یوں تو ظہور اسلام سے قبل جزیرد نمائے عرب مختلف
اعتقادات و نظریات کا مسکن تھا۔ لیکن ان تمام نظریات میں سے دو مکتب فکر قابل ذکر
ہیَں۔
۱۔
دہریہ فرقہ:۔ان کے خیال میں زندگی
طبیعت کی۔ اور موت تحلیل عناصر کی مرسون منت تھی۔ ان کے بقول ترکیب عناصر کا منطقی
نتیجہ زندگی ہَے۔ جو طبعی تاثیر کے ذیر اثر ہوتا ہے۔ جبکہ زمانہ تفریق عناصر کی
فکر میں رہتا ہے۔ جب زمانہ تفریق عناصر پر کامیاب ہوجاتا ہے تو زندگی موت سے دوچار ہوجاتی ہَے۔
۲۔منکرین
قیامت:۔ یہ لوگ نظریہ خالق
اور آغاز تخلیق مین تو مذہب کے ہمنواتھے۔ لیکن حیات بعد الموت اور بعشت انبیاء کے
منکر تھے۔
۳۔
منکرین نبوت:۔یہ لوگ نظریہ خالق
۔آغاز تخلیق اور عقیدہ قیامت میں تو کسی قدر مذہب سے متحد تھے لیکن بعشت انبیاء کے
منکر تھے۔ اور شاید بعشت انبیاء کے انکاری نے ان کی نگاہ میں عقیدہ جزا و سزا کو
بھی مشکوک کردیا تھا۔ چنانچہ انکا ایک شاعر کہتا ہے۔
ءاتوک
لذۃ الصہباء یوما کیا میں
شراب صبوحی کی لذت کو آج اس لئے چھوڑدوکہ
لما
وعدوہ من لبن و خمر مستقبل
میں مجھ سے دودھ و شراب کا وعدہ کیا گیا ہے
حیاۃ
ثم موت ثم نشر کہا جا
تا ہے کہ اس زندگی کے بعدموت ہے ۔ موت
کے
حدیث
خرافۃ یا ام عمر و۔ بعد پھر
زندگی ہوگی ۔ اے ام عمر یہ ایک بیہودہ نظریہ ہے۔
عرب
میں بت پرستی کب سے؟
شاپور
ذوالاکتاف عمر و ابن احی اپنی حکومت کے ادائل میں توسیع مملکت کے خیال سے مکہ آیا۔
مکہ کو زیر نگین کرکے شامات کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں مقام بلقاء پر ایک عرب
قبیلے کو جو عجیب انداز میں محوست پرستی تھے۔ دیکھا شاپور حیران ہوکر ان کی طرف
گیا۔ ان سے بت پرستی کا راز پوچھا۔ انہوں نے اپنے نظریات کو اس انداز میں پیش کیا
کہ شاپور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ چنانچہ شاپور نے ان سے ایک بت دینے کی
درخواست کی۔ انہوں نے اپنے مسلک کی توسیع کے پیش نظر خوشی خوشی ہُبل نامی بت اٹھا
کر پیش کردیا۔ شاپور اس سوغات کے ساتھ واپس مکہ پلٹا۔ ہُبل کو خانہ کعبہ میں رکھ
دیا۔ اور اپنی رعیت کو ہُبل پر ستی کی ترغیب دی۔ چند دنوں میں ہُبل پرستوں کی
تعداد میں خاصا اضافہ ہوگیا بس پھر کیا تھا مہینوں میں جزیرہ نمائے عرب پرستی کا
مرکز بن گیا۔ ضرورت تو ایک نظریہ کی تھی جو موگود تھا۔ اب عربوں نے اپنی قبائلی
رقابتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے قبیلوں کے علیحٰدہ علیحٰدہ بت تراش لئے تھے۔
یوں جزیرہ نمائے عرب میں بت تراشی اور بت فروشی باقاعدہ پیشہ بن گئے ۔ اور بت
پرستی مستقبل مذہب بن گئی۔ ذرا قبائل عرب اور ان کے بتوں کا نقشہ ملاحظہ
فرمالیجئے۔
|
قبیلہ |
بت |
قبیلہ |
بت |
قبیلہ |
بت |
|
نبی کلیب ذی کلاع قریش نبی کنانہ نبی سلیم |
در نسر عزیٰ |
نبی ہذیل نبی ہمدان ادس خزرج غسان |
سواع یعوق منات |
نبی مذحج نبی ثقیف نبی ملکان |
یغوث لات سعد |
سُبل
۔ اساف۔ اور نائلہ بین القبائلی مشترکہ معبود تھے۔ اور انہیں اس عظمت کی بدولت
منفرد مقام دیا گیا تھا۔ چنانچہ ہُبل خانہ خدا کی چھت پر براجمان تھا۔ اساف نے
صفاپر ڈیرے ڈال رکھے تھے اور نائلہ مردہ کا مسکین بنا ہوا تھا۔
ان
بت پرست کے علاوہ جزیرہ نمائے عرب مین یہودی ۔ عیسائی ۔ صابی۔ ملائکہ پرست۔ اور جن
پرست بھی تھے۔ ملائکہ پرست ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں کہتے تھے۔
نصارائی
عقائد:۔
حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد نساری بری طرح فرقہ بندی میں
الجھ گئے۔ نصاری میں اختلاقی مسائل یوں تو بیشمار ہَیں۔ البتہ قابل ذکر دومسائل
ہَیں۔
۱۔ اگر حضرت
عیسیٰ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے تو جناب مریم علیھا السلام کی وفات کے وقت
کیسے تشریف لائے؟
۲۔ اگر حضرت عیسیٰ
علیہ السلام سوئے عالم بالا تشریف لے گئے ہین تو کیسے اور ملائکہ سے کیسے جاملے
ہیں؟
نزدل
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تجسد کلمۃ اللہ کے سلسلہ میں نساریٰ غیر محدود
لغوتصورات دیتے ہَیں۔ ذات احدیث کیلئے ان لوگوں نے اقانیم ثلاثہ کا مفروضہ گھڑا۔
خداوند قدوس کو عالم جو اہر میں لاشریک
لیکن اقانیم میں تیسرا اشمار کیا۔ اقانیم اقنوم کی جمع جو سر یانی زبانی کا
لفظ ہے اور اس کا معنی ۔ اصل ہے۔ اقانیم ثلاثہ یعنی اصول سرگانہ۔ ذات حدیث کو یہ لوگ اقنوم وجودمیں ۔ باپ (خالق) اقنوم میں
بیٹا رحضرت عیسیٰؑ اور اقنوم حیات میں روح القدس قرار دیتے ہیں۔
ان
کے خیال میں علم بمشکل مجسم حضرت عیسیٰ کا دوسرا نام ہے جو فرزند خداہیں ۔ یوں تو
نصاریٰ کے بہتر فرقے ہیں لیکن ان میں سے تین فرقے ایسے معرض وجود میں آئے ۔ جنہیں
چاہنے والے سب سے زیادہ ملے۔ آپ بھی ان سے متعارف ہولیں۔
۱۔ ملکائیہ:-
حضرت
عیسیٰؑ ناسوت کلی۔ قدیم اورو ازلی ہیں جناب مریم نے خدائے ازلی کو جنم دیا۔ حضرت
عیسیٰؑ فرزند خدا غیر مخلوق اور اپنے باپ کی جنس سے ہیں۔
۲۔ نسطوریہ:-
اقانیم
ثلاثہ نہ تو زائد پر ذات خدا ہیں اور نہ ہی متحدباذات احدیث ہیں۔ ان کے پھر کئی
گروہ بن گئے جن میں سے بعض اقانیم ثلاثہ کو خدا مانتے ہیں۔ اور بعض حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کو انسان بھی اور خدابھی مانتے ہیں ۔ ان کے ہاں لاہوت وناسوت متحد
ہیں۔
۳۔ یعقوبیہ:-
اقانیم
ثلاثہ کے سلسلہ میں انکا عقیدہ نسطور یہ جیسا ہے۔ البتہ ان کے ہاں لاہوت اور ناسوت
دو چیزیں نہیں بلکہ لوہوت کی تبدیل شدہ صوروت ناسوت ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پر
خداوند قدوس مسیح بن گیا۔ بنابریں خدا کا دوسرا نام مسیح ہے خوف طوٰلت سے ان کے
عجیب و غریب نظریات سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔یہ تو تھے مختصراً وہ اعتقادات و
نظریات جو عالم عرب میں تھے۔ آئیے اب
اسلام اور قرآن کی جنگ پر ایک نظر ڈالیں کہ وہ کس سے برسر پیکار رہے۔
قرآن
واسلام کی جنگ:-
اپنی
طرف سے کچھ لکھنے کے بجائے مناسب ہوگا اگر اس جنگ کے سلسلہ میں آیات قرآن پیش کرتے
چلے جائیں تاکہ ان تمام مذہبی مراسم کی چھانٹی ہوسکے جو نہ صرف شیعان حضرت علی
علیہ السلام بجالاتے ہیں۔ بلکہ جو مراسم کسی بھی مذہب وملت سے تعلق رکھنے والے
عقلائے عالم بھی بجالاتے ہیں۔ اُمید آیات قرآن کانہ تنقید معین کرلینے کے بعد
جہاں
اسلام و قرآن کی جنگ کا مرکزی نقطہ مل جائیگا وہاں وہابی انداز فکر پر بےعقلی کجروی جہالت
خود غرضی اور اسلامی مراسم سے تعصب بھی واضح ہو جائیگا۔ اور ہوشمند افراد کم از کم
اتنا تو سمجھ لیں گے کہ (ملت پاکستان میں ) توحید و تبلیغ کے نام پر انتشار ملی اور
افتراق قومی کی تخم کاری کون کر رہا ہے۔ حقائق قرآن کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مجرمانہ
خیانت کا ارتکاب کس گردہ کی طرف سے ہو رہا ہے ؟
جھوٹا
اور فریب کار کون ہے ؟ اور ملک وملت کا ناسور کسی جگہ ہے ؟
ازاں بعد حق فیصلہ قوم وملت ( پاکستان کے سلیم الفطرت
افراد پر چھوڑ کر اپنی قومکے نونہالوں سے گزارش کرونگا کہ
وہ
فتنہ کی یہ آگ جو آتشکدہائے فارس اور زرتشت
ومزرک – ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان نظر بات کا اصلی مرکزہ کہاں ہے ؟ ہمیں یہ معلوم
ہے کہ یہ سموم تیرکس کمان سے نکل رہے ہیں ؟ ہم جانتے ہیں کہ چار ارب دانشمندوں کے مذہبی
جذبات کھیلنے والے انتشار و افتراق کی یہ چنگاریاں کہاں سے اٹھ رہی ہیں؟
۱۔ رددهریت میں آیات :
چونکہ
نزول قرآن کے وقت دھریوں کی تعداد کم تھی۔ اور ایران، عرب ، اور اہل ہند کی اکثریت
بت پرست تھی۔ اس لئے قرآن کی اکثر آیات کا تعلق توبت پرستی سے ہے۔ لیکن رد دھریت میں
بھی کافی آیات موجود ہیں ہمیں چونکہ اختصار کو مد نظر رکھنا ہے اس لئے بطور نمونہ آیات
پیش کریں گے اگر کسی کو تفصیل درکار ہو تو قرآن کریم کا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(ایران میں۔ مگر
پاکستان میں علوم آل محمدؐکے نام پر کھولے جانیوالے مدارس جن کے مدرسین کی اکثریت نہ
صرف بیگانہ عقائد ہے بلکہ بیگانہ علم وعمل ہے ) کے پیر کاروں کی زبان سے شعلہ زن ہے
۔ اسکی راہ روکیں جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر اس آگ کو خاموش کرنے میں کاہلی، غفلت،
اور مصلحت اندیشی سے کام لیا گیا تو مٹھی بھر چند لوگ جن کے ہاتھوں میں مجوسی آگ کے
لپکتے شعلے (پاکستان میں چند ایسے ضمیرفروش عمامہ پوش عبا بر دوش جن کے ایک ہاتھ میں
خمس زکات کے چمکتے سکے۔ اور دوسرے ہاتھ میں میقات فروشی کے نام پر حاصل ہونیوالے سعودی
دینار میں پوری ملت کو یہودیت کے گڑھے میں دھکیل دیں گے۔
مطالعہ
کر کے مز ید آیات معلوم کر سکتا ہے ۔
جاثیه ۳۲؎ وَقَالُواْ
مَا هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا یہ لوگ کہتے
ہیں کہ صرف میں دنیاوی زندگی ہے ہی غلط ہے۔
الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَﭪ کہ ہم مرکرپر جئیں
گے ۔ زمانہ ہی ہے جو ہیں مارتا
الدهر ومللم بذٰلك من علم ان ہم ہے۔ انہیں کوئی علم نہیں صرف ان کے تصوراتی
مفروضے إِلَّا يَظُنُّونَ ۔
ہیں۔
قبائل عرب میں سے صرف ایک گرو ہ ایسا جنکا یہ نظریہ ہے۔ سابقا زمانۂ جاہلیت کے عرب ! اعتقادات
کے سلسلہ میں ہم بتا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ آیات جن میں انسان کو فطرت اور فطری تقاضوں
میں سوچنے کی دعوت دے گئی ہے اسی گروہ کی تردید میں ہیں۔
۲ –
دو خداؤں کی تردیدہ :۔
مطالعہ
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دو یا دو سے زیادہ خداؤں کا نظریہ رکھنے والے افراد کی تردید
میں کثرت سے آیات وارد ہیں۔
انبیاء ۲۲ لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ اگر
زمین آسمان میں خدائے واحد کے علاوہ اور
لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ خدابھی
ہوتے تو نظام کائنات درہم برہم ہوجاتا۔
۲۴؎ أَمِ ٱتَّخَذُواْ
مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً ۖ قُلْ رب العرش
ان کے بیان کردہ اوصاف سے منزہ
هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ ۖ وھبراہے
۔ ۲۴؎ کیا ان لوگوں نے
اللہ کے علاوہ دوسرے خدا بھی بنارکھے ہیں ؟ انہیں کہو وہ ذرا اپنے دلائل تو پیش کریں۱؎۔
علاوہ ازیں سورۃ توحید آخر سورہ حشر اور دیگر مقامات پر ـــــــمیں
ایسی آیات بکثرت موجود ہیں۔ جن میں اس نظر یہ باطلہ کی تردید کی گئی ہے۔ اور اس قسم
کی آیات کانشانہ ثنوی اور مزوکیہ انداز فکرہیں۔جس کے نظریات سابقاً ہم بتا چکے ہیں۔
ستارہ پرستوں کی تردید : –
اگرچہ ایسی آیات جن میں بالعموم شرک یا شرک فی العبادۃ کی نفی
کی گئی ہے بھی ستارہ پرستی کے بطلان کو کافی تھیں ۔ لیکن پھر بھی قرآن کریم بالخصوص
ستارہ پرستوں کو نہیں بھولا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
انعام۷۶؎،۷۷؎،۷۸؎،فلما جن علیہ جب
حضرت ابراہیم پر رات چھا گئی تو آپ نے ستارے
ٱلَّيْلُ رَءَا كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّ ؟ کو
دیکھا اور فرمایا کیا یہی میرا رب ہے؟
أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلْءَافِلِينَ سے محبت نہیں۷۷ پھر جب چاند کو دنکتا دیکھتا تو فرمایا کیا
یہی رب
فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا
رَبِّیْۚ ہے۔
فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَىٕنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ لیکن جب چاند بھی غروب ہوگیا تو فرمانے لگے کہ اگر
مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں بھی گم کردہ راہ
فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ افراد سے ہوجاؤنگا جب آفتاب کو جہانتاب دیکھا تو کہنے
هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ
اَكْبَرُۚ-فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ لگے۔کیا یہی میرا رب ہے یہ تو بہت بڑا ہے۔ لیکن جب یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ آفتاب بھی غروب ہوگیا تو فرمانےلگے اے لوگو ! میں
تمہارے ہر قسم کے شرک سے بیزار ہوں
جناب
ابراہیم ؑنے ستاروں، چاند اور سورج کی روپوشی کو دلیل بناکر ستارہ پرسوں ۔ ماتاب پرستوں
اور آفتاب پرستوں کومہر بلب کردیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ
السلام کے پورے استدلال کو من وعن نقل کر دیا ہے۔
بت پرستوں کی تردید
ا:-
چونکہ
مشرکین عرب کی اکثریت بت پرست تھی۔ اس لئے قرآن حکیم کی زیادہ توجہ اسی جانب معلوم
ہوتی ہے۔
یونس
۱۹؎ وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَضُرُّهُمْ وَلاَ
يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلاء شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ
اللَّهَ بِمَا لاَ يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِي الأَرْضِ سُبْحَانَهُ
وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
اللہ
کو چھوڑ کرایسوں کی عبادت کرتے ہیں انہیں کہدے کہ کیا تم لوگ اللہ کو ایسے معبودوں
سے آگاہ کرنا چاہتے ہو جنہیں وہ آسمان و زمین کی گہرائیوں میں جانتا تک نہیں ۔
اللہ ان کے ہر قسم کے شرک سے منزہ تھا۔
انبیاء
۷۳؎ وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا
هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ
كَافِرُونَ
جب
کافر تجھے دیکھتے ہیں تو اراہ مذاق کہتے ہیں۔ کیا یہی وہ ہے یو تمہارے معبود وں کی
برائی بیان کرتا ہے۔ حالانکہ خود یہ لوگ ذکر رحمٰن سے ردگردان ہیں۔
انبیاء
۴۴ ؎أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا ۚ لَا
يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ وَلَا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ
کیاان
کے کچھ ایسے معبود بھی ہیں جو انہیں ہماری جانب آنے سے روکتے ہیں حالانکہ وہ معبود
اپنی مدد آپ سے بھی عاجزہیں اور نہ ہی انہیں ہمارا تعاون حاصل ہے۔
انبیاء
۹۸؎ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ
جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ
تم
اور تمہاررے معبود جہنم کا ایندھن ہونگے جہاں تک حتما جاتا ہے ۔
لَوْ كَانَ هَٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا ۖ وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ
اگر
تمہارے معبود حقیقی خدا ہوتے تو جہنم میں نہ
جاتے حالانکہ انہیں ہمیشہ جہنم ہی میں رہنا ہوگا۔
وہ
آیات جن میں بتوں کے نام ہیں ۔ یہ تو ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ قبائل عرب میں سے چند
نام لئے ہیں ۔ آپ بھی ملاحظہ فرمالیں۔
نوح ۲۱؎ وَ مَكَرُوْا مَكْرًا
كُبَّارًاۚ(۲۲)وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ
وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ﳔ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ(۲۳)
ان
لوگوں نے بہت بڑا فریب کیا اور کہتے ہیں دیکھو اپنے معبودوں – ود-سواع ۔ یغوث ۔
یعوق۔ اور نسر کومت چھوڑ دینا۔
افرٱ
یتیم املات والعزیٰ بناۃ الثالثۃ الاخریٰ
کیا
تم نے لات عزیٰ اور تیسرے نہات کو دیکھا ہے۔
نصاریٰ
کے متعلق چند آیات
المائدہ
۷۷؎ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ
قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍۘ-وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ
وَّاحِدٌؕ-وَ
وہ لوگ یقیناً کفر بکتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا
تیسرا ہے ۔ حالانکہ معبود صرف ایک ہے اور کوئی نہیں
النساء ۱۷۱؎ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا
عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّؕ-اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ
اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ٘-فَاٰمِنُوْا
بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ ۚ۫-وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌؕ-اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْؕ-اِنَّمَا
اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌؕ-سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌۘ
اے
اہل کتاب دین کے معاملہ میں حد سے نہ بڑھو ۔ اور حق کے سوا ذات احدیث کے متعلق کچھ
نہ کہو مسیح یعنی عیسیٰ ابن مریم صرف اللہ کا رسول ہے اور وہ کلمۃ اللہ ہے جو اللہ
نے جناب مریم کی جانب بھیجا تھا اور وہ روح اللہ ہے لہٰذا اللہ اور اس کے رسول پر
ایمان لاؤ مت کہوکہ معبود تین ہیں تمہارے
حق میں بہتر ہوگا یقین کرو
المائدہ ۱۹؎ لَقَدْ
كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَؕ–
اللہ ایک ہی ہے ۔ وہ اس تصور سے کہیں بلند ہے اس
کے کوئی اولادا نہیں یقیناً وہ لوگ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تو بس مسیح ابن مریم سی ہے۔
توبہ
۳۰؎ وَ
قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ابْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَىٰ الْمَسِیْحُ ابْنُ
اللّٰهِؕ
یہودی کہتے ہیں کہ
عزیز فرزند خداہے جبکہ نصاری کا کہنا ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔
انتشار پروروں کی چیرہ دستی :-
عقل
دخردسے تہی ررست۔ افتراق ملی کے ٹھیکیدار اور انتشار پروری کے یہ دلداگان عوام کی
آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے جہاں دوسرے مکارانہ حربے استعمال کرتے ہیں وہاں اپنے
مذمموم مقاصد کو پورا کر نیکی خاطر قرآن کریم
کو بھی معاف نہیں کرتے۔ اور صحیح العقیدہ متدین افراد کو خاموش کرنے اور اپنے جھوٹ
پر پردہ ڈالنے کی خاطر اپنی مطلب براری کیلئے ایک آیت اپنے سابقہ اور لاحقہ سے کاٹ
کر پیش کرتے ہیں۔ دہی آیت جسے یہ چالباز بریدہ کرکے پیش کرتے ہیں۔ ہم بتمامہا پیش کر
رہے ہیں۔ اور قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس آیت کو دیکھیں اور پھر فیصلہ دیں کہ
بقول
ان فریب کاروں کے اس آیت کا تعلق امت مسلمہ کے افراد سے ہے ؟ یا ان کے علی الرغم اس
آیت کا تعلق بھی دیگر آیات کی طرح بت پرستوں اور نصاریٰ سے
زمر۲؎ اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ
بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ(۲)
ہم نے حق کے ہمراہ تیرے پاس یہ کتاب بھیجی ہے۔لہٰذا دین کو
خالصۃً اللہ کا سمجھتے ہوئے عبادت خدا پر یقین رکھو کہ صرف اور صرف اللہ کا ہی ہے۔
مکیۃ 3؎ اَلَا لِلّٰهِ
الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ-وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَۘ-مَا
نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰىؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ
بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ۬ؕ-
وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے علاوہ دوسرے ولی بنا رکھے ہیں انکا
ہمیں بارگاہ رب العزت کے قریب کریں انکے پیدا کئے گئے اختلافات میں اللہ جو چاہتا
ہے وہی فیصلہ کرتا ہے اللہ کسی جھوٹے اور کافر کو ہدایت نہیں دیتا۔
۶؎ لَوْ
اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُۙ-سُبْحٰنَهٗؕ-هُوَ
اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(۴) ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا
هُوَۚ-فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(۶)
اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق ہی میں سے
جسے چاہتا لیتا حالانکہ اللہ ان تصورات سے کہیں بلند ہے۔ وہ صرف ایک اور قہار سے
یہ ہے تمہارا اللہ تمام حکومت اسی کے دست قدرت میں ہے تم کہاں بھٹکے پھر رہے ہو؟
یہ ہے
وہ آیت، جنہیں یہ مقطوع النسل دھاندلی کرکے صحیح العقیدہ امت مسلمہ کے سادہ ذہن افراد
کے سامنے پیش کر کے اپنی نام نہاد توحید کا بھرم رکھنے کی خاطر مکارانہ جالی عنکبوت
کا تانا بانا تیار کرتے ہیں ۔ اب محترم قارئین سے درخواست ہے کہ وہ آیات اور ان کے
متوازی لکھے گئے ترجمہ آیات کو سامنے رکھیں۔ پھر زمانہ جاہلیت کے عربوں کے اعتقاداً
کی گذشتہ آیات کو پیش نظر رکھیں۔ اور دیکھیں کہ یہ صحرائی گلا بانوں کے وظیفہ خوار
کیا کہتے ہیں اور قرآن کریم کے مخاطب کر رہا ہے ؟
زمانہ
جاہلیت کے عرب پرستش توفی الواقع خداوند عالم ہی کی کرتے تھے لیکن جھکتے بتوں کو تھے
اور ان کے خیال میں بارگاہ ایزوی کے تقرب کا ذریعریت ہی تھے ۔ پھر انصاری توحید کو
بھی سامنے رکھ کر فکر کریں جس میں کبھی تو وہ حضرت عیسیٰ کو خدا اور کبھی فرزند خدا
کہتے ہیں ۔ اب امید ہے قارئین پر واضح ہو گیا ہوگا کہ وہابی انداز فکر کی نشان زده
آیات بھی کھلم کھلا زمانہ جاہلیت کے بت پرست عربوں اور حضرت عیسیٰ کو فرزندی کہنے والے
نصرانیوں کی تردید مذمت تو کرتی ہیں۔ لیکن ان آیات میں ہلکا سا اشارہ بھی وہابی مکتب
فکر کی تائید نہیں کرتا۔
عبادات
اور تواضع میں فرق :-
گذشتہ
صفحات میں ہم نے یہ حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ از روئے کلام خدا قرآن کریم اور
اسلام کی جنگ کا ہدف بت پرستی، غلط عقیدے۔ ستارہ پرستی اور اسی قسم کے وہ نظریات تھےجن
کا دنیا ئے وہابیت کے پیش کردہ مراسم سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ ان تمام مظاہر شرک وکفر
کو فردا ًفردا ًبیان کرنے کے بعد خالق کون و مکان نے تمام امور کو انتھائی اختصار کے
ساتھ ایک مختصر سے سورہ میں یوں بیان فرمادیا ہے۔
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱)لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ(۲)وَ لَاۤ
اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ(۳)وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا
عَبَدْتُّمْۙ(۴)وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ(۵)لَكُمْ دِیْنُكُمْ
وَ لِیَ دِیْنِ۠(۶)
انہیں
کہہ دو اے کافرو ! نہ تو میں تمہارے معبودوں کے سامنے جھکنے لگاہوں اور نہ ہی
تم میرے معبود کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو
تمہارا ایک مسلک ہے اور میری اپنی راہ ہے ۔
اس سورۃ
میں کفروشرک کے کسی خاص گروہ کو مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ جتنے نظریات کے جتنے گردہ
تھے۔ تمام کو خلاصتًہ کہا گیا ہے کہ اگر مانتے ہو تو میرے لاجواب دلائل کو تسلیم کر
لو اور اگر تمہارے پاس دلائل بھی نہیں۔ اور مانتے بھی نہیں تو پھر ہمیں اپنے معہود
کی عبادت کرنے دو ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم ہماری راہ روکنے کی کوشش نہ کرو۔
مشرکین
دکفارسے قرآن کا جنگی خاکہ معلوم ہو جانے کے بعد آیئے اب دیکھیں کہ عبادت اور تواضع
کیا ہیں ؟ کیونکہ میرے خیال کے مطابق اصل نکتہ اختلاف یہی ہے۔ صحیح العقیدہ اگر کسی
مذہبی رسم ورواج میں تواضع سے جھکتے ہیں۔ تو یہ کور دماغ اسے عبادت کا نام دے کر شرک
کے بغلی قنادیٰ نکال لیتے ہیں۔ حالانکہ مفہوم ومنطوق سر در اعتبار سے عبادت اور تواضع
میں فرق ہے۔
غیراللہ
کی عبادت شرک شخص ہے جبکہ غیر اللہ کے سامنے تواضع خالص اسلام ہے۔ جس طرح قرآن نے شرک
سے منع کیا ہے۔ اس طرح قرآن نے تواضع کا حکم دیا ہے۔ جیس طرح اسلام نے شرک کی نفی کی
ہے۔ اس طرح اسلام نے تواضع کو ثابت کیا ہے۔ جس طرح پیغمبر اسلام نے شرک کی مذمت فرمائی
ہے۔ اس طرح پیغمبر اسلام نے تواضع کی تعریف کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ عبادت اور تواضع
میں امتیانہ کے بعد ہمارے قارئین کی اکثریت اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ شیعیان آل
محمد اپنے مذہبی مراسم میں جو کچھ بھی کرتے ہیں۔ وہ عبادت کے ذیل میں نہیں آیا تاکہ
بقول و ہابین و مقصرین شعیوں کو مشرک کہا جا سکے ، بلکہ تواضع کے ضمن میں آئیگا جس
کی اسلام۔ قرآن اور پیغمبراسلام نے نہ صرف تعریت کی ہے بلکہ حکم دیا ہے
عبادت:-
ہمارے
قارئین کی واضح اکثریت فارسی (اردو) آشنا ہے، اور کچھ افراد عربی لغت بھی یقیناً جانتے
ہیں۔ عبادت کا لفظی اور لغویم معنیٰ عبودیت
یعنی اظہار بندگی ہے۔ اسی لفظ عبادت کو فارسی زبان میں اور اردو میں بھی پرستش سے تعبیر
کیا جاتا ہے۔ چنانچہ عربی میں جو مفہوم لفظ عبادت ادا کرتا ہے۔ وہی مفہوم اردو اور
فارسی میں لفظ پرستش ادا کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر عبادت اور پرستش لسانی اختلاف کی وجہ
سے معنوی طور پر مترادف ہوئے۔ اور تینوں زبانوں میں عبادت کا معنی ہے۔
کسی ذات کی اس عنوان سے حمد و ثنا بیان کی جائی کہ
وہ معبودہے قطع نظر اس کے حمد وثنا کر نیوالا اسے بڑا معبود سمجھے یا چھوٹا۔
