چاند : لوگوں نے حضور سے چاند کی کمی یا
زیادتی کے متعلق سوال کیا تو جواب ملاکہ اللہ نے اس کو تمہارے اوقات کے تعین کا
ذریعہ قرار دیا ہے (ج ۳ص ۷)
٭ رات کو عبادت کرنے والے کے حق میں ہے کہ
بروز محشر اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہو گا (ج ۴ص ۳۳)
٭ حضرت ابراہیم ؑ نے چاند پرستوں کے اعتقاد
کو باطل کرنے کےلئے یہ طریقہ استعمال کیا کہ پہلے فر مایا یہ میرا ربّ ہے پھر جب
چاند ڈوبا تو فر مایا میں ڈوبنے والوں کو خدا ہر گز تسلیم نہیں کرتا لوگوں کو
سمجھانے کا یہ بہت عمدہ طریقہ تھا (ج۵ ص۳۳۲)
٭ چاند بارہ برجوں کواٹھائیس (۸۲) دنوں میں
طے کرتا ہے (ج ۵ص۲۴۲)
٭ چاند کی گردش کے متعلق قائد ملت جعفریہ
علامہ مفتی جعفر حسین قدس سرہ کا جامع بیان (ج ۷ص۷۴۱ تا ۱۵۱)
٭ چاند و سورج کی تسخیر (ج ۸ص ۸۰۱ -ج ۹ص ۳۲۲)
٭ چاندکی فتح کے خواب (ج ۰۱ص ۹۳۲، ۹۴۲)
٭ حضرت امام جعفر صادقؑ نے فر مایا چاند کی
سطح پر کلمہ توحید کلمہ نبوت اور علی ؑ کا امیر المومنین کا ہونا تحریر ہے اور یہی
وہ سیاہی ہے جو ہمیں دکھائی دیتی ہے (ج ۹ص ۷۱)
٭ چاند گہن لگے تو نماز آیات واجب ہے (نما ز
آیات کا طریقہ انوار شرعیہ میں ہے) (ج۹ ص ۸۴)
٭ پہلی رات کا چاند (ج ۲۱ص ۲۲)
٭ آپ نے فر مایا اگر سورج میرے دائیں ہاتھ پر
اور چاند بائیں ہاتھ پر رکھ دیں تب بھی تبلیغ کو جاری رکھوںگا (ج۲۱ ص۸۷)
٭ چاند کو نور اورسورج کو سراج کہا گیا (ج
۴۱ص۹۰۱)
٭ چاند کی قسم کھائی (ج۴۱ ص ۵۳۱، ۶۲۲)
٭ سورج سے مراد حضرت پیغمبر اور چاند سے مراد
حضرت علی ؑ ہیں (ج ۴۱ص ۶۲۲)
٭ سورہ قمر کے فضائل (ج ۳ ۱ص ۴۶۱)
٭ معجزہ شق القمر یعنی چاند کا دو ٹکڑے ہونا
(ج ۳۱ص ۵۶۱)
چادر : حضور نے فر مایا تین قسم کے لوگ رحمت
خدا وندی سے محروم ہوں گے :
(۱) احسان
کر کے جتانے والا(۲) جھوٹی قسم کھاکر
مال بیچنے والا(۳) چادر گھسیٹ کر چلنے
والا
٭ چادر والی حدیث (حدیث ِبساط) بروایت ِتفسیر
بر ہان ابن شہر آشوب:
ایک مرتبہ حضور نے چادر بچھائی اور اس کے
چاروں گوشوں پر ابو بکر،عمر، جناب ابو ذر اور جناب سلمان کو بٹھایا اور حضرت علی ؑ
کو سب کے درمیان بیٹھنے کا حکم دیا، پھر سب کو حضرت علی ؑ کو سلام کرنے کا حکم دیا
چنانچہ سب نے تعمیل کی، پھر حضرت علی ؑ سے فر مایا کہ سورج سے بات کرو پس حضرت علی
ؑ نے سورج کو سلام کہا تو سورج نے جواب میں کہا وَ عَلَیْکَ السَّلامُ یَا وَلِیَّ
اللّٰہ پیغمبر کی دعا سے چادر نے ہوا میں پرواز کی اور اصحاب کہف کے پاس جاکر
اُتارا، سب نے اصحاب کہف کو یکے بعد دیگرے سلام کہا لیکن کسی کو جواب نہ ملا پس
