anwarulnajaf.com

تفسیر میں موجود ” ک ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online

کالب بن یوحنا: حضرت محمد و حضرت علی ؑ کا
نام لے کر کالب بن یوحنا نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور بارہ میل کا پانی کا سفر طے
کیا جس طرح زمین پر سفر کیا جاتا ہے (ج۲ص ۷۰۱)

٭      یہ شخص یہودا کی اولاد میں سے تھا اور حضرت
موسیٰؑ کے بارہ نقبا ء میں سے تھا (ج۵ص ۴۷)

٭      مروی ہے کہ یوشعؑ بن نون اور کالب دونوں
حضرت موسیٰؑ کے چچا زاد تھے (ج۵ص ۹۸)

٭      حضرت موسیٰؑ کے بعد فاتحانہ طور پر اریحا
میں داخل ہوئے (ج۵ص ۰۹)

کبوتر: شب ہجرت غارکے دروازہ پر کبوتر کے
جوڑے نے گھونسلا بنا لیا تھا تاکہ کفار کی توجہ غار کے اندر جھانکنے سے ہٹ جائے
(ج۷ص ۰۵)

کتاب: کِتَابٌ مَّکْنُوْنٌ (ج۳ص ۰۰۲)

٭      الکتاب (ج۲ص ۰۵-ج۸ص ۱۰۱)

٭      علمائے یہود کی کتاب تورات میں تحریف کی
مذمت (ج۲ص ۹۲۱)

٭      کتاب کے کچھ حصے پر عمل اور کچھ حصے کی
مخالفت پر مذمت (ج۲ص ۷۳۱، ۷۴۱)

٭      اہل کتاب یہود و نصاریٰ کادعویٰ: جنت میں ہم
جائیں گے اور ایک دوسرے کی نفی(ج۲ص ۵۵۱، ۶۵۱)

٭      کتاب پر ایمان لانے والے (ج۲ص ۳۶۱ – ج۴ص
۵۳،۸۷ -ج۶ ص۲۱۱)

٭      کتاب اور اہل کتاب (ج۳ص ۷۶۲)

٭      نور کتاب مبین (ج۵ص ۰۸ تا ۲۸، ۲۱۱)

٭      پیغمبر نے وصیت نامہ لکھنے کےلئے کاغذ و
دوات طلب فرمائی تو عمر نے کہا حَسْبُنَا کِتَابَ اللّٰہ آخر کار پیغمبر نے
فرمایا: قُوْمُوْا عَنِّیْ (ج۵ص ۱۳۱)

٭      کتاب کا علم حضرت علی ؑ کے پاس ہے (ج۸ ص
۲۴۱)

٭      کتاب کے معنی کی تعین (ج۳۱ص ۶۱)

٭      کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ (ج۴۱ص ۹۸۱، ۱۹۱)

٭      اعمال کی کتابت کرنے والے فرشتے (ج۳۱ص
۶۱۱-ج۲۱ص ۰۱-ج۸ص ۳۱۱-ج۹ص ۷۴- ج۳۱ص ۵۱۱-ج۴۱ص ۷۸۱)

٭      اہل جنت کو کتاب دائیں ہاتھ میں اور اہل
دوزخ کو بائیں ہاتھ میں ملے گی(ج۴۱ص ۴۹۱)

کتا: سیکھے ہوئے کتے کا شکار جائز اور حلال
ہے (ج۵ص ۲۴،۳۴)

٭      ملک العلماء کا استدلال (ج۵ص ۴۴)

٭      کتا رکھنا اور کتا پالنا (ج۵ص۴۴،۵۴)

٭      کتے کی نجاست اورحرمت (ج۵ص ۹۴)

٭      کتے کی قیمت سُحت ہے (ج۵ص ۰۱۱)

٭      اصحاب کہف کا کتا جنت میں جائے گا (ج۶ص ۲۳۱)
(اس روایت کی تاویل) آیات الٰہیہ کی تکذیب کرنے والوں کو کتے سے تشبیہہ دی گئی ہے
(ج۶ص ۳۳۱)

٭      کتا نجس العین ہے (ج۷ص ۸۳)

٭      اصحاب کہف کا ہمراہی کتا (ج۵ ص ۶۸،۸۸)

٭      باﺅلے کتے سے بچنے کا تعویذ (ج۰۱ص ۲۲۲)

٭      حضرت علی ؑ کے اشارے سے ایک خارجی لوگوں کی
بھری مجلس میں کتا بن گیا پھر حضرت علی ؑ کی معافی سے انسان بن گیا (ج۰۱ص ۸۴۲)

کثرت سوال سے منع : حضرت عمر نے حضرت پیغمبر
کی پھوپھی صفیہ سے گستاخانہ لہجے میں کہا تھا کہ تم لوگوں کو قرابت رسول فائدہ نہ
دے گی اس نے حضور کا بتایا تو آپ نے بھرے مجمع میں ارشاد فرمایا کہ میں مقام محمود
پر ہوں گا تو شفاعت کروں گا اور آج جو شخص اپنے باپ کے متعلق مجھ سے پوچھے گا میں
اس کو بتاﺅں گا پس ایک شخص نے پوچھا تو آپ نے فرمایا تو صحیح باپ کی طرف منسوب ہے
پھرآپ نے فرمایا وہ شخص کیوں نہیں سوال کرتا جو کہتا ہے کہ میری قرابت کوئی فائدہ
نہ دے گی پس حضرت عمر کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ میں اور رسول کے غضب سے پناہ مانگتا
ہوں مجھے معاف فرمائیے پس آپ نے فرمایا کہ زیادہ سوال کرنے سے گریز کیا کرو دیکھو
حضرت موسیٰؑ کی امت نے بار بار سوال کر کے گائے کے ذبح کے معاملہ میں ایک مصیبت
میں پھنس گئی (ج۵ص ۴۷۱)

کثرت مال و اولاد: کثرت مال و اولاد بھی ایک
نشہ ہے (ج۶ص ۰۶)

٭      اہل ثروت و دولت ہمیشہ حق کی مخالفت کرتے
ہیں (ج۱۱ص ۸۴۲- ج۴۱ص ۸۵۲، ۲۲۲، ۳۲۲)

کدو : حضرت یونس ؑ مچھلی کے شکم سے باہر آئے
تو کدو کی بیل کے سایہ میں رہے (ج۲۱ص ۳۷)

کربلا : ابوثمامہ صیداوی نے نماز کا ذکر کیا
تو امام حسین ؑ نے دعا دی کہ خدا تجھے نمازیوں میں محشور فرمائے (ج۲ص ۲۰۱)

٭      کربلا و کعبہ کا تقابل (ج۲ص ۱۸۱)

٭      سلطانِ کربلا کا صبر (ج۲ص ۹۹۱)

٭      ذکر کربلا (ج۵ص ۱۱۲) زمین کربلا (ج۲ص ۲۱ تا ۴۱)

٭      کربلا والوں کا تقویٰ (ج۴ص۳۲-ج۵ص ۳۵۲)

٭      کربلا والوں کے مشن کی تبلیغ کرنے والوں کو
نصیحت (ج۵ص ۸۵۲ تا ۰۶۲)

٭      کاف سے اشارہ کربلا (ج۹ص ۱۳۲)

٭      مروی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت زمین کر
بلا پر ہوئی (ج۹ص ۴۴۱)

کرامت مومن: (ج۲۱ص ۸۴، ۱۴)

کرسی : آیة الکرسی کے فضائل (ج۳ص ۵۳۱)

٭      کرسی پروردگار (ج۳ص ۷۳۱)

کسریٰ: ایران کے حکمرانوں کا لقب تھا (ج۲ص
۵۰۱)

٭      ولادت پیغمبر کے وقت ایوان کسریٰ کی
بنیادیں ہل گئیں اور ایوان کے چودہ کنگرے گر گئے (ج۸ص۴۷۱)

٭      کسریٰ و قیصر روم کی جنگ (ج۱۱ص ۲۰۱)

٭      خندق کی کھدائی کے وقت پیغمبر کی کلنگ کی
ضرب سے کسریٰ کے محلات نظر آئے (ج۱۱ص ۵۶۱)

کشتی: حضرت نوحؑ کی کشتی (ج۷ص ۱۱۲تا ۸۱۲-ج۶ص
۴۴)

