anwarulnajaf.com

تیسرا باب – صفات خدا وند کا بیان

توحید پر ایمان رسخ ہوجان
ےکے بعد آپ کو اس امر کا بھی یقین ہوجائے گا کہ حق سبحانہ تمام صفات جمال وجلال
اور تقدس وکمال کا جامع ہے اورمتکلمین کے نزدیک یہ صفات دو قسموں پر ہیں۔صفات
ثبوتیہ اور صفات سلبیہ ۔صفات ثبوتیہ کی تعداد انہوں آٹھ
  بتائی ہے اور صفات سلبیہ کی تعداد سات گنوائی
ہے ۔

علامہ شیخ محمد حسین قدہ
آل کاشف انعطاء فرماتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان
لوگوں نے صفات ثبوتیہ کے آٹھ ہونے کی اصطلاح قائم کرنے کی ضرورت کیوں پوری کی اور
اتنے وسیع وعریض  مقصد کے لیے انہوں نے اس
قدر تنگ نظری کا مظاہرہ کیوں کیا پس صفات کمالیہ جن کی تعداد حدوشمار سے باہر ہے
۔کو اس عدد میں محصور کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟صاف طور پراس طرح کیوں نہ کہا جائے کہ
صفت ثبوتی ہر وہ صفت ہے جو حالیت و محلیت تغیر اور حدوث کے عیوب سے دور رہ کر کمال
مجد اور عظمت وجلال کی مظہر ہو اوراس کے مقابلہ میں صفت سلبی ہر وہ صفت ہے جو نقص
و عجز محدود یت حدوث اور تغیر وغیرہ پر دلالت کرے جو مخلوق کے لیے مناسب ہیں ۔پس
عارفین کے نزدیک معیار یہ ہے کہ جو صفت تقدیس و تنزیہ کی موجب اورکمال کی مظہر ہے
وہ حق سبحانہ کی ذات میں ثابت ہے ۔لہذا نہ حصر کی ضرورت ہے اور نہ ضبط کی حاجت ۔

میرے نزدیک ان کا فرمان
بیشک واجب الادغان ہے اور اس پر اطمینان کرتے ہوئے اپنے بیان کو مختصر کرتاہوں اور
دلیل برہان میں پڑ کر بے فائدہ نہ وقت کا نقصان کرتاہوں اور نہ طبع قارئین کو ملول
وپریشان کرتاہوں ۔لیکن چونکہ صفات ثبوتیہ کا متکلمین ہمیشہ سے تذکرہ چلے آئیں ان
کو گنوا دینا بھی خالی از فائدہ نہیں ۔تاکہ ان کے ترک کو ایک خلانہ  محسوس کیا جائے ۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *