{
“@context”: “https://schema.org”,
“@type”: “ItemList”,
“itemListElement”: [
{
“@type”: “ListItem”,
“position”: 1,
“name”: “ہوم”,
“item”: “https://www.anwarulnajaf.com/”
},
{
“@type”: “ListItem”,
“position”: 2,
“name”: “تفسیر انوار النجف جلد 15”,
“item”: “https://www.anwarulnajaf.com/search/label/%D8%AA%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%AC%D9%81%20%D8%AC%D9%84%D8%AF%2015”
},
{
“@type”: “ListItem”,
“position”: 3,
“name”: “تفسیر میں موجود ” گ ” سے شروع ہونے والے موضوعات | تفسیر انوار النجف جلد 15 | tafseer anwar ul najaf jild 15 | shia books online”,
“item”: “https://www.anwarulnajaf.com/2022/01/blog-post_899.html”
}
]
}
گ
گائے: بنی اسرائیل کو گائے کے ذبح کرنے کا
حکم (ج۲ص ۲۲۱)
٭ گائے کی پوجا (ج۶ص ۱۸)
٭ گوسالہ پرستی (ج۲ص ۸۰۱،۹۱-ج۵ص ۶۳۱،۳۸-ج۳۱ص
۰۴)
٭ گوسالہ پرستی میں مسلمانوں کی بنی اسرائیل
سے مشابہت (ج۲ص ۹۶۱-ج۶ص ۹۸)
٭ بروز محشر امت پیغمبر کے گوسالہ کا ایک الگ
جھنڈا ہوگا (ج۴ص ۹۲)
٭ ایک روایت میں ہے کہ فرعون گائے پرست تھا
اور لوگوں کو بھی گائے پرستی کی دعوت دیتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ سامری نے لوگوں
کو گوسالہ پرستی میں مبتلا کر ڈالا (ج۶ص۳۷)
٭ سامری اور گوسالہ(ج۶ص۶۹،۲۰۱)
٭ گوسالہ پرستوں کو سزا دی گئی (۶ص۰۰۱)
٭ سعید بن جبیر کے قول کے مطابق سامری اہل
کرمان سے تھا اور موسی کے لشکر میں پیش پیش تھا جبرائیل ؑ جس گھوڑے پر سوار تھا اس
گھوڑے کے قدموں کی جگہ پر مٹی میں حرکت پیدا ہوتی تھی پس سامری نے وہ مٹی اٹھالی
اور بنی اسرائیل کو گمراہ کرنے کےلئے قبطیوں سے حاصل شدہ سونے کو پگھلا کر وہ مٹی
اس میں ڈالی گئی تو اس میں حرکت پیدا ہوئی پس شیطان نے ان کو اس کی پوجا کرنے کی
دعوت دی، چنانچہ چھ لاکھ میں سے صرف بارہ ہزار ثابت قدم رہے اور اکثر یت گوسالہ
پرستی میں مبتلا ہو گئی (ج۹ص ۵۹۱)
٭ مروی ہے کہ وہ لوگ گوسالہ کو درمیان میں
کھڑا کر کے اس کے ارد گرد ناچتے،کودتے اور ڈھول باجے بجاتے تھے (ج۹ص ۶۹۱)
گانا : ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ
السلام کی خدمت میں عرض کی کہ میں بعض اوقات طہارت خانہ میں جاتا ہوں تو پڑوس میں
عورتیں گا رہی ہوتی ہیں اور سننے کےلئے بیٹھا رہتا ہوں آپ نے فرمایا ایسا مت کیا
کرو قیامت کے روز ہر عضو سے اس کے متعلقہ اعمال کے باز پرس ہوگی پس اس شخص نے توبہ
کی اور غسل توبہ کر کے نماز پڑھی اور گانا حرام خواہ قرآن کی آیتیں پڑھ کر گایا
جائے یا حمد و ثنا ئے پروردگا ر یا تعریف و توصیف محمد و آل اطہار کو گا کر پیش
کیا جائے سب ناجائز اور حرام ہے (ج۹ص ۱۳)
٭ قول زور سے مراد غنا (گانا) لیا گیا ہے
(ج۰۱ص ۲۷، ۷۸۱)
٭ اسی طرح لَھْوَ الْحَدِیْث سے مراد بھی غنا
(گانا) ہے (ج۱۱ ص ۵۳۱)
٭ منقول ہے کہ جس کے کان دنیا میں غنا سننے کے
عادی ہوں وہ بروز محشر اہل جنت کے قاریوں کی آواز سننے پر توفیق نہ پائے گا (یعنی
جنت میں داخل نہ ہو گا) (ج۱۱ص۵۳۱)
گدھ: ایک ضرب المثل ہے کہ فَلانٌ اَبرّ مِنَ
النّسر یعنی فلاں شخص گدھ سے بھی زیادہ اپنے والدین کا طاعت گزار اور فرمانبرادار
ہے۔
٭ فرعون نے ایک تابوت بنواکر چاروں کونوں پر
گدھ بٹھائے اور اوپر گوشت لٹکا دیا تاکہ وہ گوشت حاصل کرنے کےلئے اوپر اڑیں اور
تابوت کو ان کے پاﺅں سے باند ھ دیا فرعون اور ہامان دونوں اس میں بیٹھے گئے پس
چاروںگدھ زور لگانے لگے اور اڑے چنانچہ تابوت کو بہت اوپر لے گئے اور فرعون نے
دیکھا کہ آسمان ویسے ہی بلند ہے جیسے پہلے تھا پس واپس زمین پر اتر آئے
گدھا : حضور بنفس نفیس کسر نفسی کے طور
عموما گدھے کی سواری کرتے تھے اور اس کو گھاس چارا خود ڈالتے تھے (۴ص ۴۷)
٭ بلعم بن باعور کی سواری گدھے کا ذکر(ج۶
ص۲۳۱)
٭ گدھا اور جنت (ج۶ص۲۳۱-ج۹ص ۳۸)
٭ حضرت موسیٰؑ جب تبلیغ پرمامور ہر کر پہلے
پہل فرعون کے دربار میں گئے تو پاﺅں میں گدھے کے چمڑے کے جوتا تھا پس پیغام
بھجوایا کہ میں پرودگار کی جانب سے رسول بن کر آیا ہوں گدھے کی آواز کو اللہ نے
اَنْکَرَ الْاَصْوَات (نہایت کرخت آواز) کہا ہے (ج۱۱ص ۳۳۱)
گدا گر: گدا گروں نے قرآ ن مجید کو آلہ
گداگری قرار دے دیا ہے (ج۱ص ۸۶)
٭ گدا گری اتنی بری صفت ہے کہ حضرت امام جعفر
صادقؑ نے فرمایا ہمارے شیعہ وہ ہیں جو کتوں کی طرح بھونکیں نہیں کوے کی طرح لالچی
نہ ہوں اور ہمارے دشمن سے سوال نہ کریں خواہ بھوک مر جائیں (ج۶ص ۷۶۱)
٭ مانگنا ہے تو اللہ سے مانگو(ج۶ص ۳۶۱)
گریہ: گریہ مصائب میں گریہ کرنا فطری امر ہے
(ج۲ ص۰۰۲)
٭ خوف خدا میں رونے والی آنکھ قیامت کے دن نہ
روئے گی اور مروی ہے کہ آنسو کا یک قطرہ آتش جہنم کے سمندروں کو ختم کر دیتا ہے
(ج۶ص ۱۶۱)
٭ خدا جن لوگوں کو بروز قیامت اپنی رحمت کا
سایہ دے گا ان میں سے ایک وہ ہے جو عظمت پروردگا ر کو یاد کر کے گریہ کرے (ج۷ ص۵۲)
٭ سب سے زیادہ گریہ کرنے والے پانچ ہیں:
۱- حضرت آدم ؑ و جناب حواؑ اتنے روئے کہ ان کے
آنسو کا پانی پرندوں نے پیا
۲- حضرت یعقوب ؑفراق حضرت یوسف ؑ میں رو کر
آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے
۳- حضرت یوسفؑ زندان مصر میں اس قدر روئے کہ
تمام قیدی تنگ آگئے
۴- حضرت سجاد علیہ السلام ۵۳ برس بعد واقعہ
کربلا روتے رہے
۵- جناب بتول معظمہؑ امت کے مظالم سے اس قدر
روئیں کہ اہل مدینہ ان کے گریہ سے تنگ آگئے اور حضرت علی ؑ سے درخواست کی کہ بتول
سے کہیں یا دن کو روئے یا رات کو روئے اور جنت البقیع میں حضرت علی ؑ نے بیت الحزن
بنا دیا جس میں وہ رویا کرتی تھیں (ج۸ص۰۴)
٭ گریہ کرنا بے صبری نہیں ہے کیونکہ حضرت یعقوبؑ
کو انتہائی گریہ کے باوجود اللہ نے کظیم کہا ہے بے صبر نہیں کہا پس شیعیان علی ؑ
کا آل محمد کے غم میں گریہ کرنا بھی بے صبری نہیں اور حضرت یعقوب ؑ نے کثرت گریہ
کے باوجود اپنے آپ کو صبر جمیل کی صفت سے متصف فرمایا نیز اللہ نے بھی آپ کے گریہ
کو قرآن میں سراہا (ج۸ ص ۳۷)
٭ قوم شیعہ کے غم حسین میں رونے پر اعتراض
کرنے والوں کےلئے حضرت یعقوبؑ کا گریہ ایک دعوت فکر کی حیثیت رکھتا ہے اور غم حسین
دنیا میں ایک زندہ معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے (ج۸ص۴۷)
٭ کھٰیٰعصٓ کی تفسیر میں ہے کہ حضرت ذکریا کو
پنجتن پاک کے نام بتائے گئے پس حضرت ذکریاؑ جب بھی حضرت محمد، حضرت علی ؑ، جناب
فاطمہؑ و امام حسن ؑ کا نام لیتے تو دل خوش ہوتا لیکن امام حسین ؑ کا نام لیتے ہی
رونے لگ جاتے تھے (ج۹ص ۶۳۱)
٭ حضرت یحییٰؑ کا خوف خدا میں گریہ (ج۹ص۹۴۲)
٭ حضرت شعیب ؑ کا محبت خدا میں گریہ (ج۱۱ص۱۳)
گناہان کبیرہ : حضور نے فرمایا نمازی شیطان
سے دور رہتا ہے لیکن جب وہ نماز کو ترک کرے تو شیطان کو جراءت ہو جاتی ہے پس وہ اس
کو گناہان کبیرہ میں بھی مبتلا کر دیتا ہے (ج۲ ص۲۰۱)
٭ انبیا ء گناہان کبیرہ و صغیرہ سے پاک ہوا
کرتے ہیں (ج۲ ص ۲۷۱)
٭ اور جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھے اور روزہ
کے تمام آداب کا خیال رکھے تو وہ ماہ رمضان کے نکلتے ہی خود گناہوں کے دلدل سے نکل
جاتا ہے (ج۲ص ۲۲۲)
٭ گناہوں سے توبہ کرنے سے دعا مقبول ہوتی ہے
(ج۲ص ۵۳۲)
٭ گناہ سے توبہ کرنا (ج۴ص ۱۵)
٭ بہلول تائب کا واقعہ (ج۴ص ۲۵)
٭ گناہ کبیرہ کرنے سے بھی نہی عن المنکر نہ
کرنا سخت تر گناہ ہے (ج۵ص ۶۳۱)
٭ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا گناہ کبیرہ
کی بھی بخشش کا موجب ہو جاتا ہے (ج۵ص ۶۳۱)
٭ گناہ کبیرہ کے دو پہلو ہیں خدا کی نفی کردہ
چیزوں کو مثبت کرنا چنانچہ بت پرستی و شرک اس میں داخل ہیں اور خدا کی ثابت کردہ
چیز کی نفی کرنا مثلاً انکار نبوت و ولایت وغیرہ (ج۶ص ۰۳)
٭ بعض اوقت گناہان کبیرہ کی سز ا دنیا میں ہو
جاتی ہے (ج۷ ص ۸۹۱-ج۲۱ص۴۴،۳۱۲)
٭ گناہان کبیرہ کی مختصر فہرست (ج۱۱ ص۰۱۱)
٭ گناہان کبیرہ کی تفصیل اور گناہوں کے اثرات
(ج۱۱ص ۰۲۱)
گہوارہ: گہوراے میں کلام کرنے والا حضرت
عیسیٰؑ(ج۳ص ۶۳۲-ج۹ص ۶۴۱)
گوز زنی: (ریح جو آواز دار ہو) قوم لوط کی
بد عادات میں سے یہ بھی تھا کہ اعلانیہ اور بغیر شرم حیا کے بھیر مجلس میں گوز زنی
کیا کرتے تھے (ج۹ ص۹۳۲- ج۱۱ص ۷۷، ۱۸)
گھوڑ دوڑ : لہو و لعب کی حرمت سے مستثنےٰ ہے
(ج۸ ص۴۱)
٭ حضرت پیغمبر نے فرمایا براق جنت کے گھوڑوں
میں سے ایک گھوڑا ہے جس کو اللہ نے میرے لئے مسخر فرمایا (ج۸ ص ۸۵۲)
٭ فرعون کا گھوڑا پانی سے گھبرایا تو جبرائیل
ؑ نے گھوڑی آگے بڑھا دی پاس فرعون اس کے پیچھے داخل ہوا اور لشکر سمیت غرق ہوا
(ج۰۱ص ۹۹۱)
٭ حضرت سلیمانؑ نے بلقیس کے سوال جواب میں اس
کے نمائندے کو گھوڑے کے پسینے کے پانی کی شیشی بھر دی تھی (ج۰۱ص ۳۴۲)
٭ حضرت ابراہیم ؑکے پاس جب فرشتے آئے تو
گھوڑو ں پر سوار تھے (ج۱۱ص ۸۷)
٭ حضرت سلیمانؑ کے آگے گھوڑوں کا پیش ہونا
اورصافن اس گھوڑے کو کہا جاتا ہے جو تین پاﺅں زمین پر ٹیک کر چوتھے پاﺅں کا صرف
کنارا زمین پر لگائے اور یہ عمدہ گھوڑے کی علامت ہے (ج۲۱ص ۰۹، ۱۹)
Leave a Reply