اور کسے معلوم نہیں کہ مشرکین اعتقادات بالکل اس
طرح تھے جس طرح عبادت کی تعریف کی گئی ہے۔
تواضع:-
تواضع
بھی عربی زبان ہی کا لفظ ہے جس کے فارسی میں ہم معنی لفظ فروتنی ہے ۔ اور اردو میں
انکساری استعمال ہوتا ہے۔ اب یہ فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ وہ وہابیوں اور مقصر
وں کے علاوہ دانشمندان عالم کے انداز تمدن و معاشرت کو دیکھیں شب وروز کے معمولات زندگی
میں غور کریں کہ کیا۔
اپنے
دوستوں، بزرگوں، اساتذہ اور مذہبی و سیاسی قابل احترام افراد سے سڑکوں بازا میٹنگوں جلسوں، جلوسوں اور دیگر
مقامات ملاقات میں ہر شخص کی اپنی حیثیت کے مطابق تواضع یعنی انکساری و فروتنی سے پیش
آتے ہیں یا نہیں؟ اپنی فکر کے مطابق احترام کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر جواب
ہاں میں ہے۔ اور یقینا ہاں میں ہے تو پھر کیا ایسے تمام افراد جو احترام کرتے ہیں اپنے
محترم کے عابد اور پرستار بنکر مشرک بن جاتے ہیں؟ اور کیا ایسے تمام افراد جن کا احترام
کیا جاتا ہے اپنے احترام کنندہ کے معبود بن جاتے ہیں، اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً
نفی میں ہے تو پھر شیعیان آل محمد کو اپنے مذہبی مراسم میں تواضع کرنے پر شرک کے عصا
سے کیوں ہانکا جانے لگا ہے ؟
جواب
ہاں میں تو کوئی ذی عقل دے ہی نہیں سکتا اور نہ ایسے احترامات کو زمرہ شرک وکفر میں
لاسکتا ہے کیونکہ تمام عقلائے عالم کے نزدیک تواضع فروتنی یا انکساری کمالات انسانیہ
کی فہرست میں عنوان اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مشاہدات روزمره گواہ ہیں کہ جس شخص میں
تواضع یا فروتنی یا انکاری ہو ہرشخص خواہ اپنا ہو یا پرایا۔ دوست ہو یا دشمن اور چھوٹا
ہو یا بڑا اس کی تعریف کرتا ہے ۔ اگر تواضع فروتنی یا انکساری عبادت غیر اللہ ہے تو
پھر کائنات عالم میں جتنے مذہبی اور دنیاوی افراد کے مناسب احترامات کر کے ان کی عظمت
کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ ان سب عقلائے عالم کو شرک اور کفر کا سرٹیفکیٹ دے کر راہ
جہنم دکھادی جائے ۔ تواضع کیا ہے ۔کسی قابل احترام فرد کو جھک کر سلام کرلیا جائے۔
کسی
کے قدموں پر ہاتھ رکھدیا جائے ۔کسی کے ہاتھوں کو بوسا لے لیا جائے کسی کے قدموں
میں سر رکھ دیا جائے۔
کسی
کے سامنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سرخم کردیا جائے۔
تو
واضع کے مختلف مظاہر ہیں جو قبائلی
علاقائی
جغرافیائی اور ملکی لحاظ اور شخصی اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ایک کام اور
بھی کرنا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ لغت عالم سے تواضع فروتنی یا انکساری کا لفظ نکال دینا
ہوگا۔ اور دنیا کو بتانا ہوگا کہ اگر شرک کی لعنت سے بچنا ہے تو پھر ہرشخص دوسرے کے
ساتھ وہی سلوک کرے جو صحرائی حیوان ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کے سامنے سینہ
تان کر آنکھ میں آنکھ ڈال کر اور اکڑ کر کھردرے لہجے سے ۔ السلام علیکم. نمستے گڈ مارننگ۔
اور گڈ ایوننگ وغیرہ جیسے الفاظ کہے اور اپنے مخاطب کو یہ احساس دلائے کہ میں بھی تم
جیسا انسان ہوں۔ کیونکہ جب تک لفظ تواضع اور اس کے مترادفات لغات عالم سے نکال باہر
نہ پھینکنے جائیں۔ اور جب تک نوع انسان کو وحشی حیوانوں کا انداز ملات نہیں سکھا دیا
جاتا اس وقت تک نہ تو کوئی دائرہ شرک سے نکل پائے گا۔ اورنہ ہی راہ توحید مل سکے گی
۔
کیا خود نجاتی اور مقصرین اور ان کے دستر خوان سے
لقمے توڑنے والے چند بے قیمت اور بے آوازاحمق اپنے بزرگوں، اساتذہ اور محترم افراد
سے بوقت ملاقات تواضع سے پیش نہیں آتے؟ کیا صحرائی شتربان اور ان کے بخیر مقائدین ایک
دوسرے سے ملاقات کے وقت حیوانات جیسا سامنا کرتے ہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہو تو یہ
حیوانیت کے مظاہرے انہیں مبارک ہوں ۔ جبکہ مشاہدہ اس کے قطعی خلاف ہے ۔ دوسروں کو بزرگان
دین کی تواضع سے منع کرنیوالے خود اپنے بزرگوں کے چرنوں میں بڑے ہوتے ہیں۔ اور اگر
وہ خود بھی فطرت کے اس معقول سبق کے سامنے مجبور و ناچار ہو کر اپنے بزرگوں سے تواضع
برت لینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تو کیا وہ بھی اپنے جیسے ایک بے بس انسان کے
عامیہ بن جاتے ہیں ؟
اور
کیا دوسروں کو غیر اللہ کے سامنے جھکنے سے روکنے والے خود غیراللہ کے ساتھ جھکتے ہیں
؟ اگر ایسا نہیں۔ اور یقینا نہیں کیونکہ انہیں اپنی عقل یہ کہنے پر لاچار کرتی ہے کہ
تواضع
اور فروتنی عبادت سے جدا ہے۔
تو بمپر تمام ان افراد کی تواضع جنہیں یہ لوگ مشرک
کہتے ہیں۔ اور اپنی تواضع کے در میان نقطئہ امتیاز بتائیں تاکہ جہاں مشرکانہ انداز
واطوار میں اصلاح کا پہلو نکلے وہاں وہابیوں اور مقصرین کا انداز فکر ذلت ورسوائی سے
بچ سکے۔
قرآنی شہادت :-
چونکہ
سلسلہ تواضع میں قرآن ہمارے ساتھ ہے اس لئے مناسب ہو گا اگر وہابیت کے سرخ مجروح پر
قرآنی گواہی کے چند ایک طمانچے اور بھی رسید کرتےچلیں تاکہ عوام ان سے پوری طرح باخبر
اور ہوشیار ہو جائیں۔ اور ان کے دام تز ویر میں آنے سے محفوظ رہ کر اصطلاح ملک وملت
میں پہلے کی طرح تندہی سے مصروف رہیں۔
البقرہ وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ
فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ
الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)
جب ہم
نے ملائکہ کو سجدہ آدم کا حکم دیا تو تمام ملائکہ نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے ازراہ
تكبر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اور کافرین
ہوگیا۔ اب جن لوگوں کا نظریہ ہے کہ بغیر الله کے سامنے جبر سائی مشرک ہے تو قرآن کی
اس آیت میں مناسب ہوگا یہ لوگ :۔
ابلییں
کے طرفدار بن جائیں ۔
ابلیس
کے سوا تمام سجدہ کر نیوالے ملائکہ کو مشرک کہہ دیں۔
ذات احدیث کو شرک کا مبلغ کہیں کیونکہ
اس نے ادلاملائکہ کو شرک کا حکم دیا ۔ اور ثانیاً
ابلیس
جیسے موحد و متقی کو بھرے دربار سے نکال کر مستحق لعنت ٹھرایا۔
انتباه
:-
ممکن
ہے یہ چرب گو۔ اور چرب نولیں اپنی ملمع شدہ تقریر و تحریر میں سادہ لوح افکار میں یہ
دانہ ڈالنے کی کوشش کریں کہ ملائکہ نے جو کچھ بھی کیا وہ حکم خدا سے تھا۔
لہذا
وہ شرک نہیں ، جبکہ آپ لوگوں کو غیر اللہ کے سامنے جھکنے کاحکم نہیں دیا گیا اس لئے یہ شرک ہے۔
ازالئہ
اِشتباه :
مناسب
ہوگا کہ اس دام تزویر کا تانا بانا ہم ابھی سے بکھیرتے چلے جائیں تاکہ انہیں فکری ڈاکہ
ڈالنے کامزید موقع نہ ملے۔ تو میرے دوستو! پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ۔ ۔۔۔۔۔
ملائکہ
نے آدم کو سجدہ عبادت اور پرستش کے عنوان سے نہیں بلکہ تواضع کی ارادہ سے کیا تھا۔
تو جس طرح حکم خدا ہی سے شرک نہیں اس طرح
ایسا سجدہ بلا حکم خدا بھی شرک نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بزرگ اور قابل احترام
فرد کا مناسب احترام محتاج حکم نہیں ہوا کرتا کیونکہ عقل انسان جو قدم قدم پر
انسان کی رہنمائی کرتی ہے ۔ انسان کو ایسے خطعط پر چلنے کی راہبری کرتی ہے۔ اور
انسان ازخود بزرگ کے سامنے جھک جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی دانشمندوں میں سے
کسی نے کبھی بھی رسمی احترامات کے سلسلہ میں احکام خدا کا انتظار نہیں کیا۔
۔ اور
نہ ہی کسی نبی نے ان احترامات سے کبھی کسی کو منع فرمایا ہے کیونکہ یہ سب کچھ فطرت
کے احکام کے ماتحت ہوتا ہے ۔ ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ ذات احدیت نے انواع تواضع میں
سے اگر کسی قسم پر بالخصوص پابندی عائد کر دی ہو تو پھر اگر وہ احترام شرک نہ بھی ہو
ہم اس کے پابند ہوں گے۔ جیسا کہ غیراللہ کو سجدہ کرنا اگر یہ احترامی رسم ہے۔ لیکن
چونکہ ذات احدیت نے اس سے منع فرما دیا ہے اس لئے الیسا نہیں کرتے۔ البتہ اگر کوئی
احترام کے بطور غیراللہ کو سجدہ کرے تو اسے خطا کار کہیں گے ۔ معصّیت کار کہیں گے لیکن
پھر بھی اسے مشرک یا کافر نہیں کہہ سکتے کیونکہ احترامی سجدہ عنوان عبادت و پرستش سے
نہیں ہوتا بلکہ عنوان تواضع سے ہوتا ہے۔
اور
تعمیری بات یہ ہے کہ شیعیان آل محمدؐ جتنے احترمات بجالاتے ہیں جن میں مومنین
کرام۱؎
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ حضرت
ابوالفضل العباس شبیہہ روضہ مبارک ابوالفضل العباس شبیہہ ذوالجناح شبیہہ ضریح حضرت
سید الشہداء وغیرہ۔
آئمہ
علیہم السلام اور انبیائے عظام کیلئے ہوتے ہیں یہ سب بحکم خدا ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد
ربالعزت ہے –
مائدہ ۵۹؎ یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی
اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ-اَذِلَّةٍ عَلَى
الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘
اسے
ایمان والو جو بھی تم میں سے دین سے برگشتہ ہوجائے کوئی پروانہیں اللہ عنقریب ایک ایسی قوم پیداکریگا جو
اللہ کے محبوب بھی ہوں گے یہ لوگ اپنے ہم مسلک مومنین کیلئے متواضع اور کافروں
کیلئے سخت ہونگے کون نہیں جانتا کہ آیت پیش کردہ میں تواضع اور فروتنی کو ایسے افراد
کا وصف بتایا گیا ہے جو جیب خدا ہونے کے ساتھ محب الہی بھی ہوں گے۔ معنائے تواضع کے
سلسلہ میں قرآن کریم سے یہ پہلی شہادت تھی جس میں اللہ نے ملائکہ کواز راہ احترام سجدہ
آدم کا حکم دیا۔ الیس احترام مذکر نیکی پاداش میں راندہ درگاہ الہی ہوا۔
۲۔ لیجئے قرآن کریم سے دوسراگواہ : جہاں تک
میں سمجھتا ہوں ۔ یہ آیت ایک الیسی واضح اور صریح نص ہے۔ کہ اگر وہابی مکتب فکر کی
آنکھ تعصب اور خورنمائی کی پٹی اتار دی جائے
۔ توعبادت اور تواضع میں نمایاں فرق محسوس ہونے لگے گا اور نجدی مقصرین کویر باہزره
سرائی کیلئے قدم دھرنے کی جگہ بمشکل ہی مل سکے گی ملاخطہ فرمائیے ارشاد ہوتا ہے۔
الیوسف ۱۰۱؎ وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ
سُجَّدًاۚ-وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ٘-قَدْ
جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّاؕ
حضرت
یوسف نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور
وہ سب یوسف کے سجدہ میں گر گئے۔ اس وقت یوسف نے کہا ابا
جان ! یہ ہے میرے پہلے خواب کی تعمیر جسےاللہ نے سچ کر دکھایا۔
ااس
آیت میں جناب یوسف کی اس ملاقات کی تصویر کشی ہے جو فراق کے بعد جناب یوسف کے والدین
اور بھائیوں سے پہلی مرتبہ مصر میں ہوئی اور اس میں انتقالی مات کے ساتھہ دو باتوں
کا ذکر کیا گیا ہے۔
الف۔
حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کو سجدہ کیا۔
ب۔ حضرت
پوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف کا سجدہ کیا۔ ی
یہاں
کوئی عقل کا اندھا یہ فریب دینے کی کوشش کرے کہ حضرت یعقوب اور آپ کے ۔ بیٹوں نے حضرت
یوسف کا نہیں بلکہ ملاقات یوسف پر اللہ کا سجدہ شکرادا کیا تھا کیونکہ۔
خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًاۚ ۔ میں مساجد اور نسجود دونوں کی وضاحت ہے
،خرواجمع مذکر غائب
کا صیغہ
سے جس کا تعلق حضرت یعقوب اور برادران یوسف سے تھے جبکہ ۔لہ میں ہائے ضمیر واحد مذکر
غائب کا مرجع حضرت یوسف ہیں۔ علاوہ ازیں سورۃ یوسف کی تلاوت سے مزید تصدیق ہو جائیگی۔
آغاز سورہ میں حضرت یوسف اپنے والد کو اپنا خواب بیان فرماتے ہیں کہ …… میں نے
عالم خواب میں چاند سورج اور گیارہ ستاروں کو اپنا سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ مذکورہ آیت
میں جب حضرت یعقوب اور ان کی اولاد سجدہ یوسف سے سر اٹھاتے ہیں، تو جناب یوسف اپنے
اسی خواب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ یہ ہے میرے خواب کی تعبیر جسے اللہ
نے سچ کر دکھایا ۔
تواب
نجدی جنت کے باسیوں کی فکر کے مطابق حضرت یعقوب اور ان کے گیارہ بیٹے جناب یوسف جو
غیر اللہ تھے کو سجدا کر کے مشرک ہو گئے۔ اور خداوند عالم مشرک گر کے کیونکہ جناب یعقوب
ایسے کافر مشرک کو جو غیر اللہ کا سجدہ کرتا ہے عہد نبوت دینے والا تو خدا ہی ہے۔ پھر
اللہ نے ظلم کیاکہ غیراللہ کو سجدہ کرنے کے بعد بھی جناب یعقوب سے عہدہ نبوت نہ چھینا۔
یہ تو ہے وہابی طرز فکر لیکن اگرہم نجدی مقصیرین کے انداز فکر سے بڑا کرکے سوچیں تو
میرے خیال معاملہ انتھائی آسان ہو جاتا ہے، وہ یوں کہ ہم کھلے دل سے یہ بات تسلیم کر
لیں کہ ۔۔
حضرت
یعقوب کے زمانہ میں احتراماً سجدہ کرنا ایک رسم تھی اور ذات احدیت نے اپنے احکام میں
اس رسم کوخلاف شریعیت قرار نہیں دیا تھا۔
اب فیصلہ
قارئین کریں گے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
نجدی
مقصرین کے انداز فکر کوتسلیم کر کے ۔ ذات احدیت مبلغ شرک اور حضرت یعقوب اور ان کی
اولاد کو مشرک کہہ دیں ؟ یا
احترامی
سجدہ کو حضرت یعقوب کے زمانہ کی رسم مباح مان کر ذات توحید اور نبی معصوم کو بہت بڑے
بد نما داغ سے بچالیں ؟
علاوہ ازیں ایک اور چیز بھی قابل توجہ ہے۔ آپ پورا
قرآن دیکھ جائیں آپ کو کسی بھی مقام پر کوئی ایک آیت الیسی نہیں ملے گی جس میں تواضع
و فروتنی کی کسی قسم کوخلاف اسلام قرار دے
کر اس کی مذمت کی گئی ہو جبکہ تواضع کی ضد تکبر سے قرآن نے بالصرحت منع بھی فرمایا
ہے ، اور تکبر کی مذمت بھی کی ہے ۔
لقمٰن
۱۸؎ وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی
الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)
تکبر
کے مارے لوگوں سے رو گردانی مت کر۔ اللہ کو
کوئی متکبر ھی پسند نہیں۔
الإسراء
– ۳۷؎ وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ زمین پر اکڑ کر مت چل
نجدی
مکتب فکر کے مطابق اگر تواضع شرک ہے تو آپ خود اندازہ لگا لیں حضرت لقمان نے سنگام
مرگ وصّیت کرتے ہوئے کتنی غلط باتیں کی ہیں۔ اور کتنے متضاد بیانات دیئے ہیں پھر خدا
وند عالم نے کتنی زیادتی کی ہے کہ جناب لقمان کی غلط باتوں کو قرآن میں درج کر کے یہ
نہیں بتایا کہ لقمان نے غلط کہا ہے ۔
قارئین کرام سے ۔
درخواست
ہے کہ اب دو ٹوک اور حتمی فیصلہ دیں کہ ذیل کے دو نظریات میں سے کونسا نظر یہ درست
ہے اور کونسا نام ۔ تاکہ غلط عقیدہ سے برا اور درست عقیده سے تولیٰ کیا جا سکے ۔
خداوند
کریم کی اس غلطی کی تقلید کر میں جواس نے سجدہ آدم کے سلسلہ میں خودبھی کی اور ملائکہ
سے بھی کرائی ۔ الف۔ حکم خدامان کر سجدہ
کرنے والے مشرک ملائکہ کو اپنا مطیع وفرمانبردار فرمایا۔
ب ۔
ابلیس جس نے غیر اللہ کو سجدہ کر کے اپنی
توحید بچالی اسے اللہ نے نہ صرف کافر کہا بلکہ راندہ درگاہ بھی کر دیا۔
جناب
یعقوب جیسے غیر اللہ کو سجدہ کرنے والے مشرک کو عہدہ نبوت دیا۔ ایسے مومنین کو حج ایک
دوسرے سے بوقت ملاقات تواضع کا شرک کریں۔اپنا محب اور جیب فرمایا ۔
تمام ملا ئکہ انبیاء اور عقل نے عالم کو مشرک کہیں
۔
اور
بھری بزم کائنات میں صرف اور صرف ابلیس کو موحد و متقی مانیں جس نے حکم اللہ کو ٹھکرا
کر اپنی توحید کو غیراللہ کے سامنے جھکنے سے بچالیا۔ اور تاریخ شاہد کہ سجدہ آدم کے
انکار سے لیکر آج تک لعت ابلیس میں تواضع کا لفظ تک نہیں ؟
ان مذکورہ
عقائد کو درست مانیں یا
ابن
یتمیہ – محمدبن عبدالوہاب ۔اور ان جیسے چند
دیگر عقل وخرو سے خالی دانش وعلم تہی دست اور معرفت وعمل کے بھکاریوں کو غلطی پر سمجھ
کر تواضع و فروتنی کو عین اسلام قرار دیتے ہوئے۔ ابلیس کو کافر ملائکہ کو خدا پرست
حضرت یعقوب اور آپ کی اولاد کو مومن و موجد مان لیں ؟
غیر
اللہ سے استمداد
عبادت
و تواضع میں امتیاز کے بعد امید ہے قارئین کرام نے محسوس فرمالیا ہوگا کہ بزرگان دین
خواہ زندہ ہوں یا نہ کے سامنے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے بطور تواضع پیش آنا نہ
صرف یہ کہ شرک نہیں بلکہ عین اسلام ہے اس کے بعد آپنے اب ان اعتراضات میں سے ایک ایک
اعتراض کو سامنے رکھ کر ان کے جواب عرض کریں۔ پہلا سوال تھا۔
نبی
و امام سے مدد مانگنا شرک ہے یا نہیں ؟
میرے
خیال میں شرک فی الذات اور شرک فی العبادت کے معافی کی توضیح کے بعد قارئین خود اس
پوزیشن میں ہوں گے کہ وہ ایسے فضول اعتراضات کے جوابات دے سکیں۔ بنابریں ہمیں زیادہ
تطویل کی ضرورت نہیں۔ لیکن پھر بھی چونکہ ان سوالات کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے ۔ تاکہ
حق گوئی اور مرزہ سرائی میں امتیاز ہو سکے اس لئے کچھ عرض کرنے چلا ہوں۔ تومیرے دوستو!
بطور خلاصہ
غیرا
للہ نبی ہو یا امام یا کوئی اور اگر اس سے مدد اس عنوان سے مانگی جائے کہ وہ بغیر اللہ
خدا ہے اور مدد کرنے میں بذات خود اتنا مستقل
ہے کہ کسی کا محتاج نہیں تو یقیناً شرک ہے لیکن اگر مدد مانگنے کا عنوان یہ نہ ہوتو یقینا ًشرک نہیں، اور
پورے عالم کا نظام اسی عقیدہ پر قائم ہے، تمدن ومعاشرہ کی بنیاد باہمی تعاون و امداد
پر ہے۔ اگر فتویٰ یہ دیا جائے کہ عنوان کوئی بھی ہو غیراللہ سے مدد مانگنا شرک ہے تو
پھر اس عقیدہ کو سادہ اورسیدھے الفاظ میں یوں
بیان کیا جائیگا کہ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری
دنیا مشرک ہے۔ عالم انسانیت کی بنیاد شرک پر ہے، کیونکہ عوام تو عوام میں سفرزندگی
میں انبیاء بھی اپنی امت کے محتاج نظر آئے ہیں۔ اور اپنی امت سے مدد مانگتے ہیں یہ
توتھا اجمال آیئے اب اس جمال کی تفصیل میں چلیں اور اس کے جیرئیات کو دیکھیں ۔
خدائی
کام :۔
یہاں انتہائی ضروری ہے کہ ہم استعداد کے زیر عنوان
یہ دیکھتے چلیں کہ وہ کونسے کام ہیں جو اللہ
کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، اور وہ کون سے کام ہیں جو ذات احدیت کے علاوہ دوسرے افراد
بھی انجام دے سکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے یہ کور دماغ اس مقام پر یہ کہنے لگیں۔ ہر غیراللہ
سے ہر حاجت براری شرک نہیں، بلکہ غیراللہ سے صرف انہی امور میں استمداد شرک ہے جو قوت
بشریہ سے خارج ہیں۔ بالفاظ دیگر۔
غیر خدا سے خدائی کام لینا شرک ہے ۔
یہ نظریہ
قائم کرنے سے قبل ضروری تھا کہ ایسے حضرات خدائی کاموں اور غیرخدائی کاموں کی فہرست
بناتے اور پھر یہ ڈونٹڈی پیٹتے کہ فلاں فلاں
کام خدائی ہیں لہذا غیر خدا سے ان کی درخواست شرک ہوگا، جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان
لوگوں نے اپنی طفلانہ عقل کے مطابق یہ مفروضہ قائم کر رکھا ہے کہ۔
روزمرہ ضروریات کے مادی کام غیر خدائی نہیں، اور
غیر مادی کام خدائی نہیں ہوتا وجدانی اور برہانی فکر کے مطابق خدائی کام ان کاموں کا
نام ہے کہ۔
کام کر نیوالا بلا کسی دوسرے کی مداخلت اور بلا کسی
دوسرے کی استعداد کے انجام دے۔ بالفاظ دیگر مروہ کام خدائی کہلائیگا جسے انجام دینے
والا اپنے کو مستقل بالذات اور غیر محتاج سمجھے۔ جبکہ غیر خدائی کاموں میں کام انجام
دینے والا نہ تو اپنے کو مستقل بالذات سمجھتا ہے اور نہ ہی غیر محتاج مثلاً خلاق عالم
اگر خلق کرتا ہے ۔ رزق دیتا ہے۔ بیمار کرتا ہے یا تندرست کرتا ہے تو کسی کی استعداد
کے بغیر کرتا ہے۔ ان امور کی انجام دہی میں وہ مستقل بالذاب غیر محتاج ، اور بے نیاز
ہے اس نےکُلاً یا جز واًکسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی ان امور میں صرف
ہونیوالی طاقت وقدرت اس کی کسی ہے ۔
جبکہ
اگر کوئی غیر خدا ان کاموں کو انجام دے تو وہ نہ تومستقل بالذات ہوگا۔ نہ غیر محتاج
ہوگا، اور نہ ہی بے نیاز ہوگا۔ اس کی طاقت وقدمت مستعار ہو گی، اور کام کی تکمیل بھی
کسی کی نظر کرم کی مرہون منت ہو گی۔ اس امتیاز اورتفریق کے بعد اب ہمارے لئے نتیجہ تک پہنچا توحید کی جستجو اور اسلام کی
حفاظت کسی قدر آسان ہو جائے گی اور تعصب سےبالاتر ہو کر دیکھنے سے نجدی شرک و کفر کی
قلعی بھی کھل جائے گی ۔ ن
تیجہ
:۔ اگر کوئی شخص غیراللہ سے کسی کام خواہ وہ کام مادی ہو یا غیر
مادی اور چھوٹا ہو یا بڑا کی درخواست اس عنوان سے کرے کہ وہ میرے کام کی انجام دی میں
مستقل بالذات بے نیازہ اور غیر محتاج ہے تو ایسا شخص مشرک ہے ۔ اور اگر کوئی : شخص
غیراللہ سے کسی کام خواہ وہ کام مادی ہو یا غیر مادی ، اور چھوٹا ہو یا بڑا کی درخواست
اس عنوان سے کرے کہ خدائے قدوس نے اس ہستی کو یہ طاقت عنایت فرمائی ہے۔ کہ میرے کام
انجام دے سکے تو یہ نہ مشرک ہے نہ کفر ہے، نہ ہی خلائی امور میں دخل اندازی ہے، اور
نہ ہی تفویض ہے۔ اپنے اس عقیدہ کی شہادتیں قرآن کریم سے تلاش کریں۔
شہادت
۱؎
نمل ۱؎ قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ
بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(۳۸)
جناب
سلیمان نے فرمایا۔ اے لوگو! تم میں سے وہ کون ہے جو ملکہ بلقیس کے مسلمان ہو کر پہنچنے
سے قبل تخت بلقیس مجھے لاکردے۔
نمل
۳۹ ؎ قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ
قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ-وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ
اَمِیْنٌ(۳۹)
ایک جن عرض کیا کہ میں تخت بلقیس کوایک آپکو
اپنی جگہ چھوڑنے سے قبل لاکر دے سکتا ہوں ۔اور اس سلسلہ میں نہ صرف بھرپور قوت کا
مالک ہوں بلکہ امین بھی ہو۔
نمل ۴۰؎ قَالَ
الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ
یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا
مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ
اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا تھوڑا ساعلم تھا میں تخت بلقیس
پلک جھپکنے سے قبل لاکر دے سکتا ہوں۔ جب حضرت سلیمان نے تخت بلقیس کو اپنے سامنے دیکھا
تو فرمانے لگے یہ ہے میرے اللہ کی نوازش ۔
یہ فیصلہ
قارئین ہی فرمائیں کہ ۔اس تخت بلقیس کالانا عادی امور سے ہے یا غیر مادی امور سے؟ انسانی
طاقت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے یا دائرہ اقتدار کے اندر ؟
اگرنجدی
انداز فکر کے مطابق ملک سبا کے طویل فاصلہ سے تخت بلقیس لانا غیر مادی کام اور خدائی معاملہ تھا تو پھر۔
حضرت
سلیمان جو بقول ذات احدیت اور بعقیدہ امت مسلمہ نبی تھے خدائے قدوس کی عنایات خاصہ
کے حامل تھے نے غیر عادی خدائی کام کی انجام دہی کی درخواست غیراللہ سے کیوں کی۔
نمل
۳۸؎ کے مطابق ایک عظیم الشان معصوم نبی نے اللہ کو چھوڑ کرجن وانس سے کیوں مدد مانگی
؟
بقول
قرآن جناب آصف ابن برخیا جنہوں نے چشم زون میں تخت بلقیس منگواکردیا حضرت سلیمان کے
حاجت روا اور مشکل کشا بنے یا نہ بنے ؟
قرآن
میں کہیں ہلکا سا اشارہ بھی اس طرف نہیں ملتا کہ حضرت آصف نے تخت بلقیس منگوانے میں
کسی قسم کی نیازمندی ظاہر کی ہو۔ فرماتے ہیں انا تیک یہ ، میں آپکو لیکر دونگا۔ اب
قارئین کے سامنے دو ہی واضح نتیجے میں جن سے ایک کا تسلیم کرنا مری ہوگا۔
۱۔ حضرت سلیمان کو مشرک مان لیا جائے اور خدائے
قدیس کو غلط کار کیونکہ اس نے حضرت سلیمان جیسے غیراللہ سے مدد مانگنے والے مشرک کو
عمدہ نبوت سے نوائے رکھا۔
۲-
غیر مادی کاموں میں غیر اللہ سے غیر خدای عنوان کے ساتھ استمداد کو جائز قرار دیا جائے۔
ان مردونتائج میں سے اگر پہلا نتیجہ درست تسلیم
کر لیں تو نجدی مکتب فکر کی تائید ہو جائے گی۔ البتہ تھوڑا گناہ شرک حضرت سلیمان کے
پلے بندھیگا۔ اور تھوڑی سی غلطی اللہ میاں کی مانناپڑے گی۔ اور میں سمجھتاہوں کہ اس
سلسلہ میں ہم توحید بچاتے بچاتے اسلام سے ہاتھ د ھو بیٹھیں گے ۔ اور اگر دوسرا نتیجه
درست مان لیں تو اس میں اگرچہ نجدی انداز فکر کی ذلت ورسوائی تضحیک اور جگ ہنسائی ضرور
ہوگی لیکن توحید کے ساتھ ساتھ دولت ایمان بھی محفوظ رہیگی۔ اور شرک سے بھی بچے رہیں
گے ۔
شہادت ۲؎
آل عمران م۴۸؎ وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ
وَ الْاِنْجِیْلَۚ(۴۸)وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ اَنِّیْ قَدْ
جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ﳐ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ
كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ
اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ
اللّٰهِۚ-وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ
بُیُوْتِكُمْؕ-
میں
تمہارے سامنے ان کی نشانیاں لایا ہوںمیں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل بناؤنگا۔ اسمیں
دم کر دونگا۔ وہ حکم خدا سے پرندہ بن جائیگا۔ میں کوڑھی اور مبروص کو شفایا کرونگا
میں اذن باریکی سے مردوں کو زندہ کرونگا۔ اور جوکچھ تم کھاتے ہواور گھروں میں ذخیرہ
اندوزی کرتے. اس سے تمہیں مطلع کرونگا۔
اب خدا معلوم نجدی خیال شریف کیا فرمائے گا کہ حضرت
علیسلی فرماتے ہیں
میں
ایک پردے کا خالق ہوں : ‘ میں کوڑھی اور
مبروص کو شفایاب کرتا ہوں
میں مردوں کو زندہ کرتا ہوں: اور میں غیب جانتا ہوں ! ان چار دعوں میں
سے کوئی دعویٰ بھی ایسانہیں جسکا تعلق روزمرہ کے معمولات زندگی سے متعلق ہو۔ اب نجدی
مقصرین کے طرز فکر کے مطابق ۔
حضرت عیسیٰ نے خدائی کا دعوی کیا۔ اور خداوند عالم
نے ایک کافر گراور مشرک تراش کوعہدہ نبوت دے دیا۔ ایک طرف اللہ گنہگار ۔ دوسری طرف
حضرت عیسی ٰخطا کار – بنی اسرائیل کا جو شخص
بھی حضرت عیسیٰ سے تخلیق پرندہ شفا ئےمریض احیائے امور اور علم غیب کا مطالبہ کرے گا وہ کافر و مشرک
ہوگا۔ جبکہ قرآنی انداز بیان بتا رہا ہے کہ نہ توبنی اسرائیل کے وہ افراد مشرک یا کافر ہیں جو حضرت عیسیٰ
کے بیان کردہ امور میں انہیں انجام دینے کی درخواست کرتے ہیں، نہ حضرت عیسی ٰ اپنے
دعوی میں مشرک گرہیں نہ ذات احدیت خطا کار
ہے ۔ باقی سب درست ہے۔ البتہ مٹھی بھر چند تیرہ رو۔ اور تیر بخت نجدی صحرائی گلہ بانوں اور ان کے معتقدین کی رسوائی میں اضافہ
ضرور ہوا ہے۔
میرے خیال میں بطور نمونہ یہی دو گواہ کافی نہیں قرآن میں تو
دسیوں آیات موجود ہیں لیکن اختصار کومد نظر رکھتے ہوئے اس سوال کے جواب کو انہی دو
گواہوں پر ختم کرتے ہوئے آگے بڑھنے سے قبل اسی سوال کا ایک اور نقطہ سامنے رکھتے ہیں
تاکہ قارئین ا س سےبھی آشنا ہوجائیں۔ اور وہ نقطہ ہے مدد بعد از دفات۔ امداد بعدالموت
– ان روسیاہوں کے پاس جواب دینے کو جب کچھ اور نہیں رہتا تو کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے
فتاوائے شرک کا تعلق بعد از وفات کسی سے مشکل
کشائی ہے نہ کہ حین حیات کیونکہ ہم شیعیان
آل محمد اور دیگر فرقوں کو مردوں سے مرادیں مانگنا دیکھتے ہیں جو یقیناً ترک مردہ نہ
تو نفع پہنچاسکتا ہے۔ اور یہ نقصان مردہ کی حیثیت جمادات سے زیادہ نہیں ہوا لہذا کسی
لکڑی یا پتھر کے بت سے مانگنا اور مردہ سے مانگنا برابر ہے ۔
جواب۔ اولاً تو شرک
کے قرآنی اور برہانی معنی کے مطابق مصداق شرک سہماری دستررس سے باہر ہے اس لئے ہم کس کو بلا سوچے سمجھے شرک نہیں
کہ سکتے کیونکہ شرک کا معنی ٰغیر اللہ سے اس عنوان سے مدد مانگی جائے کہ وہ خدا ہے
۔
چنانچہ اگرکوئی شخص کسی غیر اللہ سے بعنوان غیراللہ مدد مانگے
تو وہ ہرگز مشترک نہیں
اور اس کلیہ میں یہ
فرق نہیں کہ وہ غیر اللہ زندہ ہو یا مردہ، لہذا عنوان مذکور سے مانگنے والے پتھر سے
مانگے یا لکڑی سے مانگے، پھر بھی اسے مشرک نہیں کہا جا سکتا یہ علیحدہ بات ہے ایسی درخواست لغو بیہودہ اور فضول ہو گی۔
ثانیا ًجب ہم مدد کی
درخواست کرتے ہیں۔ وہ صرف ارواح انبیاء وائمہ علیہم السلام . سے اس ارادہ سے کرتے ہیں
کہ ذات احدیت نے ان ہستیوں کو مشکل کشائی کی قدرت فرما رکھی ہے ۔ چونکہ حیات دممات
روح کا مسئلہ خالصتہ فلسفیانہ سے اس لئے ارباب فلسفہ کی رائے آخری ہوگی اور فلسفہ اعلیٰ
میں قطعی دلائل اور محکم برامین سے یہ ایک حقیقت ثابت ہے کہ قید جسم سے آزاد ہونے کے
بعد روح باقی رہتی ہے۔ اور اس عالم سست دبود سے رابطہ ارواح بند جسم سے آزادی کے بعد
پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ فلاسفہ کی فکر کے مطابق روح کے لئے حادثہ موت محاملات
میں سے ہے۔ اس مسئلہ میں قبل از اسلام کے فلاسفہ اور بعد از اسلام کے فلاسفہ مسلم فلاسفہ
اور غیرمسلم فلاسفہ اہل کتاب فلاسفہ اور غیراہل کتاب فلاسفہ دور جدید کے فلاسفہ اور
دورقدیمہ کے فلاسفہ مغربی فلاسفہ اور مشرقی فلا سفہ سب ہم آواز ہم مسلک اور ہمنوا ہیں
بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جسدن سے فلسفہ عالم وجود میں آیا ہے اس وقت سے آج
تک ہر مذہب وملت اور ہر مکتب فکرکی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں ممکن ہے ہمارے پاکستانی نابالغ مجتهدین کرام یہ گرہ لگائیں
کہ ذوالجناح علم اور شبیہ روضہ مبارک سیدالشہداء علیہ السلام یا دیگر ائمہ معصومین
اور شہدائے فطلومین کی فریحوں پر نذر و نیاز دنیا بھی اسی پتھر اور لکڑی کے ضمن میں
آئیگا۔ اور بفرمان ایت اللہ العظمی خمینی اعظم یہ نذر ونیاز بھی فضول ہے۔
یہاں
ان دشمنان آل محمدؐ کی خدمت عالیہ میں گذارش کرتا چلوں کہ مملکت پاکستان کے ان پڑھ
سے ان پڑھ شیعہ سے میں اگر پوچھا جائے کہ
شبیہ ذوالجناح شعبہ علم عباس علمدار اور شبی ضریح سیدالشہداء
وغیرہ علیہم اسلام پر جو نذر نیاز آپ چڑھاتے اور جو منت مانتے ہیں۔ وہ کس کی ہوتی ہے،
اور دعاکس سے مانگتے ہیں۔ تو ہرشیعہ آپکو یہی جواب دے گا کہ میں
صاحب ذوالجناح صاحب
علم اور صاحب ضریح کو مخاطب کر کے اپنی التجاعرض کرتاہوں اور نیاز بھی اسی کے نام دیتا
ہوں ۔ مترجم)
نگاہ میں روح کو نہ صرف غیر فانی تسلیم کیا گیا ہے ۔ بلکہ
بند جسم سے آزاد ہونے کے بعدروح کی قوت متصرفہ
میں غیر معمولی اضافہ بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
چونکہ اس مختصر سے رسالہ
میں اتنی گنجائش نہیں کہ ہم تمام فلاسفہ عالم
کے اقوال پیش کریں اس لئے بطور اختصار مکتب فلسفہ کے چند استادان فن کی آراء بغرض نمونہ
پیش ہیں، اگر کسی کو مزید تفصیل کی خواہش ہو تو کتب فلسفہ سے ہمارے دعوی ٰکی تصدیق
کر فلا ں سفران قبل از اسلام –
۱۔ مثالوث ملطی :
ہرذی علم جو اس حقیقت سے باخبر ہے کہ علمائے متقدمین میں اکثریت
ایسے فلاسفہ ہے جنکی عبارات میں تصریح و تو ضیح پکی جگہ رمزد کنایہ کا عنصر غالب ہے۔
اور ان لوگوں اپنے فن تحریر کا کمال اسی عقیدہ کو سمجھا ہوا تھا کہ صراحت کی جگہ اخفاء
و اشارہ سے کام لیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ متاخرین علماء نے ان کی عبارات کی تشریح
میں اپنی اپنی فکرکےمطابق احتمالات کے انبار لگادیتے ہیں لیکن بایں ہمہ اکثر فلاسفہ
کی عبارات میں بقل نفس نہایت سے وضاحت سے مذکور ہے ۔
فلسفی مذکور صرف اپنے
وقت کا فلسفی نہیں بلکہ علما ئےفلسفہ نے سات فلاسفروں؟ فلسفہ کے اعتبار سے ارکان سبعہ
کہا ہے اور ان امکان سبعہ میں سے کسی کا نظریہ بیٹھا دینا شریعیت فلسفہ میں گناہ کبیرہ سمجھا جاتا
ہے ۔انہی ارکان سبعہ میں سے ایک رکن مثالوث ملطی ہے ۔ چنانچہ میں ثالوث ملطی اپنے اس نظریہ کے تذکرہ کے بعد کہ
خدائے قدوس نے ایک ایسا عنصر ایجاد فرمایا ہے جو تمام موجودات
اور معلوم کوتمام صورتوں کا حامل ہے لکھتا ہے کہ اس عنصر کا ایک پہلو مصفی ٰاور ایک
پہلو مکدر ہے جسم نے اس عنصر کے مصفیٰ پہلو اور جِرم نے اس کے مکری پہلو سے جنم لیا
ہے جِرم قابل فنا ہے جبکہ جسم ناقابل فنا ہے جِرم کشیف و ظاہر ہے۔ اور جسم لطیف و باطن
ہے جبکہ
نشاة ثانیہ (حیات لبعد الموت) میں جرم زائل ہو جائے گا اور جسم
ظاہر رہے گا۔ اب کون نہیں جانتا کہ ملطی نے جسم کے جوادصاف گنوائے ہیں ان سے اس کی
مراد علاء برزخ میں ہونیوالا جسم مثالی ہے
ملطی کے مطابق عقول وانفس دار بقا کے شائق رہتے ہیں اور یہی ملطی ہی کہتا ہے کر بقاءنشاۃ ثانیہ (حیات بعدالموت) میں
ہے ۔
۲- انکسیمائس
ملطی :
اس عظیم
فلسفی کے رمز یہ انداز میں بھی بقائے نفس کی تصریحات موجود ہیں حتی ٰکہ اس کے بارے
تونفوس خبیشہ بھی غیر فانی میں لکھتا ہے۔
زندگی
کے تمام آثار عالم عقل سے ہیں ہرشئی کی بقا ء صرف اسی قدر ہو گی جس قدر اس میں نور عقل ہوگا۔ اور عالم
کی اگر کوئی شئی بفساد ہے تو وہ صرف سفلی اجزا
ئے ثقیلئہ سے متعلق ہے کیونکہ اجزائے ثقیلئہ سفلئیہ کی حیثیت چھلکے کی سی ہے۔ اور چھلکا
ہمیشہ اتار کر پھینک دیا جاتا ہے ۔ آگے چل کر لکھتا ہے ۔
عالم
جسمانی کثافات سے آلودہ ہے، جو کوئی بھی ان کثافات میں ملوث ہو گا، وہ عالم علوی میں
نہ پہنچ سکے گا۔ اور جو عالم کی ان کثافات سے رو گردانی کرے گا۔ وہ عالم بالا میں۔
پہنچ سکے ؟ عالم بالا انتھائی لطیف سے اور اس کی مسرتیں دائمی اور ابدی ہیں ۔
۳۔ انباز
قلس:-
یہ عظیم
فلاسفر حضرت داؤد علیہ السلام کا ہم ہمعصر ہے۔ فلسفہ میں اسے جناب داؤد اور جناب لقمان
سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ اس کے نظریات انتہائی واضح اور غیر مبہم ہیں، انباذقلس کے مطابق
تمام اختلافات اور تضادات کی وجہ عالم مادہ ہے، اور ہر اتفاق و محبت کا سبب عالم روحانیت
ہے، ہر نفس اول نفس اعلیٰ کاچھلکا ہے ہر نفس
نامید نفس بہمییہ کا چھلکا ہے ہر نفس بہیمیہ نفس ناطقہ کا چھلکا ہے ہر نفس ناطقہ عقل
کا چھلکا ہے ، اور ہرنفس اپنے مغز کی بدولت اپنے عالم کو پہنچے گا۔ تمام نفوس جز یہ
نفس کلی کا جزو ہیں، جبکہ نفس جزئی اپنے مصدر عالم اعلی سے آیا ہے۔ اور آخر کار اپنے
مصدر عالم اعلیٰ ہی کی طرف واپس پلٹ جائے گا۔
۴۔ فیثاغورث :
یہ عظیم
فلاسفرنبی خدا حضرت سلیمان کے شاگردوں سے ہے
خدا معلوم کیا وجہ ہے کہ فیثاغورث نے اپنے تمام نظریات کو رمزو کنایہ کے خول میں بند
رکھا ہے۔ البتہ یہ پہلا فلسفی ہے جس نے اپنے نظریات کی اساس ریا ضی سے اُٹھائی ہے۔
اس کا نظریہ یہ ہے کہ دیگر تمام عوام کی نسبت انسان واحد مخلوق سے جو احکام فطرت کا
نتیجہ ہے۔ انسان کی حیثیت عالم اصغر کی ہے اور جس عالم میں انسان سانس لے رہا ہے یہ عالم امر ہے تخلیق
نفس جسمانی اتصال سے پہلے ہوتی ہے۔
اگر
عادات نقس کی تہذیب فطرت کی مناسبت سے ہو۔ اور نفس خارجی تعلقات سے علیحٰدہ ہوجائے
تو اپنے عالم اصلی سے متصل ہوکر پہلے سے کہیں زیادہ حسین اور کامل ہیئت میں عوالم
غیبیہ کی ارطسی سے منسلک ہوجائیگا۔
۵۔ خبر نیوس۔ ۶۔
زیتون۔
یہ
دونوں بھی بلند فکرفلا سفروں میں شامل ہیَں ۔ بالعموم تو ان کے نظریات فیشا غورث
ہی کے تابع ہوتے ہیَں۔ لیکن بعض مقامات پر انہوں نے فیشا غورث سے اختلاف بھی کیا
ہے۔ مگر بایں ہم نفس کے معاملہ یہ دونوں ارباب فکر بھی دیگر فلاسفہ جیسے نظر آتے
ہیَں۔ چناچنہ لکھتے ہیَں۔ کہ نفس اگر پاکیزہ ہو تو عالم اعلیٰ میں اپنے مقام پر
پہنچ جائے گا۔
۷۔
سقراط:۔
میں
سمجھتا ہوں کہ قدیم فلاسفہ مین سے سقراط واحد فلسفی ہے جس سے سرکس و ناکس متعارف
ہے ۔ سقراط فلسفہ میں فیشا غورث اور ارسلادوس کا شاگرد ہَے۔ اس فلسفی نے اپنے
فلسفہ کا رخ پہلے الٰہیات کی جانب موڑا۔ اور پھر فلسفہ کو اخلاقیات کے میدان لے آیا۔ جس کے نتیجہ مین اس کی تمام
فلسفیانہ موشگافیوں کی منزل ۔ زہد۔ ریاضت نفس۔ اور تہذیب اخلاق جیسے امور بن گئے۔
چنانچہ اس نے دنیاوی رشتے ختم کردئے ۔
لوگوں سے قطع تعلّقی کرکے پہاڑ میں گوشہ نشین ہوگیا۔ جو لوگ اس سے ملنے آتے انہین
شرک اور بت پرستی سے منع کرنے لگا۔ اس کی تبلیغ کے منطقی نتائج سامنے آنے لگے۔
ہوشمندوں نے اس کے نظریات کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اور عوام کا لانعام مین اس کے خلاف
نفرت کے جذبات ابھرتے ابھرتے اس حد تک پہنچ گئے کہ عوام نے اپنے بادشاہ سے موت
سقراط کا مطالبہ کیا۔ بادشاہ رائے عامہ کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اور قصہ مشہورہ
کی بنا پر اس نے اپنے ہاتھ میں جام زہرلے کر بخوشی پی لیا۔ فلسفہ ما قبل الطبیعہ ۔
اور مابعد الطبیعۃ میں سقراط کے نظریات انتھائی عمدہ اور پُختہ ہیَں۔
Leave a Reply