کبریت احمر جلد ۳ ص۲۴ سے منقول ہے کہ جنگ صفین میں جب معاویہ نے لشکر علی ؑ پر پانی بند کیا ہوا تھا تو حضرت عباس ؑ لشکر شام پر حملہ کرنے میں حضرت حسین ؑ کے ہمراہ تھے، مروی ہے جنگ صفین میں ایک روزلوگوں نے دیکھا کہ امیرالمومنین ؑ کے لشکر سے ایک نقاب پوش جوان نکلا جس سے ہیبت وشجاعت کے آثار نمایاں تھے سولہ سال کے لگ بھگ عمر تھی، گھوڑے کو میدان میں جولان دے کرمبارزہ طلبی کی معاویہ نے ابوالشعثاء کو مقابلہ کیلئے حکم دیا تواس نے جواب دیا کہ شامی لوگ مجھے ایک ہزار جوان کے مقابلہ کا پہلوان سمجھتے ہیں تو مجھے بچہ کے مقابلہ میں بھیجتاہے میرے سات فرزند موجود ہیں ان میں سے ایک کوبھیجتاہوں جواس کے لئے کافی ہوگا، پس اس نے اپنے ایک لڑکے کو بھیجا لیکن آتے ہی فی النار ہوا، پھر باقی چھ ایک دوسرے کے بعد آتے رہے اورواصل جہنم ہوئے جب ابوالشعثاء کے ساتوں بیٹے جہنم روانہ ہوچکے تودنیا اس کی نظروں کے سامنے تاریک ہوئی بل کھاتاہوا جوش انتقام میں آگے بڑھا لیکن آتے ہی دربانِ جہنم کے حوالے ہوا، اس کے بعد اب کسی شامی میں یہ جرأت نہ رہی کہ مقابلہ کے لئے آگے بڑھے، توانہوں نے گھوڑے کی باگ واپس موڑدی، حضرت امیر ؑ کے تمام صحابہ محو ِ حیرت تھے کہ یہ کون جوان تھا جس کی شجاعت نے دونوںلشکروں کو بحرِ حیرت میں غرق کردیا؟ پہچانا اس لئے نہ تھاکہ انہوں نے اپنے چہرہ انور پر نقاب ڈالاہوا تھا، جب واپس آئے توحضرت امیر ؑ نے بلایا اورنقاب کو ان کے چہرہ نورانی سے ہٹایا تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ قمر بنی ہاشم تھے۔

Leave a Reply