٭      حضرت خضر ؑ اور حضرت موسیٰؑ کا کشتی پر
سوار ہونا اور حضرت خضر ؑ کا کشتی میں سوراخ کرنا (ج۹ص ۲۱۱)

٭      سوراخ کرنے کی وجہ (ج۹ ص ۶۱۱)

٭      حضرت نوحؑ نے سو برس کشتی بنانے میں صرف
کئے (ج۱۱ص ۲۷)

٭      پانی کا کشتیوں کو اپنی پشت پر اٹھا کر
لوگوں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک لے جانا بھی اللہ کی عظمت و توحید کی ناقابل
تردید برہان ہے (ج۱۱ص ۱۴۱- ج۴۱ص ۲۹)

کفر : ضدی مزاج کفار کا طرز عمل (ج۲ص ۳۵،
۴۶-ج۵ص ۳۹۱،۰۱۱،۶۴۲،۸۴۲ -ج۶ ص ۲ ۵۱ – ج۷ص ۴۵۱-ج۹ص ۱۷،۷۷- ج۱۱ص ۹۹-ج۳۱ص۴۱)

٭      کافروں کو دوست بنانا ممنوع ہے (ج۴ص ۴۲)

٭      کفار احکام فروعیہ میں بھی مکلف ہوتے ہیں
(ج۵ص ۴۵)

٭      کافروں بلکہ مطلق بے دینوں کی مجلس میں
بیٹھنا حرام ہے جب کہ وہ اسلام کے خلاف باتیں کر رہے ہوں (ج۵ص ۸۲۲-ج۷ص ۹۳۲-ج۳۱ص
۴۶۲،۷۶۲)

کعبہ : جب مسلمانوں نے بیت المقدس کی طر ف
منہ کر کے نماز پڑھی تو یہودیوں نے اعتراضات شروع کر دئیے تھے کہ یہ لوگ ہمارے
قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں لہذا ہمارا مذہب حق ہے پس آیت نازل ہوئی کہ
مشرق و مغرب سب اللہ کےلئے ہیں جس طرف بھی منہ کر کے نماز ادا کی جائے صحیح ہے اور
اس آیت سے نوافل کو غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے پڑھ لینے کا جواز ثابت کیا گیا ہے
(ج۲ص ۷۵۱)

٭      تعمیر کعبہ (ج۲ص ۸۷۱)

٭      زمین کعبہ پر حضرت اسمٰعیل ؑ و جناب ہاجرہ
ؑ کافروکش ہونا (ج۲ص ۱۷۱-ج۸ص ۱۵۱)

٭      کعبہ کو بیت عتیق کہا گیا ہے (ج۲ص ۰۸۱-ج۰۱ص
۷۲)

٭      یہودیوں کے اعتراضات کا جواب (ج۲ص ۶۸۱،
۰۶۱)

٭      طالب علم کی امداد اور علماء کی امداد کو
تعمیر کعبہ سے تشبیہ کی وجہ (ج۲ص ۷۱۲)

٭      کعبہ کا تفصیلی ذکر (ج۴ص ۷ تا ۹۱)

٭      کعبہ کا احترام و فضائل (ج۵ص ۲۷۱-ج۰۱ص ۷۶۲)

٭      کفار مکہ نے ابو طالب سے بائیکاٹ کےلئے عہد
نامہ لکھ کر کعبہ کی دیوار کے ساتھ لٹکا دیا تھا (ج۵ص ۳۰۲)

٭      کعبہ سے حضرت علی ؑ کی بت شکنی (ج۹ص ۲۶ تا
۴۶-ج۴۱ص ۲۱۱)

٭      ولادت حضرت علی ؑ در کعبہ (ج۰۱ص ۲۵ تا ۴۵)

٭      کعبہ کی تطہیر کی حکم (ج۰۱ص ۱۲)

٭      کفار کا جنگ خندق کی روانگی کے وقت کعبہ کے
سامنے عہد (ج۱۱ص ۳۶۱)

٭      تبع کا کعبہ پر غلاف چڑھانا (ج۳۱ص ۳۱۱)

٭      کعبہ میں بت رکھنے کی ابتدا (ج۴۱ص ۱۱۱)

کفارہ : قسم کا کفارہ (ج۵ص ۲۶۱)

٭      دورانِ احرام شکار کا کفارہ (ج۵ص ۷۶۱ تا
۱۷۱-ج۴۱ص ۲۶)

٭      بعض اوقات مومنوں کے گناہوں کا کفارہ پہلے
ہو جایا کرتا ہے (ج۲۱ص ۴۴،۲۱۲)

٭      ظہار کا کفارہ (ج۳۱ص ۳۳۲ تا ۵۳۲)

کفن: بہلول نامی شخص جو کفن چوری کرتا تھا
پھر اس کی توبہ کا قصہ (ج۴ص ۲۵)

٭      مردوں کو اچھے کفن پہنائے جائیں کیونکہ
بروز محشر وہ اپنے اکفان پر فخر کریں گے (ج۵ص ۱۴۲-ج۶ص ۴۲)

٭      جناب فاطمہ بنت اسد کا کفن رسول اللہ کی
قمیص سے ہوا (ج۶ص ۴۷۱)

کلمہ: وہ کلمات جن کی بدولت حضرت آدمؑ کی
توبہ مقبول ہوئی (ج۲ص ۶۹)

٭      وہ کلمات جن سے حضرت ابراہیم ؑ کا امتحان
لیا گیا (ج۲ص ۰۷۱)

٭      وہ کلمات جو حضرت پیغمبر نے شب معراج جنت
کے دروازوں پر مرقوم دیکھے (ج۲ص ۲۴)

٭      وہ کلمات جو جنت کے دروازوں پرمرقو م تھے
(ج۲ص ۶۴)

٭      کلمہ طیبہ توحید و نبوت و ولایت پر مشتمل
ساق عرش پر مرقوم تھا (ج۲ص ۵۹-ج۸ص۷۶۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ پر کلمہ کااطلاق اور اس کی
وضاحت (ج۳ص ۵۳۲)

٭      کلمةُ اللہ بلند اور کلمہ کفر پست (غار ثور
کا واقعہ) (ج۷ص ۲۵، ۴۶، ۶۶)

٭      کلمات اللہ (ج۷ص ۷۷۱) کلمہ یعقوب (ج۸ص ۷۱)

٭      حضرت پیغمبر نے شب معراج انبیا ء سے سوال
کیا تو انہوں نے توحید، نبوت، ولایت کی شہادت کا کلمہ پیش کیا (ج۹ص ۲۶۲)

٭      کلمات اللہ کی حد نہیں ہے اور حضرت امام حسن
عسکری ؑ سے مروی ہے کہ ہم اللہ کے وہ کلمات ہیں جن کے فضائل کی کوئی حد نہیں ہے
(ج۱۱ص ۰۴۱)

٭      جس فطرت پر اللہ نے بندوں کو پیدا فرمایا
ہے وہ کلمہ طیبہ لا اِلٰ©ہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ عَلِیٌّء
اَمِیْرِ الْمُوْمِنِیْنَ وَلِیُّ اللّٰہِ (ج۱۱ص ۰۱۱)

٭      کلم ُ الطیّب سے بھی مراد یہی کلمات ہیں
(ج۱۱ص ۹۵۲)

٭      قیامت کے دن جہنم سے بچنے کا جو برات نامہ
ملے گا اس پر بھی یہی تحریر ہوگا (ج۲۱ص ۶۳)

٭      کلمہ باقیہ حضرت ابراہیم ؑ کی ذرّیت میں ہے
(ج۲۱ص ۹۲۲)

٭      کلمہ کی وضاحت (ج۳۱ص ۸۴، ۰۲۲)

کلام : بے محل کلام کرنا اللہ کی رحمت سے
دوری کا باعث ہے (ج۲ص ۶۴)

٭      قرآن مجید کے حروف مقطعات ایک چیلنج کی
حیثیت رکھتے ہیں یعنی اے منکرین یہ کتاب انہی حروف سے مرکب ہے جن سے تم اپنا کلام
مرتب کرتے ہو اگر یہ اللہ کا کلام نہ ہوتا تو تم لوگ اس کے مقابلہ سے عاجز نہ ہوتے
پس تمہارا اس کے مقابلہ سے عاجز آجانا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ بندے کانہیں بلکہ
اللہ کا کلام ہے (ج۲ص ۹۴)

