان کا قرآن جلانا (ج۱ص۱۴۱) جنگ احد میں
(ج۴ص۱۷)

٭      آیت میں سرزنش (ج۵ص۸۱۱،۰۴۲-ج۰۱ص۰۵۱)

 عثمان بن مظعون: اس صحابی رسول کا تذکرہ (ج۶ص۸۲-
ج۸ ص۹۳۲)

٭      عثمان بن مظعون کو حضور نے حقوق کی ادائیگی
کی تاکید فر مائی (ج ۵ص ۱۶۱)

٭      عثمان بن مظعون کا زہد (ج۵ ص ۱۶۱)

عبس: عَبَسَ وَ تَوَلّٰی کا مصداق (ج۴۱ص۵۷۱)

عرس: عرس کی رسم بد (ج۲۱ص۱۵)

عصا: عصا کی حقیقت (ج۲ ص۲۱۱ -ج۶ص۶۶-ج۱۱ص۳۳)

٭      عصا کی فضیلت (ج۶ص۹۶،۴۹)

٭      عصائے موسیٰؑ میں کراماتی پہلو
(ج۲ص۶۰۱-ج۵ص۶۴۲-ج۰۱ص۹۹۱-ج۲۱ص۳۶۲)

٭      عصائے حضرت موسیٰؑ و الواح آل محمد کے پاس
ہیں (ج۶ص۷۰۱)

٭      عصائے حضرت موسیٰؑ کے فوائد (ج۹ص۵۷۱)

٭      حضرت پیغمبر کا معجزہ عصا (ج۶ص۱۸)

٭      عصائے حضرت سلیمان ؑ کا معجزہ (ج۰۱ص۰۳۲)

٭      عصائے بلقیس جو حضرت سلیمان ؑ کے امتحان کے
لئے بھیجا گیا تھا (ج۰۱ص۳۴۲)

عصمت: عصمت انبیا ء (ج۱ص۲۹۱ -ج۹ص۶۰۲-
ج۳۱ص۸۵)

٭      حضرت آدم ؑ کا جنت سے خروج منافی عصمت نہیں
(ج۲ ص۹۸)

٭      حضرت آدم ؑ کی عصمت پر اعتراض اور ا س کا
جواب (ج۲ص۴۹،۸۹)

٭      عہدہ امامت ظالم کو نہیں دیا جاسکتا پس
امام وہ ہوسکتا ہے جو معصوم ہو (ج۲ص۲۷۱)

٭      چونکہ انبیا ء معصوم ہوتے ہیں لہذا ان کا
صحیح قائم مقام وہی ہو سکتا ہے جو معصوم ہو (ج۶ص۹۸)

٭      صفت عصمت نور ہے (ج۷ص۵۰۲- ج۰۱ص۵۰۱)

٭      عصمت حضرت یوسف ؑ (ج۸ص۴۲)

٭      حضرت یونس ؑ کی عصمت پر بحث (ج۹ص۶۴۲)

٭      حضرت ابراہیم ؑ کی عصمت (ج۰۱ص۱۰۲)

٭      حضرت داﺅد ؑ کا امتحان اور مقام عصمت
(ج۲۱ص۴۸،۵۸)

٭      حضرت سلمان ؑ کی عصمت پر بحث (ج۲۱ص۲۹)

عقل: عقل کا مقام:(ج۱ص۹۷۱)

٭      بے عقل پر کنٹرول کا حکم (ج۴ص۸۱۱)

٭      عقل کی عظمت (ج۴ص۰۰۱،ج۴۱ص۶۷-ج ۲۱ص۷۰۱)

عکرمہ: عکرمہ ابن ابی جہل کا اسلام قبول
کرنا (ج۱۱ص۱۴۱)

عکاظ: عربوں میں سالانہ اجتماع کے لئے ایک
مقام مخصوص تھا جس کو عکاظ کہتے ہیں یہاں ایک عظیم اجتماع ہو ا کرتا تھا اور یہ
اجتماع فاسق و فاجر لوگ تک محدود نہیں تھا بلکہ عرب کے دانشور بھی اس میلے میں
شریک ہوتے تھے شعرائے عرب اور فصحا و بلغاء وادبا کا جم غفیر یہاں ہوتا تھا، پس
شعراء اپنا کلام منظوم اور خطباء اپنا کلام منشور دانشور طبقا ء میں پیش کرتے تھے،
پس شاعر اعظم، خطیب اعظم یا ادیب اعظم کا ایک بورڈ کے ذریعے انتخاب عمل میں لایا
جاتا تھا،چنانچہ اس میلے میں حضور تشریف لائے اور قرآن مجید کی بعض آیات کی تلاوت
فرمائی، جس کے سامنے فصحا و بلغاو خطباء و ادباء کی گردنیں جھک گئیں اور قرآن مجید
کو بے مثال و لاجواب کلام قرار دیتے ہوئے انہیں ماننا پڑا کہ یہ انسانی کلام نہیں
ہے، حضرت پیغمبر نے زید بن حارثہ کو اسی اجتماع میں تشریف لا کر اس کا باغ قیمتا
ًخرید فرمایا تھا اور یہی زید حضرت پیغمبر کا متنبی تھا (ج۱۱ص۷۵۱)

٭      عکاظ کی طرف آتے ہوئے مقام نخلہ پر آپ نماز
پڑھ رہے تھے کہ قوم میںجن کے بعض افراد نے شرف اسلام قبول کیا (ج۳۱ص۴۳ -ج۴۱ ص۵۱۱)

علی ؑ : حضر ت علی ؑ قرا ن کی رُو سے چوتھے
خلیفہ ہیں:

حضرت آدم ؑ ، حضرت داﺅد ؑ ، حضرت ہارون ؑ ،
حضرت علی ؑ خلیفہ پیغمبر ہے (ج۲ص ۴۸)

٭      حضرت علی ؑ کو اللہ نے منتخب فرمایااور
پیغمبر نے غدیر میں اعلان کیا (ج۱ص ۲۹-ج۵ص ۸۲،۶۰۱،۹۳۱-ج۳ص ۸۱۱،۹۱۱ – ج۱ص ۸۸، ج۱۱ ص
۰۶۱)

٭      جناب عمار کو پیغمبر کا فرمان کہ اختلاف کی
صورت میں حضرت علی ؑ کو نہ چھوڑنا(ج۵ ص ۲۸، ۵۶)

٭      مقام علی
ؑ(ج۶ص۷۳۱تا۹۳۱،ج۱ص۸۵۱-ج۵ص۸۸،ج۱ص۸۵۱،۶۲۲)موازنہ (ج۱ص۰۶۱)

٭      حضرت علی ؑ کی نامزدگی (ج۳ ص۷۰۱-ج۲ص۰۰۱)

٭      حضرت علی ؑ کی ایک ہزار رکعت روزانہ نماز
پراعتراض اور اس کے دندان شکن جوابات (ج۱ص ۱۵)

٭      عَلِیٌّ مَعَ الْقُرْآن (ج۱ص ۶۵، ۱۰۲- ج۵ ص
۶۲، ۴۶-ج۶ص۶۷)

٭      صحابہ کا اعتراف (ج۶ص ۱۸)

٭      حضرت علی ؑ کے اندر انبیا کے کمالات موجود
ہیں (ج۱ص۹۰۱)

٭      ایک رکاب سے دوسری رکاب تک ختم قرآن (ج۱ص۹۴)

٭      بغض علی ؑ منافق کی نشانی ہے (ج۱ص۶۲۱)

٭      حضر ت علی ؑ حافظ قرآن ہے (ج۱ص۲۳۱)

٭      صراط مستقیم (ج۱ص۳۶۱ -ج۳۱ص۷۰۱ -ج۸ ص۸۴۱)

٭      حضرت علی ؑ کے پاس صحابہ کی جماعت کا آنا
بقول ابن قتیبہ(ج۱ص۷۶۱)

٭      حضرت علی ؑ کی محبت (ج۱ص۶۳۲-ج۰۱ص۱۲۲-
ج۲۱ص۰۵)

٭      حضرت علی ؑ کی مناجات اسے اللہ میں تیری
عبادت نہ جہنم کے ڈر سے نہ جنت کے لالچ میںکرتا ہوں بلکہ اس لئے تیری عبادت کرتا
ہوں کہ تو عبادت کے لائق ہے (ج۲ص۰۷-ج۹ص۲۵۲)

٭      حضرت علی ؑ باب حطہ ہےں (ج۲ص۵۱۱)

٭      حضرت علی ؑ کا دشمن حضرت محمد کا دشمن ہے
(ج۲ص۰۳۱-ج۰۱ص۱۲۲)

٭      اَنَا وَعَلِیٌّ اَبَوَا ھٰذِہِ الْاُمَّة
(ج۲ص۲۳۱)

٭      دَابَّةُ الْاَرْضِ کی تاویل حضرت علی ؑ
ہیں (ج۰۱ص۳۶۲)

٭      حضرت علی ؑ کی دعا پر اعتراض کرنے والے کا
انجام عبرتناک (ج۲ص۶۴۱)

٭      حدیث ثقلین (ج۵ص۵۶- ج۶ص۶۷)

 ٭     حضرت
علی ؑ جامع اوصاف کمال ہے (ج۲ص ۱۱۲)

٭      حامل لواءُ الحمد حضرت علی ؑ (ج۲۱ص ۸۴۲)

٭کعبہ
میں حضرت علی ؑ کی ولادت باسعادت (ج۴ص ۶۱-ج۰۱ص۲۵)

٭      حضرت علی ؑ حبل اللہ ہے (ج۴ص ۵۲)

٭      جنگ احد میں حضرت علی ؑ کے جسم پر ساٹھ سے
زیادہ زخم لگے (ج۴ص ۶۵،۲۶) اَسی (۰۸) زخم تھے (ج۴ص ۳۶)

٭      حضرت علی ؑ منادی ہوں گے (ج۴ص ۸۹)

٭      حضرت علی ؑ کو ہجرت کے وقت ابو سفیان کی
شرارت (ج۴ص ۹۹)

٭      وفائے عہد خلافت حضرت علی ؑ (ج۵ص ۶)

٭      حضرت علی ؑ کی مناجات اے اللہ میرے فخر
کےلئے کافی ہے کہ تو میرا پروردگار ہے اور میری عزت کےلئے کافی ہے کہ میں تیرا
عبادت گزار ہوں نیز عرض کی اے اللہ میں نے تجھے اپنا رب پایا جیسے میں چاہتا تھا
پس تو مجھے اپنا ایسا عہد قرار دے جیسے تو چاہتا ہے (ج۵ص ۸)

٭      قرآن مجید میں جہاں کہیں (یَا اَیُّھَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) وارد ہوا ہے تو مومنین کے رئیس و امیر حضرت علی ؑ ہیں (ج۵ص
۱۱)

٭      حضرت علی ؑ کےلئے ردّ شمس اور ابو منصور
مظفر کا واقعہ (ج۵ ص ۶۷)

٭      حضرت علی ؑ صدّیق ہیں (ج۵ ص ۶۷-ج۲۱ص۸۱)

٭      حضرت علی ؑ ایمان کل ہیں (ج۱۱ص ۲۸۱-ج۲۱ص
۳۲۱،۹۴۱)

٭      حضرت علی ؑ کے فضائل دوستوں اور دشمنوں نے
چھپائے دوستوں نے ڈر سے اور دشمنوں نے حسد سے لیکن جب تشدد کا شکنجہ ڈھیلا ہوا اور
زبانوں سے پہرے اٹھے تو دنیا نے دیکھ لیا کہ علی ؑ کے فضائل نے زمین و آسمان کی
وسعتوں کو بھر دیا (ج۵ص ۸۸)

 ٭    
حضرت علی ؑ کے پاس (۲۷) اسم اعظم تھے (ج۳۱ص ۱۱۱)

٭      مقام اعراف پر حضرت علی ؑ ہوں گے (ج۶ص ۴۳)

٭      حضرت علی ؑ کے ساتھ عثمان کا جھگڑا (ج۰۱ ص
۰۵۱)

٭      عَلِیٌّ مَعَ الْحَقّ (ج۶ ص ۶۷-ج۷ص۸۶۱،-ج۸ص
۰۹۱)

٭      سیرت حضرت علی ؑ (ج۳۱ص ۸۲) میزان حضرت علی
ؑ ہےں (ج۳۱ص ۹۷۱

٭      حضرت علی ؑ کا جناب بتول ؑ کو صبر کی تلقین
کرنا (ج۶ص ۴۵)

٭      بیعت کا مطالبہ (ج۶ ص۸۹، ۲۵۲)

٭      حضرت علی ؑ الواح حضرت موسیٰؑ کے عالم تھے
اور یہی علم جفر تھا (ج۶ص ۴۱)

٭      حضرت علی ؑ نے راس الجالوت سے امت موسوی کی
فرقہ بندی کے متعلق سوال کیا (ج۶ص ۷۰۱)

٭      خلافت کے بارے میں حضرت علی ؑ کی ابوبکر سے
تفصیلی گفتگو اور سوال و جوب اور پھر عمر کی دخل اندازی (ج۳۱ص ۹۳۲ تا ۲۴۲)

٭      حضرت علی ؑ اور امیر شام کے درمیان شاہ روم
کے مصالحانہ کوشش (ج۲۱ص ۴۰۲،۵۰۲)

٭      روز میثاق حضرت علی ؑ کا اقرار لیا گیا (ج۶ص
۰۳۱-ج۱ص ۵۵۱-ج۱۱ص ۱۶۱)

٭      حضرت علی ؑ میں اوصاف انبیا ء موجود تھے
(ج۶ص ۷۳۱-ج۲۱ص ۸۴۱)

٭      سورہ برائت کی تبلیغ پر حضرت علی ؑ کو مامور
فرما کر حضرت پیغمبر نے بھیجا (ج۷ص۸-ج۰۱ص ۲۹۱-ج۱۱ص ۷۳)

٭      مقام تفاخر میں حضر ت علی ؑ نے اپنا اسلامی
و ایمانی اقدام بیان فرمایا اور اللہ نے آیت نازل فرمائی اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ
الْحَاجّ (ج۷ ص ۰۳)

٭      جنگ تبوک میں حضرت علی ؑ مدینہ میں بحیثیت
قائم مقام پیغمبر کے ٹھہرے (ج۷ ص ۸۰۱)

٭      حضرت علی ؑ سابق الایمان ہیں (ج۷ ص ۸۱۱)

٭      مرنے والے کے سرہانے حضرت علی ؑ (ج۷ ص ۱۷۱)

٭      حضرت علی ؑ شاہد رسو ل ہے (ج۷ ص ۹۹۱)

٭      لسان صدق حضرت علی ؑ ہیں (ج۰۱ص ۰۱۲)

٭      اِذَا اعْتَلٰی قَدَّ وَ اِذَا اغْتَرَضَ
قَطَّ یعنی حضرت علی ؑ اوپر سے وار کرتے تھے تو برابر دو حصوں میں چیر دیتے تھے
اور ایک جانب سے وار کرتے تو دشمن کو دو حصو ں میں تقسیم کر دیتے تھے (ج۸ ص ۹۲)

٭      جنت میں درخت طوبیٰ کی اصل حضرت علی ؑ کے
گھر اور شاخیں مومنوں کے گھروں میں ہونگی (ج۸ ص ۴۳۱)

٭      حضرت علی ؑ کے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک
ہوں گے حد سے بڑھانے والے غالی اور گھٹانے والے مقصر ناصبی اور یہ دونوں فرقے کفار
کے حکمیں ہیں (ج۸ ص ۶۶۱)

٭      حضرت علی ؑ کی مثال شب معراج (ج۸ ۶۶۲)

٭      جانشین پیغمبر کےلئے ستارے کی آمد (ج۳۱ص
۵۴۱)

٭      حضرت علی ؑ کی معراج دوش پیغمبر پر
(ج۹ص۸-ج۳۱ص ۴۸)

٭      ذکر حضرت علی ؑ عبادت ہے (ج۴۱ ص ۷۹۱)

٭      حضرت علی ؑ کی بت شکنی کامنظر (ج۹ ص ۴۶-ج۳۱ص
۴۸)

٭      ایذائے حضرت علی ؑ ایذ ائے رسول ہے (ج۱۱ص
۳۱۲)

٭      حضرت علی ؑ کا چادر پر سوار ہو کر اصحاب کہف
کے پاس جاکر بات چیت کرنا (ج۹ص ۳۸-ج۳۱ص ۱۱۱)

٭      حضرت علی ؑ اور حضرت خضر ؑ کی گفتگو (ج۹ ص
۱۲۱)

٭      حضرت موسیٰؑ و حضرت خضر ؑ کا علم حضرت علی
ؑ کے علم کے مقابلہ میں (ج۸ ص ۶۳۲)

٭      حضرت علی ؑ کے فضائل کی کوئی حد نہیں (ج۹ ص
۲۳۱)

٭      فضائل علی ؑ بزبان پیغمبر (ج۳۱ص ۲۵۱)

٭      حضرت علی ؑ نے تلوار کیوں نہیں اٹھائی (ج۹
ص۹۹۱-ج۳۱ص ۱۹)

٭      حضرت علی ؑ گلیوں کو سچوں میں گشت کر کے
بھولے بھٹکے ناتواں نادار اور مسافر لوگوں کی خبر گیری کیا کرتے تھے ارو دکانداروں
کو مواعظ حسنہ سے سرفراز فرماتے تھے (ج۱۱ص ۱۶)

٭      حضرت پیغمبرکی تصدیق کرنے والے پہلے شخص
حضرت علی ؑ تھے (ج۱۱ص ۶۷)

٭      حضر ت علی ؑ کی ابو بکر سے جناب فاطمہ ؑ کی
عظمت کے موضوع پر بحث (ج۱۱ص ۵۱۱،۶۱۱،۷۱۱)

٭      شب معراج حضرت پیغمبر نے ملک الموت سے
تبادلہ خیالات کیا تو عزرائیل نے جواب دیا کہ تمام ذوی الارواح کی روحیں میں قبض
کرتا ہوں لیکن علی ؑ اور آپ کی روحوں کا قبض کرنا میرے اختیار سے باہر ہے بلکہ
اللہ خود ہی اپنی مشیت سے آپکی روح کو قبض کرے گا (ج۱۱ص ۷۴۱) حضرت علی ؑ کے باقی
فضائل (ج۱۱ص ۷۴۱)

٭      بروایت ابن مسعود حضرت پیغمبر کا دعا مانگنا
اے اللہ علی ؑ کے صدقہ میں میری امت کے گناہ معاف کردے اور علی ؑ عرض کر رہے تھے
کہ اے اللہ حضرت پیغمبر کے صدقہ میں میرے شیعوں کے گناہ بخش دے (ج۳۱ص۸۱۱)

٭      حضرت علی ؑ کی عبادت کی بلندی جس میں کوئی
دنیاوی خیال نہیں (ج۳۱ص۱۲۱)

٭      صالح المومنین سے مراد حضرت علی ؑ ہیں (ج۴۱ص
۴۲)

٭      حضرت علی ؑ کا مقام بلند (ج۰۸، ۱۸-ج۲۱ص
۷۶۲)

٭      حضرت علی ؑ کے ابو تراب لقب کی وجہ یہ ہے کہ
زمین ان کی بدولت باقی ہے (ج۴۱ص ۷۶۱)

٭      صحابہ کرام علم علی ؑکے معترف تھے (ج۱ص
۱۸-ج۳ص۹۹۱)

٭      علم حضرت علی ؑ (ج۵ص ۶۲) (ج۱۳۸،
۶۸،۳۳۱،۰۵۱،۵۶۱)

٭      ایک یہودی عالم سے سوال و جواب (ج۶س ۲۹۱)

٭      حضرت علی ؑ کا علمی افتخار (ج۲ص ۴۸)

٭      نقطہ با ئے بسم اللہ (ج۲ص ۶۲،۷۲)

٭      حضرت علی ؑ نے فرمایا اگر چاہوں تو چالیس
اونٹ بائے بسم اللہ کی تفسیر سے بار کردوں (ج۲ص ۷۲)

٭      حضرت علی ؑ نے ابن عباس کو فرمایا کہ اگر
تفسیر کرنے بیٹھ جاﺅں تو صرف سورہ فاتحہ کی تفسیر سے ستر اونٹ بار ہو سکتے ہیں ابن
عباس کا قول ہے کہ میرا اور تمام صحابہ کا علم علی ؑ کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہے
جیسے پانی کا ایک قطرہ سمندر کے مقابلہ میں (ج۲ص ۱۱-ج۳ص ۶۹۱)

٭      اَنَامَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌّ
بَابُھَا (ج۲ص ۲۱-ج۶ص ۶۷)

٭      حضرت علی ؑ امام مبین ہےں (ج۲۱ص ۱۱)

٭      علم کتاب حضرت علی ؑ کے پاس ہے (ج۸ ص ۲۴۱)

٭      حضرت علی ؑ قرآن کے ظاہر و باطن کے عالم تھے
(ج۲ص ۴۶۱-ج۱ص ۴۰۱،۱۵۱-ج۰۱ص۷۷۱)

٭      حضر ت علی ؑگذشتہ انبیا ء سے افضل ہیں (ج۲۱ص
۶۴۲،۷۴۲)

٭
دعویٰ سلونی(ج۶ص ۲۸) (ج۴۱ص ۴۰۱)

علی بن یقطین: علی بن یقطین کو امام موسیٰ
کاظم ؑ کا خط (ج۵ص ۶۶)

عالین: عالین کا معنی اور مصدا ق (ج۲۱ص ۸۰۱)

علم : علم کا مقام (ج۱ص ۱۲) علوم کی ترتیب
(ج۱ص ۴۲)

٭      رزق کی تاویل علم (ج۲ص ۳۵)

٭      اہل علم کی فضیلت (ج۳ص ۶۰۲) علم وعمل (ج۴ص
۸۷)

٭      علم غیب (ج۴ص ۷۸ -ج ۶ص ۵۴۱-ج۶ص ۴۴۱-ج۵
۱۲۲-ج۴۱ ص ۱۳ص ۴۲۱- ج۷ ص ۷۴۲- ج۱۱ ص،۲۵۲۲۴۱)

٭      علم قرآن اور صحابہ (ج۱ص ۰۵۱)

٭      عالم اور متعلّم کےلئے آداب و فرائض (ج۱ص
۰۳)

٭      علم کی عظمت و آداب (ج۹ ص ۱۱۱)

٭      اَعلم کی تقلید واجب نہیں (ج۱ص ۲۱۲،۷۱،۰۲)

٭      علم پیغمبر (ج۵ص ۸۰۱) علم یوسفؑ (ج۸ ص ۳۲)
علم وصی سلیمان ؑ (ج۱۱ص ۹۴۲)

٭      اللہ کا علم عین ذات ہے (ج۴۱ص ۶۷)

٭      حضرت پیغمبر کا علم عین ذات نہیں مَاکُنْتَ
تَدْرِیْ کی تشریح (ج۲۱ص ۱۲۲)

عالِم: علمائے حق اور علمائے سو ء میں فرق
(ج۲ص ۸۲۱-ج۲ص ۴۰۲)

٭      علمائے صالحین کا مقام (ج۲ص ۳۳۱-ج۸ ص
۷۹-ج۱۱ص ۴۶۲-ج۲۱ص ۴۶۲)

٭      اللہ نے جاہلوں سے سیکھنے کا عہد بعد میں
لیا اور علماءسے سکھانے کا عہد پہلے لیا (ج۴ص ۴۹)

٭      علمائے سو کا حشر کیا ہو گا؟ (ج۱ص ۹۱۲-ج۴۱ص
۴۶۱)

٭      علمائے سو بد ترین ہیں (ج۱ص ۹۱ -ج۲ص ۴۰۲ -ج
۸ص ۶۰۱، ۲۲۱، ۲۵۱، ۵۵۱،۳۰۲ – ج۹ ص۵۱، ۷۱۲-ج۰۱ص۰۲۲- ج۲۱ ۸۳، ۵۳۲ – ج۳۱ ص ۹۱۱-ج۴۱ ص
۶۱)

٭      علمائے سوءکے حق میں دعا مقبول نہیں ہوتی
(ج۱ ص۰۳)

٭      سبط بن الجوزی (ج۱ ص۴۸)

٭      علمائے یہود کا طرز عمل (ج۲ص ۸۲۱ تا ۹۲۱ –
ج۴ص ۴۹ -ج۵ص ۹۵۲ – ج۷ ص۲۴ – ج۸ص ۷۹ – ج۵ ص ۳۱۱)

٭      علماء کے خلاف ہنگامہ (ج۷ ص ۹۴۲)

عالَم: عالم اکبر و عالم اصغر (ج۱ص ۲۷۱-ج۲۱ص
۵۹۱- ج۳۱ص ۴۱۱)

علّیین: علّیین کی تشریح (ج۴۱ص ۱۹۱)

علامات : علامات ظہور قائم (ج۶ص ۴۰۲-ج۲۱ ص
۶۴۲)

٭      علائم قیامت (ج۲۱ص ۱۶۲- ج۳۱ص ۵۴)

٭      علامات مومن (ج۶ص ۰۶۱ تا ۴۷۱-ج ۷ص ۵۹-ج ۹ص
۸۶ – ج۰۱ص ۵۸۱)

عمار : حضرت عمار سے ہی روایت منقول ہے کہ
حضور نے فر مایا اگر تمام لوگ ایک رخ کو اور تنہا علی ؑ ایک رخ کو چلے تو تمام
لوگوں کے رخ کو چھوڑ کر علی کے رخ پر چلنا (ج۵ص ۲۸، ۴۶۱-ج۶ص۸۸۱-ج۸ص ۱۷۲)

٭      مقداد، سلمان و ابو ذرسے عمار کا مرتبہ کم
ہے (ج۴ص ۹۵-ج۶ص ۱۰۱)

٭      ایک دفعہ عمار نے حضرت امیرالمومنین ؑ سے
اپنے مقروض ہونے کی شکایت کی تو آپ ؑ نے فرمایا کہ پتھر اٹھالو اور میرے واسطہ سے
دعا مانگو اللہ اس کو سونا بنا دے گا، چنانچہ ایسا ہوا تو آپ ؑ نے فرمایا اس سے
ضرورت کے مطابق توڑ لو اور باقی رکھ دو اور فرمایا اس کو میرا واسطہ دو تو وہ نرم
ہو جائے گا کیونکہ میرے ہی وسیلہ سے اللہ نے حضرت داﺅد ؑ پر لوہا نرم کیا تھا،
چنانچہ عمار نے حضرت علی ؑ کا واسطہ دیا تو وہ نرم ہو گیا اور عمار نے اپنی ضرورت
کے مطابق لے لیا پس باقی پہلے کی طرح پتھر ہو گیا (ج۶ص ۸۳۱)

٭      عمار کا واقعہ اور تقیہ (ج۸ ص ۵۴۲)

٭      دَ ابَّةُ الْاَرْض والی روایت عمار سے
منقول (ج۰۱ص ۳۶۲)

٭      عمار ساباطی صحابی امام جعفر صادقؑ کا واقعہ
(ج۲۱ص ۶۴)

٭      حضرت پیغمبر نے فرمایا تھا کہ اے عمار تجھے
باغی گروہ قتل کرے گا (ج۴۱ص ۱۸)

عمرہ: عمرہ کا ذکر (ج۲ص ۳۰۲)

٭      عمرہ کا بیان (ج۳ص ۴۱،۵۱-ج۵ص ۸۶۱)

٭      عمرہ قضا (ج۳۱ص ۹۸)

عمران: عمران تین گزرے ہیں ایک حضرت موسیٰؑ
کے والددوسرے حضرت مریم ؑ کے والد اور تیسرے حضرت ابوطالب ؑ جن کا نام عمران تھا
(ج۳ص ۸۱۲)

 ٭     جناب
مریم ؑ کے والد عمران بن ماثان تھے (ج۳ص ۹۱۲)

عمر: عمر نے رات کو اپنی عورت سے ہمبستری کی
جبکہ رات کو بھی روزہ فرض تھا (ج۲ص ۶۳۲)

٭      جنگ احد میں عمر (ج۴ص ۹۵)

٭      جب لوگ چھوڑ بھاگے تو میں پہاڑ پر چڑھ گیا
(ج۴ص ۰۷)

٭      اعلان غدیری کے بعد جب عمر بھی خلافت حضرت
علی ؑ کا عہد کر چکا تو جبرائیل ؑ نے انسانی شکل میں آکر اعلان کیا کہ اس عہد کو
کوئی کافر ہی توڑ ے گا تو عمر کے پوچھنے پر پیغمبر نے فرمایا وہ اعلان کرنے والا
جبرائیل ؑ تھا خبردار اس عہد کو توڑنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ خدا و رسول مومنین تم
سے بےزار ہو ں گے(ج۵ص ۵۳)

٭      ہر نبی کی امت میں دو شیطان گزرے ہیں جو ان
کی موجودگی میں ان کو نقصان پہنچاتے رہے اور بعد میں امت کو گمراہ کرتے رہے اس نبی
کی امت میں چلتر اور زریق دو آدمی تھے (ج۵ص ۸۴۲)

٭      کاغذ قلم دوات مانگی گئی تو عمر نے
حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہ کہ کر ٹھکرا دیا (ج۵ص ۱۳۱-ج۴۱ص ۳۸)

٭      حضرت علی ؑ کی انگوٹھی کے بعد عمر نے بھی اس
کی نقل کی اور چالیس دن تک دیتا رہا لیکن آیت نہ اتری (ج۵ص ۳۳۱)

٭      احیائے العلوم غزالی سے منقول ہے کہ عمر
حذیفہ سے پوچھا کرتا تھا میرا نام منافقوں میں سے تو نہیں ہے؟ (ج۵ص ۵۴۱)

٭      حضرت پیغمبر سے جب کسی نے اپنے باپ کے
متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا تیرا باپ وہ نہیں جس کی طرف تو منسوب ہے تو عمر نے
پیغمبر کے جواب میں کہا میں اس قسم کے سوال کرتا ہی نہیں (ج۵ص ۴۷۱)

٭      جنگ حنین میں عمر کا کردار (ج۰۱ص ۴۳)

٭      حدیث بساط میں عمر و ابو بکر کا مقام
(ج۹ص۲۸)

٭      عمر نے خاتون جنت کی سند پھاڑ دی (ج ۹ص ۳۲-
ج ۱۱ص ۴۱۱ تا ۷۱۱)

٭      علی ؑ سے عمر ابو بکر و عمر کی فدک کے بارے
میں گفتگو (ج۱۱ص ۵۱۱)

٭      عمر نے حضرت علی ؑکے قتل کی تجویز پیش کی جس
کےلئے خالد بن ولید کو چنا گیا لیکن ناکامی ہوئی (ج۱۱ص ۶۱۱)

٭      جنگ خندق میں عمر کی بزدلی اور عمرو بن عبدو
د سے مقابلہ کرنے سے گریز کا بہانہ (ج۱۱ص ۱۷۱-ج۵ص ۹۸)

٭      عمر نے اپنی بیٹی کے منہ پر طماچہ مارا
(ج۱۱ص ۴۸۱)

٭      حضرت علی ؑ کا عمر سے احتجاج (ج۲۱ص ۵۴۲)

٭      عمر کو حضرت پیغمبر نے فرمایا کہ میری محبت
کی نشانی ہے کہ علی ؑ سے پیار کرو (ج۲۱ص ۷۳)

٭      ایک شخص کا عمر سے درخواست کرنا اور اسکا
انجام (ج۲۱ص ۷۶)

٭      عمر کا تجسس اور مدینہ کی عورت کا عمر کو
تنبیہ کر نا کہ تمہارا تجسس قرآن کے منافی ہے (ج۳۱ص ۴۰۱)

٭      عمر کی ایک پادری سے گفتگو کے بعد ناکامی
اور پھر حضرت علی ؑ کی مشکل کشائی (ج۳۱ص ۰۳۲)

٭      عمر کی یہودیوں سے میل جول (ج۳۱ ص ۳۴۲)

٭      عمر اور ہند مادر معاویہ (ج۳۱ص۱۷۲)

٭      عمر نے بوقت موت جزع و فزع کیا اور ابن عباس
سے کہا کہ میری گھبراہٹ علی ؑ کی مخالفت سے ہے کاش پوری زمین سونا ہوتی اور میں سب
کو فدیہ دے کر نجات پاتا (ج۵ص ۸۹)

عمالقہ: عمالقہ کا مکہ پر غلبہ (ج۴ص ۵۱)

٭      حضرت یوشعؑ نے سات ماہ میں عمالقہ کے شہر
الریاح کو فتح کیا (ج۵ص ۵۸)

٭      عمالقہ حضرت موسیٰؑ کی قوم کو عمالقہ سے
جہادکا حکم ہوا اور اس وقت ایک بستی میں آباد تھے جس کا نام الریاح تھا اور یہ بیت
المقدس کے قریب تھی چونکہ بیت القدس کی بنیاد حضرت داﺅد ؑ نے رکھی تھی اس وقت قوم
عمالقہ کا سردار عوج بن عونق تھا (ج۲ص ۴۱۱)

٭      یہودیوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ ہم نہیں لڑیں
گے تو اور تیرا خدا جاکر ان سے لڑو (ج۲۴۱ -ج۵ص ۶۷)

٭      مصر کا بادشاہ قوم عمالقہ سے تھا جس کا اصل
نام ریان بن ولید تھا (ج۸ ص۲۲)

عاد: عاد قوم کا مسکن احقاف تھا (ج۱۱ ۷۴)

٭      یہ بہت طاقتور قوم تھی، ان پر مبعوث ہونے
والے نبی حضرت صالحؑ تھے (ج۲۱ص ۵۷۱)

عوج بن عنق: (ج۵ ص ۴۷)

٭      روایت کے اعتبار سے معلوم ہوتا ہے عوج ایک
فرضی شخصیت ہے اور من گھڑت افسانوں میں سے اس کا ذکر افسانوی حیثیت رکھتا ہے
چنانچہ ہم نے تفسیر میں بھی اس کی تردید کی ہے۔

عورت صالحہ : حضرت رسالتمآب نے فرمایا جس
شخص کو قلب شاکر، لسان ذاکر اور عورت صالحہ مل جائے تو اس کو دین ودنیا کی خوبی مل
گئی (ج۳ص ۷۲)

٭      حضرت پیغمبر نے فرمایا اگر غیر اللہ کا سجدہ
جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ شوہر کا سجدہ کریں (ج۸ ص ۶۸)

٭      حضرت لوطؑ کی پہلی بیوی بہت نیک تھی (ج۱۱ ص
۸۷)

٭      حضرت اسحقؑ کی بیوی حضرت لوط ؑ کی بیٹی تھی
جس کا نام رباب بنت لوط تھا (ج۱۱ص ۸۷)

٭      حضرت لوطؑ کی دوسری بیوی ایک فتنہ تھی (ج۱۱
ص ۸۷)

٭      عورت کا فتنہ (ج۳ص ۴۰۲-ج۶ص ۲۸۱)

