حلق یا تقصیر: قربانی کر
چکنے کے بعد سر منڈوانا چاہئے یا تقصیر کرنی چاہیئے ۔ یعنے مونچھوں یا سر کے بالوں
میں سے کچھ بال کاٹ لے یا ناخن اُتارے اگر پہلی دفعہ کا حاجی ہے تو اس کے لئے حلق
سر منڈوانا افضل ہے عورتوں پر حلق نہہیں
ہے بلکہ ان کے لئے تفصیر ہے۔
حلق کے وقت قبلہ رخ بیٹھے اور
یہ دعا پڑھے:
مسئلہ :۔ حلق تفصیر کےبعد احرام ک وجہ سے جتنی چیزیں حرام ہوئیں تھیں صرف خوشبو ، بیوی اور
شکار کے علاوہ سب حلال ہو جائیں گی۔
طواف زیارت:۔
منٰیٰ مکے اعمال سے فارغ ہونے کے بععد مکہ کا رخ کرے اور طواف زیارت بجا لائے۔ طواف کے لئےغسل
مستحب ہے باقی شرائظ و طریقہ وہی ہے پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ صرف نیت یہ کرے گا کہ
حج تمتع کے لئے طواف زیارت کرتا ہوں
۔قربتہ الی اللہ
دورکعت نماز طواف:
طواف سے فارغ ہوکردو رکعت نماز طواف مقام ابراہیم پر پڑھے جس طرح مذکور ہو
چکا ہے۔
سعی طواف و نماز طواف کے بعد صفا و مروہ کے درمیاں
سعی کرے جیسا کہ عمرہ کے بیان میں گزر چکا
ہے۔
مسئلہ:۔ سعی کے بعد اس پر خوشبو کا لگا حلال ہوجائے
گا۔
طواف نساء : سعی کے بعد بیت اللہ کا طواف کرے اور
اس کو طواف نساء کہا جاتا ہے نیت کہ کرے کہ طواف نساء کرتا ہوں یا کرتی ہوں حجتمتع
کے لئے قربتہ الی اللہ اور طواف کے بعد دو رکعت نماز طواف مقام ابراہیم پر پڑھے۔
مسئلہ:
طواف نساء کر نے سے عورت اور شکار بھی حلال ہو جائیں گے اگر طواف نساء کو
ترک کیا جائے تو عورت کے لئے مرد اور مرد کے لئے عورت حرام رہے گی۔ جب تک کہ یہ
طواف ہ کیا جائے اور شیعہ حاجیوں کو اس کا خا ص طور پر خیال رکھنا چاہیئے۔
مبیت منیٰ:۔ اعمال منیٰ سے فارغ ہوکر مکہ معضطہ میں جا کر طواف زیارت
اور سعی اور طواف نساء وغیرہ کے امعال بجا لائے اور س کے بعد واپس مقام منیٰ پر آجائے اور نیت قربتہ الی اللہ کر کے الا ذی
الحجہ کی دو راتیں یہاں ٹھرے۔
مسئلہ:۔ اگر جان بوجھ کر یہ راتی مقام منیٰ میں نہ رہے تو ایک گوسفند فی شب قربانی
دینا اس کا کفارہ ہے۔
مسئلہ:۔ جو شخص حالت آحرام میں شکار اور بیوی سے بچ
چکا ہے اس پر تیرھویں کی رات منیٰ پر
ہنا ضروری نہیں ۔ پس 12 ذی الحجہ کو بعد
ازظہر منی سے جا سکتا ہے اور اگر 12 ذی الحج کے دن منیٰ میں غروب ہو جائے تو پھر 13 ذی الحج ک وبعد
ازطہر سے جا سکتا ہے اور اگر 12 ذی الحج کے دن
منیٰ میں غروب ہوجائے تو پھر 13 ذی
ذولاحج کی رات کا وہاں مقام نہیں ٹھیرنا
ضروری ہے۔
رمی جِمار : 11 ، 12 ذولحج کو تینوں جمرروں کو نیت قربت سے سنگریز ے
رے پہلے جمرہ ادنیٰ
پھر جمرہ وسطیٰ اور پھر جمرہ عقبی
کو سات سات سنگریز ے مارے اور یہی ترتیب رکھے اور عمدا اس کے خلاف درزی نہ کرے۔
اگر 13 کی شب منیٰ
میں ہو تو 13 کے دن بھی تین
جمروں کو اسی ترتیب سے سنگریز
ے مارے اور اگر 12 کی ظہر کے بعد
وہاں سے روانہ ہو جائے تو باقی ماندہ
سنگریزوں کو دفن کرے ۔
مسئلہ:۔ مقام منیٰ
میں رہائش کے دوران میں نماز ہائے
واجبہ و مستحبہ کو مسجد خیف میں ادا کرنا مستحب ہے کہ وہاں ایک سورکعت نماز نافلہ
پڑھنا ستر برس کی عبادت کے برابر ہے ۔
مسئلہ:– عید کے دن نماز ظہر سے لے کر 13 ذی لحج کی نماز صبح تک ان
پندہ نمازوں کے بعد تکبرات پڑھنا
چاہیئے اور وہ یہ ہیں:-
اللهُ أَکْبَرُ، اللهُ أَکْبَرُ، لاَ إِلہَ إِلاَّ
اللهُ، وَاللهُ أَکْبَرُ اللهُ أَکْبَرُ، وَاللهُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ
اللهُ أَکْبَرُ عَلیٰ مَاھَذٰ نَا وَالحَمدُ لِلّٰہِ عَلیٰ مَا اَولیٰنا وَاللہ ُ
اَکبَرُ عَلیٰ مَا رَزَقَنَا مِن بَھیمَتہِ الاَنعَامِ۔ اور جو لوگ
سنیٰ میں موجود نہ ہوں ان کے لئے دس
نمازوں کے بعد تکبرات کا پڑھنا مستحب ہے اور بقوے واجب ہے۔ فَمَن تعَجَّل فِی یَومَینِ۔
ظاہرا اس میں نفرادل کے جائز ہونے کی طرف اُتارہ ہے یعنی جو شخص ایام تشریق
کے دوسرے روز یعنی 12 ذوالحج کو معنٰی سے روانہ ہوجائے تو اس پر کوئی گناہ (حرج)
نہیں ہے اور جو تاخیر کرے اور 13 ذوالحج لو وہاں سے روانہ ہو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔ بارہویں کے دن
نفرکرنا یعنی کوچ کرنا بھی جائز اور تیرھویں کے دن نفرکرنا بھی جائز ہے لیکن
نفراول سے نفرثانی یعنی تیرھویں کے دن
روانگی افضل ہے تاکہ جمروں کو سنگریزے اس دن بھی مارکر مقدار پوری کرے اور بارہویں
کے دن اگر نفرکرے تو زوال کے بعد غرب تک جس وقت جاہے جاسکتا ہے اور غروب اگر
معنیٰ میں ہوجائے تو پھر رات کو رہنا
واجب ہوجائے گا اور تیرھویں کے دن نفرثانی کو اختیار کرنا لازم ہوگا۔
Leave a Reply