٭      اللہ کا کلام سننے کےلئے حضرت موسیٰؑ انتخاب
کرکے ستر آدمیوں کو لے گئے تاکہ وہ اپنے کانوں سے اللہ کا کلام سنیں چنانچہ جب
کلام سنا تو کہنے لگے کلام کرنے والا تو نظر نہیں آتا ہم کیسے جانیں کہ بولنے والا
اللہ ہے (ج۲ص ۱۱۱)

٭      اللہ کے کلام کا معنی (ج۲۱ص ۹۱۲، ۰۲۲)

٭      اللہ کے ” ک©ُ©نْ“ کہنے کا مطلب (ج۲ص ۹۵۱)

٭      کلام کی حقیقت (ج۰۱ص ۰۳۲)

٭      اللہ کے کلام کی حقیقت کے متعلق متکلّمین کی
تحقیق (ج۳ص ۲۳۱، ۵۲۲)

٭      حضرت عیسیٰؑ کا بچپنے میںکلام کرنا (ج۵ص
۱۸۱-ج۹ص ۷۴۱)

٭      حضرت موسیٰؑ سے کلام خدا (ج۹ص ۳۷۱، ۶۷۱-ج۱۱ص
۴۳)

کنگھی کرنا : داڑھی میں کنگھی کرنا سنت
پیغمبر ہے (ج۶ص ۴۲)

٭      کنگھی کرنے سے رزق بڑھتا ہے (ج۶ص ۴۲)

کنواں: جس میں حضرت یوسف ؑ کو گرایا گیا (ج۸
ص ۳۱،۵۱، ۰۲)

٭      حضرموت کا کنواں (ج۰۱ص ۸۲)

٭      کنوئیں کے قید خانہ میں ایک نبی کو ڈالا گیا
(ج۰۱ص ۸۷۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کا کنوئیں پر پہنچ کر حضرت شعیب
ؑ کی لڑکیوں کے مال کو سیراب کرنا (ج۱۱ص ۷۲،۹۲)

کوا: قابیل نے ہابیل کو دفن کرنا کوے سے
سیکھا (ج۵ص۱۹-ج۲۱ص۵۰۲)

٭      حضرت امام جعفرصادقؑ نے فرمایا ہمارے شیعہ
کتوں کی طرح بھونکتے نہیں اور کوے کی طرح لالچی نہیں ہوتے اور غیر سے سوال نہیں
کرتے خواہ وہ بھوک سے مر جائیں (ج۶ص ۷۶۱)

کوثر : قرآن و اہل بیت ؑ ایک دوسرے سے جدا
نہ ہوںگے یہاں تک کہ حوض کوثر پہنچیں گے (ج۱ص ۸۸-ج۵ص ۴۴۱)

٭      حوض کوثر کے مالک حضرت علی ؑ ہونگے (ج۲ص
۰۰۱)

٭      حضرت علی ؑ کے دوست کوثر پیئں گے (ج۴ص ۹۲)

٭      حضور نے فرمایا جو میری سنت سے منہ پھیرے گا
بروز قیامت فرشتے کوثر سے اس کا منہ پھیر دیں گے اور اس کو دنیا میں توبہ نصیب
ہوگی (ج۶ص۹۲)

٭      حضرت پیغمبر حوض کوثرپر ہوں گے تو چند صحابہ
کو وہاں سے ہٹایا جائے گا کیونکہ وہ پیغمبر کے بعد مرتد ہوگئے تھے نقلاً از بخاری
(ج۱ص ۹۴۱- ج۶ص ۹۹)

٭      کوثر نبی کا ہے (ج۲۱ص ۹) کوثر (ج۳۱ص ۰۹۱)

کوفہ: مسجد کوفہ (ج۷ص ۴۲)

٭      کوفہ کی میں فضیلت (ج۸ص۸۶۲ -ج۴۱ص ۳۱۱)

٭      حضرت امام جعفرصادقؑ سے منقول ہے کہ وہ
کھجور کا درخت جس سے حضرت مریم ؑ کو خرما نصیب ہوئے وہ کوفہ میں تھا (ج۹ ص۵۴۱)

کوہِ صفا و مروہ : پانی کی تلاش میں جناب
ہاجرہ کا صفا مروہ کے درمیان دوڑنا (ج۲ص ۹۷۱)

٭      صفا و مروہ کی وجہ تسمیہ(ج۲ص ۲۰۲)

٭      سَعی بَیْنَ الصَّفَاءوَ الْمَرْوَہ (ج۲ص
۴۰۲)

کہانت: فرعون کو کاہنوں نے خبر دی تھی کہ
ایک بچہ بنی اسرائیل میں پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیری حکومت کاخاتمہ ہوگا پس اس نے
بنی اسرائیل پر مظالم شروع کر دئیے (ج۲ص ۵۰۱-ج۱۱ص ۷)

٭      عمل کہانت حرام ہے (ج۲ص ۲۵۱)

٭      کاہن کی اجرت سُحت ہے (ج۵ص ۰۱۱)

٭      حضر ت ابوطالب ؑ کو ایک کاہنہ کا خبر دینا
(ج۵ص ۶۰۲)

٭      علم کہانت (ج۸ ص۳۷۱)

٭      شیاطین کا ہن لوگوں پر جھوٹی باتوں کا
القاءکرتے ہیں (ج۰۱ص ۹۱۲)

٭      امام زین العابدین ؑ نے کہا نت کو ان گناہوں
میں شمار فرمایا جو ہوا کو تاریک کرتے ہیں (ج۱۱ص ۰۲۱)

کھمبی: اس کا پانی امراضِ چشم کے لئے مفید
ہے۔

کھجور: کھجوروں کی تابیر کا طریقہ (ج۸ص
۴۰۱،۵۰۱)

٭      مومن جادوگروں کو فرعون نے کھجوروں پر سولی
دی (ج۶ص ۲۷)

٭      کلمہ طیبہ کو شجرہ طیبہ سے مثال دی گئی ہے
اور شجرہ طیبہ کھجور کا درخت ہے (ج۸ص ۴۵۱)

٭      اصحاب کہف میں سے تملیخا نے اپنی کھجوروں کا
باغ فروخت کیا تھا جس سے تین درہم اس کو وصول ہوئے اور وہی رقم لے کر بازار سے
روٹیاں خریدنے گیا تھا (ج۹ص ۶۷)

٭      اَزْکٰی طَعَامًا سے مراد بقول معصوم کھجور
کا پھل ہے (ج۹ص ۰۹)

٭      اسی درخت (کھجور) کو آپ نے حرکت دی تو اس نے
پھل گرائے، کھجور کا تر و تازہ ہو کر ثمر آور ہونا جناب مریمؑ کے معجزات میں سے ہے
(ج۹ص ۴۴۱)

٭      حضرت موسیٰؑ کی آزمائش کےلئے فرعون نے دو
طشت منگوائے تھے ایک کھجوروں کا اور دوسرا آگ کے انگاروں کا پس آپ نے ایک انگارہ
اٹھا کر منہ میں ڈالا تو زبان توتلی ہو گئی اللہ نے اس ہاتھ کو ید بیضا کر دیا اور
زبان کو کلام کا شرف عطا فرمایا(ج۹ص ۹۷۱)

٭      حضرت صالحؑ کی قوم کے پاس کھجوروں کے خوش
نما باغات تھے (ج۰۱ص ۷۰۲)

کہف: اصحاب کہف حضرت قائم آل محمد کے ہمراہ
ہوں گے (ج۶ص ۷۰۱)

٭      آیت اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَابَ
الْکَہْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا کو کسی پرانی قبر کی مٹی
پر سات دفعہ پڑھ کر کسی سوئے ہوئے کے سینے پر چھڑک دیا جائے تو وہ بیدار نہ ہوگا
(واللہ اعلم)

٭      اصحاب کہف کا قصہ (ج۹ص ۱۸)

٭      حدیث بساط جس میں صحابہ پیغمبر کا چادر پر
بیٹھ کر ہوا میں پرواز کر کے اصحاب کہف پر سلام کرنے کا تذکرہ ہے چادر کے چار
گوشوں پر ابو بکر و عمر و جناب ابوذر، جناب سلمان اور درمیان میں حضرت علی ؑ تشریف
فرما تھے (ج۹ص ۳۸)


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *