anwarulnajaf.com

ذکر موت

 ذکر موت

جہاں آبادی  کے تناسب کو قائم رکھنے  کےلئے موت ضروری ہے وہاں اخلاق ناشائستہ  سے گریز کرنے اور شائستہ عادات سے مزین ہونے
کےلئے موت کا ڈر بہت بڑا محرک ہے اسی لئے جب کسی نے اپنی قساوت قلبی یاکسی دوسری
نہ چھوٹنے  والی بدعادت  کا شکوہ 
کیا تو معصوم نے اس کو ذکر موت کی ہدایت فرمائی چنانچہ اس مضمون کی ایک
روایت گزرچکی ہے  اور اسی ہی مصلحت کی بناء
پر قبر ستان میں جان اور اہل قبور کا فاتحہ پڑھنا مستحب قرار دیا گیا ہے  تاکہ جہاں 
انکےایصال ثواب کافائدہ ہو وہاں خوف موت کی وجہ سےبرائیوں سے نفرت کی دعوت
بھی ہو اور نیک لوگ اپنی زندگی میں اپنی قبر اور کفن تیار کرلیتے ہیں تاکہ انکو
دیکھ کر نیک اعمال کی طرف رغبت پیداہو اور برائیوں سےکنارہ کشی حاصل ہو لمبی
امیدیں جو انسان کو آخرت  کےاعمال سے غافل
کردیتی ہیں انکو ذکر موت سے ہی گھٹایا جاسکتاہے

خداوندکریم نے  موت کو اپنے علم تک محدود رکھا ہے اور مخلوق کو
اس کا علم نہیں دیا تاکہ زندگی کےکاروبا ر میں 
روکاوٹ پیدا نہ ہو اور تمدنی زندگی کی رونق خراب نہ ہونیز اچانک موت کی آمد  کےخطرہ سے انسان ہر وقت اپنے آپ کو تیار رکھ
سکے پس نیکی کےکاموں میںعجلت اور برائیوں کو چھوڑنے اور توبہ کرنے میں تعجیل اسی
صورت میں ہی ہوسکتی ہے جب موت کے وقت کا پتہ نہ ہو


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *