یہ
کور باطن متدین افراد پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیَں کہ زیارت جامعہ میں تم ذیل کے
جُملے ادا کرتے ہو جو ہقیناً شرک ہے اور اگر ان فقرات کی ادائے گی شرک نہیں تو پھر
دُنیا میں شرک کا وجود ہی نہیں زیارت
جامعہ کے جملے یہ ہیَں۔
من اراد اللہ برء بکم جو
دربار خالق میں حاضری دینا چاہیے اس کی ابتداء آپ سے ہوگی۔
و من قصدہ تو جہ الیکم جسے
بارگاہ ایزدی جانا مقصود ہو تمہارے ہی جناب میں رجوع کریگا۔
بکم فتح اللہ و بکم یختمو اللہ
نے کائنات کا نقطہ ء آغاز بمہیں بنایا ہے۔ اور اختتام کائنات بھی تم
بکم ینزل الغیث۔ ہی سے ہوگا۔ تمہاری ہی بدولت اللہ
باران رحمت بیجھنا ہے۔
جواب:۔
میتی
سمجھ میں تو نہیں آیا کہ ان انتھائی سیدھے اور سادے جملوں میں شرک کا دیو کہا ں
چھپا بیٹھا ہے اور وہ انہیں کیسے نظر آگیا ہے؟
زیارت
جامعہ ہم پڑھتے ہیَں۔ مناسب تو یہ تھا کہ یہ لوگ فتویٰ سے قبل ہم سے پوچھ لیتے کہ
ان جُملوں کے معنی کیا ہیں؟ جب ہم اپنا مفہوم ادا کر چکتے تو پھر یہ ، مقدس ،
ہماری نشاندہی فرماتے کہ دیکھو یہ مقام شرک ہے۔ اس سے بچّو: لیکن کہاں کا پوچھنا
اور کیسا بتانا ۔ یہاں تو فتادیٰ سے جیب گرم ہے۔ جس طرف جی چاہا پھینک دیئے۔
حالانکہ
سابقاً ہم تفصیل سے عرض کر چکے ہیَں کہ موار شرک حسب ذیل ہیَں۔
۱۔ انسان دو خدائوں کا قائل ہو کر مشرک بن
جاتا ہے۔
ب۔ دو خدائوں کی پرستش بھی مشرک بنا ڈالتی ہے۔
ج۔ کسی بت یا ستارہ وغیرہ کو خدائی عنوان سے
پوجنے کا نام شرک ہے۔
د۔ کسی غیر اللہ سے بعنواں خدا استمداد بھی
شرک ہے۔
اب آیئے اور دیکھئے کہ زیارت جامعہ کے
مذکورہ جملون میں وہ کونسا جملہ بنے موار شرک کے کسی مورد سے متعلّق ہَے؟ اگر
واقعاً کوئی ایسی خطرناک بات ہے۔ تو ہمیں آپ سے ضد تھوڑی ہے۔ ہم فی الفور نہ صرف
مذکورہ جملوں سے بلکہ پوری زیارت جامعہ سے علیحٰدگی کر نیکو تیار ے ہیں۔ اور آپ کی
بات ماننے کے لئے حاضر ہیَں۔
من اراد اللہ بدء بکم۔ جسے بارگاہ رب العزت مین پیش ہونا ہو وہ تمہاری
خدمت میں حاضری دے کر بار یابی
کی کوشش کرے
گا۔
اب
اندازہ کیجئے کتنا سادہ جملہ اور کتنا سیدھا معنی ہے۔ زائر اپنے آئمہ کرام سے
مخاطب ہے کہ اگر کوئی شخص خدائے قدوس کو پہچانا یا اس کی اطاعت و عبادت کرنا چاہے
تو سب سے پہلے اُسے تمہارے حضور پیش ہونا چاہیئے ۔ پہلے احکام اسلام دین اور فروغ
دین آپ حضرات سے سیکھے تا کہ اس کی اطاعت خود ساختہ اور عبادت من گھڑت نہ ہو۔
جبکہ
آپ کے پاس جتنی عبادات ہیں بقول آپ کے وہ ذاتی نظریات اور قیاسات کا مجموعہ ہیَں۔ گویا آپ کی عبادات خود تراشیدہ
ہیں۔ بقول آپ کے صبح نماز دو رکعت کی جگہ چار رکعت پڑھ لی جائے تو بھی اطاعت خدا
ہوگئی ۔ اور اگر ایک رکعت پر گزارہ کرلیا تو بھی اطاعت ہوجائے گی ۔ماہ رمضان میں
