anwarulnajaf.com

تولیّتِ کعبہ

 تولیّتِ کعبہ

بنائے کعبہ کے
بعد اس کی تولیّت حضرت اسمٰعیل کے سپرد تھی اور ان کے بعد ان کی اولاد کی تولیّت
بیت اللہ کا شرف حاصل رہا لیکن کچھ عرصہ کے بعد قبیلہ جرہم نے غلبہ حاصل کرکے کعبہ
کی تولیّت ان سے چھین لی اور جب قبیلہ جرہم اور عمالقہ کی آپس میں جنگ ہوئی تو
عمالقہ غالب آگئے اور کعبہ کو انہوں نے اپنے قبصہ میں لے لیا، پھر ایک مرتبہ جرہم
نے عمالقہ کو مغلوب کرکے ان سے کعبہ کی تولیّت واپس لے لی اور تقریباً تین سو برس
اس کے متولی رہے اور انہوں نے کعبہ کی عمارت میں کچھ اضافہ بھی کیا۔

جب حضرت
اسمٰعیل کی اولاد کی تعداد بڑھ گئی تو انہوں نے قبیلہ جرہم کو مکہ سے نکال دیا اور
کعبہ کی تولیت خود سنبھال لی۔ اس وقت ان کا سرکردہ عمرو بن لحی خزاعی تھا اور یہ
پہلا شخص ہے جس نے کعبہ میں بت لا کر رکھے اور لوگوں کو شرک کی تعلیم دی، اس نے
پہلا بُت جو کعبہ میں رکھا تھا، اس کا نام ھبل تھا، وہ اسے شام سے لایا تھا، اس کے
بعد پھر دوسرے بُت لائے گئے۔ حلیل خزاعہ بنی خزاعہ میں سے کعبہ کا آخر متولی ہے۔
حلیل کی صرف ایک لڑکی تھی جو قصی بن کلاب کے نکاح میں تھی۔ پس حلیل نے اپنے بعد
کعبہ کی تولیت اپنی بیٹی کے سپرد کردی اور اس کی کلید برداری کے لئے ابو غبشان
خزاعی کو مقرر کیا، لیکن ابو غبشان نے معمولی معاوضہ لے کر کعبہ کی کلید برداری
بھی قصی بن کلاب کو بیج دی، پس اس طریقہ سے کعبہ کی تولیت قریش تک پہنچی، جب جناب
رسالت مآب ﷺ نے مکہ کو فتح کیا تو اس کے اندر جس قدر بت وغیرہ رکھے تھے، ان کو گرا
دیا گیا۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *