خداوند کریم نے اپنے فیض عمیم اور فیض جسیم سے شریعت
اسلامیہ کو شریعت سہلہ قرار دیا ہے تا کہ اس پر عمل کرنے میں تکلیف محسوس نہ ہو پس
طہارت میں زمین کو پانی کا بدل قرار دے دیا تا کہ عبادت کےلئے وجو یا غسل کے غیر
ممکن ہونے کی صورت میں زمین پر تیمم کر کے فرائض کی بجا آوری ہو سکے پس وضو یا غسل
کے بدلہ میں تیمم کے جائز ہونے کے چند شرائط ہیں۔
1. پانی میسر نہ ہو حتا کہ حد امکان تک
ڈھونڈنے کے باوجود بھی نہ مل سکتا ہو۔
2. پانی موجود ہو لیکن پانی تک پہنچناناممکن
ہو ، بے طاقتی اور کمزوری کی وجہ سے یا وقت کی کمی کی وجہ سے کہ آمدروفت کے زمانہ
تک وقت عبادت ختم ہو جانے کا ڈر ہو۔ یا یہ کہ پانی کنویں میں ہو اور پانی کھینچنے
کےلئے ڈرل یا اس کا کوئی بدل موجود نہ ہو اور نہ وہ ممکن الادا رقم سے دستیاب ہوتا
ہے یا یہ کہ پانی تک جانے کےلئے جان مال ناموس وغیرہ کا خطرہ ہو اور کوئی اجرت لے
کر بھی وہاںس ے لانے والا نہ ہو۔
3. پانی کے استعمال سے بیماری مانع ہو یعنی
بیمار ہونے کا ڈر ہو یا بیماری کے بڑھنے کا خطرہ ہو یا بیماری کے لمبا ہو جانے کا
خوف ہو۔
4. پانی ہو لیکن اگر اس کو وضو یا غسل میں
استمعال کرے تو بعد میں اپنے لئے یا کسی مال محترم کےلئے پیاس سے مرنے کا خطرہ ہو۔
5. ایسی صورتوں میں غسل یا وضو کے بدلہ میں
تیمم کر کے عبادت ادا کی جائے گی۔
مسئلہ: اگر تیمم کر چکنے کے بعد پانی مل جائے یا وہ
مجبوری ختم ہو جائے جس کے لئے تیمم کیا تھا تو تیمم خود بخود باطل ہو جائے گا۔
مسئلہ: پانی
کے انتظار یا مجبوری کے رفع ہونے کے انتظار کے طور پر نماز یا عبادت متعلقہ
کو آخر وقت میں ادا کرنا چاہیے البتہ اگر پانی کے ملنے سے مایوسی یا وقت معین تک معذوری
و مجبوری کے رفع ہونے کا امکان نہ ہوتو تیمم کے ساتھ اول وقت میں بھی نماز پڑھی جا
سکتی ہے۔
مسئلہ: مٹی ریت پتھر پر یتمم ہو سکتا ہے اور تیمم
ایسی جگہ سے کرنا چاہئیے جہاں نجاست کا امکان کم ہو۔
مسئلہ: معدنیات چونا سیمنٹ پختہ اینٹ کپڑا وغیرہ جن
پر زمین کا نام صادق نہیں آتا ایسی چیزوں پر تیمم نہیں کرنا چاہیے۔
Leave a Reply