حضرت علی ؑ نے سلام دیا تو سب نے جواب دیا عَلَیْکَ السَّلامُ یَا وَصِیَّ
مُحَمَّدٍ اور انہوں نے سلام کے بعد کہا کہ ہم نبی یاوصی کو ہی سلام کرنا جانتے
ہیں، پس پھر اسی چادر پر بیٹھے اور راستہ میں اتر کر ایک جگہ و ضو کیا پھر چادر پر
بیٹھے اور عین اس وقت مسجد نبوی میں جا اُترے جبکہ حضوراکرم صبح کی نماز کی دوسری
رکعت میں تھے (ج ۹ص ۳۸)
٭ چادر تطہیر کے متعلق احادیث (ج ۱۱ص۳۹۱ تا
۶۹۱)
چار نہریں : (ج ۳۱ص ۲۵۱- ج ۶ص ۹۲)
٭ پیغمبر نے فر مایا میں شب معراج جنت کے گنبد
نما مکان میں داخل ہوا دیکھا تو ایک ستون پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِ تحریر تھا ایک پانی کی نہر بِسْمِ اللّٰہِ کی میم سے، دودھ کی نہر لفظ
اَللّٰہ کے حلقہ ھَاسے، شہد کی نہر رَحْمٰن کے حلقہ میم سے، شراب کی نہر رَحِیْم
کے حلقہ میم سے جاری تھی اور اوپر لکھا ہوا تھا کہ جو شخص دنیا میں بِسْمِ اللّٰہِ
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے گا اس کو یہ چار نہریں عطا کرو ں گا (ج ۲ص ۹۱- ج۳۱ ص
۴۴)
چار فرشتے : مروی ہے نفخ صور کے وقت انبیا ء
و آئمہ کے علاوہ چار فرشتوں پر بھی گھبراہٹ طاری نہ ہو گی اور وہ چار یہ ہیں:
جبرائیل ؑ، میکائیل ؑ، اسرافیل، عزرائیل (ج۰۱ ص۶۶۲) اور دوسری روایت میں ہے کہ ان
چار فرشتوں پر بھی گھبراہٹ طاری ہو گی (ج۲۱ ص ۵۳۱) پر مفصل بیان موجود ہے۔
٭ جبرائیل ؑ کے متعلق پیغمبر نے فرمایا کہ اس
کے چھ سو پَر ہیں اور ہر ایک سے یاقوت و موتی جھڑتے ہیں۔
٭ اسرافیل کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ جبرائیل
ؑ نے ایک دفعہ پر واز کی تو اسرافیل کے ناک سے ہونٹ تک کا فاصلہ اس نے تین سو برس
میں طے کیا (جبرائیل ؑ کی تیز پروازی باب ”ج“ میں مذکور ہے)
٭ میکائیل ؑ کو اللہ نے اسرافیل کے پانچ سو
برس بعد پیدا فر مایا اور اسکے آنسوﺅں سے ٹپکنے والے قطرات سے جو ملائکہ پیدا ہوئے
ہیں ان کو کروبین کہا جاتا ہے۔
٭ جبرائیل ؑ کو اللہ نے میکائیل ؑ سے پانچ سو
برس بعد پیدا فرمایا اور اس کے پروں سے گرنے والے قطرات سے جو فر شتے پیدا ہوتے
ہیںان کو روحانیین کہا جاتا ہے اور ملک الموت صورت و شکل میں اسرافیل کے مشابہ ہے مفصل
روایت (ج ۳۱ص۵۵۱، ۶۵۱) پر موجود ہے۔
چار فرشتے حاملین عرش ہیں:
٭ انسانوں کی شکل کا ہے جو انسانوں کےلئے رزق
طلب کرتا ہے
٭ مرغ کی شکل کاہے جو پرندوں کےلئے طالب رزق
ہے
٭ شیر کی شکل کاہے جو درندوں کےلئے رزق
مانگتاہے
٭ بیل کی شکل کا ہے جو باقی چو پایوں کےلئے
رزق طلب کرتاہے (ج۴۱ ص ۴۹)
چار فرشتے مدبرات ہیں :
٭ جبرائیل ؑ : جو ہواﺅں پرموکل ہے
٭ میکائیل ؑ: سبزیوں پر موکل ہے اور بارشیں
بھی بر ساتا ہے
٭ عزرائیل (ملک الموت) : قبض ارواح پر موکل ہے
٭ اسرافیل : جو نفخ صور کرے گا اور ایک سال سے
دوسرے سال تک کے امور آسمان سے
زمین
پر لاتا ہے (ج ۴ص ۴۹)
چار نبی بادشاہ: (۱) ذوالقرنین ؑ (۲) داﺅد ؑ
(۳) سلیمان ؑ (۴) یوسف ؑ (ج ۹ص۰۳۱)
چار شخصیات کےلئے سورج پلٹا: ۱ یوشع بن نون
۲ حضرت سلیمان ؑ ۳ حضرت سید الانبیا ء ۴حضرت علی ؑ (ج ۵ص۶۸)
چار افراد : ترمذی، مشکوٰة سے منقول ہے کہ
حضرت پیغمبر نے فر مایا کہ اللہ نے مجھے چار افرادسے محبت کا حکم دیا اور یہ کہ وہ
خود بھی ان سے محبت کرتا ہے، لوگوں نے ان کے نام دریافت کئے تو آپ نے فر مایا:
(۱) حضرت علی ؑ (۲)جناب ابوذر (۳) جناب مقداد
(۴) جناب سلمان (ج ۵ص ۲۷)
چار محدثہ عورتیں : روایت میں ہے کہ چار
عورتیں محدثہ تھیں (جن سے ملائکہ کلام کرتے تھے):
(۱) حضرت سارہ ؑ (۲) مادر موسیٰؑ (۳) حضرت مریم
ؑ (۴) حضرت فاطمہ ؑ (ج ۰۱ص ۲۴)
چار منتخب عورتیں: (ج ۳ص ۰۲۲،۹۲۲- ج۴۱ ص ۰۷)
٭ خدا نے عالمین سے چار عورتوں کو منتخب فر
مایا :
(۱)
حضرت مریم ؑ (۲) حضرت خدیجہ ؑ (۳)حضرت فاطمہ ؑ (۴) آسیہ زوجہ فر عون
چوتھا خلیفہ : حضرت علی ؑ نے فر مایا جو شخص
مجھے چوتھا خلیفہ نہ مانے اس پر اللہ کی لعنت ہے تو اس کی تشریح میں حضرت امام
جعفر صادقؑ نے فر مایا کہ نص قرآن کی رو سے علی ؑچوتھا خلیفہ ہےں، چنانچہ قرآ ن
مجید میں حضرت آدم ؑ کی خلافت کا اعلان ہے اور وہ پہلا خلیفہ ہے اس کے بعد قرآ ن
میں داﺅد کی خلافت کا اعلان ہے اور وہ دوسرا خلیفہ ہے پھر حضرت ہارون ؑ، حضرت
موسیٰؑ کا خلیفہ تھا اور ا ہے ان کے بعد حضرت علی ؑ حضرت محمد کا خلیفہ ہے پس وہ
چوتھا خلیفہ ہے (ج ۲ص۴۸)
چار بادشاہ: (ج۳ ص ۴۴۱ – ج ۹ص ۰۳۱) جنہوں نے
روئے زمین پر حکومت کی :
(۱) سلیمان (۲) ذوالقرنین یہ دونوں مسلمان تھے
(۳) نمرود، (۴) بخت نصر یہ دونوں کافر تھے
چار نبی : (ج ۵ص ۴۸) جو عیسیٰؑ اور خاتم
الانبیا کے درمیان گزرے:
(۱)حضرت
یونس ؑ (۲) حضرت یحییٰؑ (۳)حضرت شمعون ؑ (۴) حضرت خالد ؑ
چہاردہ معصومین ؑ: مروی ہے کہ ملائکہ کے
سامنے چہاردہ معصومین ؑ کے انوار پیش کئے گئے اور حکم ہوا کہ تم ان کے نام بتاﺅ
توملائکہ تفصیل وار بتانے سے عاجز آگئے تھے (ج ۲ص ۹۷)
٭ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے عرض
کیا کہ حضرت موسیٰؑ جادوگروں کی رسیوں کے سانپ دیکھ کر گھبرا گئے تھے لیکن حضرت
ابراہیم ؑ نارِ نمرودی سے نہ گھبرائے، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ ؑ نے فر مایا حضرت
ابراہیم ؑ کی صلب میں حضرت محمد (چہاردہ معصومین) کے انوار تھے اس لئے وہ نہ
گھبرائے (ج ۹ص ۷۳۲)
٭ آیت نور کی تاویل چہار دہ معصومین ؑ سے کی
گئی ہے (ج ۰۱ص۳۴۱)
٭ حضرت ابراہیم ؑ نے ملکوت سما کی سیر کی اور
چہاردہ معصومین ؑ کے انوار دیکھے (ج ۵ص۳۳۲)
چور: چور کو ڈھونڈنے کا طریقہ (ج ۷ص ۳۴ ۱)
٭ چور کی سزا پر مفصل بحث (ج ۵ص ۹۹ تا ۵۰۱)
٭ سفر میں چور یا درندہ کا خطرہ ہو تو نماز
خوف پڑھی جاتی ہے۔
٭ امام محمد باقرؑ نے فرمایا مومن ہوتے ہوئے
انسان چوری نہیں کر سکتا (ج ۶ص ۹۶۱)
٭ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی طرف چوری کی
نسبت (ج ۸ص ۴۶، ۶۶)
٭ دشمن علی ؑ خطر ناک چور ہیں (ج ۵ص ۲۲۱)
٭ معتصم عباسی کے زمانہ ایک چور گرفتار ہوا
اور اسکی سزا کے متعلق فقہائے امت میں اختلاف تھا کہ ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے پس
امام محمد تقی علیہ السلام نے دلائل سے بتایا کہ ہاتھ کی چار انگلیاں کاٹ دی جائیں
چنانچہ امام کے فرمان کے مطابق چورکو سزا دی گئی (ج ۱ص۶۶، ۷ ۶ -ج ۴۱ص ۰۲۱)
چشمہ : حضرت موسیٰؑ کے پاس پتھر تھا جس پر
عصا مارتے تھے اور اس سے پانی کے چشمے پھوٹتے تھے (ج ۲ص ۶۱۱) وہی پتھر حضرت قائم
آل محمد کے پاس ہو گا پس اس سے پانی کا چشمہ پھوٹے گا جس سے بھوکا شکم پر کرے گا
اور پیاسے کی پیاس بجھے گیا (ج ۶ص ۷۰۱)
٭ حضور نے شب معراج چشمہ کوثر سے پیا اور
چشمہ رحمت سے غسل کیا (ج ۸ص ۳۶۲)
٭ اصحاب کہف جس غارمیں گئے اس کے سامنے ایک
چشمہ تھا جس سے انہوں نے پہلے پانی پیا پھر داخل ہوئے (ج ۹ص ۷۸) جب تین سو نو
(۹۰۳) برس بعد اٹھے باہر دیکھا تو نہ چشمہ تھا نہ پھلدار درخت تھے بحر حیرت میں
ڈوب گئے کہ ایک رات کے اندر پانی کا چشمہ کیسے خشک ہو گیا اور درخت کہاں غائب ہو
گئے؟ (ج ۹ص۰۹)
٭ چشمہ آب حیات کے کنارے پر حضرت موسیٰؑ
پہنچے توپانی پڑنے سے مچھلی زندہ ہو کر پانی میں چلی گئی۔
٭ حضرت ذوالقرنین کو آب حیات کا چشمہ نہ مل
سکا لیکن حضرت خضر ؑ نے پالیا (ج ۹ص ۲۲۱)
٭ چشمہ شراب طہور (ج ۹ص۵۶۱) اس کے پینے سے
حسد وغیرہ ختم ہوں گے۔
٭ اللہ نے طوفان کے بعد حضرت نوح ؑ کےلئے ایک
چشمہ پیدا فر مایا جس کا نام نوشاب تھا اور حضرت سام نے اس کے کنارہ پر درخت صنوبر
لگایا (ج ۰۱ص ۸۷۱)
٭ ایک روایت میں ہے کہ زمین پر پانی کا پہلا
چشمہ وہ ہے جو حضرت صالحؑ کےلئے ظاہر کیا گیا تھا جس سے ایک دن ناقہ ء صالح سیراب
ہوتی تھی اوردوسرا دن قوم کےلئے تھا (ج ۰۱ص ۹۰۲)
٭ جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام کا فورہے (ج
۰۱ص۱۵۱)
٭ ایک سلسبیل نامی چشمہ ہے جس سے زنجبیل
(ادرک) نکلے گی (ج ۶ص ۳۵۱)
٭ جنتی لوگ آب حیات سے غسل کریں گے (ج ۹ص۵۶۱)
٭ آسمان چہارم پر ایک چشمہ ہے جس میں آب حیات
ہے (ج ۳۱ص ۵۳۱)
٭ جبرائیل ؑ کی ٹھوکر سے پانی کا ایک صاف
شفاف شیریں چشمہ ظاہر ہوا جس سے حضرت ایوب ؑنے پانی پیا، پس سب بیماریاں دور
ہوگئیں اور غسل کیا تو جسمانی بیرونی مصائب ختم ہو گئے اور رنگ نکھر گیا (ج۲۱ ص
۱۰۱)
چپتی : جس طرح مرد عورت تسکین شہوت کےلئے
جمع ہوتے ہیں اگر دو عورتیں اسی طرح جمع ہوں تو ان کے اس فعل بد کو چپتی کہا جاتا
ہے، اصحاب رس پر عذاب کی وجہ یہی تھی ان کی عورتیں آپ میں یہی فعل انجام دیا کرتی
تھیں، حضرت امام جعفر صادقؑ نے فر مایا چپتی (مساحقت) کی سزا زانی کی سزا کے برابر
ہے آپ نے فر مایا ایسی عورتوں کو جہنم میں آگ کا لباس پہنایا جائے گا، راوی نے
مساحقت کی حرمت پر دلیل مانگی تو معصوم ؑ نے اصحاب رس کے متعلق نازل ہونے والی آیت
پڑھی اور فر مایا اصحاب رس پر عذاب اسی فعل بد کی وجہ سے نازل ہوا تھا (ج۰۱ص ۸۷۱
-ج ۳۱ص ۳۱۱)
چرخہ کاتنا : رزق حلال کا پیش خیمہ ہے (ج۳۱ص
۱۶۱)
٭ منقول ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جب سزائے
موت ہوئی تو نمرود کی خوشنودی کےلئے عورتیں چرخہ کاتنے کی مزدوری بھی خچہ کےلئے
بطور چندہ پیش کرتی تھیں (ج ۹ص ۴۳۲)
چخہ : وہ مقام جس میں آگ جلائی گئی اور حضرت
ابراہیم ؑ کو اس میں ڈالا گیا ۰۲ × ۰۲ ذراع لمبا چوڑا تھا اور تیس ہاتھ اس کی
بلندی تھی (ج ۲۱ص۳۵)
چھپکلی : جب ابراہیمؑ نار نمرودی میں تھے تو
چھپکلی آگ کو تیز کرتی تھی (ج ۹ص ۶۳۲)
چوہا: حالت احرام میں بھی چوہے کو مارنا جرم
نہیں ہے (ج ۵ص ۷۶ ۱)
٭ مشرکین مکہ پر ایک دفعہ خدا نے چوہوں کا
عذاب نازل کیا تھا (ج ۶ص ۲۷)
چغلی : یہ سخت گناہ ہے چنانچہ بنی اسرائیل
نے انبیا ء کی چغلی کھا کر ان کو قتل کروایا تھا (ج ۲ص ۷۱۱)
٭ بروز محشر چغلخور بندروں کی شکل میں مسخ ہو
ں گے (ج ۴۱ص ۴۶۱)
چیونٹی : ابن عباس کہتاہے میں حضرت علی ؑ کے
ہمراہ تھا وادی میں چیونٹیوں کی کثرت دیکھ کر کہا پاک ہے وہ ذات جو ان کی تعداد کو
جانتی ہے، حضرت علی ؑ نے فر مایا کہو پاک ہے وہ ذات جس نے اس مخلوق کو پیدا کیا
ورنہ تعداد تو بجائے خود میں ان کے نر و مادہ کو بھی جانتا ہوں (ج ۲۱ص ۲۱)
٭ حضرت سلیمان ؑ سے چیونٹی کی گفتگو (ج ۰۱ص
۲۲)
٭ چیونٹی کی دعا (ج ۰ ۱ص ۵۳۲)
Leave a Reply