پچاس نمازیں : گذشتہ امتوں پر پچاس نمازیں
واجب تھیں (ج ۳ص ۴۸۱)
پیشین گوئی : حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا تھا کہ
میں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھاﺅ گے اور گھروں میں ذخیرہ کرو گے (ج ۳ص ۹۳۲)
٭ حضرت یوسف ؑ کی پیشین گوئی کرنا (ج ۸ص ۹۱)
٭ حضرت یوسف ؑ نے بوقت ِوفات تمام اولادِ
یعقوب کو وصیت کی تھی کہ قبطیوں کی طرف سے تم پر مصائب آئیں گے اور موسیٰؑ بن
عمران کی بدولت ہی تم کو خلاصی نصیب ہو گی، اس وقت ان کی کل تعداد (۰۸) تھی پس
لوگوں نے اپنی اولادوں کا نام عمران اور پھر موسیٰؑ رکھنا شروع کر دیا، چنانچہ
حضرت موسیٰؑ کی تشریف آوری سے پہلے پچاس (۰۵) جھوٹے موسیٰؑ بن عمران گذر چکے تھے
(ج ۲ص ۲۵۱ تا ۴۵۱)
٭ حضرت عیسیٰؑ نے پیشین گوئی کی تھی کہ میرے
بعد نبی آئے گا جس کا نام احمد ہو گا (ج ۴۱ص ۸)
٭ غیر اللہ کو پکارنا جائز نہیں (ج ۳۱ص ۹۱)
پیٹنا : جنگ ِاحد کے بعد جب مدینہ میں نبی
کریم کی خبر وفات پہنچی تو جناب خاتون جنت پیٹتی ہوئی باہر آئیں، چنانچہ تمام
زنانِ ہاشمیہ پیٹتی اور نوحہ کرتی ہوئی باہر نکلیں (ج ۴،س ۰۶)
پانی : بسم اللہ پڑھ کرپانی پینا چاہیے (ج
۲ص ۹۱)
٭ پانی تین سانس میں پینا چاہیے (ج ۳۱ص ۳۰۲)
٭ جنت کے دوسرے دروازے پر لکھا ہے اگر قیامت
کی پیاس سے بچنا ہے تو پیاسوں کو پانی پلاﺅ (ج۲ص۶۴)
پرندہ : حرم کی حدود میں آئے ہوئے پرندے کو
امان ہے جب تک حرم سے نکل نہ جائے (ج ۴ص ۸۱)
٭ قیدی نے حضرت یوسف ؑ سے پوچھا تھا کہ میں
نے خواب میں دیکھا ہے میرے سر پر طبق طعام ہے اور گوشت خور پرندے اس سے کھاتے ہیں
(ج ۸ص ۵۳)
٭ پرندوں میں حلال وہ ہیں جن میں چار صفات
پائی جائیں :
(۱) درندہ
نہ ہو (۲) اڑنے میں پر مار کر اڑتا ہو
(۳) دانہ بھرنے کی اس کے اندر تھیلی ہو
(۴) اس کے حرام ہونے پر نص نہ ہو (ج ۵ص
۰۵)
٭ وہ کونسا پرندہ ہے جو صرف ایک دفعہ اڑا ہے؟
(جواب : کوہِ طور) (ج ۶ص ۲۱۱)
٭ حضرت موسیٰؑ و خضر ؑ نے دریا کے کنارے ایک
پرندہ دیکھا تھا (خطاف یا تیتر) (ج۸ص ۵۳۲)
٭ پرندے نے چونچ میں پانی لیا مشرق کی طرف
پھینکا اور پھر لیا اور مغرب کی طرف پھینکا پھر آسمان کی طرف پھینکا اور آخر میں
زمین کی طرف، دونوں نبی موسیٰؑ و خضر ؑاس پرندے کے بارے میں حیران تھے کہ ایک
فرشتہ بشکل آدمی نمودار ہوا اور وجہ پوچھی انہوں نے بیان کی اُس نے جواب دیا اس کا
مقصد یہ ہے کہ وہ حلفیہ کہا رہا ہے مجھے اس ذات کی قسم جس نے مشرق کو مشرق اور
مغرب کو مغرب بنایا آسمان کا زمردیں شامیانہ اور زمین کا خاکی فرش بچھایا وہ آخری
زمانہ میں ایک نبی بھیجے گا جس کا نام محمد ہو گا اور اس کا ایک وصی ہو گا جس کا
نام علی ؑ ہو گا تم دونوں کا علم اس کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہے جس طرح قطرہ آب
بھر ے سمندر کے مقا بلہ میں! (ج ۸ص ۶۳۲)
٭ کوئی پرندہ اس وقت شکار ہوتاہے جب ذکر خدا
کو بھول جائے (ج ۹ص ۴۳)
٭ حضرت داﺅد ؑ کی تسبیح میں جوابی طور پر
پہاڑ اور پرندے بھی تسبیح پڑھتے تھے (ج ۹ص ۲۴۲ – ج ۱۱ص ۲۷۲ – ج ۲۱ص ۳۸)
٭ حاملین عرش چار فرشتے ہیں:
(۱) فرشتہ بشکل انسان انسانوں کےلئے رزق
طلب کرتا ہے
(۲) فرشتہ بشکل مرغ پرندوں کےلئے طالب رزق
ہے
(۳) فرشتہ بشکل شیر جو درندوں کےلئے طالب
رزق ہے
(۴) فرشتہ بشکل بیل جو عام چوپایوں کےلئے
طالب رزق ہے (ج ۴ص ۴۹)
٭ حضرت داﺅد ؑ و حضرت سلیمان ؑ پرندوں کی
زبانیں جانتے تھے (ج ۰۱ص ۰۳۲)
٭ حضرت سلیمان ؑ کے تخت پر پرندے پَر پھیلا
کر سایہ کئے رہتے تھے (ج ۰۱ص ۲۳۲)
٭ ہد ہد کی غیر حاضری اور تادیبی جھڑک (ج ۰۱ص
۴۳۲)
٭ ہد ہد کا واپس آکر حضرت سلیمان ؑ کو ملکہ
بلقیس کی حکومت کی اطلاع دینا (ج ۰۱ص ۸۳۲)
٭ پرندوں کا ہوا میں پرواز کرنا صنعت
پروردگار کا عظیم کر شمہ ہے (ج ۴۱ص ۸ ۷)
پیرو مرید : بروز قیامت جھوٹے پیرو مرید ایک
دوسرے سے بیزار ہوں گے (ج ۲ص ۷۰۲- ج ۱۱ص ۵۷ – ج ۲۱ص ۴۰۱- ج ۹ص ۱۶۱)
٭ ہر پیروکار اپنے امام و مرشد کے پیچھے جائے
گا (ج ۹ص ۱۶)
٭ مشرکین کو اپنے خداﺅں (باطل معبود) سمیت
جہنم میں داخل کیا جائے گا (ج ۹ص ۳۵۲)
٭ پیر پرستوں کا رویہ (ج ۲۱ص ۸۲۱)
پیشاب و پاخانہ : جب موسیٰؑ نے عصا پھینکا
تو فرعون کا پاخانہ نکل گیا (ج ۶ص ۸۶- ج ۰۱ص ۷۹۱)
٭ حرام جانور کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہوا
کرتے ہیں (ج ۷ص ۸۳)
پوپ پادری : نجاشی نے ماریہ قبطیہ کو حضور
کی کنیزی کےلئے بھیجا تھا اور پوپ پادری بھی بھیجے تھے تاکہ آپ کا کلا م سنیں اور
حقیقت اسلامیہ کا جائزہ لیں (ج ۵ص ۰۶۱)
پناہ از شیطان: ہر کام سے پہلے اَعُوْذُ
بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم پڑھنا چاہیے (ج ۲ص ۷۱)
پتھر و پہاڑ : جو پتھر حضرت موسیٰؑ کے پاس
تھا بعض کہتے ہیں کہ عام پتھر تھا اور بعض نے کہا ہے کہ خاص قسم کا پتھر تھا جو ہر
وقت آپ کے پاس ہوتا تھا اور بوقت ِضرورت جب اُس پر عصا مارتے تھے تو پانی کے چشمے
اُبل پڑتے تھے اور وہی پتھر قائم آل محمد کے پاس ہو گا (ج ۲ص ۶۱۱)
٭ بعض پتھروں سے پانی نکلتا ہے اور بعض سخت
ہوتے ہیں (ج ۲ص ۶۲۱)
٭ لوگوں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا اگر آپ
کی گواہی پہاڑ دے دیں تو ہم مان جائیں گے، پس حضور بنفس نفیس پہاڑ کے دامن میں
تشریف لے گئے اور کہا اے پہاڑ ! بحق محمد و آلہ جن کی برکت سے حاملین عرش کا بوجھ
ہلکا ہوا اور بحق محمد آلہ جن کے ذریعے توبہ آدم قبول ہوئی اور بحق محمد آلہ جن کی
بدولت ادریس جنت میں اٹھا ئے گئے تو محمد کی گواہی دے پس پہاڑ اور اس سے جاری ہونے