٭      حضرت محمد تقی علیہ السلام کا یحییٰ بن اکثم
سے سوال کرنا کہ وہ عورت کونسی ہے جو ایک دن رات میں ایک مرد پر پانچ دفعہ حلال
اور پانچ دفعہ حرام ہو (ج۵ص ۱۷۱)

٭      عورت کا شادی کےلئے انتخاب (ج۳ص ۷۵۱-ج۶ ص
۶۴۱)

٭عورت
کی آزادی کا تصور (ج۳ص ۲۶ تا ۴۶ – ج۶ ص ۶۴۱)

٭      عورت کی ایذا رسانی سے ممانعت (ج۳ص ۳۷ تا
۶۷)

٭      عورت پر اسلام کے احسانا ت (ج۳ص۳۹، ۲۰۱)

٭      عورت و مرد میں مساوات (ج۳ص ۴۹-ج۵ص ۱۶-ج۶ص
۶۴۱)

عہد: عہد شکنی کی مذمت (ج۲ص ۵۷، ۷۴۱-ج۹ص۹۲)

٭      یہودیوں سے حضورکی نبوت کے اقرار کا عہد لیا
گیا جس کو انہوں نے توڑ ڈالا (ج۲ص ۹۹،۷۳۱)

٭      ہر نبی نے امت سے اپنے وصی سے وفا کرنے کا
عہد لیا (ج۲ص ۰۰۱-ج۸ص ۰۴۲)

٭      وفائے عہد اور خلافت (ج۵ص ۶)

٭      وفا عہد کی تاکید (ج۵ص۱۷،۷۷۳۷-ج۶ص۷۶۱-ج۷ص۹۱
-ج۸ص ۳۳۱)

٭      عہد شکنی گناہ کبیرہ ہے (ج۵ص ۶۶۲-ج۱۱ص
۱۲۱-ج۴۱ص ۸۵۱)

٭      عہد و پیمان جو کفار سے تھے ان کی چار ماہ
حد مقرر کر دی گئی (ج۷ ص ۲۱،۳۱)

٭      فرزندان حضرت یعقوب ؑ کا عہد (ج۸ ص ۰۶)

٭      وفائے عہد اور صلہ رحمی (ج۶ص ۶۲۱-ج۰۱ص ۷۵۱)

٭      حضرت شعیب ؑ نے حضرت موسیٰؑ سے عہد لے کر ان
کو اپنا داماد بنایا تھا (ج۱۱ص ۳۳)

عید: عید غدیر (ج۵ص ۵۳ تا ۸۳)

٭      نماز عیدین (ج۹ ص ۹۴)

عائشہ: عائشہ کا قصہ افک (ج۰۱ص ۱۲۱)

٭      احترام عائشہ (ج۰۱ص ۵۲۱)

٭      مومنوں کی ماں (ج۱۱ص ۹۵۱)

٭      واقعہ مغافیر پیغمبر کی دو بیویوں کی سازش
(ج۴۱ ص ۹۵) اِنْ تَتُوْبَا (ج۴۱ص۳۶)

عیب جوئی: عیب جوئی سے ممانعت (ج۵ص ۶۷۱-ج۲ص
۲۲۲-ج۱۱ص ۰۲۱-ج۳۱ص ۲۰۱)

عیسیٰؑ: حضرت عیسیٰؑ قائم آل محمدکے پیچھے
نماز ادا کریں گے (ج۱ص ۹۱)

٭      حضرت عیسیٰؑ کے وصی حضرت شمعون تھے (ج۱ ص
۰۰۱)

٭      حضرت عیسیٰؑ کے معجزات (ج۱ص ۹۳۱-ج۵ص
۱۸۱-ج۷ص ۷۴۱)

٭      حضرت عیسیٰؑ کا کہنا کہ میں اپنے باپ کی طرف
جاتا ہوں (ج۷ ص ۱۴)

٭      حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کربلامیں (ج۹ ص ۲۴۱ تا
۸۴۱)

٭      حضرت عیسیٰؑ کی امت کے ۲۷ فرقوںمیںسے صرف
ایک ناجی (ج۴ص ۲۲)

٭      حضرت مہدی ؑ کی آمد اور حضرت عیسیٰؑ کا
نزول (ج۹ ص ۲۵۲-ج۲۱ص ۶۴۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ کے پاس اسم اعظم کے دو حرف تھے
(ج۰۱ ص ۷۴۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ کے متعلق کفار مکہ حضرت پیغمبر
سے گفتگو اور عنادی رویہ (ج۲۱ص ۳۴۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ شب قدر میں آسمان کی طرف اٹھا
لئے گئے (ج۲۱ص ۸۵۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ کی امت میں نجات پانے والا
(ج۳۱ص ۹۲۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ کی پیشین گوئی (ج۴۱ص ۸)

٭      حضرت عیسیٰؑ کی حیثیت سے دوبارہ تشریف
لائیں گے (ج۱ص ۷۹،۸۹)

٭      عیسیٰ بن زید بن علی بن الحسین ؑ کی لڑکی
فوت ہوئی تو وہ اس بات پر بہت روئے کہ کاش ان کی لڑکی کو آخر عمر تک یہ بھی معلوم
نہ ہو سکا کہ میں سید زادی ہوں (ج۱ ص۳۰۱)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *