حشر ونشر
بحارالانوار سے منقول ہے حضرت رسالتمآب نےاولاد عبدالمطلب کو جمع کرکے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھےبرحق نبی مبعوث فرمایا ہے تم مرنے کے بعد ایک دن اٹھو گے جس
طرح سونے کے بعد جاگتے ہو اور مرنے کے بعد دوگھر ہیں ایک جنت اور دوسرا جہنم اور ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایاکہ قیامت
جمعہ کےروز قائم ہوگی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سےمنقول ہے کہ بروز محشر ایک لاکھ بیس ہزار صفیں ہوں گی جن میں سےاسی ہزار صفیں صرف
امت پیغمبر آخرالزمانؐ کی ہونگی اور باقی چالیس ہزار صفیں باقی تمام امتوں کی ہوں گی حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام سے منقول ہے جب لوگ بروز محشر
اٹھیں گے تو آدمی کےساتھ آدمی اس طرح
ہوگاکہ قدموں کے بدلنے کی جگہ بھی نہ ہوگی جس طرح ترکش میں تیر ایک دوسرے
کےساتھ رکھے ہوئے ہوتی ہیںکہ حرکت نہیں کرسکتے
آپ سے سوال کیا گیاکہکیا بروز محشر لوگ برہنہ
محشور ہوں گےتو آپ نے فرمایاکہ نہیں بلکہ یہی کفن ان کالباس ہوں گے
سائل نےپوچھا کیا وہ اس عرصہ دراز تک بوسیدہ نہ ہوجائیں گے تو آپ نے فرمایاجوذات مردوں کو
زندہ کرنے پر قادر ہے وہکفنوں کو بھی تازہ کرسکتی ہے پھر سوال کیا گیاکہجولوگ کفن
کے بغیر دفن کئے گئے ان کا کیاحشر ہوگا ؟ آپ نے فرمایا
خداوندکریم انکےستر کاانتظام
فرمائے گا الخبر ایک حدیث میں وارد ہے کہ اپنے مردوں کو اچھے کفن
پہنایا کرو کیونکہ قیامت کےدن لوگ اپنے کفنوں پر فخر کریں گے
مواقف قیامت
بروایت بحارالانوار
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول
ہے آپ نے فرمایاکہ حساب لئے جانے سے پہلے اپنے نفسوں کاخود حساب لے لو کیونکہ قیامت کے دن پچاس مواقف ہوں گے اور ہر ہر
موقف پر تمہارے اوقات کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ٹھیر نا
پڑے گا (چنانچہ ایک دن کی مقدار بچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے ) یعنی ہر فریضہ
کی باز پرس کا موقف الگ الگ ہوگا کسی موقف پر نماز کسی پر زکوۃ کسی پر حج
کا حساب پوچھاجائے گا اور احادیث میں ہے کہ سب سے پہلے نماز پوچھیجائے گی اگر یہ
صحیح ہوگی تو بقی فرائض کا ھساب لیاجائے
گا ورنہ اسے جہنم میں بھیج دیاجائے گا
لیکن آل محمد علیہم السلام سے
تواتر کےساتھ وارد ہونے والی رویات کے ماتحت سب سے پہلے ولاء آل محؐمد کا سوال ہوگا اگر مقام ولامیں پورا اترے گا تو باقی فرائض کا سوال ہوگا ورنہ الٹے
منہ اس کو دوزخ میں ڈال دیاجائے گا
Leave a Reply