جس چیز سے چاہو پرہیز کرو اور جس چیز کو چاہو استعمال کرو۔
جبکہ
ہمارا معاملہ آپ سے مختلف ہے ہم ویسی نماز چاہتے ہیں جیسی آنحضور ؐ نے پڑھی تھی
اور ویسی احکام چاہتے ہیں جیسے سرور کونین
نے وحی کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرمائے ہیں۔
اب
نبظر انصاف فرمایئے اگر کوئی انسان کسی کے پاس اصول و فروغ دین سیکھنے کیلئے جائے
تو وہ مشرک ہوجائے گا۔ مناسب ہوگا اگر تو ضیع مطلوب کیلئے ایک مثال پیش کردوں خدا
نخواستہ آپ بیمار ہوجاتے ہیں۔ آپ سے کوئی
شخص
کہتا ہے کہ اگر تندرست ہونا چاہتے ہو تو فلاں طبیب کے پاس جاؤ آپ چلے گئے تو کیا
آپ مشرک ہو گائیں گے۔
خدارا
اس افتراق پردازی کو چھوڑیئے ۔ عوام کو مل بیٹھنے دیجئے ،زیارت جامعہ کا مذکورہ
فقرہ کتنا سادہ اور سیدھا ہے۔ نہ پیچ ہیَں۔ اور نہ معنی میں کوئی ہیر پھیر ہے۔ لیکن
آپ نے اسے غلط رنگ دینے کی خاطر ۔ بادشاہ۔ وزیر۔ اور دربان کی مثال گھڑی خود ہی
اعتراض کیا۔ اور پھر کود ہی جواب و فتویٰ صادر فرمادیا۔ ہمجانتے ہیَں دنیاوی
بادشاہوں کے پاس !جانے کے لئے دربان سے رابطہ ضروری ہے اور خلاق عالم کا در رحمت
ہر وقت ۔ ہر جگہ۔ ہر ایک کے لئے کھلا ہے۔ لیکن اس کے در رحمت کھٹکھٹانے کا طریقہ
اور سلیقہ معلوم کرنے کے لیے جس طرح نبی ؐ کی ضرورت ہے۔ اس طرح بعراز وحی نبی ؐ کی
ضرورت ہَے۔ اور ہم شیعیان آل محمدؐ آئمہ اہلیّت کو اوصیائے نبی سمجھتے ہیَں۔ اصول
دین۔ فروغ دین۔ اور جُملہ احکام انہی سے حاصل کرتے ہیِں ۔ اور زیارت جامعہ کے
مذکورہ جُملہ کا معنی یہی ہے۔ ہم ان کی بارگاہی میں اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے اخذ
کردہ احکام وہی ہیں جو آپ نے بتائے ہیں۔ اور انہی کے ذریعہ ہم خدا تک رسائی کی سعی کرتے ہیَں۔
لیجئے
میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص اپنی استعداد کے مطابق خدا کو پہچاننا چاہتا ہے اور
احکام خدا سے مطلع ہو کر عبادت کرنا چاہتا ہے تو وہ پہلے کسی عالم کا دروازہ
کھٹکھٹائے ۔ کیونکہ عالم نے احکام اسلام بالواسطہ یا بلاواسطہ سرور کونین سے حاصل
کئے ہیَں۔ کیا یہ شرک ہے۔
اگر
یہ شرک ہے تو پھر مناسب طریقہ یہ ہوگا آپ
اپنے لئے اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق ایک راہ معین کرلیں اور لوگوں میں اعلان
عام کردیں کہ دیکھو میاں ! تمہیں خدا تک پہنچتا ہے۔ اور خدا کو پہچاننا ہے۔ اس کے احکام کی اطاعت اور اس کی ذات کی
عبادت بھی کرنا ہے۔ لیکن دیکھو نہ اسے
پہچاننے کے لیے ہمارے پاس آنا اور نہ کسی دوسرے کے پاس جانا ور نہ مشرک ہوجاؤ گے۔
جیسے چاہو ۔پہچان لو ۔ کوئی ذریعہ معرفت نہیں ۔ جیسے چاہو اطاعت احکام کرو کوئی
قانون بتانے والا نہیں اور جیسی چاہو ، پہچان کرو۔ کوئی ذریعہ معرفت نہیں۔ جیسے
چاہو اطاعت احکام کرو کوئی قانون بتانے والا نہیں اور جیسی چاہو عبادت کرو کوئی
واضع شکل نہیں ۔ بھلا اب بتایئے اس
نظریہ
میں اور آپ کے علمی مرکز مغرب کی تعلیم و تربیت میں کیا فرق ہے؟ البتہ ایک فرق ہے
اور وہ یہ کہ مغرب چونکہ مادر پدر آزادی کی منزل کو پار کر چکا ہے۔ مغرب کا مذہب
کلیسا کی چار دیواری میں محداد ہے وہ اس نطریہ کو نہ صرف کُھلے الفاظ میں بیان
کرتا ہے بلکہ جار حانہ انداز اختیار کرنے سے بھی دریغ نہیں کر آتا۔ اور آپ کا
اسلام ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس لئے آپ کھلے الفاظ سے بیان نہیں کرسکتے ۔ ذرا
چکر دے کر بیان کرتے ہیں ور نہ اور کوئی فرق نہیں ۔
شہادت
قرآنی:۔
زیارتجامعہ
کے مذکورہ جملہ کا جو معنی ہم نے کیا ہے اس کی تائید مین آیت قرآن پیش کرنے لگے
ہیِں۔ یا تو ہم بھی شرک سے بچ گئے اور یا پھر
حضرت ابراہیم اور اللہ میاں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے۔
حج۲۲؎ وَ
اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ
یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ(۲۷)
(اے ابراہیم )لوگوں میں اعلان حج کرتا کہ تیرے
پاس پیدل اور شہسوار ہو کر دور افتادہ
علاقوں سے فریضہء حج کی ادائے گی کو آئیں۔
اللہ
میاں نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا ہے کہ زیارت بیت اللہ کے لیے لوگوں کو اپنے پاس
بلا۔ اب بقول آپ کے اگر لوگ حضرت ابراہیم کے پاس آتے ہیں تو مشرک ہوتے ہیں اور اس
مشرک کا دعوت دہندہ اللہ ہے۔ کیا ہی عقیدہ درست ہے؟ حالانکہ ہماری سیدھی سادی سی
بات ہے۔ کہ جس زمانہ مین لوگوں کو حج کیلئے کہا گیا۔ اور پیغام خدا حضرت ابراہیم
نے پہچایا اس زمانہ میں لوگون کے فرائض میں سے فریضہء اوّل یہی تھا کہ وہ حضرت
ابراہیم کے پاس آئیں اور حضرت ابراہیم سے پوُچھیں کہ جس حج کا حکم آپ نے دیا ہَے
اس کا طریق کار کیا ہے؟ شُروع کب کرنا ہے؟ختم کہاں کرنا ہے؟ کہا ں کہاں جانا ہے؟
کس جگہ نہیں جانا ؟کہاں چلنا ہے؟ کہاں دوڑنا ہے؟ کس جگہ پڑھنا ہے؟ کس جگہ خاموش
رہنا ہے؟ کہاں چلنا ہے؟ کہاں کھڑے رہنا ہے؟
وغیرہ
وغیرہ؟
یہی
صورت زمانہ ء سرور کانینؐ میں ہوگی۔ کہ لوگوں کے لئے آنحضورؐ کی خدمت میں آنا
لازمی تھا اور آنحضورؐ کے آپ کے برحق مسند نشیان خلافت آئمہ ء معصومین کے پاس آنا
ضروری ہے۔ اور زیارت جامعہ کے مذکورہ جُملہ میں یہی کہا جاتا ہے کہ حضور ؐ باری
میں پیش ہونا وہ ابتداء آپ ہی سے کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان فقرات کا اختتام ذیل کے اس فقرہ پر کیا
جاتاہے۔
من
وحدہ قبل عنکم:۔ جو اللہ کو واحد ولاشریک مانتا ہے وہ احکام خدا تم ہی سے قبول
کرتا ہے۔ یعنی توحید کا درس حقیقی تم ہی سے ملتا ہے۔ اب فرمایئے کیا شرک ہے کہاں
شرک ہے اور کیسے شرک ہے؟
مجرمانہ
خیانت:۔
اختتامیہ
جملہ اپ نے دیکھ لیا ہے۔ چونکہ اس جملہ مین سابقہ تمام فقرات کی تشریح و تفسیر
تھی۔ لہٰذا ان نجدی ٹھیکہ داروں نے عوام فریبی کی خاطر پہلے فقرات لکھدیئے اور
جُملہ مفسرہ نہیں لکھا۔ اگر یہ فقرہ لکھ دیا جا تا تو پھر عوام کود سابقہ جُملوں
کی سادگی سے مطلع ہوجاتے اور یوں ان مکاروں کا فریب نہ چل سکتا۔ اب قارئین ہی بتائیں
کہ ۔ خائن اور مُجرم کون ہَے؟
علاوہ
ازیں اس جُملہ نے جس چرح سابقہ فقرات کی تشریح کی ہے اس طرح لاحقہ جُملوں کی توضیع
بھی کر رہاہے۔ اور اس جُملہ سے۔
من قصدہ توجہ الیکم جو
قاصد خلاق کائنات ہوگا وہ تمہاری بارگاہ میں آئیگا۔
کا
معنی و مفہوم بھی واضع ہوجاتا ہے۔ رہا
تیسرا جُملہ۔
یکم فتح اللہ وبکم یختم۔ اللہ نے آغاز تخلیق بھی تم سے کیا ہے
اور انجام کائنات
بھی تمہارے ذریعہ ہی ہوگا۔
تو
اس میں تعین مفہوم کیلئے تین احتمال ہیَں۔ ہم وہ تینوں آپ کے سامنے رکھے دیتے
ہیَں۔ انہیں ملاحظہ فرمالیں جہاں مشرک ہو وہاں نشاندہی کردیجیئے گا۔ اور اگر کوئی
چوتھا معنی بھی ہوسکتا ہو تو وہ بھی بتا دینا۔
۱۔
اللہ نے آغاز امامت تمہارے گھر سے کیا ہے۔
اور انجام امامت بھی تمہارے ہی گھر پہ ہوگا۔ یعنی امام اوّل حضرت علیؑ اور امام
اخر حضرت حجت مہدی ۔ اور ان کے درمیان سلسلہ امامت جو سب کے سب
خاندان نبوّت سے ہیَں ۔ اگر کوئی شخص زیارت جامعہ کا مذکورہ جملہ ادا کرتے
ہوئے یہ معنی ذہن میں رکھے تو فرمایئے کیا شرک ہے؟ اگر شرک ہے تو کیسے ہے؟ ذرا ہم
کو بھی سمجھا دینا۔
۲۔
ذات احدیت نے ابتدائے کائنات تمہارے نور سے کی اور اختتام کائنات بھی تمہارے ہی
فرد سے ہوگا۔ آخر آغاز تخلیق میں زمانہ کے لحاظ احدیت نے کسی کو تو مخلوق اوّل
بنایا ہی ہوگا۔ کیونکہ جسے بھی پہلے پیدا کیا ہوگا وہی مخلوق اوّل کہلائے گا۔ اب
ظاہر ہے کہ پیدا کرنے والا کالق ہے۔ اور پیدا ہونے والا ہے مخلوق ہے۔ اگر کوئی شخص
احادیث نبوّیہ کے پیش نظرمذکورہ فقرہ کے پڑھتے ہوئے یہ مفہوم ذہن میں رکھے کہ آپ
کی ذوات مقدّمہ زمانی اعتبار سے مخلوق اوّل ہیں اور مخلوق آکر بھی ہیں۔ تو بتایئے
کی کیا اللہ کو خالق ماننا شرک ہے یا آئمہ اہلیّت کو مخلوق کہنا شرک ہے؟ ذرا تو ضیح
فرمائیے۔
۳۔
ذات احدیت نے آپ کے وسیلہ سے کائنات عالم کو خلق کیا۔ اور آپ ہی کی ذوات مقدّسہ
اختتام عالم کا سبب بنیں گی۔ ویسے ممکن ہے آپ ذرا دیر سے سمجھیں ہم مثال پیش کئے
دیتے ہیَں اُمید ہے ذہن جلدی قبول کرلے گا۔ اور عوام اااس دام ہمرنگ زمین میں
پھنسنے سے بچ جائیں گے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ پوری کائنات کا ہر ذرہ عالم منافع
انسانیہ کے لیے پیدا کیا گیا ہَے۔
اورجُملہ
کائنات انسان
کے تابع ہے جیساکہ عصر جدید کی بعض تسخیرات نے اس کی تائید بھی کر دی ہے ۔ اب اگر
کوئی شخص انسان کے اس عظمت و شرف کے بطور اعتراف انسان سے مخاطب ہو کر کہہ دے کہ
اللہ نے یہ کائنات تیرے لئے پیدا کی ہے۔ آغاز کائنات بھی میں تجھ سے کیا ہے اور انجام کائنات بھی تجھ پر
ہوگا ۔تو کیا ایسا کہنے والا مشرک ہو جاے گا؟ آپ تو خیر کیا جواب دیں گے البتہ ہردانشمند
کا جواب نہیں ہوگا کہ یہ مشرک نہیں۔ بنا بریں اگریہی فقرہ ان افراد سے منسوب کر
دیا جائے جنہیں اللہ نے انسان کا عہدہ
فرمایا ہے اور انسان کا مقتدا بنا یا ہے و کیونکہ مشرک ہوجائے گا؟ اُمید ہے اس
مثال سے۔
بکم نیزل الغیث: تمہارے
ہی ذریعہ باران رحمت بھیجتا ہے۔
کی
توضیح بھی ہوجاتی ہے کیونکہ ہر انسان جانتا ہے کہ بارش انسانی مفادات کیلئے آتی ہے۔
اور اگر کوئی شخص عظمت انسان کےبطور کہے کہ آپ کی بدولت اللہ بارش برساتا ہے تو بتائے
کیا یہ شرک ہوگا ، اگر کسی انسان کو ایسا کہنے میں شرک نہیں اور یقیناً ایسا نہیں
تو میراشراف المخلوقات آئمہ معصومین علیہم السلام سئ ایسی نسبت دینے میں کیونکہ
شرک ہوگا ؟ جبکہ جُملہ میں انتہائی وضاحت اور صرحت سے بارش برسانے کی نسبت ذات احدیت کی طرف دی گئی ہے۔
ارو کہا گیا ہے۔ بارش برساتا اللہ ہے۔ البتہ برساتا تمہاری بدولت ہے۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ وہابیت کے کرم خوردہ ان افکارنے
کوئی ایسا بے سروپا معنی متعین کر رکھا ہوگا۔ جس سے سڑک کی بُو آتی ہوگی ۔ لیکن یہ
قصور ہمارا نہیں ان کی اپنی غلط سوچ کا نتیجہ ہے۔ ہمیں تو ان سے یہ بھی بعید نظر
نہیں آتا کہ ہم شیعہ جو لااِلہ الااللہ
پڑھتے ہیں۔ تو وہابی فکر کہہ اٹھے کہ تم کلمہ میں لفظ اللہ سے مراد علی ؑ لیتے
ہو لہٰذا تم کافرو مشرک ہو۔
مناسب ہوگا اگر قارئین محترم زیارت جامعہ کے دو ایک
مقام اور بھی دیکھ لیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ نجدی فکر کے ایجنٹ اتنی طویل زیارت
میں سے صرف ایک دو جملوں کو لے کر کیوں شرک وکفر کاڈھول پیٹنے لگے ہیں۔؟
ﺍَﺷﮭَﺪُ ﺍَﻥ ﻟَّﺎ ﺍِﻟٰﮧَ ﺍِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻭَﺣﺪَﮦُ ﻟَﺎ ﺷَﺮِﯾﮏَ ﻟَﮧُ ﻭَ ﺍَﺷﮩَﺪُ ﺍَﻥﻣُﺤَﻤَّﺪ ﺍً ﻋَﺒﺪُﮦ ﻭَ ﺭَﺳُﻮﻟُﮧ
کما اشہد لنفسہ وشہدت لہ ملائکتہ واءِ لو العلم من
خلقہ لا الہٰ الا ہو العزیز الحکیم
میں بالکل اس طرح گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی
معبود نہیں اور وہی لاشریک ہے جس طرح خود اذیت احدیت نے اپنے لئے ملئکہ نے اور
مخلوق خدا میں سے صاحبان علم نے اسکی وحدت کی گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے سواکوئی معبود نہیں
غاب حکمت والا ہے ۔
واشہد ان محمدً اعبد المنتخب ورسولہ المرتضی۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ کے منتخب اور
مرتضیٰ رسول ہیں ۔ دوسرے مقام پر آئمہ معصومین کے متعلق اقرار ہے۔
اشہد انکم الائمۃ الراشدون المھیدیون المعصومون:- مین گواہی دیتا ہوں کہ آپ معصوم مہدی اور راشد
آئمہ ہین ۔اب ازروئے انصاف اور تبعاون عقل و خرردذرادیکھیں کہ زیارت جومو پڑھنے
والا سب سے پہلے توحید الٰہی ۔ پھر رسات سرور کونین اور آخر میں امامت آئمہ اثناءُ
کی شہادت دیتا ہے ۔ کیا ان کلمات میں شرک ہے؟ اگر ہے تو کہاں ؟ میں نہیں سمجھتا کہ
دنیا کی کونسی عدالت انصاف کا دروازہ کٹھکٹھا یا جائے ۔؟
وجد ان سلیم کو کہاں سے تلاش کیا جائے ۔
اور انسانیت کو صحرا کے کس گوش سے تلاش کرکے ان کے حوالہ
کیا جائے؟
مجھے تو یہ بھی بعید نظر نہیں آتا کہ زیارت جومعہ کے فقراء
اشھدانکم الائمۃ پڑھ کریہ کہہ دے کہ اس فقرہ میں شعلہ کی مراد لفظ آئمہ سے خدا ہے
لہٰذا یہ مشرک ہیں۔
ایک اور بہتان :-
ان دشمنان اتحاد کو جب اور کوئی راہ انتشار نظر نہ آئی تو
ان لوگوں نے شیعان آلِ محمد پر ایک اور تہمت جڑ دی اور و ہ یوں کہ بقول ان کے۔
جب انبیاء علیہم السلام عوام الناس کو تبلیغ تو حید کرچکے
تو ان لوگوں نے ذات احدیت کے ساتھ ہندو مت جیسا سلوک کیا اور یہ لوگ کہنے لگے کہ
ہم نے تو حواس خمسئہ ظاہر ہ سے خدا کو پہچان سکتے ہیں ۔اور نہ ہمارے حواس باطنہ کی
رسائی خدا تک ہوسکتی ہے ۔ اور نہ ہی ہم نے انبیاء سے براہ راست دین سیکھا ہے ۔
لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ ہم مزارات انبیاء تک پہنچنے کا وسیلہ بنائیں یوں مزارات تک
پہنچنا ہمارے لئے خدا تک پہنچنے کا وسیلہ بن جائے گا۔ لہٰذا مزار نبی کے گرد ایک
پینجرہ لگادیں ۔ پنجرہ کو ہاتھ سے پکڑ کر نبی مدفعن کا تصور کریں کیونکہ ہماری چشم
بصارت کو نبی تک پہنچنے سے رہی لہٰذا چشم
بصیرت سے نبی ؐ کو دیکھیں اور یوں خدا تک پہنچیں۔
یہ ہے ان لوگوں کا خود ساختہ اعتراض جو خدا پرستوں پر کرتے
ہیں،اور اس خودساختہ اعتراض کے بعد پھر خود ہی اس کا جواب دینا شروع کرتے ہیں۔
میرے خیال مین مناسب ہوگا کہ ان کے جواب دینے میں وقت ضائع
کرنے کی بجائے خود انہی کو دعوت دوں اور کہوں کہ آگے بڑھو تم ایران (اور پاکستان )
میں ہی بڑھے ہو اور گلیوں بازاروں اور کوچوں میں فرقئہ شیعہ اثنا عشریہ کے جس فرد
سے چاہو سوال کرلوکہ۔
کیا تم لوگ ہر جگہ خدا کو معطل سمجھتے ہو اور سب کچھ انبیاء
ک حوالہ سمجھتے ہو۔ کیونکہ تم ہر وقت اور ہر جگہ جو کچھ مانگتے ہو وہ انبیاء
(وآئمہ) سے مانگتے اور اگر تعریف کرتے ہوتو بھی انبیاء (وآئمہ) کی تعریف کرتے ہو۔
اور کیا تمہارے یہ روزے نمازیں حج اور دیگر عبادات انبیاء
کے لئے ہیں؟ اگر فرقہ شیعہ کی صنف نازک میں سے کوئی نادان ترین عورت یا پہاڑوں
کےغاروں میں بسے والے نا آشنا ئے علم گڈرے بھی ان سوالوں کا جواب میں اثبات میں دے
دیں۔ تو ہم نہ صرف آپ کی بات مان لیں گے بلکہ آپ کے مقتدی بن کر آپ کے پیچھے چلیں
گے۔ اور فرقہ شیعہ کا ہر فرد بشر تمہارے سوال کا جواب نفی میں دے تو پھر ہمارے پاس
اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم یہ کہہ دیں کہ آپ کا کام انتشار ملی۔ اور افتراق
قومی کے سواکچھ نہین آپ سادہ لوح عوام کی سادگی سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر انہیں
صراط مستقیم سے ہٹا نا چاہتے ہیں۔
لیجئے اپنی سابقہ دعوت سے ایک قدم آگے بڑھا کر آپ سے کہتا
ہوں کہ عالم شیعیت میں چھپنے والے اخبارات وجرائد کتب ورسائل اور دیگر منشورات کو
کھنگالیں شیعہ مقررین کے بیانات سُنیں اور عوامی عمل و کردار کا جائزہ لیں ۔ اگر
لاکھوں سے زائد شیعہ تصانیف میں اور ہزاروں سے زائد شیعہ خطباء و مقررین میں سے کسی ایک کے بیان یا تحریر میں
تمہارا دعویٰ مل جائے تو ہم آپ کی دیانت کے قائل ہو جائیں گے۔ اور آپ کی بات کو
درست تسلیم کرلیں گے ورنہ ہمیں حق ہے کہ
تمہیں بھی احمدیوں جیسی سامراج کا شتہ افراد سے شمار کریں اور عوام سے تمہارا
تعارف کرائیں تا کہ کوئی سادہ لوح شخص تمہارے دام فریب میں نہ آئے۔
کیونکہ تم مُٹھی بھر افراد عوام کو مادی زندگی کی چار
دیواری میں لاکر انہیں دھوکا دیتے ہو تم نے اپنی مادیت نوازی کو روحانیت کے لباس میں چھپا کر لاکھوں افراد کی
دیانت و شریعت سے کھیلنا شروع کر رکھا ہے۔ انتشار علی کی بدنصیبی ےم ہی سے جنم لے
رہی ہے۔
تف ہے تمہاری اس حلیہ سازی پر اور لعنت ہے تمہاری اس کجہ
قتاری پر میں اپنے متدین افراد پاکیزہ خیال بھائیوں ہمزبان دوستوں غیرتمندجوانوں
اور آبرو مند ہم وطنوں سے درخواست کرونگا کہ۔
ان ننگ ملت تحریروں ان جنابت آلودہ کتابوں ان انتشار آمیز
مضامین ۔ان مفسد جراثیم ۔ان زعدشتی اساتذہ
ان مجوسیت کے مبلغین اور ان مذہبی
مراسم کو غلط کہنے والوں کے خلاف متحدہ محاذ بناکر جوش ایمانی کو سامنے رکھ کر
جذبئہ دینی کے پیش نظر حب الوطنی کے نام پر عزم صمیم کے ساتھ وحدت ملیہ کا آہنی
پنجہ بن کر تخم نجس کے ان نالائق پودوں کو جڑ سے اُکھاڑ کر پھینکو۔
کیونکہ یہ لوگ انتشار و اختلاف کی تخم ریزی کرکے آپ کے
ہاتھوں سے چھیننا ہے چا ہیں ۔ یہ لوگ آپ کے اس کتابی سرمایہ کو جو شہدائے اسلام کے
پاکیزہ ہاتھوں کی تصیف ہے آگ میں جھونکنا
چاہتے ہیں یہ خیال ہے کہ یہ کتابی سرمایہ کیا ہے؟ بہتر ہوگا آپ کو بتاتا
چلوں یہ کتابی سرمایہ ہے قربانی سیدالشہداء کالا نانی صحیفہ راہ اسلام میں مصائب
تو انہی بزرگواروں نے جھلیے تھے۔
ہم اور آپ نے کونسی مصیبت دیکھی ہے؟
ہم نے کب اپنے جوان بیٹے راہ خدا میں دیئے ہیں؟
ہم نے راہ خدا میں کونسا خون بہایا ہے۔؟
اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے دل میں ان کا وہ مقام نہیں جو
ہونا چاہئے تھا۔
بھلا بتاؤ دربار خدا اور بارگاہ پیغمبروں میں ہمارے پاس
کوئی جواب ہے۔
اٹھو اور ان لوگوں کا محاسبہ کرو تاکہ ان کے نظریات دیگر
اذہان کو زہر آلدہ نہ کردیں۔
Leave a Reply