زمانِ غیبت میں خمس کا تصّرف :
ہم پہلے
بیان کر چکے ہیں کہ اگر امام تک رسائی کا امکان ہوتا تو سارا خمس ان کے حوالہ کیا
جاتا اور وہ ان کو اپنی صوابدید پر خرچ فرماتے لیکن اب جبکہ وہ پردہ غیبت میں ہے
تو چونکہ امام زمانہ نصف حصہ کو سادات پر خرچ فرمایا کرتے تھے لہٰذا ان کی نیابت
میں نصف حصہ سادات یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کیا جائے گا جن میں ایسے
صفات موجود ہوں کہ امام علیہم السلام ان کی امداد سے خورسند ہوں پس مستحقین سادات
میں افضل نالا فضل افراد کی تلاش ضروری ہے اور سب سے بہت اس دور میں وہ سادات ہیں
جو اپنے آباء طاہرین ؑ کی شریعت کے احیاء کی خاطر علوم ِ دینیہ میں مشغول تحصیل
ہیں۔ وہ مسافروں میں سے افضل یتیم ہیں۔ لہٰذا ان کو خمس سادات میں سے حصہ دینا سب
سے زیادہ باعثِ ثواب اور ذریعہ خوشنودئ امام ہوگا۔ باقی رہا نصف حصہ جو مخصوص امام
کے ساتھ ہے تو غائب کے مال کے متعلق جو احکام موجود ہیں وہ یہاں بھی جاری کئے جا
سکتے ہیں اور ان کا حصہ ایسے امور پر صرف کیا جائے گا جہاں امام کی رضا حتمی ہو
اور دورِ حاضر میں چونکہ خوشنودی امام کے لئے نشرو اشاعت دین اور خدمت علوم شرعیہ
سے بڑھ کر اور دوسری کوئی چیز نہیں ہو سکتی اور حجت ِ خدا کا مطمع نظر ہی ترویج
دین اور اشاعت مذہب ہوتا ہے پس دورِ حاضر میں لادینی کے ہمہ گیر اور بڑھتے ہوئے
سلاب کے مقابلہ کے لئے جس قدر طاقت نشرواشاعت ِ دین پر صرف کی جائے کم ہے یہ وہ
زمانہ ہے کہ ہر چہار سو شیطان کے جال بچھے ہوئے ہیں اور ان میں روز افزوں اضافہ
ہوتا جا رہا ہے اور اس طرف دین و مذہب سے بغاوت عام سے عام تر ہوتی چلی جا رہی ہے
پس دشمنان ِ اسلام کے مقابلے کے لئے مدارسِ دینیہ کی کثرت اور علوم دینیہ کی اشاعت
کے مراکز کی بہتات ایک ایسا پکا مورچہ ہے جو کبھی دشمنان ِ دین سے مفتوح نہیں ہو
سکتا پس اس زمانہ میں سہم امام علیہ السلام کا مصرف اہم مدارسِ دینیہ کی امداد اور
علماء و طلباء کی امانت ہے۔
لیکن یہ یاد رہے کہ سہم امام کے مصرف کی اہمیت کے پیشِ نظر
اس کا تصرف بھی امر اہم ہے لہٰذا ہر شخص اس کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکتا ہے اور نہ
اس کی اہمیت کو برقرار رکھ سکتا ہے پس سہم
امام علیہ السلام ایسے شخص کے حوالہ کرنا ضروری ہے جو آئمہ کی طرف سے دین میں امین
ہو اور جس کے متعلق یقین ہو کہ سہم امام کو اپنی اغراض کی نشانہ نہ بنائے گا بلکہ
اہم و لازم امور پر اس کو خرچ کرنے کی کوشش کرے گا اور امام ؑ کی رضا مندی کا
احراز اس کا مطمعء نظر ہوگا۔
بنا بریں اکثر مجتہدین عظام کا مسلک یہی ہے کہ زمان غیبت
میں سہم امام ؑ مجتہد جامع الشرائط کے حوالہ کر دیا جائے اور وہ اس کو اپنی
صوابدید سے ایسے مقام پر خرچ کرے جہاں رضامندی امام کا یقین ہو۔ پس مجتہد جامع
الشرائط تک پہنچا دینے سے خمس دینے والے کا ذمہ بری ہو جائے گا اور یہ بھی ضروری
نہیں کہ جس تک خمس پہنچایا جائے وہ اعلم دوران ہو، بلکہ جس مجتہد جامع الشرائط تک
پہنچائے گا اس کا ذمہ بری ہوگا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کو دے جس کی تقلید
کرتا ہے اور نیز جس کی تقلید کر رہا ہے اس سے اذن حاصل کرنا سب بلا دلیل ہیں۔ اس
بارے میں حضرت حجت علیہ السلام سے جو روایت منقول ہے وہ یہ ہے کہ بروایت وسائل
اکمال الدین سے مروی ہے اسحٰق بن یعقوب کہتا ہے میں نے محمد بن عثمان عمری سے
خواہش کی کہ سرکار کی بارگاہ میں میرا عریضہ پہنچا دے جس میں میں نے چند مشکل
مسائل دریافت کئے تھے پس حضرت صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ علیہ السلام کی جانب سے
حضور ؐ کے اپنے خط شریف سے توقیع دارد ہوئی۔ جس میں یہ تھا۔ اماالحوادث الواقعۃ
فارجعوا فیھا اِلی رواۃ احادیثنا فانّھم حجّتی علیکم و انا حجّۃ اللہ و اما محمد
بن عثمان العمری فرضی اللہ عنہ وعن ابیہ فانّہ ثقتی و کتابہ کتابی ۔ یعنی واقع ہونے والے امور میں ہمارے احادیث کے روایت کرنے
والوں کی طرف رُجوع کیا کرو۔ کیونکہ وہ میری طرف سے تم لوگوں پر حجّت ہیں اور میں
اللہ کی حجت ہوں۔ لیکن محمد بن عثمان عمری پس خدا اس سے اور اس کے باپ سے راضی ہو
وہ میرا موثق آدمی ہے اور اس کا مکتوب میرا مکتوب ہے۔
اس روایت میں اگرچہ یہ مناقشہ کیا جتا ہے کہ یہاں حضور ؐ نے
نقل روایت و فتویٰ اور دیگر شرعی فیصلوں میں رواتِ حدیث کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے
نہ کہ ان کے اموال میں تصرت کی بھی اجازت ہے تو اس کا جواب یہ ہے ۔ فانّھم حجّتی علیکم کے الفاظ صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ زمانہ غیبت کے لوگوں پر
حضور نے حجت تمام کی کہ کسی معاملہ میں وہ عذر خواہی نہ کر سکیں اور مقصد یہ ہے کہ
بلعموم جن جن چیزوں میں تم میری جانب رُجوع کرتے ہو میں نے تم پر اپنی جانب سے
اپنے رواۃِ حدیث کو حجت مقرر کیا ہے گویا وہ مقام ِ رُجوع پر میرے قائم مقام ہیں
پس اس کا عموم صاف دلالت کرتا ہے کہ امام غائب کے اموال کا تصرف بھی انہی کے سپرد
کیا گیا ہے اور رواۃِ حدیث سے مراد فقہاء و مجتہدین ہیں جو فرمان معصوم کو سمجھ
سکتے ہیں پس جس طرح وہ مقام فتویٰ اور دیگر مسائل و معاملات ِ شرعیہ میں معصوم کے
نائب ہیں اسی طرح اموال امام میں بھی ان کے زمان غیبت میں ان کی نیابت کا فریضہ
انجام دیں گے اور عقلاً بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ موارد رضائے معصوم کا احراز
انہی کی شان ہے پس وہ وہاں خرچ کریں گے جہاں خوشنودئ امام حتمی ہوگی اور آج کل کے
پُر فتن دور میں مال امام کا مصرف مدارس دینیہ کی امداد سے بہتر کوئی نہیں ہے پس
وہ علوم دینیہ کے طلبہ کی امداد کر سکتے ہیں خواہ سیّد ہوں یا غیر سید ۔ نیز حسبِ
ضرورت و مصلحت دیگر امور ِ خیر میں پیسہ بھی صرف کیا جا سکتا ہے مساجد و امام
بارگاہوں کی تعمیر بھی کی جاسکتی ہے بہر کیف فقیہہ و مجتہد اپنی صواب دید سے جہاں
رضائے معصوم حتمی سمجھے گا۔ وہاں خرچ کرے گا اور اس کا تصّرف پر اعتراض کرنا ایسا
ہوگا۔ جیسا کہ معصوم کے تصرف پر کوئی اعتراض کرے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ وہ
میری جانب سے تم پر حجت ہیں۔
پس اس روایت کے الفاظ میں اعلم یا غیر اعلم کا کوئی فرق
نہیں۔ مقلد یا غیر مقلد کا کوئی نام نہیں بلکہ جو بھی جامع الشرائط فقیہہ ہو وہ اس
مال میں تصرف کرنے کا اہل ہے۔ اور عقلی طور پر ایسا ہی ہونا چاہیئے۔
آیت ِ مجیدہ خمس میں ذی القربیٰ کی لفظ عام ہے بمنطوق
روایات اس سے مراد امام زمانہ ہے پس روایاتِ متواترہ ہی مصداق آیت میں تخصیس کی
موجب ہیں۔
اسی طرح والیتامیٰ
والمساکین اور ابن السبیل کے مفاہیم اگرچہ عام ہیں لیکن
بمنطوق روایات آل محمد کے افراد مراد ہیں۔ جن میں
یہ اوصاف ہوں اور حق تصرف رسول و امام کو حاصل ہے جیسا کہ ان کے عمل سے
واضح ہے اور دہی عموم آیت کا مخصص ہے اور زمانِ غیبت میں فقیہہ جامع الشرائط ہی
نیابت کے فرائض انجام دے گا۔
Leave a Reply