فتح: یَسْتَفْتِحُوْنَ کی تشریح اور یہودیوں
نظریہ (ج۲ص ۰۴۱)
٭ فتح مکہ کی بشارت (ج۲ص۲۵۱،۷۵۱)
٭ فتح مکہ کے موقعہ پر عبد اللہ بن امیہ یعنی
جناب امّ سلمیٰ کے بھائی کا اسلام قبول ہوگا (ج۹ص۲۷)
٭ فتح اور مداولت ایام (ج۴ص۷۵)
٭ مومن کی فتح (ج۵ ص۹۱۱ -ج۹ص۶۴- ج۰۱ص۷۶۲ –
ج۱۱ص۳۷،۵۷)
٭ فتح اور کامیابی کا بھی ایک نشہ ہوا کرتا ہے
(ج۶ص۰۶)
٭ فرقان کا معنی فتح بھی کیا گیا ہے (ج۶ص۰۹۱)
٭ فتح مکہ کے وقت معاہدہ (ج۷ص۵۱)
٭ فتح مکہ کے بعد حج ہمیشہ کے لئے ماہ ذی
الحجہ مقرر کی گئی (ج۷ص۸۴)
٭ فتح مکہ کے روز حضور نے چار آدمیوں کا خون
مباح کیا تھا وہ خود اَستارِ کعبہ سے لپٹے ہوئے تھے:
۱-
عکرمہ بن ابوجہل ۲- عبداللہ ابن اخطل ۳- قیس بن صبابہ۴- عبداللہ بن سعد بن ابی
السرح (ج۱۱ص۱۴۱)
٭ حضور کوفتح مکہ کی خوشخبری خواب میں دی گئی
تھی (ج۲۱ص۷۵)
٭ فتح مکہ کے روز حضرت بلال نے کعبہ کی چھت
پر اذان کہی (ج۳۱ ص۵۰۱)
٭ سورہ فتح کے فضائل (ج۲۱ص۶۵)
٭ فتح مبین (ص۷۵) فتح مکہ (ص۴۸) فتح حنین
(ص۵۸)
٭ فتح مکہ کے پہلے اور بعد والوں میں مراتب کا
فرق (ج۳۱ ص۵۱۲)
٭ فتح مکہ کے روز حضور نے کوہ صفا پر بیٹھ کر
لوگوں سے بیعت لی اور ہند مادر معایہ نے بھی بیعت لی (ج۳۱ ص۱۷۲)
٭ فتح کےلئے سورہ دہر (ج۴۱ص۵۴۱) سورہ نازعات
(ص۸۶۱) سورہ فاتحہ(ج۲ص۷)
٭ ابوجہل کے دعا کہ حق کو فتح نصیب ہو
(ج۶ص۶۸۱)
٭ فتویٰ دینے والا فقیہ (ج۱ص۲۲،۴۲)
٭ امام جعفر صادقؑ کی فتوی دینے کے بارے
میںابو حنیفہ سے گفتگو (ج۱ ص۵۷)
٭ علم کے بغیر فتوی دینے والے شخص پر آسمان و
زمین کے فرشتے لعنت بھیجتے ہیں (ج۶ ص۰۳)
٭ ابو حنیفہ کا فتوی اور فقہی استد لال
(ج۷ص۷۳)
فترت: فترت کا زمانہ حضرت عیسیٰؑ اور خاتم
الانبیا ء کے درمیا ن کا زمانہ میں چار نبی مبعوث ہوئے :
حضرت یونس ؑ ، حضرت یحییٰؑ ، حضرت شمعون ؑ ،
حضرت خالد بن سنان عنسی (ج۵ص۴۸)
فدک: (ج۱ ص۵۴۱ تا ۹۴۱- ج۹ص۲۲ – ج۱۱ص۴۱۱ تا
۶۱۱- ج۳۱ ص۲۸،۰۵۲)
٭ مقام فدک میں یہودیوں کی آبادی کے
اسباب(ج۲ص۸۳۱)
فدیہ: روز ے کا فدیہ (ج۲ص۹۲۲)
٭ قتل کا فدیہ (ج۵ص۳۹)
٭ حج میں شکار کا فدیہ (ج۵ص۸۶۱)
٭ جنگ بدر میں قیدیوں کا فدیہ(ج۶ص۵۸۱،۳۵۲)
٭ حنین میں فدیہ (ج۷ ص۶۳)
٭ فدیہ اسمعٰیل ؑ ذبح عظیم (ج۲۱ص۵۶)
٭ قیامت کے دن محرم سے کوئی فدیہ قبول نہ کیا
جائے گا(ج۴۱ص۲۰۱)
٭ عمر نے بوقت وفات جز ع فزع کیا اور ساری
دنیا کو فدیہ دینے کی خواہش طاہر کی (ج۵ص۸۹)
فرعون: فرعون کا ذکر(ج۲ ص۵۰۱،۶۰۱ تا
۸۰۱،۵۶۱- ج۸ص۶۴۱ -ج۲۱ص۱۴۲)
٭ دربار فرعون میں حضرت موسیٰؑ کا داخلہ
(ج۶ص۵۶ – ج۰۱ص۲۹۱)
٭ فرعون نے بلعم بن باعور سے حضرت موسیٰؑ کے
خلاف بد دعا کرنے کی خواہش کی تھی (ج۶ص۱۳۱)
٭ فرعون کا جادوگر وں کو جمع کرنا (ج۷ص۶۷۱۱۸۱)
(ج۰۱ص۶۹۱،۵۲۲)
٭ حضرت یوسف ؑ کے زمانہ کا فرعون قابوس بن
مصعب تھا (ج۸ص۲۲۱)
٭ ایک روایت میں ہے کہ اس کا نام ولید بن مصعب
تھا اور یہی فرعون حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں تھا اور حضرت یوسف ؑ اور موسیٰؑ کے
درمیان چار سو سال کا فاصلہ تھا (ج۶ص۵۶)
٭ حضرت موسیٰؑ کا ہاتھ فرعون کا داڑھی میں
(ج۹ص۸۷۱ -ج۱۱ص۲۲)
٭ فرعون کا تعاقب کرنا (ج۰۱ص۷۹۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ کا فرعون حرا مزادہ
تھا جس کے قتل کا حکم دیا اور حضرت موسیٰؑ کے زمانہ کا فرعون اور اس کے مشیر حلال
زادے تھے جنہوں نے نبی کے قتل کا حکم نہ دیا (ج۹ص۳۳۲،۴۳۲- ج۲۱ ص۹۴۱)
٭ فرعونی مظالم کی ابتدا ء (ج۱۱ص۷)
٭ حضرت موسیٰؑ فرعون کی گود میں (ج۱۱ص۶۱ تا۲۲)
٭ رافضی کا لقب فرعونیوں نے جادوگروں کو دیا
تھا جو باطل کو چھوڑ کر مسلمان ہوگئے (ج۲۱ص۶۴)
٭ فر عون کا لقب ذوالاوتا و تھا (ج۲۱ص۱۸) فر
عونیوں پر معتدد عذاب (ج۶ص۸۷)
٭ فرعون کی مو منہ بیوی (ج۴۱ص۹۶)
٭ مومن آل فرعون (ج۲۱ص۹۴۱)
فروعی احکا م: فروعی احکام میں کفار مکلف
ہوا کر تے ہیں (ج۵ ص۴۵)
فرقان: فر قان کا معنی
(ج۲ص۰۳۲-ج۶ص۰۹۱-ج۹ص۸۶۶)
فردوس: فردوس کا گھر شہدا ء کو ملے گا (ج۴ص۳۸)
٭ فر دوس دراصل رومی زبا ن کا لفظ ہے اور جنت
الفردوس جنت کے بہترین درجہ کا نام ہے اور جنت کی چار نہریں (دودھ، پا
نی،شراب،شہدکی) اسی سے نکلتی ہیں اور یہ جنت کا بلند ترین مقام ہے (ج۹ص۲۳۱)
٭ جنت الفردوس کو با قی جنتوں سے وہ نسبت ہے
جو محمد و آل محمد کی با قی مخلوق سے ہے (ج۹ص۶۵۱)
فرشتہ: فر شتہ پر بحث (ج۲ص۶۵)
٭ دو فر شتوں کی طرف جا دو کی طرف نسبت
(ج۲ص۰۵۱) جبرا ئیل ؑ و میکائیل ؑ (ج۲ص۷۴۱)
٭ فر شتے خاک شفا کو بطور تحفہ اوپر لے جا تے
ہیں(ج۴ص۴۱)
٭ جنگ بدر میں فر شتے (ج۴ص۴۴-ج۶ص۹۳۲، ۲۴۲تا
۴۴۲)
٭ انبیا ء فر شتوںسے افضل ہو تے ہیں(ج۲ص۱۲)شب
معراج فر شتے (ج۸ص۹۵۲، ۰۶۲)
٭ فر شتو ں کی تعداد (ج۷ص۳۶- ج۰۱ص۸۴۱)
٭ فر شتوں کی تسبیح گذاری (ج۲ص۸۷)
٭ رعد فر شتہ با دل کو چلاتا ہے (ج۸ص۲۱۱)
٭ اصحاب کہف میں سے ہر ایک کےلئے دو فر شتے
مقرر ہیں جو انکے پہلو بدلتے ہیں (ج۹ص۷۸)
٭ فر شتوں کا حضرت آدم ؑ کے لئے جھکنا
(ج۲ص۵۸-ج۹ص۲۰۱)
٭ حضرت ابرہیم ؑ کے پا س فر شتوں کی آمد
(ج۱۱ص۸۷ تا ۱۸)
٭ فر شتے کا حضرت ادریس ؑ کے سا تھ مکا لمہ
(ج۹ص۷۵۱)
٭ فر شتوں کے حُلیے(ج۱۱ص۶۵۲)
٭ شب معراج حضرت پےغمبر سے ملک الموت فر شتے
نے حضرت علی ؑ کی احوال پرسی کی تو حضورنے فر ما یا تو حضرت علی ؑ کو کیسے
پہنچانتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ خدا نے تمام مخلوق کی قبص روح میرے ذمہ کی ہے لیکن
آپ اور حضرت علی ؑ میر ی گر فت سے مستثنیٰ ہیں کیو نکہ آپ کی رو حیں وہ خود اپنی
مشیت سے قبض کرے گا (ج۱۱ ص۷۴۱)
٭ در با نانِ جہنم(ج۴۱ص۴۳۱)
٭ فر شتوں کی ذکر آل محمد سے دلچسپی (ج۴۱ص۵۱)
٭ فر شتوں کا نزول (ج۴۱ص۰۰۱،۳۴۲ تا ۶۴۲)
فر قہ بند ی : حضور نے فرمایا بنی اسرائیل
کے بہتر (۲۷)فرقے ہوئے اور میری امت کے تہتر(۳۷) فرقے ہونگے ان میں سے صرف ایک
ناجی ہو گا اور باقی سب دوزخی ہونگے (ج۲ص۶۶۱ -ج۴ص۶۲ -ج۵ص۹۷ص۰۰۲ -ج۶ص ۳۸ص۷۰۱،۰۴۱)
٭ جن کے چہرے سفید نورانی ہوں گے ان کا عَلم
حضرت علی ؑ کے ہاتھ میں ہو گا (ج۴ص۹۲)
فشار قبر : جو شخص سورہ نساکی تلاوت کرتا
رہے فشار قبر سے محفوظ ہو گا(ج۴ص۳۰۱
٭ نماز تہجد فشار قبر سے بچنے کا ذریعہ
ہے(ج۹ص۱۵)
فیصلے: حضرت ابراہیم کے اموال کے متعلق
نمرودی حکومت کے قاضیوںکے فیصلہ (ج۹ص۷۳۲)
٭ حضرت داﺅد ؑ کا فیصلہ اور حضرت سلیمان ؑ کا
فیصلہ (ج۹ص۰۴۲)
٭ حضرت سلیمان ؑ کی چیونٹی سے جواب
طلبی(ج۰۱ص۱۳۲ص۲۳۲ص۳۳۲)
٭ ارکان دولت کے سامنے ملکہ بلقیس کی تقریر
اور آخری فیصلہ(ج۰۱ص۱۴۲تا۴۴۲)
٭ ایک خارجی کا حضرت علی ؑ فیصلہ پر اعتراض
کرنا اور پھر سیا ہ کتے کی شکل میں مسخ ہونا (ج۰۱ص۸۴۲)
٭ جنگ صفین کے موقع پر حکمین یعنی عمر و عاص
اور ابو موسیٰ اشعری کا فیصلہ(ج۱۱ص۴۹)
٭ ابو بکر کے دربار میں فدک کا مقدمہ اور
خلیفہ کا فیصلہ (ج۱۱ص۴۱۱)
٭ حضرت داﺅد ؑ کا فیصلہ (ج۲۱ص۲۸،۴۸،۷۸)قاضی
کوفہ ابن ابی لیلہٰ کے فیصلے (ج۲۱ص۶۴)
٭ غلط فیصلہ کرنے والے بروز قیامت اندھے محشور
ہونگے (ج۳ص۴۶۱)
فضہ ؑ: خادمہ خاتون جنت کی قرآن دانی
(ج۲۱ص۳۵۲)
فضول خرچی: فضول خرچی اللہ کو پسند نہیں
ہے(ج۶ص ۵۲،۴۹۱)
فا طمہ زہرا ؑ: حق طلبی اور احتجاج ابو بکر
کا انکار (ج۱ ص۵۴۱ تا ۸۴ ۱ – ج۴ص۵۴۱ تا ۸۵۱)
٭ جناب فا طمہ ؑ اور حضرت علی ؑ کاا نصار سے
طلب نصرت کر نا(ج۱ ص۰۶۱)
٭ عمر کا دروازہ جلا نے کی دھمکی دینا
(ج۱ص۷۶۱)
٭ ابوبکر و عمر کی معذرت خوا ہی (ج۱ص۰۷۱)
٭ احراق با ب فا طمہ(ج۱ص۱۷)
٭ ایذائے فاطمہ ؑ ایذائے رسو ل ہے(ج۷ص۹۸،
۳۲۱-ج۱۱ص۴۱۲)
٭ اللہ نے چا ر عورتوںکو تمام عا لم کی عورتوں
پر منتخب فر ما یا:
حضرت مریم ؑ ، حضرت آسیہ ؑ ، حضرت خدیجہ ؑ،
حضرت فا طمہ ؑ (ج۳ ص۰۲۲،۹۲۲ -ج۴۱ ص۰۷)
٭ جس طرح جنا ب مر یم ؑکےلئے اللہ کی طرف سے
کھانا آتاتھا جنا ب فا طمہ ؑکےلئے بھی آتا تھا (ج۳ص۲۲۲)
٭ جنا ب فا طمہ جنت کی عورتوںکی سردار ہیں (ج
۳ص۱۳۲-ج۷ص۹۸)
٭ جنگ احد میںپےغمبرکے قتل ہو نے کی خبر پھیلی
تو جنا ب فا طمہ ؑو ہا ں روتی ہو ئی پہنچیں (ج۴ص۱۴، ۰۶،۶۶)
٭ جنا ب فا طمہ ؑ نے فر ما یا: خَلُّوْا عَنْ
ابْنِ عَمِّیْ اے مسلما نو ! حضرت علی ؑ کو چھوڑ دو ورنہ میں سر کے بال پریشان کر
وں گی اور رسول اللہ کی قمیص اپنے سر پر رکھ کر بد دعاکروں گی، چنانچہ مسجد نبوی
کی دیواریں بلندہو ئیں اور عذاب کے آثار نمودار ہو ئے، پس مسلما نوں نے عرض کیا بی
بی آپؑ بد دعا نہ کریں چنانچہ بی بی نے ہا تھ نیچے کر لئے(ج ۶ص۳۵،۴۵،۲۵۲)
٭ حضرت پےغمبر نے شب معراج درخت طوبیٰ سے پھل
کھا یا اور نو ر فا طمہ ؑ اسی رات شکم خدیجہ کی طرف منتقل ہو ا حضور فر ما یا کر
تے تھے کہ فا طمہ کے پیار سے مجھے طو بی ٰ خوش بو آ تی ہے (ج۸ ص۳۳۱)
٭ حضرت فا طمہ ؑکی شا دی اللہ نے حضرت علی ؑ
سے کردی (ج۸ص۴۳۱- ج۳۱ص۲۵۱)
٭ احرام فا طمہ ؑ (ج۰۱ص۴۶)تسبیح فا طمہ (ؑ
ج۱۱ص۱۹)
٭ فدک حق فا طمہ ؑ عطیہ پر وردگا ر ہے وَاٰتِ
ذَالْقُرْبٰی حَقَّہ¾ (ج۹ص۲۲تا۴۲-ج۱۱ ص۴۱۱)
٭ حضرت پےغمبر درِ دولت زہرا ؑ پر آیت تطہیر
تلا وت فر ما تے تھے (ج۹ص۰۱۲)
٭ جب یہ آیت اتری کہ اے مسلما نو ! رسول اللہ
کو اس طرح نہ بلا یا کر و جس طرح ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو بلکہ یا رسول اللہ کر
کے بلایا کر و تو جناب فا طمہ نے بھی عر ض کی یا رسول اللہ تو حضور نے فر مایا
بیٹی یہ خطا ب تمہا رے لئے نہیں ہے کیو نکہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو ں بلکہ
تم ابا جان کر کے بلا یا کرو کیو نکہ یہ کہنا مچھے پسند ہے اور اس سے اللہ بھی خوش
ہو تا ہے (ج۰۱ص۱۲۱)
٭ اگر حضرت علی ؑ نہ ہو تے تو جناب فا طمہ کا
کفو نہ ہوتا (۰۱ص،۳۸۱)
٭ مَرَجَ الْبَحْرَیْن حضرت علی ؑ و جناب فا
طمہ ؑ(ج۳۱ص۲۸۱)
٭رسو
ل اللہ کی بیٹی ایک فا طمہ ؑ ہے (ج۱۱ص۶۱۲) ایثا ر فا طمہ ؑ (ج۳۱ص۴۵۲)
٭
شب معراج جنا ب رسول اللہ کو جنا ب فا طمہ ؑ کی مصیبت اور حضرت محسن ؑ کی شہاد ت
کی اطلا ع دی گئی تھی(ج۲۱ص۶۳۲)
٭مید
ان محشر میں جنا ب فا طمہ ؑ کی آمد غُضُّوْ ا اَبْصَارَکُمْ (ج۳۱ص۸۳۱)
فواطم ثلاث: فوا طم ثلاث ہجرت کے وقت حضرت
علی ؑکے ہمراہ مدنیہ پہنچیں:
فا طمہ زہرا ؑ ، فاطمہ بنت اسد ؑ ، فا طمہ بنت
زبیر (ج۴ص۹۹)
فاطمہ بنت اسد ؑ: فا طمہ بنت اسد تعظیم
پےغمبر کے لئے کھڑی ہو تی تھیں (ج۳ص۷۷۲)
٭ مکہ سے مدنیہ تک سفر ہجرت میں حضرت علی ؑ کے
ہمراہ تھیں (ج۴ ص۹۹)
٭ جنا ب فا طمہ بنت اسد کا تر بیت پےغمبر میں
حصہ (ج۵ص۶۰۲)
٭ کفن فا طمہ بنت اسد (ج۵ص۰۴۲-
ج۲ص۴۲،۴۷۱-ج۹ص۱۰۱)
٭ فا طمہ ؑبنت اسد کے بطن مبارک سے حضرت علی ؑ
کی ولادت کعبہ میں (ج۰۱ص۲۵تا ۴۵)
فالج: فالج سے وہ انسان محفوظ رہے گا جو
بوقت خواب آیة الکرسی کو پڑھ کر سوئے گا (ج۳ ص ۶۳۱)
فئے: فئے وانفا ل (ج۲ص۶۵ – ج۳۱ص۰۵۲)
فوائد: ٭ فوائد
عصائے مو سیٰؑ (ج۹ص۵۷،۶۷۱)
٭ فوائد حج (ج۰۱ص۶۲)
فوٹو گرافی: فو ٹو گرا فی (ج۰۱ ص۱۳۲تا ۶۳۲)
فکر:
فکر کی دعوت (ج۴ص۵۹- ج۶ص۱۴۱)
فقہ : (ج۱ ص۶۱، ۳۲)
Leave a Reply