والے پانی سے کلمہ شہادت کی صدا گونجی (ج ۲ص ۷۲۱)
٭ مقام ابراہیم ؑ ایک پتھر ہے جس پر حضرت
اسماعیل ؑ کی زوجہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو نہلا یا تھا اور وہی جگہ مصلائے ابراہیمی
ہے (ج ۲ص ۴۷ ۱، ۵۷ ۱)
٭ حجر اسود کعبہ کے ایک گوشہ میں نصب ہے یہ
پتھر آدم ؑ کے ہمراہ جنت سے آیا تھا (ج ۴ص ۱۱)
٭ جنگ احد میں لشکر اسلام کے سپاہی پہاڑی
بکریوں کی طرح پہاڑ پر چڑھے (ج ۴ص ۹۳)
٭ ہند مادر معاویہ نے حضرت حمزہ کا جگر چپانا
چاہا تو اللہ نے اُسے پتھر کی طرح سخت کر دیا پس اس نے منہ سے نکال کر پھینک دیا
اور ملائکہ نے دوبارہ اسے اپنے اصلی مقام پر جوڑ دیا (ج ۴ص ۶۳)
٭ حضرت صالح کی قوم پہاڑوں کو کرید کر ان میں
اپنے گھر بناتی تھی (ج ۶ص۸۴)
٭ جس پتھر سے حضرت صالح کی اونٹنی پیدا ہوئی
وہ ان کی قوم کے نزدیک بڑا متبرک تھا (ج ۶ص ۹۴)
٭ حضرت صالح کو قتل کرنے کےلئے قوم کے چند بد
معاش ان کی عبادت گاہ کے قریب ایک پہاڑ کی غار میں جا چھپے تو اللہ نے ان پر پہاڑ
کو گرا دیا (ج ۶ص ۱۵)
٭ غزوہ تبوک کی طرف جاتے ہوئے حضرت پیغمبر
اُسی پتھر کے پاس سے گذرے (ج ۶ص ۳۵)
٭ آپ نے ناقہ کے بچے کے چڑھنے کا مقام بھی
بتایا پھر آپ نے فرمایا اُس امت کا شقی ترین انسان وہ تھا جس نے ناقہ کو ذبح کیا
اور میری امت کا شقی ترین انسان حضرت علی ؑکو قتل کر ے گا (ج ۶ص ۳۵)
٭ خاتون جنت نے ناقہ صالح کی مثال دے کر اللہ
سے دعا کی تھی (ج ۶ص ۳۵)
٭ قوم لوط پر پتھروں کی بارش برسائی گئی (ج
۶ص ۷۵)
٭ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام دمشق میں
دربار ہشام سے واپسی پر مدین سے گزرے تو لوگوں نے دروازہ بند کر دیا پس آپ ؑ پہاڑی
پر چڑھے اور بَقِیَّةُ اللّٰہِ خَیْرٌ لَکُمْ آیت پڑھی تو لوگوں نے دروازہ کھولا۔
٭ جب موسیٰؑ کی قوم نے گوسالہ پرستی شروع کی
تو اُن دنوں آپ کوہ طور پر تھے (ج ۶ص ۷۹)
٭ حضرت موسیٰؑ کو تو رات عطا ہوئی تو قوم نے
قبول کرنے سے انکار کر دیا پس اللہ نے کوہ طور کو ان پر بلند کیا تو ڈر کے مارے
سجدہ میں پڑ گئے (ج ۶ص۲۱۱)
٭ اللہ نے پہاڑ وں پر وحی کی کہ میں نوحؑ کی
کشتی کو کس پہاڑ پر ٹھہراﺅں؟ تو ہر پہاڑ نے سر بلند کیا لیکن کوہ جودی نے تواضع
اختیار کیا پس نوح ؑ کی کشتی نے کوہ جودی پر قرار پکڑا (ج ۷ص ۷۱۲)
٭ اللہ نے پہاڑ، زمین کے اضطراب کو ختم کرنے
کےلئے پیدا کئے گویا یہ زمین کی میخیں ہیں (ج۸ص۱۰۲)
٭ حضرت امیر المومنین ؑ نے ایک خطبے میں اس
حقیقت پرمکمل روشنی ڈالی ہے۔
٭ کفار کو تنبیہ اگر تم پتھر یا اس سے بھی سخت
تربن جاﺅ تب بھی خدا تمہیں دوبارہ زندہ کرےگا (ج۹ص۶۳)
٭ مومن کی تعریف ہے کہ پہاڑ کی طرح اپنے
عقیدہ پر جم کر رہے (ج ۹ص ۱۴)
٭ فرعون کی طرف نو نشانیوں میں سے ایک یہ
پتھر بھی ہے جو موسیٰؑ کے پاس تھا (ج ۹ص ۶۷)
٭ پہاڑ کی بڑی غار کو کہف اور چھوٹی کو غار
کہا جاتا ہے (ج ۹ص ۱۸)
٭ ایک قول ہے کہ رقیم پتھر کی تختی کا نام ہے
جس پر اصحاب کہف کا واقعہ درج ہے (ج ۹ص ۱۸)
٭ حضرت موسیٰؑ و یوشع جب مجمع البحرین پر
پہنچے تو ایک شخص سویا ہوا تھا جس کا تکیہ پتھر تھا حضرت یوشع نے مچھلی کباب شدہ
کو پتھر پر رکھا تو آب حیات کے قطرے پڑنے سے زندہ ہو کر پانی میں کود گئی (ج ۹ص
۷۰۱)
٭ دو پہاڑیوں کے درمیان ایک درّہ تھا جس سے
گزر کریاجوج و ماجوج اُدھر کی آبادیوں کو نقصان پہنچاتے تھے پس ذو القرنین نے
درمیان میں ایک بند تعمیر کر کے وہ راستہ بند کر دیا (ج ۹ص ۶۲۱، ۷۲۱)
٭ پتھر اور پہاڑ بھی حضرت داﺅد ؑ کے ساتھ
مصروف تسبیح ہو جایا کرتے تھے (ج ۹ص ۲۴۲)
پاکستان: پاک و بھارت جنگ نے مسلمانوں کو
اسلام کے زیادہ قریب کر دیا (ج ۷ص ۰۵)
٭ پاکستان دوران جنگ (ج ۷ص ۵۶)
٭ پاکستان پر دوسرا بھارت کا حملہ ۳ دسمبر
۱۷۹۱ء(ج ۱۱ص ۴۵۱)
٭ ۷۱ دسمبر کو جنگ بندی (ج ۱۱ص ۳۸۱)
پنجگانہ نماز: (ج ۹ص ۰۵)
٭ نماز پنجگانہ بھی باقیات و صالحات میں سے
ہے (ج ۹ص ۱۰۱)
٭ امت محمدیہ میں نماز پنجگانہ کا پابند، ماہ
رمضان کا روزہ دار عابدین میں شمار ہونگے (ج ۹ص ۸۵۲)
٭ نمازیں پانچ ہیں لیکن اوقات تین ہیں (ج ۴۱ص
۴۵۱) اوقات نماز کا بیان (ج ۴۱ص ۴۴)
پردہ کا حکم : (ج ۰۱ص ۹۲۱، ۶۵۱ -ج۱۱ص ۵۱۲)
پانچ علَم : حضرت پیغمبر نے فرمایا میری
اُمت میرے پاس پانچ علَم لے کر وارد ہوگی:
٭ میری اُمت کے گوسالہ کا ہو گا ان سے ثقلین
کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی
٭ فرعون اُمت کا ہو گا ان سے بھی ثقلین کی
بابت پوچھا جائیگا
٭
میری اُمت کے سامری کا جھنڈا ہو گا اور
وہی سوال ہو گا
٭
خوارج کا ہو گا یہ سب جہنم بھیجے جائیں
گے
٭
حضرت علی ؑابن ابی طالب کا ہوگا انکے
چہرے سفید ہونگے داخل جنت ہونگے
پانچ دریا: پانچ دریا جنت کی نہریں ہیں :
سیحون (دریائے سند ھ اپنے معاونوں سمیت)
جیحون (یہ بلخ کے علا قہ میں ہے) دجلہ، فرات، دریائے نیل
٭ اللہ فرماتا ہے میں نے پانچ کوپانچ میں
رکھا ہے:
۱ علم کو بھوک میں رکھا ہے لیکن لوگ شکم سیری
میں چاہتے ہیں
۲ راحت کو جنت میں رکھا ہے لیکن لوگ دنیا میں
چاہتے ہیں
۳ تونگری کو قناعت میں رکھا ہے لیکن لوگ اس کو
زر ومال میں ڈھونڈتے ہیں
۴ عزت کو اپنے دروازہ پر رکھا ہے لوگ
بادشاہوں کے دروازوں سے ڈھونڈتے ہیں
۵ اپنی رضا کو خواہش نفس کی مخالفت میں رکھا
ہے لوگ خواہش کی اطاعت میں چاہتے ہیں
پس
وہ ان چیزوں کو کیسے پا سکتے ہیں (ج ۱۱ص ۹۵۲)
٭ علامات مومن پانچ ہیں حضرت ابراہیم ؑ کے
ذکر میں گزر چکی ہیں۔
پل صراط : مومن اپنے اپنے مراتب کے لحاظ سے
گزریں گے (ج ۴۱ص ۷۶)
Leave a Reply